1. اردو محفل کو زین فورو کے تازہ ترین اسٹیبل نسخے 1.4.0 پر اپگریڈ کر دیا گیا ہے۔ کسی نقص کی صورت میں بلا تامل انتظامیہ کو مطلع فرمائیں۔ اپگریڈ کے حوالے سے مزید تفصیلات اس لڑی میں ملاحظہ فرمائیں۔

پروین شاکر پروین شاکر اور ان کا منتخب کلام

خرد اعوان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 1, 2008

  1. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    پروین شاکر چوبیس نومبر ،انیس سو باون میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں ۔ انہوں نے انگریزی ادب اور لسانیات دونوں مضامین میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی ۔اس کے علاوہ ایک ماسٹر ڈگر ی ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں بھی حاصل کی تھی ۔

    سول سروسزز اختیار کرنے سےپہلے وہ نو سال تک استاد کی حیثیت سے بھی جامعہ کراچی اور ٹرینیٹی کالج ( یو ایس اے سے منسلک )میں کام کرتی رہی تھیں ۔ ١٩٨٦ میں سیکیٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں تقرر ہوا ۔
    پروین شاکر کے لیے ایک انوکھا اعزاز یہ بھی تھا کہ ١٩٨٢ میں جب وہ سینٹرل سپیرئیر سروسزز کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے امتحان میں ایک سوال ان کی ہی شاعری کے متعلق تھا ۔

    پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی ۔ لیکن ١٩٩٤ میں اس شادی کا اختتام طلاق کی صورت میں ہوا ۔ وہ ایک کار کے حادثہ میں اسلام آباد میں جاں بحق ہوئیں ۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام مراد علی ہے ۔

    پروین شاکر کی شاعری اردو شاعری میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھی ۔ پروین نے ضمیر متکلم (صنف نازک) کا استعمال کیا جو اردو شاعری میں بہت کم کسی دوسری شاعرہ نے کیا ہو گا ۔ پروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا اور مختلف سماجی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ۔

    ان کی پہلی کتاب “ خوشبو “ کو آدم جی ایواڈ سے نوازا گیا ۔ بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی ملا ۔

    انکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ۔

    خوشبو (١٩٧٦)
    سد برگ (١٩٨٠)
    خود کلامی (١٩٨٠)
    انکار (١٩٩٠)
    ماہِ تمام (١٩٩٤)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    کفِ آئینہ سے انتخاب

    پت جھڑ سے گلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے
    پھولوں کو کچھ عجیب محبت ہوا سے ہے

    سرشارئ شگفتگی گل کو کیا خبر
    منسوب ایک اور حکایت ہوا سے ہے

    رکھا ہے آندھیوں نے ہی ہم کو کشیدہ سر
    ہم وہ چراغ ہیں جنہیں نسبت ہوا سے ہے

    اس گھر میں تیرگی کے سوا کیا رہے جہاں
    دل شمع پر ہیں اور ارادت ہوا سے ہے

    بس کوئی چیز سلگتی ہے دل کے پاس
    یہ آگ وہ نہیں جسے صحبت ہوا سے ہے

    صر صر کو اذن ہو جو صبا کو نہیں ہے بار
    کنج قفس میں زیست کی صورت ہوا سے ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  3. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے
    ہماری زندگی برباد کرکے

    پلٹ کر پھر یہیں آجایئں گے ہم
    وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کرکے

    رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
    مگر ہاں منت صیاد کرکے

    بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
    گیا ہے روح کو آباد کرکے

    ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
    مقرر ظلم کی معیاد کرکے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
    عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

    اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
    اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا

    ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
    اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

    اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
    بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

    ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
    ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا

    میرے لبوں پہ مہر تھی ، پر شیشہ رو نے تو
    شہر شہر کو میرا واقفِ حال کر دیا

    چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
    وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا

    مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
    منصب دلبری یہ کیا مجھ کو بحال کر دیا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    تخت ہے اور کہانی ہے وہی
    اور سازش بھی پرانی ہے وہی

    قاضی شہر نے قبلہ بدلہ
    لیکن خطبے میں روانی ہے وہی

    خیمہ کش اب کے ذرا دیکھ کے ہو
    جس پہ پہرہ تھا ، یہ پانی ہے وہی

    صلح کو فسخ کیا دل میں مگر
    اب بھی پیغام زبانی ہے وہی

    آج بھی چہرہ ء خورشید ہے زرد
    آج بھی شام سہانی ہے وہی

    بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیب
    اور زخموں کی کہانی ہے وہی

    حجلہ غم یونہی آراستہ ہے
    دل کی پوشاک شہانی ہے وہی

    شہر کا شہر یہاں ڈوب گیا
    اور دریا کی روانی ہے وہی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    میں اس سے کہاں ملی تھی
    بس خواب ہی خواب دیکھتی تھی

