لڑکے۔۔۔۔۔۔۔از گلِ نوخیز اختر

عاطف ملک

محفلین
لڑکے
لڑکے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں :
ٹیکنیکل لڑکے
شریف لڑکے
الیکٹرانک لڑکے
بیٹری والے لڑکے
ریموٹ کنٹرول لڑکے
بم لڑکے
اور
سی این جی لڑکے

آئیے باری باری ان تمام اقسام کا جائزہ لیتے ہیں !!!

ٹیکنیکل لڑکے
یہ وہ لڑکے ہیں جو ہر بات کا ٹیکنیکل حل تلاش کرتے ہیں،۔
میں نے ایک ٹیکنیکل لڑکے سے پو چھا کہ بال لمبے کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
اطمنیان سے بولا ….. مٹی کے تیل سے اچھی طرح دھو کر ، آگ پر سکھائیں ….. !!!
ٹیکنیکل لڑکے معمولی چیزوں سے بھیانک بھیانک نتائج حاصل کرنا جانتے ہیں ۔
میں نے اسی طرح کے ایک لڑکے سے پوچھا کہ جس لڑکی سے تم محبت کرتے ہو اگر وہ تمہیں نہ ملی تو تم کیا کرو گے؟
سگریٹ کاکش لیتے ہوئے بولا …. میں اس کے باپ کے تالو میں اینٹ دے ماروں گا۔
میں نے سہم کر پوچھا ….. اور لڑکی کےساتھ کیا سلوک کروگے؟
خوفناک لہجےمیں بولا….. میں اسے اغواء کر لوں گا اور روزانہ صبح نہار منہ اوباما کی تصویر دکھایا کروں گا۔
میں اس کا یہ بھیانک منصوبہ سن کر دہل گیا اور کانوں کو ہاتھ لگا دیے۔

شریف لڑکے
ان میں شرافت کوٹ کوٹ کر بلکہ مارمار کر بھری ہوتی ہے۔ عام بندہ اتنی سہیلیاں نہیں بناتا جتنی یہ بہنیں بنا جاتے ہیں۔
میری کلاس میں بھی ایک ایسا لڑکا پڑھتا تھا جو بہنیں بنانے میں بڑا ماہر تھا،کبھی کسی لڑکی کو نام لے کر نہیں بلاتا تھا بلکہ ہمیشہ بہن بہن کہتا رہتا تھا۔
پچھلے دنوں لگ بھگ دس سال کے بعد اس سے ملاقات ہوئی۔
میں نے پوچھا ….. ہاں بھئی ….. سناؤ ….. شادی ہو گئی؟؟؟
شرما کر بولا….. بس جی ….. ایک بہن سے بات چل رہی ہے !!

الیکٹرانک لڑکے
یہ انتہائی قیمتی دھات کے بنے ہوتےہیں اور بڑے ذہین ہوتے ہیں ، سکول کالج میں بے شک منہ بھی نہ دھوکر جاتے ہوں لیکن یونیورسٹی میں آتے ہی روزانہ نہانا شروع کر دیتے ہیں۔ان کا کام لائبریری سے موٹی موٹی بور کتابیں ایشو کروانا اور ہر وقت کسی لڑکی سے نوٹس کا تبادلہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ سارا سال بجلی کی طرح پیریڈ اٹینڈ کرتے ہیں۔
ہر لیکچر غور سے سنتے ہیں۔
. کبھی چھٹی نہیں کرتے۔
. پروفیسروں کی عزت کرتے ہیں۔
. دل لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ صرف لڑکیوں ہی کو نوٹس دیتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں صرف لڑکیاں ہی تعلیم پر بہتر توجہ دیتی ہیں۔ یہ ہر وقت لڑکیوں کو باور کراتے رہتے ہیں کہ انہیں صرف اور صرف تعلیم پر توجہ دینی چاہیے ۔
تاہم جب لڑکیاں تعلیم پر توجہ دے رہی ہوتی ہیں تو یہ لڑکیوں پر توجہ دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ پڑھائی کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ اگر ان سے کوئی لیکچر مس ہو جائے تو سارا دن’’ بونترے بونترے‘‘ پھرتے ہیں۔
اپنی جان پر کھیل کر گیس پیپر حاصل کرتے ہیں اور پھر راتوں کو لڑکیوں کو فون کر کر کے انہیں گیس بتاتے ہیں۔
یہ الیکٹرانک لڑکے کمرہ امتحان میں جانے سے پہلے یہ کہہ کر سب کی جان نکال دیتے ہیں کہ آج امتحان میں صرف وہی سوال آئیں گے جو انہوں نے تیار کیے ہوئے ہیں۔
جب رزلٹ آؤٹ ہوتا ہے تو ان الیکٹرانک لڑکوں کی محنت رنگ لاتی ہے۔
اور یہ ہائی تھرڈ ڈویژن میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

بیٹری والے لڑکے
ان کے ہاتھ میں جب تک کوئی بیٹری والی چیز نہ ہو ، ان سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہ عموماٌ اپنے پاس موبائل فون ، ٹیپ ریکارڈر ، کارڈ لیس فون ، ڈیجیٹل ڈائری یا کیمرہ رکھتے ہیں۔ ایسے لڑکے عموماٌ شادی بیاہوں پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ جہاں بھی لڑکیاں دیکھتے ہیں ان کے قریب جا کر اپنا موبائل فون کان سے لگاتے ہیں اور بلند آواز سے لندن اور سوئٹزر لینڈ کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔
تاہم تھوڑی دیر بعد جب بارات آتی ہے تو ڈائیاں لگا لگا کر پیسے لوٹنے لگ جاتے ہیں!!!

