مسلمانوں کے عدل و انصاف کا ایک واقعہ

اے خان

محفلین
عرب سالار قتیبۃ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں
سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔
سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔
پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ اُس نے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے، تو نماز نہیں پڑھتا کیا؟ پیغامبر نے کہا نہیں، میں اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔
پیغامبر لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی ہے۔ پیغامبر جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔ اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا، ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔ پیغامبر نے بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،
جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔ میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا پیغامبر ہوں کہہ کر اُس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔ اُس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا: عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس پیغامبر کو دیدیا۔
پیغامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے، کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی، خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی، اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی (جمیع نام کا ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
موقع پر ہی عدالت لگ گئی، ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔
قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا؟
پادری نے کہا: قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟
قتیبہ نے کہا: قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے، سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا: قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟
قتیبہ نے کہا: نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
قتیبہ: اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔ چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جا رہا تھا۔
اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو ویران کر کے جا رہے تھے۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔
اور اُس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اُن کو ایسے لوگ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کے اخلاق ، معاشرت، برتاؤ، معاملات اور پیار و محبت نے اُن کو اور اُن کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے، اپنے پادری کی قیادت میں لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور اُن کو واپس لے آئے۔
اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔ دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 411 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
 
عمدہ شئیرنگ خان صاحب
مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔

حاکم سمر قند قتیبہ بن مسلم نہیں تھے۔
اسلامی لشکر کا بڑا حصہ سمر قند کی فتح کے بعد آگے بڑھ چکا تھا، خط فوج کے اگلے پڑاؤ میں پہنچایا گیا جہاں اسلامی لشکر کی قیادت قتیبہ کے نائب کر رہے تھے کیونکہ قتیبہ بن مسلم کا اس وقت تک انتقال ہو چکا تھا اور ان کا نائب ہی عدالت کے روبرو بھی پیش ہوا تھا۔
 

زیک

مسافر
عمدہ شئیرنگ خان صاحب


حاکم سمر قند قتیبہ بن مسلم نہیں تھے۔
اسلامی لشکر کا بڑا حصہ سمر قند کی فتح کے بعد آگے بڑھ چکا تھا، خط فوج کے اگلے پڑاؤ میں پہنچایا گیا جہاں اسلامی لشکر کی قیادت قتیبہ کے نائب کر رہے تھے کیونکہ قتیبہ بن مسلم کا اس وقت تک انتقال ہو چکا تھا اور ان کا نائب ہی عدالت کے روبرو بھی پیش ہوا تھا۔
یہ تو کہانی میں کافی جھول نکل آئے ہیں
 

زیک

مسافر
تاریخ کے کسی بھی واقعہ کو مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے نقل کیا ہوتا ہے۔ البتہ باقی کہانی ملتی جلتی ہی ہے۔
درست۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایسا واقعہ کسی اور دور اور کسی اور شہر کے ساتھ بھی تو منسلک نہیں؟ ایسی صورت میں واقعہ کی بجائے کہانی ہونے کا چانس زیادہ ہے۔
 

زیک

مسافر
مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 4111 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ہر جگہ یہی لکھا ہے
یہ تو کچھ سال پہلے ہی فوت ہوئے۔ اصل ماخذ تو صدیوں پرانا ہو گا۔
 

ربیع م

محفلین
یہ واقعہ دو بنیادی ماخذوں سے اس طرح ملا ہے ، بعد میں آنے والے لوگوں نے اس میں کافی رنگ آمیزی اور اضافے کئے ہیں :

قال الإمام البلازدري (ت:279ه۔) في كتابه فتوح البلدان :

(وقال أبو عبيدة وغيره‏:‏ لما استخلف عمر بن عبد العزيز وفد عليه قوم من أهل سمرقند فرفعوا إليه أن قتيبة دخل مدينتهم وأسكنها المسلمين على غدر‏.‏

فكتب عمر إلى عامله يأمره أن ينصب لهم قاضيًا ينظر فيما ذكروا‏.‏

فإن قضى بإخراج المسلمين أخرجوا فنصب لهم جميع بن حاضر التاجي‏.‏

فحكم بإخراج المسلمين على أن ينابذوهم على سوآء‏.‏

فكره أهل مدينة سمرقند الحرب وأقروا المسلمين فأقاموا بين أظهرهم)‏.

امام البلازدری ( متوفی 279 ھ ) اپنی کتاب "فتوح البلدان " میں کہتے ہیں :
ابوعبیدہ اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہا: جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو اہل سمرقند کا ایک وفد ان کے پاس آیا اور یہ معاملہ اٹھایا کہ "قتیبہ"ان کے شہر میں دھوکہ دہی سے داخل ہوئے اور وہاں مسلمانوں کو بسایا۔
عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عامل کی جانب خط لکھ کر بھیجا کہ ان کیلئے قاضی مقرر کرکے ان کاذکر کردہ مسئلہ دیکھا جائے ۔
اور اگر قاضی مسلمانوں کو نکالنے کا فیصلہ کرے تو انھیں نکال دو ، چنانچہ عامل نے " جمیع بن حاضر التاجی " کو قاضی مقرر کیا ۔
جنہوں نے مسلمانوں کو وہاں سے نکالنے کافیصلہ صادر کیا ۔
تو اہل سمرقند نے جنگ کو ناپسند کیا اور مسلمانوں کا وہاں رہنا قبول کیا۔


وقال الإمام الطبري (ت:310ه۔) في تاريخه :