    سایہ تھا کوئی کنار دریا
    اور شام کی ڈوبتی گھڑی تھی

    کہرے میں چھپا ہوا تھا جنگل
    چڑیا کہیں دور بولتی تھی

    لپٹی ہوئی دھند کی ردا میں
    اک زرد گلاب کی کلی تھی

    اک سبز غبار تھا فضا میں
    بارش کہیں سانس لے رہی تھی

    بادل کوئی چھو گیا تھا مجھ کو
    چہرے پر عجیب تازگی تھی

    آنکھوں میں ٹھہر گئی تھی شبنم
    اور روح میں نرم روشنی تھی

    کیا چیز تھی جو میرے بدن میں
    آہستہ آہستہ کھل رہی تھی

    اک گیت ہوا کے ہونٹ پر تھا
    اور اس کی زبان اجنبی تھی

    اس رات جبین ماہ پر بھی
    تحریر کوئی قدیم سی تھی

    یہ عشق نہیں تھا اس زمیں کا
    اس میں کوئی بات سرمدی تھی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    جب ساز کی لے بدل گئی تھی
    وہ رقص کی کون سی گھڑی تھی

    اب یاد نہیں کہ زندگی میں
    میں آخری بار کب ہنسی تھی

    جب کچھ بھی نہ تھا یہاں پر ماقبل
    دنیا کس چیز سے بنی تھی

    مٹھی میں تو رنگ تھے ہزاروں
    بس ہاتھ سے ریت بہہ رہی تھی

    ہے عکس ، تو آئینہ کہاں ہے
    تمثیل یہ کس جہاں کی تھی

    ہم کس کی زبان بولتے ہیں
    گر ذہن میں بات دوسری تھی

    تنہا ہے اگر ازل سے انسان
    یہ بزم کلام کیوں سجی تھی

    تھا آگ ہی گر میرا مقدر
    کیوں خاک میں پھر شفا رکھی تھی

    کیوں موڑ بدل گئی کہانی
    پہلے سے اگر لکھی ہوئی تھی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے
    وہ جیسے خواب میں محسوس کر رہا تھا مجھے

    یہی تھا چاند اور اس کو گواہ ٹھہرا کر
    ذرا سا یاد تو کر تو نے کیاکہا تھا مجھے

    تمام رات میری خواب گاہ روشن تھی
    کسی نے خواب میں اک پھول دے دیا تھا مجھے

    وہ دن بھی آئے کہ خوشبو سے میری آنکھ کھلی
    اور ایک رنگ حقیقت میں چھو رہا تھا مجھے

    میں اپنی خاک پہ کیسے نہ لوٹ کر آتی
    بہت قریب سے کوئی پکارتا تھا مجھے

    درون خیمہ ہی میرا قیام رہنا تھا
    تو میر فوج نے لشکر میں کیوں لیا تھا مجھے​
     
  9. حسن علوی

    حسن علوی محفلین

    مراسلے:
    5,533
    موڈ:
    Amused
    پروین شاکر شاعری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں، اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں انکی موت یقیناً پورے پاکستان اور خصوصاً شاعری سے محبت کرنے والوں کے لیئے ایک دردناک المیہ تھی۔ انکی ایک کتاب سد برگ آج بھی میرے بک شلف میں موجود ھے۔
    بہت شکریہ خرد۔
     
  10. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    تھک گیا ہے دل وحشی میرا فریاد سے بھی
    جی بہلتا نہیں اے دوست تیری یاد سے بھی

    اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
    صید سے بھی ہیں مراسم تیرے ،صیاد سے بھی

    کیوں سرکتی ہوئی لگتی ہے زمیں یاں ہر دم
    کبھی پوچھیں تو سبب شہر کی بنیاد سے بھی

    برق تھی یا کہ شرار دل آشفتہ تھا
    کوئی پوچھے تو میرے آشیاں برباد سے بھی

    بڑھتی جاتی ہے کشش وعدہ گر ہستی کی
    اور کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد سے بھی​
     
  11. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
    باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے

    ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
    اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے

    اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
    گل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے

    ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
    اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاہتا ہے

    یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی
    اور کچھ روز ، کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے

    رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن
    رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے

    تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
    اور تیری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں
    اور کیا کیا بھید نظر کے کھولتی رہتی ہیں

    وہ ہاتھ میرے اندر کیا موسم ڈھونڈتا ہے
    اور انگلیاں کیسے خواب ٹٹولتی رہتی ہیں

    اک وقت تھا جب یہی چاند تھا اور سناٹا تھا
    اور اب یہی شامیں موتی رولتی رہتی ہیں

    یاد آتی ہیں اس کی پیار بھری باتیں پھر
    اور سارے بدن میں امرت گھولتی رہتی ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
    اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں

    زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
    اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایہ نہیں

    میری قسمت میں فقط درد تہہ ساغر ہی ہے
    اول شب جام میری سمت وہ لایا ہی نہیں

    تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا
    ذہن نے میرے بھی اب کے دل کو سمجھایا نہیں

    کان بھی خالی ہیں میرے اور دونوں ہاتھ بھی
    اب کے فصل گل نے مجھ کو پھول پہنایا نہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    اک عجب رو تھی خیال میں‌میرے آگئی
    کسی اور قرن سے حال میں‌میرے آگئی

