نہیں پلواؤں گی۔۔۔ نہیں پلواؤں گی۔۔۔نہیں پلواؤں گی

برسبیل تذکرہ پاکستانی ہیرو اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی‌آئی‌اے نے پولیو ویکینیشن استعمال نہیں کی تھی۔
یرقان کی ویکسینیشن کروانا ابھی پاکستان میں اتنی عام نہیں ہوئی، اس لیے عوام پولیو والی ہی سمجھتی ہے۔
 

زیک

مسافر
یہ دونوں اچھی ہیں۔

nestle-nescafe-gold-200gm-gomart-pakistan-2540-500x500.jpg

nestle-nescafe-classic-100g-gomart-pakistan-1446-500x500.jpg
انہی سے تو منع کر رہا تھا
 
بچوں سے پوچھ لیا کریں جنہوں نے دونوں ویکسین لی ہیں ان کو خوب یاد ہو گا کہ کس ٹیکے سے درد ہوئی تھی اور کونسے قطرے کڑوے تھے
بچوں کو سرکاری ویکسینیشن زندگی کے پہلے ایک دو سال میں ہی ہو جاتی ہے۔ بس پولیو والے قطرے پانچ سال تک پلائے جاتے ہیں۔ ایسے میں کہاں بتا پائیں گے
 

Fawad -

محفلین
امیریکی سی آئی اے ویکسین پروگراموں کو اپنے خفیہ مقاصد کے حصول کے پردے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
شاید پاکستان میں اسی کا رد عمل اتنا شدید ہو ۔
بر سبیل تذکرہ۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ہمیں اصل ايشو پر توجہ دينی چاہیئے۔ اس بات کو سمجھنا انتہائ ضروری ہے کہ پاکستان ميں اس وقت لاکھوں بچوں کو پولیو ويکسين کی اشد ضرورت ہے۔

میں واضع کرنا چاہوں گا کہ پوليو ويکسين کی مہم امريکی حکومت کی ايماء پر نہيں ہوتی۔ اور نہ ہی امريکی حکومت اس پوليو ٹيم کو جو اس خطے ميں مہم چلاتی ہے، کسی قسم کی ہدايات جاری کرتی ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ امريکہ محض اس سلسلے میں پاکستانی حکومت، ڈبليو-ايچ- او اور ديگر تنظيموں کو مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ ان بچوں کو ويکسین دی جا سکے۔

بچے اس قوم کا مستقبل ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئ گنجائش نہيں ہے پوليو ویکسین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کو يقينی بنايا جانا چاہيئے تاکہ لاکھوں بچے جو ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں کو حفاظتی ادويات کی ذريعے محتلف بیماريوں سے بچايا جا سکے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ww.state.gov

DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter

Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

Us Dot
 
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ہمیں اصل ايشو پر توجہ دينی چاہیئے۔ اس بات کو سمجھنا انتہائ ضروری ہے کہ پاکستان ميں اس وقت لاکھوں بچوں کو پولیو ويکسين کی اشد ضرورت ہے۔

میں واضع کرنا چاہوں گا کہ پوليو ويکسين کی مہم امريکی حکومت کی ايماء پر نہيں ہوتی۔ اور نہ ہی امريکی حکومت اس پوليو ٹيم کو جو اس خطے ميں مہم چلاتی ہے، کسی قسم کی ہدايات جاری کرتی ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ امريکہ محض اس سلسلے میں پاکستانی حکومت، ڈبليو-ايچ- او اور ديگر تنظيموں کو مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ ان بچوں کو ويکسین دی جا سکے۔

بچے اس قوم کا مستقبل ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئ گنجائش نہيں ہے پوليو ویکسین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کو يقينی بنايا جانا چاہيئے تاکہ لاکھوں بچے جو ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں کو حفاظتی ادويات کی ذريعے محتلف بیماريوں سے بچايا جا سکے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ww.state.gov

DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter

Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

Us Dot



فواد پائین۔۔۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک طرف ویکسینیوں کے سلسلے میں مدد دیتی ہے کہ لاکهوں بچے لقمہ اجل بننے سے بچ پائیں۔۔۔ دوسری طرف بمباری کر کر کے لاکهوں بچوں کو خود اجل کے لقمے بنا رہی ہوتی ہے ۔۔۔ کیا یہ منافقت المعروف کهلا تضاد نہیں ہے ؟
 
آخری تدوین:
فواد پائین۔۔۔ ایک طرف ویکسینیوں کے سلسلے میں مدد دیتے ہیں کہ لاکهوں بچے لقمہ اجل بننے سے بچ پائیں۔۔۔ دوسری طرف بمباری کر کر کے لاکهوں بچوں کو خود اجل کے لقمے بنا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کیا یہ منافقت المعروف کهلا تضاد نہیں ہے ؟
آپ کا اس مراسلے میں امریکہ کا لفظ نہیں۔ فواد بھائی صرف "امریکہ" والے مراسلے کا جواب دینے آتے ہیں۔ :)
 