(قال علي : أخبرنا كليب بن خلف ، عن طفيل بن مرداس ، قال :
كتب عمر إلى سُلَيْمَان بن أبي السري : أن ( اعمل خانات في بلادك، فمن مر بك من المسلمين فأقروهم يوما وليلة، وتعهدوا دوابهم، فمن كانت به علة فأقروه يومين وليلتين، فإن كان منقطعا به فقووه بما يصل به إلى بلده)
فلما أتاه كتاب عمر، قال أهل سمرقند لسُلَيْمَان :
(إن قتيبة غدر بنا وظلمنا، وأخذ بلادنا، وقد أظهر الله العدل والإنصاف، فائذن لنا فليفد منا وفد إلى أمير المؤمنين يشكون ظلامتنا، فإن كان لنا حق أعطيناه، فإن بنا إلى ذلك حاجة)
فأذن لهم، فوجهوا منهم قوما، فقدموا على عمر، فكتب لهم عمر إلى سُلَيْمَان بن أبي السري :
(أن أهل سمرقند قد شكوا إلي ظلما أصابهم، وتحاملا من قتيبة عليهم، حتى أخرجهم من أرضهم، فإذا أتاك كتابي فأجلس لهم القاضي، فلينظر في أمرهم، فإن قضى لهم فأخرجهم إلى معسكرهم كما كانوا وكنتم قبل أن ظهر عليهم قتيبة)
قال : فأجلس لهم سُلَيْمَان جميع بن حاضر القاضي الناجي، فقضى أن يخرج عرب سمرقند إلى معسكرهم، وينابذوهم على سواء، فيكون صلحا جديدا، أو ظفرا عنوة، فقال أهل السغد : بل نرضى بما كان ولا نجدد حربا، وتراضوا بذلك، فقال أهل الرأي : قد خالطنا هؤلاء القوم، وأقمنا معهم، وأمنونا وأمناهم، فإن حكم لنا عدنا إلى الحرب، ولا ندري لمن يكون الظفر، وإن لم يكن لنا كنا قد اجتلبنا عداوة في المنازعة، فتركوا الأمر على ما كان، ورضوا ولم ينازعوا)

امام طبری اپنی تاریخ (متوفی310 ھ)میں لکھتے ہیں :
علی کہتے ہیں : ہمیں کلیب بن خلف نے خبر دی طفیل بن مرداس سے وہ کہتے ہیں :
عمر بن عبدالعزیز نے "سلیمان بن ابی السری " کی جانب خط لکھا کہ اپنے ملک میں مختلف مقامات پر سرائے تعمیر کرو ، اور مسلمانوں میں سے جو کوئی بھی تمہارے پاس سے گزرے تو ایک دن اور رات ان کی مہمان نوازی کرو ، ان کے چوپایوں کا خیال رکھو ، اور اگر انھیں کوئی بیماری یا مسئلہ درپیش ہو تو دو دن اور راتیں ٹھہراؤ اوراگر سواری میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی مدد کرو جس سے وہ اپنے علاقے تک پہنچ سکے ۔
جب ان کے پاس عمر بن عبدالعزیز کا خط آیا تو اہل سمرقند نے سلیمان سے کہا:
کہ قتیبہ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے ہم پر ظلم کیا اور ہمارا علاقہ ہم سے چھین لیا ، اور اللہ رب العز ت نے اب عدل وانصاف کو غالب کیا ہے تو ہمیں اجازت دیجئے ہم وفد بنا کر امیر المومنین کی جانب جا کر ان سے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کریں ، پس اگر ہمیں حق پر ہوئے تو ہمیں ہمارا حق عطا کیا جائے گا ہمیں اس کی حاجت ہے ، سلیمان نے انھیں اجازت دے ، انھوں نے اپنے اندر سے ایک وفد تیار کیا ، وہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس اپنی شکایت اور دعویٰ لیکر آئے ،عمر بن عبدالعزیز نے سلیمان کی جانب خط لکھا جس میں کہا:
اہل سمرقند نے مجھ سےقتیبہ کی جانب اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور حملہ کی شکایت کی ہے ، یہاں تک کہ اس نے انھیں ان کی زمین سے نکال دیا، پس جب تیرے پاس میرا خط آئے تو ان کیلئے ایک قاضی مقرر کر جو ان کا مسئلہ دیکھے اور اگر ان کے حق میں فیصلہ ہوجائے تو مسلمانوں کو ان کی چھاؤنی کی جانب نکال دو جیسا کہ وہ قتیبہ بن مسلم کے حملے سے قبل تھے ۔
چنانچہ سلیمان نے ان کیلئے جمیع بن حاضر الناجی کو قاضی مقرر کیا ، جنہوں نے فیصلہ کیا کہ عرب سمرقند سے اپنے معسکر کی جانب نکل جائیں اور شہر کو اسی حالت میں چھوڑ دیں ، پھر یا تو نئے سرے سے صلح ہو گی یا جنگ ہو گی ۔ تو اہل سعد نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم جیسا ہے اسی پر راضی ہیں ہم نئے سرے سے جنگ نہیں چاہتے اور اسی پر راضی ہوگئے ۔اسی طرح شہر کے اہل رائے لوگوں نے کہا :ہم اس قوم میں خلط ملط ہو چکے ہیں ان کے ساتھ قیام پذیر ہیں ، انھوں نے ہمیں امن دیا ہے اور ہم نے انھیں امن دیا ہے ، اور اگر ہمارے حق میں فیصلہ ہوا ہے تو ہم پھر جنگ کی جانب لوٹ جائیں گے ، اور ہم نہیں جانتے کہ کس کو کامیابی حاصل ہو ، اور اگر ہمیں کامیابی حاصل نہ ہو ئی تو اس جھگڑا میں ہمیں دشمنی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ، چنانچہ انھوں نے اس معاملے کو اسی حال پر چھوڑ دیا ، اس پر راضی ہو گئے اور کوئی تنازع کھڑا نہ کیا ۔
 
Top