مرثیہ: منبر

سیدہ شگفتہ نے 'مرثیہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 11, 2016

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    یال میں گیسوئے حورانِ جناں کا سا بناؤ
    چال میں سیل سُبک سیر اجل کا سا بہاؤ
    خُمِ گردن میں حسینوں کی جوانی کا تناؤ
    ہنہناتا ہے کہ ہمت ہے اگر سامنے آؤ
    سَر کیے سینکڑوں میدان وہ غازی ہوں میں
    ناز ہے مرکبِ سلطانِ حجازی ہوں میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    دَبدبہ کہتا ہے اے موجِ ہوا پیچھے ہٹ
    طنطنہ کہتا ہے اے دشت کے پھیلاؤ سمٹ
    ولولہ کہتا ہے میداں کی بدَل دُوں کروٹ
    حَوصلہ کہتا ہے یہ معرکہ سَر ہو جھٹ پٹ
    بن کے ایک قوسِ اجل رزم میں مُڑنا اس کا
    دیکھ لے تختِ سلیمان بھی اُڑنا اس کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    ضرب ہے قلبِ زمیں کے لیے اِس کی ٹھوکر
    قہر ہیں فوجِ عدو کے لیے اس کے تیور
    مثلِ سیماب ٹھہرتا نہیں اک جا پل بھر
    ابھی دیکھا تو ادھر تھا ابھی دیکھا تو اُدھر
    جس طرف اُڑ کے گیا حشر اٹھاتا گزرا
    صاف دیوار مفاسد کو گراتا گزرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    ایسا مرکب ہے تو راکب ہے امامِ عالم
    پسرشیر خدا، سبطِ نبی عرش حشم
    لا فتا اِلّا علی، باپ کے رتبے میں رقم
    اور نانا کے لیے عرشِ بریں زیر قدم
    فوج اعدا اسی ہیبت سے مری جاتی ہے
    موت جاں لینے کی زحمت سے بچی جاتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    شمر، وہ دشمنِ سلطانِ امامت، وہ ذلیل
    قتلِ شبیر کی ملتی ہی نہ تھی جس کو سبیل
    چاہتا تھا کہ ہو سَر معرکہ با صد تعجیل
    رہ گئی فتح کی اب اس کو بھی امید قلیل
    جا کے بھاگی ہوئی فوجوں کو بلا کر لایا
    طمع کے دام میں لوگوں کو پھنسا کر لایا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  6. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    جنگِ مغلویہ کا منصُوبہ بنایا اس نے
    کچھ کمانداروں کو گوشوں میں بٹھایا اس نے
    نیزہ بازوں کو کسی سمت جمایا اس نے
    جعل طفرت میں جو تھا جال بچھایا اس نے
    گو ہوئے تیروں کی بوچھار سے غربال حسین
    پسر حیدر صفدر تھے بہر حال حسین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    کھینچ لی نیام سے حضرت نے حسام حیدر
    خشک تھے پیاس سے لب جسم ہوا خون میں تر
    جنگ کے اب جو حریفوں کو دکھائے جوہر
    کٹ کے جسموں پہ گرے جسم ، سروں پہ گرے سر
    ایک اک ہاتھ میں سو، سو، کے گلے کاٹ دیے
    رخنے میدان کے لاشوں سے سبھی پاٹ دیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    صفت برق چلی ابنِ عَلی کی تلوار
    لگ گئے جنگ کے میداں میں سروں کے انبار
    لشکرِ ظُلم کو لینا ہی پڑی راہِ فرار
    چند ساعت جو ملا جنگ سے حضرت کو قرار
    پُشتِ مرکب سے اُتر آئے زمیں پر شبیر
    آئے سجادے پہ یوں چھوڑ کے منبر شبیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    جھک گیا بارگہِ خالقِ کونین میں سر
    ہٹ گئی جانبِ دنیا سے مُجاہد کی نظر
    جھک کے سجدے میں پڑھی حمد خدائے اکبر
    آ گیا جنگ کے میداں میں پلٹ کر لشکر
    ظلم کیا کیا نہ کئی روز کے پیاسے پہ ہوئے
    سینکڑوں وار محمد کے نواسے پہ ہوئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    شمر پھر آ کے ہوا سینہ اطہر پہ سوار
    ہنس کے بولا کہ چلاتے نہیں اب کیوں تلوار
    آخرش بھول گئے سارے علی بند کے وار
    دیکھتے کیا ہو مری شکل کو یُوں آئینہ وار
    شاہ بولے ترا انجام ہے صورت تیری
    تیرے چہرے سے برستی ہے نحوست تیری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    دیکھ اس جنگ سے جاگا ہے ضمیر اسلام
    اب نئے سر سے لیا جائے گا اللہ کا نام
    نیندیں ہو جائیں گی راتوں کی لعینوں کو حرام
    ہم تو سردار جناں ہیں ہمیں سر سے کیا کام
    کر دیا آج ادا فرض امامت ہم نے
    پائی ہے مرضئ مولا کی شہادت ہم نے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    شمر پر خطبہ شبیر کا کیا ہوتا اثر
    دشمن آل محمد جو تھا وہ بانئ شر
    دیدہ کُور پہ لٹکا ہوا تھا پردہ زر
    جلوہ حق اسے اس وقت بھی آیا نہ نظر
    جھک کے ظالم نے سر شاہِ ہدا کاٹ لیا
    تیغ سے سبط پیمبر کا گلا کاٹ لیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    اے حسین ابن علی منبر احمد کے امیں
    تیری قُربانی سے شاداب ہوا دین مبیں
    خون سے تیرے ہے افسانہ ایماں رنگیں
    تجھ سا اس دہر میں ہونا کبھی ممکن ہی نہیں
    آج تک دین کے ارکان جواں تجھ سے ہیں
    منبر و مسجد و خطبات و اذاں تجھ سے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,080
    تیری عزت، تری رفعت، تری عظمت پہ سلام
    تیرے ایثار و کرم تیری سخاوت پہ سلام
    تیری تسلیم و رضا، تیری شجاعت پہ سلام
    تیرے جینے پہ ترے اوج شہادت پہ سلام
    تیرے انصار ،تیرے تشنہ دہانوں کو سلام
    تیرے مداح، ترے مرثیہ خوانوں کو سلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر