پروف ریڈ اول پاکستان ہماری منزل تھا : صفحہ 6

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
AAPBeeti007.gif
 

شکاری

محفلین
میری کچھ مصروفیات کی وجہ سے یہ کام لیٹ ہوگیا ہے کل سنڈے ہے انشاءاللہ اس میں آپ کو پیش رفت ضرور ملے گی۔
 

شکاری

محفلین
کتاب: پاکستان ہماری منزل تھا
ٹائپنگ: عدنان زاہد


بنیاد ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ پر ہے۔ اس بنیاد میں رختہ پڑجائے معاشرہ کی تمام دیواریں زلزلہ کی زد میں آجاتی ہیں۔ اس وقت یہی صورت حال تھی۔ زندگی کے معمولات جاری تھے مگر جیسے بے دلی اور بے کیفی کے ساتھ۔ دونوں قوموں میں اعتماد کی بحالی کے لیے کام ہورہا تھا مگر ساتھی قتل وغارت کی وارداتیں جاری تھی۔ ہم مدرسہ کے طالب علم دوسرے مدلمان رضاکاروں کے ساتھ مل کر ایسے مواقع پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے مگر بہت بوجھل دل کے ساتھ۔ دسمبر کے آغاز میں تو ایک ایسا ہوناک واقعہ ہوا کہ دو ہفتہ تک مجھے نیند نہیں آسکی۔ ایک نواحی گاؤں سے چار پھول بچوں کے لاشے ملے تھے اور ان کے وارثوں کا کوئی پتہ نہیں چلا تھا۔ ان دنوں ایسے واقعات بے شمار ہوئے کہ فساد اور ہڑبونگ کے دوران بچے ماں باپ سے، عزیز عزیزوں سے، خاندان والے خاندانوں سے بچھڑ گئے۔ بہت سے پھر سے اپنوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر ایسے بھی تھے جو ایسا نہ کرسکے۔ خاص طور پر ناسمجھ بچوں کے لیے یہ وقت قیامت کا تھا۔ ان چار پھول سے معصوم بچوں پر جانے کیا بیتی کہ ان کے کٹے پھٹے لاشے ہم رضا کاروں نے اُٹھائے۔ پولیس ہمارے ساتھ تھی، ان لاشوں کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ ہم انہیں روڑکی لے آئے۔ ان کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا اور اس کام سے فارغ ہوکر واپس مدرسہ پہنچے تو میں بدحواس ہوچکا تھا۔ مجھے سب کچھ دھواں دھواں نظر آتا تھا۔ ادھر ادھر سائے سے تیرتے لگتے تھے۔ عجب قسم کی ڈراؤنی اور غیر حقیقی مخلوق کے ہیولے نظر آتے تھے اور جیسے میری تمام حسیں سن ہو کر رہ گئی تھیں۔ تین دن تک تو مجھے ہوش ہی نہیں تھا کہ کہاں بیٹھا ہوں۔ کیا کررہا ہوں، کہاں جارہا ہوں اور کای چاہتا ہوں۔ دوست بتاتے ہیں کہ وہ مجھے سلانے کی کوشش کرتے تھے مگر میں سوتا نہیں‌ تھا۔ کھانا پینا بھی ترک ہوگیا تھا اور ایک چپ لگ گئی تھی کہ کسی سے بات نہ کرتا تھا اور نہ کسی کو پہچانتا تھا۔ تین دن کے بعد میری حالت کچھ سنبھلی اور بالکل معمول پر آتے دوہفتے لگے۔ اس کے بعد مولوی صآحب نے طالب عموں کو منع کردیا تھا کہ ایسے مواقع پر وہ مجھے ساتھ لے کر نہ جائیں۔ مگر اس پابندی سے کیا ہوتا تھا۔ ان واقعات پر تو پابندی نہیں‌لگ سکتی تھی۔
جنوری 48ء کے شروع میں مہاتما گاندھی، وزیراعظم جواہر لال نہرو اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے امن کی بحالی کی غرض سے اس علاقہ کا دورہ کیا۔ تھوڑی دیر خطاب کیا، کچھ اور اقدامات بھی کئے ہوں گے۔ اس کے بعد آگے ہردوار چلے گئے۔ مسلمانوں میں یہ تاثر تھا کہ پٹیل فسادیوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ وہ مسلمانوں‌کا سخت دشمن ہے اور اس قدوسیع پیمانہ پر مسلمانوں کا قتل و غارت اس کی سرپرستی میں‌ ہوا ہے۔ اس لیے گاندھی اور نہرو کی آمد ان کے کسی قدر حوصلہ کا باعث بنی مگر پٹیل کے ساتھ ہونے کے باعث شکوک وشبہات نے جنم لیا کہ یہ امن کی کوشیش کامیاب بھی ہوں گی یا نہیں۔
30 جنوری 1948ء کو دہلی میں پرار تھنا کے دوران ایک انتہا پسند ہندو نے گاندھی کو قتل کردیا۔ اس سے مسلمانوں کو بڑا دھچکا لگا۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ قتل و غارت اور فساد کے خلاف ہے اور امن قیام کا حامی ہے اسی لیے مسلمان اسے اپنا مددگار خیال کرتے تھے۔ اس کا قتل بھی اسی الزام میں ہوا کہ وہ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اس قتل کے فوراً بعد دو طرح جلسے اور جلوس شروع ہوگئے۔ ایک احتجاجی اور دوسرے تعزیتی۔ ہمیں دونوں‌طرح کے جلسوں جلوسوں‌میں شامل ہونا پڑتا تھا۔ احتجاجی جلوس اور جلسے ہفتہ دس دن بعد ختم ہوگئے مگر تعزیتی جلسوں کا سلسلہ چالیس دن تک برابر جاری رہا۔ روزانہ شام کے وقت جلسہ ہوتا تھا اور اسے پرار تھنا کہا جاتا تھا۔ یہاں سب
 

