میں فرقہ واریت میں یقین نہیں رکھتا

جاویداقبال نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 14, 2006

  1. جاویداقبال

    جاویداقبال محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
    ڈاکٹرصلاح الدین صاحب کایہ کالم آج کی جنگ کی اشاعت میں چھایاہواہے جسمیں بہت کچھ سوچنے کی باتیں ہیں۔
    خداراہم کوفرقوں کوچھوڑکرایک ہوجاناچاہیے۔ اللہ تعالی سے دعاگوہوں کہ وہ ہم سب ایک کرے (آمین ثم آمین)




    میں فرقہ واریت میں یقین نہیں رکھتا
    جنگ کی ایک اشاعت میں جناب محمد جاوید اقبال کا مضمون ”جرائم کی روک تھام کیسے اورکیوں“ پڑھا۔ موصوف نے اپنے مضمون میں جن حقائق کا انکشاف کیا ہے وہ چونکا دینے والے ہیں۔ ارباب اقتدار کی چشم پوشی اور دوعملی کا جس طرح کھل کر ذکر کیاگیا ہے وہ موجودہ حکومت کو سمجھانے کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ ہے۔انہوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں جنوبی کوریا کی مثال ایک خوبصورت مثال ہے اور قابل عمل بھی ہے۔ اگر حکومت اور سیاسی لیڈران اقتدار کی لڑائیاں چھوڑ کر کوریا کے طریقے پر عمل کریں تو ہمارا ملک بھی جرائم کو ختم کرکے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔موصوف نے لکھا کہ جنوبی کوریا میں ایک زمانے میں کاریں چرانے کا جرم عام ہوگیا تھا۔ حکومت نے ایک ٹاسک فورس ترتیب دی جس نے ایک ماہ کے اندر رپورٹ دی کہ معاشرے میں بے روزگاری اور غربت اصل اسباب ہیں اور تجویز دی کہ چوری کی سزا کم اور چوری کا مال خریدنے والوں کے لئے زیادہ سزا مقرر کی جائے۔ چوری کی سزا چھ ماہ اور چوری شدہ مال خریدنے والے کے لئے سات سال سزا مقرر کی گئی۔ اس طرح چند ماہ میں کاروں کی چوری ختم ہوگئی۔ یہاں جرائم پر تفصیلی بات کرنا میرا اصل مقصد نہیں ہے۔ میری تحریر کا جو عنوان ہے وہ دراصل محمدجاوید اقبال کے اسی مضمون کا ایک جملہ ہے اور میں نے اسے اس لئے چنا ہے کہ میں بھی ان کی طرح فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتا اور اسی حوالے سے یہاں کچھ گزارش کرنا چاہوں گا۔ ماہ رمضان میں قرآن پاک مع ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا۔اس مطالعے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس کلام پاک نے کہیں بھی فرقہ واریت کی حمایت اور حوصلہ افزائی نہیں کی لیکن کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ فرقہ واریت کی آتش نے اسلام کے ایک اعلیٰ ترین مقصد کو جو امن، اتحاد اور سلامتی ہے جلاکر رکھ دیا ہے۔ ہر امن پسند شہری کا ایک غیرمبہم اور سیدھا سا سوال ہے۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے فرقہ واریت کو جائز قرار دیا ہے؟ کیا قرآن پاک نے نہیں فرمایا کہ سب ایک ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو؟ شیعہ ہوں یا سنی، بریلوی ہوں یا دیوبندی ہم سب کا نبی ایک ہے جن کو اللہ نے رحمت للعالمین بناکر بھیجا ہے۔ کیا پوری دینی تعلیمات میں فرقہ واریت کا کوئی تصور ملتا ہے؟ کیا ابتدائی زمانے میں امت مسلمہ مختلف عقائد اور مسالک میں بٹ گئی تھی؟ کیا ابتداء اسلام کے زمانے میں امت کو فرقوں میں تقسیم ہونے دیا گیا؟ میں سمجھتا ہوں اور میں ہی کیوں بلکہ ہر شخص جو اسلام سے خلوص اور محبت کا رشتہ رکھتا ہے اس کا یہ ایمان ہے کہ اسلام پوری انسانیت کو سلامتی اور امن و محبت کا پیغام دیتا ہے۔ وہ اتحاد چاہتا ہے،انتشار نہیں۔ اپنے ماننے والوں کو وہ باہم دوست ایک دوسرے کا مددگار اور غمگسار دیکھنا چاہتا ہے، اس کے برعکس نہیں۔اسلام سے قبل بھی جو نبی آئے انہوں نے بھی اپنے اپنے وقتوں میں اللہ پر ایمان کے ذریعے سے اتحاد اور اتفاق کی تعلیم دی۔ اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ”کان الناس امة واحدہ“ یعنی ابتدا میں تمام لوگ ایک ہی امت (قوم) کی مانند تھے۔ اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر گوشے، کردار اور عمل سے بھی یہی پیغام ملتا ہے۔ مکہ کے اور اپنی برادری کے لوگوں اور دیگر مخالفین نے آپ ﷺ کو جس قدر اذیتیں دی تھیں اس کی مثال نہیں ملتی مگر جب آپﷺ مکہ میں ایک فاتح اور حکمران بن کر لوٹے تو ان دشمنوں سے جس طرح چاہتے انتقام لے سکتے تھے لیکن آپﷺ نے طاقت میں ہونے اور قدرت رکھنے کے باوجود اپنے جانی دشمنوں کو جس انداز سے معاف کیا اس کی مثال آدم سے لیکر آج تک پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔اس عام معافی کے اعلان میں کہیں یہ شرط نہیں رکھی کہ صرف اس شخص کو معاف کیا جائے گا جو اسلام قبول کرلے گا۔ آپﷺ کے اس عملی کردار اور سلوک سے بنی نوع انسان کو واضح طور پر جو پیغام ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام انسانوں کو الگ کرنے نہیں بلکہ جوڑنے آیا ہے۔ سورة البقرة میں یہی مضمون بیان کیاگیاکہ حضرت آدم کے وقت سے بنی نوع انسان ان کو مان کر ایک ہی امت تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات کے تحت انہوں نے اختلافات پیدا کئے اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا تاکہ ان کے اختلافات کا فیصلہ کرکے ان کو پھر ایک بنادیں۔ان کے لئے سچی کتاب اتاری مگر پھر بھی آپس کی سرکشی کی وجہ سے امن و سلامتی کے اصول کے ذریعے سے ایک امت بن کر رہنے کے بجائے گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ قرآن پاک کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان باتوں کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ اب ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے لئے چاہتا ہے کہ وہ اپنے اختلافات ختم کرکے ایک قوم (امت واحد) بن جائیں تو پھر وہ اپنے آخری اور سب سے زیادہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے کی بات کو کیسے پسند کرسکتا ہے؟چنانچہ اسی مضمون سے متعلق اللہ فرماتا ہے ”ان ہذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاعبدون“ یعنی ”یہ تمہاری امت یقینی طور پر ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس میری عبادت کرو“ اور پھر اس امت یا قوم بنانے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور کوششوں کی ابتدائی مثال ”مواخات“ کو دیکھئے۔ جس طرح مکہ کے مہاجرین اپنی جائیداد گھربار چھوڑ کر تقریباً تہی دست آئے مدینہ کے انصار نے ان کو کیسے گلے لگایا انہیں اپنا بھائی بنایا۔ تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسلام کے حوالے سے ایک قوم (امت واحدہ) بن کر دنیا میں امن و آشتی کے ساتھ زندہ رہنے کی مثالیں صرف خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے زمانوں ہی میں نہیں تھیں بلکہ ان کے بعد کے بعض ادوار میں بھی نظر آتی ہیں۔اسپین میں مسلمانوں کے سات سو سالہ دور حکومت کو لیجئے۔ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی پرامن بقائے باہمی (Co-Existence) کی بہترین مثال ہے۔ پھر کس قدر رنج کی بات ہے کہ وہ امت جسے خدا نے خیر امت قرار دیا ہے اور چاہا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک امت کی مانند زندہ رہنا سکھائے اسی امت کے لوگوں نے ضمنی عقائد اور مسالک پیدا کرکے اس خیرامت کو منتشر کردیا۔اسی مضمون کی طرف سورة الروم میں واضح طور پر اشارہ کیاگیا ہے کہ ”اپنے اچھے بھلے دین کو مفادات پرست لوگوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اس طرح فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر فرقہ خوش ہے کہ جو ٹکڑا ہمارے پاس ہے وہی بہتر ہے“۔ نتیجہ کیا ہوا؟ امت واحدہ میں دشمنیاں اور نفرتیں پیدا ہوگئیں اور اب تو یہ نفرتیں خانہ دل سے نکل کر خانہ خدا میں عبادتوں میں مصروف اللہ کے بندوں کا دھماکہ خیز مواد سے پیچھا کرنے لگی ہیں۔ ان نفرتوں نے تو اللہ کے فرمان کی دھجیاں بکھیر دیں جس میں کہاگیا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل ایسا ہے جیسے تمام انسانوں کا قتل عام۔ ہم یہ کیسے مان لیں یا یقین کرلیں کہ وہ خدا جو کہتا ہے کہ میں رب العالمین ہوں۔جو کہتا ہے کہ سب انسانوں کو مرد ہوں یا عورتیں نفس واحدہ سے پیدا کیا ہے۔جو کہتا ہے کہ سب ایک ہوکر ایک خدا پر ایمان لاؤ اور طرح طرح کے خدا مت بناؤ وہی خدا یہ کیسے پسند کرسکتا ہے کہ اس کی پیدا کردہ مخلوق پر انہی میں سے کچھ گروہ یا جماعتیں مختلف عقیدے اور نظریات بناکر ایک دوسرے پر ظلم اور بربریت کا تماشا برپا کریں۔وہ خدا جس نے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین بناکر بھیجا وہ یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے اس کی امت کو فرقوں میں تقسیم کرکے نبیﷺ کے سایہ رحمت سے دور کردیا جائے۔ یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کبھی بھی اس چیز کو پسند نہیں کرسکتا۔ پھر ذرا سوچئے کہ وہ خدا جس نے اپنے کلام پاک کے ذریعے سکھایا ہے کہ کہو ہم اللہ اور جو کچھ اللہ نے دیگر نبیوں پر اتارا ہے ان پر ایمان لاتے ہیں وہ خدا جس نے اپنے آخری نبیﷺ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان سے کہہ دو کہ اے اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) آؤ ہم ان کلمات کے حوالے سے ایک ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہیں۔ تو کیا وہی خدا اپنے سب سے پیارے نبی کی امت میں تفرقہ، تقسیم، گروہ بندی اور فرقہ سازی سے خوش ہوسکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ وہ تو اتحاد بین الناس چاہتا ہے اسی لئے اس نے کتنی زبردست بات سکھائی کہ لااکراہ فی الدین یعنی مذہب یا دین میں جبر یا زبردستی نہیں ہے۔

