چپ نہ ہوئے تو میں اٹھا کر باہر پھینکوا دوں گا

ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 19, 2017

  1. ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد

    ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد محفلین

    مراسلے:
    56
    جھنڈا:
    Pakistan
    یہ الفاظ ہییں جناب سپیکر کے جو خبروں کی سرخی بنے ہوئے ہیں۔ یہ الفاظ ہمارے ملک کے سب سے بڑے فورم پر بولے گئے جسے پارلیمان کہتے ہیں۔ جو پاکستان کےعوام کےنمائندگان کا فورم ہے جس میں ملکی سلامتی سے لے کر ملکی ترقی تک کے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔جن کی آواز قوم کی آواز ہوتی ہے۔

    اور سپیکر پارلیماں کا کسٹوڈین ہوتا ہے۔ لہذا پارلیمان کی کاروائی کے عمل کو لے کر چلنا اور حال کے ماحول کو سازگار رکھنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

    اب ان الفاظ پر اگر غور کیا جائے تو انتہائی غصے کا اظہار ہے اور سپیکر نے انتہائی بے بسی کے عالم میں کہے ہونگے جب ان کی بات کو نہیں مانا گیا ہوگا۔ یہ ایک ری ایکشن ہے اس سے اندازہ لگائیے کہ ایکشن کتنا سخت ہو گا۔ ویسے تو آئے دن موصوف اپنے مظاہرے دکھاتے رہتے ہیں۔پہلے پہل تو کرسیاں اور مکے بھی چلا کرتے تھے مگر اب بہتری آگئی ہے شائد آرکیٹیکچر نے کرسیوں کو تو فکس کر دیا ہے اور اس طرح اب الفاظوں کے تیر ہی چلتے ہیں۔ ایک لحاظ سے پارلیمینٹیرین ہمارے ملک کی اشرافیہ کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتے رہتے ہیں۔ اس طرح سے ان کی ذہنی حالت کی بھی عکاسی ہوتی ہے ۔

    اگر سوچا جائے تو یہ ایک رویہ ہے جس کا اظہار پارلیمان کے نمائیندگان نے کیا ہے دوسرے لفظوں میں یہ قوم کا نمائیندہ رویہ ہے جو قوم کے رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

    رویے ہماری تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتے ہیں اور تہذیب و تمدن قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات اور معاملات کی بنیاد ہوتے ہیں۔

    ذرا غور کریں تو ایسے روییے جن کا اظہار پارلیمان میں کیا جاتا ہے، دنیا کے لئے ایک پیغام ہوتے ہیں جو ہماری ذہنی عکاسی اور قومی تشخص کا اظہار ہوتے ہیں۔

    اب پارلیمان میں بڑے بڑ ے مدبر اور سلجھے ہوئے سیاستدان بھی بیٹھے ہوتے ہیں مگر چند لوگوں کے رویے کی وجہ سے پوری قوم کی رسوائی ہوتی ہے۔

    اب بات کیا تھی وہ ایک اور باب ہے ایسی بات کا کہنا مناسب تھا یا نہیں اس سےاور بحث چھڑ جائے گی مگر میں تھوڑاسا اشارہ کر دیتا ہوں کہ ہماری ذہنی حالت یہ ہے کہ ہم آزاد ہو کر بھی ذہنی طور پر ابھی بھی غلام ہیں۔ بئی یہ ہمارا ملک ہے اور اس سے ملحقہ تمام حقوق اور ذمہ داریاں ہماری ہیں
    خیر۔

    ہمارری گفتگو اور ہماری تحریریں بھی ہماری ذہنی عکاسی کرتی ہیں اور ہمیں ہر ایک کو محتاط رویے اپنانے چاہیں خاص کر جب ہم کسی گروہ یا جماعت کی نمائیندگی کر رہے ہوں۔

    یہ بہت ہی حساس مسئلہ ہے اور ہم اسے ہلکا سا لے لیتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم انفرادی طور پر بھی پوری قوم کی نمائیندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ الیکٹرانک میڈیا پر جب ہم کیمرے کے سامنے ہوتے ہیں تو نشریات پوری دنیا میں دیکھی جا رہی ہوتی ہیں اور بین ا لاقوامی سطح پر ہمارا ایک قومی تشخص بن رہا ہوتا ہے۔ اس طرح ہمارے جو دوست بیرون ملک رہتے ہیں یا سفر کا موقعہ ملتا رہتا ہے ان کو اس کا تجربہ اور احساس بھی ہوا ہوگا ۔ تو ہم وہاں بیرون ملک میں اپنی قوم کی نمائیندگی کر رہے ہوتے ہیں لہذا ہمیں اپنے رویوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

    مجھے اس طرح کا کئی بار تجربہ ہوا ہے۔ یہاں پر میں آپ کے ساتھ اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔
    یہ۲۰۰۶ کی بات ہے اور میں دبئی سے کویت کا سفر کر رہا تھا۔ چونکہ یہ پرواز ایک عرب سے عرب ملک میں جا رہی تھی اور اس میں میں واحد پاکستانی تھا۔ جب ہم ائیرپورٹ پر چیک آؤٹ کے لئے لائن میں کھڑے تھے تو میں نے پاسپورٹ ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ اب چونکہ میں اس پرواز میں واحد پاکستانی تھا اور جب ایک آفیسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا تو مجھے لائن سے باہر بلا کر علیحدہ لے گیا۔
    یہ تھا ہمارا عالمی سطح پر قومی تشخص جو ہمارے معاملات اور رویوں نے اس کے ذہن پر تاثر کی صورت میں چھوڑا ہوا تھا۔
    آپ کو اچھا محسوس نہیں ہوا ہو گا اور یقیناّ میری طبیعت پر بھی ناگوار گزرا اور میں نے اس کو الحمد اللہ اچھے طریقے سے ہینڈل بھی کیا کیوں کہ یہ میرے قومی تشخص کا معاملہ تھا۔ اور میں نے اپنے بیگ کی زپ کھولتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنا تعارف بھی کروایا اور ایک چھوٹی سی بات کہی اور وہ میرے انداز اور رویے سے ساری بات سمجھ گیا تھا۔ یقین جانئے اس نے میرے بیگ کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ بغیر میرا سامان جیک کئے کہنے لگا آپ جا سکتے ہیں۔ اور ائیر پورٹ سے باہر آنے والا میں پہلا مسافر تھا جسے پروٹو کول کے ساتھ جیک آؤٹ دیا گیا۔

    تو اس ساری گفتگو کا حاصل یہ نکلا کہ ہمیں اپنے رویے ٹھیک رکھنے چاہیں اور یہ بدزبانی اور شور ویسے بھی انسان کی شان کے خلاف ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر