عثمان

محفلین
علی پور کا ایلی بی اے کے دوران پڑھی تھی سنٹرل لائبریری سے یا شاید کالج کی لائبریری سے لے کے۔کئی دن لگے تھے۔ہمارے گروہ کے سب ارکان نے پڑھی۔
اسے پڑھنے کے بعد حسب معمول بحث شروع ہوئی۔جو کہ ہر کتاب پڑھنے کے بعد ہوتی تھی۔کچھ حصے پسند آئے اور کچھ بدبودار لگے۔
پھر الکھ نگری نوکری کے بعد پڑھی۔اسے پڑھنے سے پہلے علی پور کا ایلی ایک بار پھر پڑھی۔ اچھی کتاب ہے۔روحانی سفر۔
الکھ نگری کیسی لگی ؟
 

جاسمن

لائبریرین
الکھ نگری کیسی لگی ؟
حتمی رائے تو نہیں دے سکتی۔لیکن اِس طرح کی باتوں پہ یقین کرنا بھی میرے جیسے دنیا دار کے لئے مشکل ہے۔ممتازمفتی ایک عام سا بندہ تھا۔ جیسے ہم سب ہیں۔ ہماری ایک ساتھی اُن پہ کچھ لکھ رہی تھیں۔اُن سے رابطہ میں رہتی تھیں۔ ایک دن اُن کے گھر گئیں ۔پوچھا بلب کس بٹن سے جلے گا۔ بولے جس بٹن پہ اُنگلی رکھ دو گی،اُس سے ہی جل پڑے گا۔
ایک بار اُن کا ایک مضمون اُن کی لکھائی میں دیکھنے کا اتفاق ہوا جو ابھی چھپا نہیں تھا۔ اور شاید چھپا بھی نہیں۔ اُس میں اُنہوں نے اِس صدی مین بھارت کے ٹُکڑے ہوتے بڑے یقین سے ثابت کیا تھا۔
اشفاق صاحب سے پی ٹی وی پہ سٹوڈیومیں ملاقات ہوئی۔پروگرام زاویہ۔ایک ماں بیٹی آئی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں اشفاق صاحب کے قدموں کے پاس نیچے بیٹھی تھیں۔اور جب اُٹھ کے جانے لگیں تو اُن کی طرف منہ کئے کئے۔
یہ کیا ہے!!!
 
راقم نے ممتاز مفتی کی"علی پور کا ایلی" تو پڑھی ہے، لیکن "الکھ نگری" پڑھنے کا موقع نہ مل سکا- ایک دوست کا کہنا ہے کہ "شہاب نامہ" کے بعد "الکھ نگری" پڑھنا ضروری ہے- کیا کہتے ہیں احباب اس بارے میں-
درست کہا ضرور مطالعہ کیجیئے گا
 
شہاب نامہ بھی پڑھی اور علی پور کا ایلی بھی۔
میری انتہائی ناقص رائے میں شہاب نامہ میں بعض باتیں فکشن سے زیادہ نہیں۔ ۹۰-شائنٹی پہ کبھی یقین نہیں آیا۔
علی پور کا ایلی پڑھ کر اندازہ ہوا، آپ مذہبی ہائیرارکی کو نہ چھیڑیں تو جو جی میں آئے کہہ لیں، وگرنہ ذرا سی بات پہ سنگسار ہو جائیں۔
 
[QUOTE="
میری انتہائی ناقص رائے میں شہاب نامہ میں بعض باتیں فکشن سے زیادہ نہیں۔ ۹۰-شائنٹی پہ کبھی یقین نہیں آیا۔
[/QUOTE]

ہمارے ایک سینئر ڈاکٹر صاحب نائنٹی کے عینی شاہد ہیں جو انہوں نے فیصل آباد میں ایک بزرگ کے پاس دیکھے جو قدرت اللہ شہاب نائنٹی کو لکھتا تھا
 
Top