ریموٹ کنٹرول لڑکے
ان کا کنٹرول عموماٌ لڑکیوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، ان کی زیادہ تر اقسام شادی شدہ مردوں میں پائی جاتی ہے۔
میں نے ایک ریموٹ کنٹرول لڑکے سے پوچھا " سناؤ! شادی ہو گئی ہے یاابھی تک اپنے کپڑے خود دھوتے ہو؟"
ٹھنڈی سانس لے کر بولا ….. تمہاری دونوں باتوں کا جوب ہاں میں ہے۔

بم لڑکے
یہ لڑکے جہاں کہیں بھی بیٹھے ہوں ایسا لگتا ہے جیسے ’’لڑ۔کے ‘‘بیٹھے ہیں۔ یہ ہر بات کا غصہ کر جاتے ہیں۔
میں نے اسی طرح کے ایک بم لڑکے سے کہا .... بھائی صاحب, آپ بہت اچھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔آج آپ کی بیٹنگ دیکھ کر تو مزہ آگیا۔میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔
اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ پھر پاس پڑی ہوئی اینٹ اٹھائی اور غصے سے میری طرف چیختا ہوا بھاگا۔
میں نے بڑی مشکل سے ایک رکشے کے پیچھے چھپ کر جان بچائی۔
بعد میں پتا چلا کہ عظمت اس کی بہن کا نام تھا۔
’’بم لڑکے‘‘ لڑکیوں سے بہت الرجک ہوتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ عورت فساد کی جڑ ہے ، یہ ہمیشہ عورت سے سو گز دور رہنا پسند کرتے ہیں ۔ میں نے ایک بم لڑکے سے کہا کہ فلاں لڑکی تمہیں بہت پسند کرتی ہے ، تم اسے کوئی تحفہ ضرور دو بے شک دس روپے کا ہی کیوں نہ ہو!!!
منہ بنا کر بولا ….. اسے تحفہ دینے سے بہتر ہے کہ میں دس روپے کا صابن خرید لوں۔ منہ ہاتھ دھونے کے لیے !!!

سی این جی لڑکے
یہ بالکل میرے جیسے ہوتے ہیں۔ پڑھائی میں نکمے اور کاہلی میں بحرالکاہل۔ ان کے دماغ میں شرارتوں کی اتنی گیس اپھری ہوتی ہے کہ جس دن یہ کوئی شرارت نہ کریں گیس ٹربل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ان میں کوئی کوالٹی ہو نہ ہو ، یہ اپنے آپ کو "طرم خاں" ہی سمجھتے ہیں۔
سی این جی لڑکے اتنے سست ہوتے ہیں کہ ان کے بس میں ہو تواپنی نسل بڑھانے کے لیے بھی ملازم رکھ لیں۔۔لڑکوں پر اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن کیا فائدہ!!!
اس سے بہتر ہے بندہ دوبارہ روٹی کھا لے۔
 
آخری تدوین:
یہ سب غلط ہے
لڑکوں کی صرف ایک قسم ہوتی ہے۔عاشق لڑکے۔ یہ کچھ کرلیں کرنے کی وجہ لڑکی ہوتی ہے۔ یہ ہروقت ان کے دماغ پر چھائی ہوتی ہے۔ قدرت کے اصولوں کو شکست دیتے ہوئے یہ کبھی بوڑھے بھی نہیں ہوتے۔ لڑکے اس وقت لڑکے نہیں رہتے جب صنف مخالف ان کے ذہن سے نکل جاوے جو اس عالم میں ممکن نہیں۔ ہائے بچارے لڑکے۔
 
الیکٹرانک لڑکے
یہ انتہائی قیمتی دھات کے بنے ہوتےہیں اور بڑے ذہین ہوتے ہیں ، سکول کالج میں بے شک منہ بھی نہ دھوکر جاتے ہوں لیکن یونیورسٹی میں آتے ہی روزانہ نہانا شروع کر دیتے ہیں۔ان کا کام لائبریری سے موٹی موٹی بور کتابیں ایشو کروانا اور ہر وقت کسی لڑکی سے نوٹس کا تبادلہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ سارا سال بجلی کی طرح پیریڈ اٹینڈ کرتے ہیں۔
ہر لیکچر غور سے سنتے ہیں۔
. کبھی چھٹی نہیں کرتے۔
. پروفیسروں کی عزت کرتے ہیں۔
. دل لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ صرف لڑکیوں ہی کو نوٹس دیتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں صرف لڑکیاں ہی تعلیم پر بہتر توجہ دیتی ہیں۔ یہ ہر وقت لڑکیوں کو باور کراتے رہتے ہیں کہ انہیں صرف اور صرف تعلیم پر توجہ دینی چاہیے ۔
تاہم جب لڑکیاں تعلیم پر توجہ دے رہی ہوتی ہیں تو یہ لڑکیوں پر توجہ دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ پڑھائی کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ اگر ان سے کوئی لیکچر مس ہو جائے تو سارا دن’’ بونترے بونترے‘‘ پھرتے ہیں۔
اپنی جان پر کھیل کر گیس پیپر حاصل کرتے ہیں اور پھر راتوں کو لڑکیوں کو فون کر کر کے انہیں گیس بتاتے ہیں۔
یہ الیکٹرانک لڑکے کمرہ امتحان میں جانے سے پہلے یہ کہہ کر سب کی جان نکال دیتے ہیں کہ آج امتحان میں صرف وہی سوال آئیں گے جو انہوں نے تیار کیے ہوئے ہیں۔
جب رزلٹ آؤٹ ہوتا ہے تو ان الیکٹرانک لڑکوں کی محنت رنگ لاتی ہے۔
اور یہ ہائی تھرڈ ڈویژن میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
یہ ساری صفات تو ممی ڈیڈی لڑکوں کی ہیں ۔ ۔ :thinking:
 
تحریر پڑھتے ہوئے بار ہا بے ساختہ قہقہے لگائے ہیں اور مسکراہٹ تو ایک سیکنڈ کے لیے بھی گئی نہیں ہونٹوں سے ۔ لاجواب تحریر ہے بھیا ۔ آخر آپ نے بھی بھڑاس نکال ہی لی
خبردار اگر کسی نے بھڑاس کے لفظ سے کچھ اور سو چا تو :D
۔ زبردست شیئرنگ ۔ ڈھیروں داد۔
میں نے ایک ٹیکنیکل لڑکے سے پو چھا کہ بال لمبے کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
اطمنیان سے بولا ….. مٹی کے تیل سے اچھی طرح دھو کر ، آگ پر سکھائیں ….. !!!
لڑکوں کی ایک خاص قسم کے لیے بالوں کو لمبا کرنے کی بجائے بالوں کی موجودگی زیادہ معنی رکھتی ہے ۔:D
. میں اس کے باپ کے تالو میں اینٹ دے ماروں گا۔
میں نے تصور کرنے کی کوشش کی ہے کہ کون سا پوز بنایا جائے تو تالو میں اینٹ ماری جا سکتی ہے لیکن نہیں ہو پایا خیر ۔ :cool:
میں اسے اغواء کر لوں گا اور روزانہ صبح نہار منہ اوباما کی تصویر دکھایا کروں گا۔
یہ والی تصویر ؟؟
hqdefault.jpg

عام بندہ اتنی سہیلیاں نہیں بناتا جتنی یہ بہنیں بنا جاتے ہیں
:D
شرما کر بولا….. بس جی ….. ایک بہن سے بات چل رہی ہے !!
یہ ساری زندگی ماموں ہی بنتا رہے گا :battingeyelashes:
تاہم جب لڑکیاں تعلیم پر توجہ دے رہی ہوتی ہیں تو یہ لڑکیوں پر توجہ دے رہے ہوتے ہیں
یہ ڈاکٹر یونس بٹ کا فقرہ ہے :p
تاہم تھوڑی دیر بعد جب بارات آتی ہے تو ڈائیاں لگا لگا کر پیسے لوٹنے لگ جاتے ہیں!!!
:rollingonthefloor:
 
آخری تدوین:
ان سب کو چھوڑیں۔ میں تو کل سے عظیم لڑکوں کے لیے مصروفِ دعا ہوں۔
جو اس نفسا نفسی کے دور میں بھی بلا خوف و خطر کسی انجان کی مدد کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اور اس احسان کی قیمت صرف دعاؤں کی صورت میں لیتے ہیں۔ :)
 

La Alma

لائبریرین
اللہ معاف کرے کرہ ارض پر کیسی کیسی مخلوق بستی ہے . یہ تو لڑکوں کی sub types ہو گئیں ،ویسے لڑکوں کی اوریجنل قسم ایک ہی ہے اور وہ ہے " انسان نما لڑکے " . بس دیکھنے میں ہی انسان انسان لگتے ہیں .:):)
 
اللہ معاف کرے کرہ ارض پر کیسی کیسی مخلوق بستی ہے . یہ تو لڑکوں کی sub types ہو گئیں ،ویسے لڑکوں کی اوریجنل قسم ایک ہی ہے اور وہ ہے " انسان نما لڑکے " . بس دیکھنے میں ہی انسان انسان لگتے ہیں .:):)
اسی انسان نما لڑکوں پر لڑکیاں مرتی ہیں
 
Top