وراثت کی تقسیم

La Alma

لائبریرین
اگر وراثت کی اس تقسیم کو ایسے معاشرتی رویوں کے تناظر میں دیکھا جائے جہاں مذہبی عقائد اور احکامات کو بنیاد بنا کر عورت کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے ، جہاں عورت کو اس کے حقوق دینے کے زبانی دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اسے کنیز یا باندی سے زیادہ کا درجہ نہیں جاتا . عورت کو بھی دیگر اشیا کی طرح اپنی ملکیت سمجھا جاتا ہے ،وہاں پر یہ تقسیم غیر منصفانہ ہی معلوم ہو گی .پھر چاہے وراثت کا ایشو ہو ، عورت پر تشدد کی بات ہو ، تعدد ازدواج کا معاملہ ہو ، مرد کی عورت پر برتری کی بحث ہو ، چادر اور چار دیواری کے نام پر عورت کے دائرہ کار کو محدود کر دینا ہو ، وہاں عورت ہمیشہ ظلم کی چکی میں پستی نظر آئے گی. لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے . یہ مظالم اسلام نے عورت پر نہیں توڑے بلکہ معاشرے کی ہیئت ایسی ہو گئی ہے کہ یہ سب کچھ رواج پکڑ چکا ہے .
بد قسمتی سے مذہب کی تشریح ایک خاص دور کے رسم و رواج ،کلچر، تہذیب اور ثقافت کے دائرہ کار میں رہ کر گئی ہے . لہٰذا آج تک دین کو روایات سے الگ نہیں کیا جا سکا .اسلامی معاشرے میں عورت کا جو امیج اور تصور ابھر کر سامنے آیا ہے وہ ایک محکوم اور مظلوم کا سا ہے . اگر عورت کے اس تشخص کو اجاگر کیا جائے جو واقعتًا اسلام نے دیا ہے اور وراثت کی اس تقسیم کو عورت پر روا دیگر مظالم سے نتھی نہ کیا جائے تو پھر سوچ کا زاویہ یکسر بدل جائے گا . اور یہ تقسیم عین عدل لگے گی جو کہ یقیناً ہے .
ظاہر سی بات ہےکہ عورت پر معاش سے متعلق کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی وہ کسی اور پر خرچ کرنے کی مجاز ہے سو تقسیم کی یہ صورت نہایت منصفانہ ہے . بصورت دیگر مرد کے ساتھ زیادتی یقینی تھی . ایک اور بات توجہ طلب ہے کہ اپنی زندگی میں اولاد کے مابین جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جا سکتا. یہ بعد از مرگ وراثت کی تقسیم کا بیان ہے . اسلام نے وصیت کا اختیار دے کر وراثت کے اس قانون میں مزید لچک پیدا کی ہے . تاکہ کسی کی بھی کوئی حق تلفی نہ ہو . اب اگر کوئی شخص اپنے ورثا میں سے کسی کے متعلق عدم تحفظات کا شکار ہے، بلفرض وہ وارث بیٹی ہے تو وہ وصیت کا حق استعمال کر کے اس کے تخفظ کو یقینی بنا سکتا ہے . وراثت کی شرعی تقسیم اس کی وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہی ہو گی.

وراثت کی تقسیم کا معاملہ ہو یا کوئی اور ، زیادہ تر علمائے کرام ، قرآن پاک میں بیان کردہ مرد اور عورت کے حقوق کی تشریح، دیگر علوم ِ دین مثًلا حدیث اور فقہ سے کرتے ہیں .اس بات سے قطعًا انکار نہیں کہ احادیث کا اکھٹا کیا جانا ، ایک خاص طریقہ کار کے مطابق ان کی جانچ پڑتال ہونا، متن اور اسناد کو وضع کردہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنا ، اور ان کی صحیح تصدیق کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھنا ، پھر ان علوم کو مرتب کر کے عوام الناس تک پہنچانا، یقیناً امّتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت پر ایک احسانِ عظیم ہے .لیکن ان سب کوششوں کے باوجود کہیں نہ کہیں ہیومن ایرر کا خدشہ بہرحال موجود ہے . اگر ایسا نہ ہوتا تو ضعیف حدیث یا من گھڑت حدیث کی اصطلاحات سننے کو نہ ملتیں جنہیں لوگ خواہش ِ نفسی سے گھڑ لیتے ہیں . پھر ان کے مطابق دین کے احکامات کی تشریح کرتے ہیں .جبکہ آج تک قرآن کی ایک بھی ایسی آیت پیش نہیں کی جا سکی جو ضعیف کا درجہ رکھتی ہو . اور یہی بات قرآن کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے .
پچھلے چودہ سو سالوں میں عظیم معاشی ، معاشرتی اور سائنسی انقلابات آئے ہیں ، وسائل اور ذرائع پہلے کی نسبت زیادہ میسر ہیں . تحقیق کا کام اولین دور کی نسبت زیادہ سہل ہے. لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید علوم کا سہارا لیتے ہوئے مذہب کواس دور کے کلچر سے الگ کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہیے .کوئی ایسا حکم جو دین میں موجود نہ ہو لیکن جسے دین کا حصّہ بنا کر پیش کیا جاتارہا ہے ، اس کا سدباب کیا جانا چاہیے. تاکہ قرآن اور حدیث کی صحیح تفہیم ممکن بنائی جا سکے، اور عملی زندگی میں دینی احکامات کا اطلاق احسن طریقے سے ہو سکے . امّتِ مسلمہ کسی ایک نقطے پر مرتکز ہو اور ساتھ ساتھ اس تفرقہ بازی سے بھی جان چھوٹے . اگر ایسا ہو جائے تو مرد اور عورت کے مابین یہ طبقاتی کشمکش اور ان کے حقوق و فرائض کو لے کر سارے جھگڑے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں.
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

اسلام صرف مذہب کا نام نہیں ہے چنانچہ پورے قرآن میں اسلام کو کہیں بھی مذہب نہیں کہا گیا اور نہ ہی احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کو مذہب فرمایا بلکہ اگر اس کا ذکر ہوا تو فرمایا اسلام دین ہے۔
مفتی محمد رفیع عثمانی

والسلام
 
Top