    یہ تیری نگاہ ستارہ ساز کا ہے اثر
    یہ جو روشنی خدوخال میں‌میرے آگئی

    میری عمر نہیں‌دکھ میں‌فرق پڑا ہے یہ
    یہ کمی سی جو مہ و سال میں‌میرے آگئی

    وہ جواب دے کے بھی دیر تک رہا سوچتا
    کوئی بات ایسی سوال میں‌میرے آگئی

    تیرے ساتھ اڑنے کا سوچ کر ہی میں‌کھل گئی
    کوئی لہر سی پر و بال میں‌میرے آگئی

    کبھی زندگی میں‌منافقت نہیں‌کر سکی
    یہ کمی بھی فرد وبال میں‌میرے آگئی

    کبھی پیچھے نظم کے مجھے بھاگنا ہی پڑ گیا
    کبھی خود یہ تتری جال میں میرے آگئی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
    تیری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں

    ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیا
    مگر ایک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں

    مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشی
    میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں

    کنارہ ڈھونڈنے کی چاہ تک مجھ میں نہیں ہوگی
    میں اپنے گرد اک ایسا سمندر دیکھ سکتی ہوں

    خیال آتا ہے آدھی رات کو جب بھی تیرا دل میں
    اترتا ایک صحیفہ اپنے اوپر دیکھ سکتی ہوں

    وصال و ہجر اب یکساں ہیں ، وہ منزل ہے الفت میں
    میں آنکھیں بند کرکے تجھ کو اکثر دیکھ سکتی ہوں

    ابھی تیرے سوا دنیا بھی ہے موجود اس دل میں
    میں خود کو کس طرح تیرے برابر دیکھ سکتی ہوں​
     
  16. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    بھولا نہیں دل عتاب اس کے
    احسان ہیں بے حساب اس کے

    آنکھوں کی ہے ایک ہی تمنا
    دیکھا کریں روز خواب اس کے

    ایسا کوئی شعر کب کہا ہے
    جو ہو سکے انتساب اس کے

    اپنے لیے مانگ لوں خدا سے
    حصے میں جو ہیں عذاب اس کے

    ویسے تو وہ شوخ ہے بلا کا
    اندر ہیں بہت حجاب اس کے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    دل میں آئی رات
    چھوٹی سی اک بات

    اب کے پروائی
    لائی کیا سوغات

    پھولوں بھرا رستہ
    اور کسی کا ساتھ

    اس نے تھام لیا
    چوم کے میرا ہاتھ

    آنکھوں میں اتری
    تاروں کی بارات

    جیون میں آئی
    پورے چاند کی رات

    تن من جل تھل ہے
    یہ کیسی برسات

    اس کی یار میں گم
    میں ، خوشبو اور رات​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    جیسے مشام جاں میں سمائی ہوئی ہے رات
    خوشبو میں آج کس کی نہائی ہوئی ہے رات

    سرگوشیوں میں بات کریں ابر و باد و خاک
    اس وقت کائنات پہ چھائی ہوئی ہے رات

    ہر رنگ جس میں خواب کا گھلتا چلا گیا
    کس رنگ سے خدا نے بنائی ہوئی ہے رات

    پھولوں نے اس کا جشن منایا زمین پر
    تاروں نے آسماں پہ سجائی ہوئی ہے رات

    وہ چاند چھپ چکا ہے مگر شہر دید نے
    اب تک اسی طرح سے بسائی ہوئی ہے رات

    صبح جمال یار کے جادو کو دیکھ کر
    ہم نے نظر سے اپنی چھپائی ہوئی ہے رات​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    صحرا کی طرح تپی ہوئی برف
    کیا آگ سے ہے بنی ہوئی برف

    پتھر کی سیاہ رو سڑک پر
    شیشے کی طرح بچھی ہوئی برف

    ہے شام کی سرمئی ردا پر
    چمپا کی طرح ٹکی ہوئی برف

    اندر سے سراپا آگ ہوں میں
    باہر سے مگر جمی ہوئی برف

    ہیں چست قبا شجر ہی ، یا ہے
    ہمراہ بدن سلی ہوئی برف

    لگتا ہے کہ شب دمک رہی ہے
    مہتاب ہے اور کھلی ہوئی برف

    مجھ پر کوئی ریت آ کے ڈالے
    ویرانے میں ہوں پڑی ہوئی برف​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    ظلم کی طرح اذیت میں ہے جس طرح حیات
    ایسا لگتا ہے کہ اب حشر ہے کچھ دیر کی بات

    روز اک دوست کے مرنے کی خبر آتی ہے
    روز اک قتل پہ جس طرح کہ مامور ہے رات

    خیمئہ غیر سے منگوائے ہوئے یہ مخبر
    رن پڑے گا تو گھڑی بھر نہ دے پایئں گے ساتھ

    کس طرح جان سکے طائر نو آموز
    کون ہے جال کشا ، کون لگائے ہوئے گھات

    آستینوں میں چھپانے ہوئے ہر اک خنجر
    اور گفتار کی بابت میں ہیں سب قند و نبات​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر