نوروز (نیا دن)

فائزہ افنان نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 20, 2017

  1. فائزہ افنان

    فائزہ افنان محفلین

    مراسلے:
    39
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نوروز شمسی ہجری کیلنڈر میں ایرانی نئے سال کا نام ہے . نوروز موسم بہار کے پہلے دن اور فارسی کیلنڈر میں سال کے آغاز کا بھی ایک نام ہے . یہ دن عام طور پر 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔
    نوروز ہزاروں سال سے مختلف نسلی گروہوں اور مذہبی پس منظر کے حامل افراد کی جانب سے منایا جا رہا ہے . یہ ایک سیکولر تہوار ہے . اس تہوار کا آغاز قدیم ایران کی ہخمانیشی سلطنت کے دور میں ہوا۔ فارسی ثقافتی اثرورسوخ کے باعث یہ تہوار ارد گرد کے تمام خطوں میں بھی مقبول ہوا اور آج بھی ہے۔ جیسے موجودہ ( آزربائجان، آرمینیا، جیورجیا، عراق، کردستان، داغستان، البانیا، ترکی، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان قزاقستان وغیرہ)۔
    کہا جاتا ہے کہ نوروز کی جڑیں جزوی طور پر پارسی مذہب Zoroastrianism کی روایات میں میں پنہاں ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ نوروز کا آغاز سب سے پہلے، زرتست نظریے کے بانی Zoroaster نے کیا تھا۔ لیکن اس بارے زیادہ ثبوت موجود نہیں۔ بحرحال ہخمانیشی دور میں اس دن کو ریاستی سطح پر منانے کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔
    28 ستمبر سے 2 اکتوبر 2009 میں ابوظہبی میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی " ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لئے بین الحکومتی کمیٹی" کے اجلاس کے دوران نوروز کو UNESCO کی انسانیت کے عظیم ثقافتی ورثے کی فہرست میں رجسٹرڈ کیا گیا. 2010 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نوروز کو بطور ایک عالمی دن و عالمی تہوار کے تسلیم کیا۔
    نوروز کے تہوار کے موقع پر ایران، افغانستان، البانیا، آزربائیجان، جیورجیا، ترکمانستان، کرغزستان، قزاقستان، تاجکستان، ازبکستان اور عراق وغیرہ میں ریاستی سطح پر عام تعطیلات ہوتی ہیں۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر