مولانا شیرانی نے سونے چاندی کی اشرفیاں چلانے کی تجویز دیدی

arifkarim

معطل
مولانا محمد خان شیرانی نے سونے چاندی کی اشرفیاں چلانے کی تجویز دیدی
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے سونے چاندی کی اشرفیاں چلانے کی تجویز دیدی۔ عوام کو ان کی بات کچھ عملی نہیں لگی۔کاغذی کرنسی نہیں سونے چاندی کی اشرفی اسلامی نظریاتی کونسل میں سکالرز کانفرنس شروع ہو گئی۔ چیئرمین مولانا شیرانی کی نظر میں کاغذ کے نوٹوں پر استوار معیشت ہے ناپائیدار۔ سونے چاندی کی اشرفیوں والی اسلامی معیشت کا احیا لازم قرار ۔ دوسری جانب عوام کسی بھی دھات کے سکوں کے بجائے کاغذ کے نوٹ ہی چلنے کے حق میں ہیں۔ محمد خان شیرانی کی زیر صدارت اسلامی معیشت پر کانفرنس دو روز جاری رہے گی۔ 25 سے زائد سکالرز ، سونا چاندی کو دوبارہ گردش میں لانے کے حوالے سے مقالہ جات پیش کریں گے۔
http://urdu.shafaqna.com/UR/PK/171747
 

یاز

محفلین
بلاشبہ یہ ایک فاترالعقل شخص ہے اور ذہنی لونڈا پن کا چلتا پھرتا شاہکار ہے۔

ابھی شکر ہے کہ صرف اونٹوں پہ ہی سفر کرنے کی تجویز یا تحریک نہیں پیش کر دی اس نے۔
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
عارف آپ اس کے حق میں نہیں؟
جی نہیں۔ میں قومی کرنسی کے دورانیے کو کنٹرول کرنے کے حق میں ہوں تاکہ اثاثوں اور املاک کی خودکار قدر میں اضافے کو روکا جا سکے۔ سونے یا چاندی کا اسٹینڈرڈ آجکل کے جدید دور میں رائج نہیں ہو سکتا۔
 
ان کی سونے چاندی کی اشرفیاں لے کر لوگ "انگلستان" بھاگ جائیں گے اور پھر یہ چلاتے پھریں گے کہ اشرفیوں کا یہ "کوہ نور" ہمارا ہے ۔
 

یاز

محفلین
ان کی سونے چاندی کی اشرفیاں لے کر لوگ "انگلستان" بھاگ جائیں گے اور پھر یہ چلاتے پھریں گے کہ اشرفیوں کا یہ "کوہ نور" ہمارا ہے ۔

جی جی وہی تو۔
مولوی اشرفی کو لے جانے کے لئے انتونوو 225 ہی بطورِ ہوائی ٹیکسی لینا پڑے گا۔
hqdefault.jpg

640px-Antonov_An-225.jpg
 

زیک

مسافر
جی نہیں۔ میں قومی کرنسی کے دورانیے کو کنٹرول کرنے کے حق میں ہوں تاکہ اثاثوں اور املاک کی خودکار قدر میں اضافے کو روکا جا سکے۔ سونے یا چاندی کا اسٹینڈرڈ آجکل کے جدید دور میں رائج نہیں ہو سکتا۔
اچھا ہوا آپ نے سونے کی کرنسی سے متعلق اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔
 
بہت افسوس کی بات ھے ایسے کسی عالم کی مقذاق اڑانا پھر بھی اللہ کے نبی کے وارث تو ھے نا (الحدیث)
عالم ؟؟؟؟؟
آج کے سب سیاسی ملاء، شیطان کے چیلے۔
نماز پڑھانے سے اکنامکس کیا ، کسی بھی دوسرے شعبے کی تعلیم حاصل نہیں ہوتی۔ لوگ باک اتنی محبت کرتے ہیں اپنے دین سے کہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ اپنا علاج بھی ڈاکٹر کی جگہ ان کی پھونکوں سے کروانے پہنچ جاتے ہیں۔ اور یہ ملاء اتنے شیطان ہیں کہ باز نہیں آتے ، کبھی نہیں کہتے کہ بھائی میرا کام ہے نماز پڑھنا پڑھانا، یہ ڈاکٹری میرے بس کی نہیں۔ ملاء ، ہر فن میں سب سے آگے ہے۔ سب سےپرانا پیشہ ہے پیسہ کمانے کا۔ بھگوان گیری، یا ملاء گیری۔
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
کاغذی کرنسی ہی سودی نظام کی اساس ہے. ایک آدمی اگر آج کی تاریخ میں کسی کو دس تولے سونا قرض دیتا ہے اور سال بعد بغیر سود کے دس تولے ہی واپس لیتا ہے جس میں اس کو کسی افراط و تفریطِ زر کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا اور اور اس کی قوتِِ خرید مستحکم ہی رہتی ہے. جبکہ اس کے برعکس ایک لاکھ روپے کاغذی آج کی تاریخ میں اگر کسی کو قرض دیے جایں اور وہ بھی بِلا سود تو ایک سال بعد وہی کاغذی نوٹ افراطِ زر کی نذر ہو کر اپنی قوتِ خرید کو کم از کم پندرہ فیصد کم کر چکے ہوتے ہیں. مگر کیا کریں ہمیں پسند ہی یہی ہے
 
Top