بابا فرید پنج رُکن اسلام دے ،

جی ضرور
اردُو ترجمہ: اسلام کے پانچ رُکن بیان کئے جاتے ہیں۔ لیکن اے فرید ! ایک چھٹا رُکن بھی ہے اور وہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ’’ روٹی ‘‘ اگر یہ چھٹا نہ مِلے، تو باقی پانچوں بھی جاتے رہتے ہیں
 

ابن رضا

لائبریرین
اگر ترجمہ کر سکیں تو ہم بھی سمجھ لیں

یہ تازہ منظوم ترجمہ حاضر ہے جناب آپ کے لیے:):)

پانچ ہیں کُل رکن دینِ اسلام کے
اور چھٹا ہے رکن اے فریدا طعام
گر نہیں دسترس میں کسی کے چھٹا
تو پھر ان پانچ کا کام سمجھو تمام
 
آخری تدوین:
اگر روٹی چھٹا رکن ہے تو دال چاول،بھات موسلی کونسا رکن ہے
جس خطے میب بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ قیام پزیر رہے وہاں خوراک کا بنیادی جزو روٹی ہی تهی جس کا حوالہ انهوں نے دیا۔ آپ اگر اس خطے کے نہیں تو آپ اپنے چاول بهات وغیرہ وغیرہ کو چهٹا رکن سمجھ لیجیے۔ اگر سمجهنا چاہیں تو
 

bilal260

محفلین
یہ کسی حساب سے درست بھی ہے کہ پانچواں رکن روٹی اگر یہ نہ ہو تو سب ارکان ختم ہو جاتے ہیں۔
اس کی زندہ مثال ان غریب ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں پر روٹی اور بالخصوص پانی کی قلت ہے وہا ں پر آپ ان لوگوں کو روٹی(اور پانی)دے پھر ان کو جس مرضی مزہب میں داخل کر لیں کیونکہ اس کی سب سے اہم ضرورت روٹی ہے اگر یہ نہ ہو تو ان ممالک میں اموات بہت ہی زیادہ ہے ۔
اس لئے یہ مزہب سے زیادہ روٹی کو ترجیح دیتے ہیں ۔
(شاید) افریقہ ان ممالک میں سرفہرست ہے۔
 

bilal260

محفلین
دراصل اسلام کے ارکان پانچ ہی ہیں اور پانچ ہی رہے گئے۔
یہ صرف بتلانے کے لئے ہیں کہ اگر انسان بہت ہی زیادہ بھوکا ہو تو وہ کسی قسم کی عبادت تو کیا وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اس لئے پہلے تھوڑا پانی پیئے تھوڑا سا کھانا کھائے یا اس وقت کا کھانا کھائے اور پھر نماز پڑھے۔
 

bilal260

محفلین
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بات کی ترغیب دلائی کہ بہت بھوک لگی ہو تو پہلے کھانا کھا لو پھر نماز پڑھو۔
 

یوسف سلطان

محفلین
B_hUaEbUcAA7CPt.jpg:large
 

bilal260

محفلین
گوگل سے یہ ملا ہے۔
ملاحظہ کریں۔
لنک یہ رہا۔

کیا کھانے کو نماز پر مقدم کرنا جائز ہے؟
موضوع: عبادات | آداب | کھانے کے آداب | پینے کے آداب | نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: اخلاق خان مقام: پاکستان، فیصل آباد

سوال نمبر 1687:
میں نے نماز پڑھنے کے لئے وضو کیا۔ لیکن آفس میں کھانا کھانےکا ٹائم ہوگیا۔ آفس بوائےنے کھانا کھانے کےلئےبلایا کہ پہلے کھانا کھا لیں پھر نماز پڑھ لینا۔ میں نےکھانا کھایا پھر واپس آکر نماز پڑھی، یہ بتائیں کہ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے۔ کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:

اگر جماعت تیار ہو اور بھوک بھی شدت کی نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز سے پہلے کھانا کھانا جائز نہیں ہے۔

دوسری صورت میں اگر شدت کی بھوک لگی ہو اور انسان کو پتہ ہو کہ وہ کھانا کھائے بغیر نماز میں خشوع وخضوع برقرار نہیں رکھ سکتا، تو ایسی صورت میں کھانے کو نماز پر مقدم رکھیں گے۔ یعنی پہلے کھانا کھالیں گے اور اگر آپ اکیلے نماز پڑھ رہے تھے یا آپ نے خود ہی جماعت کروانی تھی تو نماز سے پہلے کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر جماعت کے ساتھ پڑھنی تھی اور بھوک بھی معمولی تھی تو ایسا کرنا ناجائز ہے۔



واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-24
 

x boy

محفلین
یہ کسی حساب سے درست بھی ہے کہ پانچواں رکن روٹی اگر یہ نہ ہو تو سب ارکان ختم ہو جاتے ہیں۔
اس کی زندہ مثال ان غریب ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں پر روٹی اور بالخصوص پانی کی قلت ہے وہا ں پر آپ ان لوگوں کو روٹی(اور پانی)دے پھر ان کو جس مرضی مزہب میں داخل کر لیں کیونکہ اس کی سب سے اہم ضرورت روٹی ہے اگر یہ نہ ہو تو ان ممالک میں اموات بہت ہی زیادہ ہے ۔
اس لئے یہ مزہب سے زیادہ روٹی کو ترجیح دیتے ہیں ۔
(شاید) افریقہ ان ممالک میں سرفہرست ہے۔

چھٹا
باقی باتیں دنیا میں قابل قبول ہے
 
Top