ٹائپنگ مکمل کربلا : صفحہ 38

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
KarBala%20-%2000040.gif
 

شاہ حسین

محفلین
۷۸


بھی نہ رہے گا ۔ آہ ! نبی کی آل اور یہ ظلم ! جن کے قدموں کی خاک آنکھوں میں لگانی چاہئیے تھی ! تباہی کے سامان ہیں ۔ اے رسول پاک میں بے گناہ ہوں (ظاہر ) آپ جانتے ہیں ۔ مولانا رومی ، والد کا مجھ کو کب تک انتظار کرنا پڑے گا ۔
رومی :۔ آتے ہی ہوں گے زیاد سے کچھ باتیں ہو رہی ہیں ۔
معاویہ :۔ والد مجھے چاہتے ہیں کہ میں اس معرکہ میں شریک ہوجاؤں ۔ لیکن اگر ظالموں کے ہاتھ سے انتقام لینے کے لئے یہ پہلو اختیار کیا جاتا تو سب سے پہلے میری تلوار نیام سے نکلتی ۔ سب سے پہلے میں جہاد کا جھنڈا اٹھاتا ۔ مگر حق کا خون کرنے کے لئے میری تلوار کبھی نہ نکلے گی ۔ اور میری زبان اس وقت تک ملامت کرتی رہے گی جب تک کہ وہ تالو سے کھیچ نہ لی جائے ۔ ایسے رسول کی مسند پر جس نے دنیا کو ہدایت کا چراغ دکھایا ۔ جس نے نور ایمان سے قلوب کو منور کیا ۔ اس شخص کو بیٹھنے کا حق نہیں ہے ۔ جو دین کو پیروں تلے کچلتا ہو ۔ جو انسانیت کے نام کو داغ لگاتا ہو ۔ چاہے وہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو ۔ اسلام کا خلیفہ ہونا چاہئیے جس پر انسانیت کو فخر ہو جو دین دار ہو ۔ حق پرست ہو ۔ بیدار ہو ۔ بے لوث ہو دوسروں کے لئے نمونہ ہو ۔ جو طاقت سے نہیں ۔ فوج سے نہیں ۔ اپنے کمال سے اپنے صفات سے دوسروں دوسروں پر اپنا وقار جمائے ۔
(یزید ، ضحاک ، زیاد ، شریک ، شمس وغیرہ آتے ہیں )
یزید :۔ آپ لوگ دیکھئے ۔ یہ میرا لائق بیٹا ہے ۔ جو اپنے باپ کو کتّے سے بھی زیادہ ناپاک سمجھتا ہے ۔ میری پھولوں کی سیج میں بھی ایک کانٹا ہے ۔ میرے نعمتوں کے خوان پر یہی ایک مکّھی ہے ۔ آپ لوگ اسے سمجھائیں ۔ اسے قائل کریں ۔ اس


۷۹


اس لئے میں نے اسے یہاں بلایا ہے ۔ اس کو سمجھائیے کہ خلیفہ کے لئے دین داری سے زیادہ ملک داری کی ضرورت ہے ۔ دین ملاؤں کے لئے ہے ۔ بادشاہوں کے لئے نہیں ۔ دینداری اور ملک داری دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ ایک ہی ذات میں دونوں ممکن نہین ۔
معاویہ :۔ اگر حکومت کرنے کے لئے دین اور حق کا خون کرنا ضروری ہے ۔ تو گداگری کو اس سے بہتر سمجھتا ہوں ۔ ملک داری کا منشا انصاف اور صداقت کی حفاظت کرنا ہے ۔ اس کا خون کرنا نہیں ۔
یزید :۔ یزید آپ لوگ سنتے ہیں ا سکی باتیں ۔ یہ مجھے ملک داری کا سبق سکھا رہا ہے ۔اس کے سر سے ابھی سودا نہیں گیا ۔ اسے پھر وہیں لے جاؤ ۔ ایسے آدمی کو آزاد رکھنا خطرناک ہے ۔ خواہ وہ تخت کا وارث ہی کیوں نہ ہو ۔ بعض حالتیں ایسی ہوتی ہیں ۔ کہ جب انسان کو اپنے ہی سے بچانا ضروری ہوتا ہے ۔ دیوانہ کو نہ روکو تو اپنا ہی گوشت نوچ ڈالتا ہے (غلام معاویہ کو لے جاتا ہے ) زیاد اب تم اپنی داستان کہو ۔ جب تک تم مجھے اس کا یقین نہ دلاؤ گے کہ تم کوفہ سے اپنی جان کے خوف سے نہیں میرے فائدہ کے خیال سے آئے ہو ۔ میں تمہین معاف نہ کروں گا ۔ ایسے نازک موقع پر جب شہر میں بغاوت کا ہنگامہ گرم ہو ۔ سلطنت کے ہر ایک ملازم کا خواہ وہ صوبہ کا عامل ہو یا شاہی محل کا دربان یہی فرض ہے کہ وہ اپنی جگہ پر آخر تک کھڑا رہے ۔خواہ اس کا جسم تیروں سے چھلنی کیوں نہ ہو جائے ۔
زیاد :۔ اے خلیفہ میں اپنے فرض سے واقف ہوں ۔ لیکن میں صرف یہ عرض کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ اس وقت رعایہ پر سختی کرنے سے حالت اور بھی
 
Top