ابو کاشان

محفلین
کتاب: پاکستان ہماری منزل تھا
پروف ریڈنگ : ابو کاشان


بنیاد ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ پر ہے۔ اس بنیاد میں رختہ پڑ جائے معاشرہ کی تمام دیواریں زلزلہ کی زد میں آجاتی ہیں۔ اس وقت یہی صورت حال تھی۔ زندگی کے معمولات جاری تھے مگر جیسے بے دلی اور بے کیفی کے ساتھ۔ دونوں قوموں میں اعتماد کی بحالی کے لیے کام ہورہا تھا مگر ساتھی قتل وغارت کی وارداتیں جاری تھی۔ ہم مدرسہ کے طالب علم دوسرے مسلمان رضاکاروں کے ساتھ مل کر ایسے مواقع پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے مگر بہت بوجھل دل کے ساتھ۔ دسمبر کے آغاز میں تو ایک ایسا ہولناک واقعہ ہوا کہ دو ہفتہ تک مجھے نیند نہیں آسکی۔ ایک نواحی گاؤں سے چار پھول سے بچوں کے لاشے ملے تھے اور ان کے وارثوں کا کوئی پتہ نہیں چلا تھا۔ ان دنوں ایسے واقعات بے شمار ہوئے کہ فساد اور ہڑبونگ کے دوران بچے ماں باپ سے، عزیز عزیزوں سے، خاندان والے خاندانوں سے بچھڑ گئے۔ بہت سے پھر سے اپنوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر ایسے بھی تھے جو ایسا نہ کر سکے۔ خاص طور پر ناسمجھ بچوں کے لیے یہ وقت قیامت کا تھا۔ ان چار پھول سے معصوم بچوں پر جانے کیا بیتی کہ ان کے کٹے پھٹے لاشے ہم رضا کاروں نے اُٹھائے۔ پولیس ہمارے ساتھ تھی، ان لاشوں کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ ہم انہیں روڑکی لے آئے۔ ان کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا اور اس کام سے فارغ ہو کر واپس مدرسہ پہنچے تو میں بدحواس ہو چکا تھا۔ مجھے سب کچھ دھواں دھواں نظر آتا تھا۔ ادھر ادھر سائے سے تیرتے لگتے تھے۔ عجب قسم کی ڈراؤنی اور غیر حقیقی مخلوق کے ہیولے نظر آتے تھے اور جیسے میری تمام حسیں سن ہو کر رہ گئی تھیں۔ تین دن تک تو مجھے ہوش ہی نہیں تھا کہ کہاں بیٹھا ہوں۔ کیا کر رہا ہوں، کہاں جا رہا ہوں اور کیا چاہتا ہوں۔ دوست بتاتے ہیں کہ وہ مجھے سلانے کی کوشش کرتے تھے مگر میں سوتا نہیں‌ تھا۔ کھانا پینا بھی ترک ہوگیا تھا اور ایک چپ لگ گئی تھی کہ کسی سے بات نہ کرتا تھا اور نہ کسی کو پہچانتا تھا۔ تین دن کے بعد میری حالت کچھ سنبھلی اور بالکل معمول پر آتے دوہفتے لگے۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے طالب علموں کو منع کر دیا تھا کہ ایسے مواقع پر وہ مجھے ساتھ لے کر نہ جائیں۔ مگر اس پابندی سے کیا ہوتا تھا۔ ان واقعات پر تو پابندی نہیں‌لگ سکتی تھی۔

جنوری 48ء کے شروع میں مہاتما گاندھی، وزیراعظم جواہر لال نہرو اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے امن کی بحالی کی غرض سے اس علاقہ کا دورہ کیا۔ تھوڑی دیر خطاب کیا، کچھ اور اقدامات بھی کئے ہوں گے۔ اس کے بعد آگے ہردوار چلے گئے۔ مسلمانوں میں یہ تاثر تھا کہ پٹیل فسادیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ وہ مسلمانوں‌کا سخت دشمن ہے اور اس قدر وسیع پیمانہ پر مسلمانوں کا قتل و غارت اس کی سرپرستی میں‌ ہوا ہے۔ اس لیے گاندھی اور نہرو کی آمد ان کے کسی قدر حوصلہ کا باعث بنی مگر پٹیل کے ساتھ ہونے کے باعث شکوک و شبہات نے جنم لیا کہ یہ امن کی کوشیش کامیاب بھی ہوں گی یا نہیں۔

30 جنوری 1948ء کو دہلی میں پرار تھنا کے دوران ایک انتہا پسند ہندو نے گاندھی کو قتل کر دیا۔ اس سے مسلمانوں کو بڑا دھچکا لگا۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ قتل و غارت اور فساد کے خلاف ہے اور امن قیام کا حامی ہے اسی لیے مسلمان اسے اپنا مددگار خیال کرتے تھے۔ اس کا قتل بھی اسی الزام میں ہوا کہ وہ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اس قتل کے فوراً بعد دو طرح کے جلسے اور جلوس شروع ہوگئے۔ ایک احتجاجی اور دوسرے تعزیتی۔ ہمیں دونوں طرح کے جلسوں جلوسوں ‌میں شامل ہونا پڑتا تھا۔ احتجاجی جلوس اور جلسے ہفتہ دس دن بعد ختم ہوگئے مگر تعزیتی جلسوں کا سلسلہ چالیس دن تک برابر جاری رہا۔ روزانہ شام کے وقت جلسہ ہوتا تھا اور اسے پرار تھنا کہا جاتا تھا۔ یہاں سب
 
Top