فواد پائین۔۔۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک طرف ویکسینیوں کے سلسلے میں مدد دیتی ہے کہ لاکهوں بچے لقمہ اجل بننے سے بچ پائیں۔۔۔ دوسری طرف بمباری کر کر کے لاکهوں بچوں کو خود اجل کے لقمے بنا رہی ہوتی ہے ۔۔۔ کیا یہ منافقت المعروف کهلا تضاد نہیں ہے ؟
اب جواب کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ :)
 

Fawad -

محفلین
فواد پائین۔۔۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک طرف ویکسینیوں کے سلسلے میں مدد دیتی ہے کہ لاکهوں بچے لقمہ اجل بننے سے بچ پائیں۔۔۔ دوسری طرف بمباری کر کر کے لاکهوں بچوں کو خود اجل کے لقمے بنا رہی ہوتی ہے ۔۔۔ کیا یہ منافقت المعروف کهلا تضاد نہیں ہے ؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کيا آپ ايمانداری سے يہ سمجھتے ہيں کہ امريکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے درميان کسی بھی قسم کے سفارتی يا عملی تعلقات موجود ہوتے اگر ہم واقعی دانستہ بغير کسی منطق اور وجہ کہ پاکستانی بچوں کو نشانہ بنا کر ان کے قتل عام ميں ملوث ہوتے؟
دونوں ممالک کی سول اور فوجی قيادت کيونکر وسائل کے اشتراک، فوجی سازوسامان کی ترسيل اور اس کے ساتھ ساتھ اينٹيلی جينس، تربيت اور حکمت عملی کے تبادلے کے عمل ميں شراکت دار کی حيثيت سے شامل ہو سکتی ہے اگر آپ کے غلط الزام کے مطابق ايک فريق انتہائ ناقابل فہم انداز ميں معصوم شہريوں کو نشانہ بنا رہا ہے؟

ميں واضح کر دوں کہ امريکی حکومت بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کے درپے ہرگز نہيں ہے۔ میں نے يہ بات بارہا کہی ہے کہ دانستہ عام شہريوں کی ہلاکت سے امريکہ کو فوجی، سياسی اور اسٹريجک سطح پر نا تو کوئ فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نا ہی يہ طرزعمل ہماری قدروں سے ميل کھاتا ہے۔

باوجود اس کے کہ امريکہ اور پاکستان کے مابين بعض معاملات پر بحث اور باہم اہميت سے متعلق طريقہ کار کے حوالے سے نقطہ نظر ميں اختلاف موجود ہے ليکن اس کے باوجود ہم مشترکہ مقاصد کے حصول اور پاکستان سميت خطے کی مجموعی سيکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے ليے مل کر کام کرنے کے ليے پرعزم ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter

Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 
کيا آپ ايمانداری سے يہ سمجھتے ہيں کہ امريکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے درميان کسی بھی قسم کے سفارتی يا عملی تعلقات موجود ہوتے اگر ہم واقعی دانستہ بغير کسی منطق اور وجہ کہ پاکستانی بچوں کو نشانہ بنا کر ان کے قتل عام ميں ملوث ہوتے؟
سفارتی تعلقات رکھنا ریاست اور جدید دنیا کی مجبوری ہے، کہ آپ مگر مچھ ہیں، اور دریا میں رہتے ہوئے ریاست پاکستان فی الحال یہ بیر نہیں رکھ سکتی اور ہم اپنے حکمرانوں کی مجبوریاں سمجھتے ہیں۔ اس لیے سفارتی تعلقات کی تو بات ہی نا کریں۔
دونوں ممالک کی سول اور فوجی قيادت کيونکر وسائل کے اشتراک، فوجی سازوسامان کی ترسيل اور اس کے ساتھ ساتھ اينٹيلی جينس، تربيت اور حکمت عملی کے تبادلے کے عمل ميں شراکت دار کی حيثيت سے شامل ہو سکتی ہے اگر آپ کے غلط الزام کے مطابق ايک فريق انتہائ ناقابل فہم انداز ميں معصوم شہريوں کو نشانہ بنا رہا ہے؟
اسے بھی مجبوری ہی سمجھیں کہ ہمارے سامان ضرب و حرب کا ایک بڑا حصہ آپ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے توسط سے آیا ہوا ہے اور ان کی دیکھ بھال اور فالتو پرزہ جات کے لیے ہمیں آپ ہی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
ميں واضح کر دوں کہ امريکی حکومت بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کے درپے ہرگز نہيں ہے۔ میں نے يہ بات بارہا کہی ہے کہ دانستہ عام شہريوں کی ہلاکت سے امريکہ کو فوجی، سياسی اور اسٹريجک سطح پر نا تو کوئ فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نا ہی يہ طرزعمل ہماری قدروں سے ميل کھاتا ہے۔

کون سی امریکی اقدار۔۔۔۔۔یہی نا کہ گزشتہ تین سو سال سے مستقل حالت جنگ میں خود کو رکھا ہوا ہے، اور اس کا فائدہ آپ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحے میں امریکہ کی پرسنٹیج 33 فیصد سے زائد ہے۔ آپ خود بھی کہیں نا کہیں حالت جنگ سے میں رہتے ہیں یا پھر کسی اور سامنے لا لا کر جنگ کرواتے رہتے ہیں تاکہ آپ کی کا اسلحہ ساز کمپنیوں کا دھندہ چلتا رہے
 
Top