    بشکریہ روزنامہ جنگ۔


    والسلام
    جاویداقبال
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,809
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ جاوید بھائی، بہت اچھی بات کہی ہے اور بہت عمدہ انداز سے بیان کیا ہے :)
     
  3. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں‌ہیں‌
    کیا زمانے میں‌پنپنے کی یہی باتیں ہیں
     
  4. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,645
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    اچھی چیز ہے۔
     
  5. جاویداقبال

    جاویداقبال محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
    قیصرانی(منصور) بھائی، ظفربھائی، اورشاکربھائی مضمون کی پسندیدگی کاشکریہ۔


    والسلام
    جاویداقبال
     
  6. wahab49

    wahab49 محفلین

    مراسلے:
    191
    جاوید اقبال جی۔ بہت خوب پیشکش ھے۔
    دراصل اسکی پہلی اور بنیادی وجہ ناخواندگی ھے۔ اور جسے ھمارے ملک میں خواندگی کہتے ھیں وہ بھی ناخواندگی ھی ھے۔
    ایک چھوٹی سی مثال پیش ھے۔ اگر کسی بھی وقت میں عوام کے سامنے متنبی کا عربی کلام رکھا جائے (انہیں بتائے بغیر) تو سب اسے چومیں گے اور آنکھوں سے لگائیں گے۔ کیونکہ وہ عربی میں لکھا ھے۔ حالانکہ سب اتنا ضرور جانتے ھیں کہ متنبی کا کلام صرف لغو شاعری تھا۔
    اس کے علاوہ ھمارے ملک میں جزباتی لگاؤ بڑھتا جا رھا ھے۔ حیرت انگیز بات یہ ھے کہ مختلف فرقوں کے لیڈر بھڑکانے والی تقاریر کر کے اپنے لوگوں کو مشتعل کرتے ہیں۔ جس دن ایک دوسرے کے خلاف سلسلہ بند ھوا اور اپنی اصلاح پر توجہ دی گئی اسی دن سارا مسئلہ حل ھو جائے گا۔
    دوسری وجہ ھمارا قانونی نظام ھے جو ایسی باتوں کو تحفظ دیتا ھے۔
    اگر کسی ایک بار حکومت صرف اتنا اعلان کر دے کہ اگر اب کسی بھی طرف سے کوئی بندہ مارا گیا تو دونوں طرف کے لیڈروں کو اندر کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد کچھ نہ ھوگا۔ بالکل امن و امان ھو جائے گا۔ بلکہ وہ ایک دوسرے پر نظر رکھیں گے حفاظت کیلیے۔
     
  7. جاویداقبال

    جاویداقبال محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

    وہاب بھائي، واقعی آپ کی بات ٹھیک ہے ہر جوبھی جماعت فرقہ واردیت میں ملوث ہواس کو سزا دی جائے لیکن بھائی، پھر حکومت کیا کرے گی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟



    والسلام
    جاویداقبال
     
  8. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,645
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    یہ مشکل کام ہے بھائی۔ ان لوگوں کے دلوں میں فرقہ واریت بہت جڑیں پکڑ چکی ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر