لٹو

پہلے کی طرح بے حد خوبصورت تحریر۔ اللہ آپ کے جذبوں کو آپ کیلئے نفع بخش بنائےاور اتمامِ ذات کا ذریعہ بھی۔ آگ کچی مٹی کو مضبوط اینٹ بنا دیتی ہے جس سے عمارت کی تعمیر ہو اور وہی آگ عمارت کو خاکستر بھی کر سکتی ہے۔ سب لوگ اپنے جذبات کو درست سمت نہیں دے پاتے، اللہ نے شعور دے کر، اپنا راستہ متعین کرنے کی ذمہ داری ہم پہ ڈال دی ہے۔

رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
 

نور وجدان

لائبریرین


آپ کی ان باتوں پر افسوس کے سواء فقیر کے پاس کچھ نہیں، آپ سے بیان کیا تھا میں کم علم نہیں بلکہ لا علم ہوں۔ جہالت کی
سیاہی میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسی بڑی بڑی باتوں نے الجھا دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آسان الفاظ میں بیان فرما دیتیں تو یہ جاہل بھی
فائدہ اٹھا پاتا مگر بالا تمام باتوں میں آپ نے فرمایا ،،،،، انسان کا خالق ہے، وہ شہ رگ سے بھی قریب ہے اورایسی ہی باتوں
کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک کلمہ گو کی حیثیت سے فقیر اس "دیالو" کو اللہ پاک کے نام سے دیکھے تو بتلائیں ۔۔۔۔۔۔ کیا دیکھے؟؟؟

تصوف کی راہ پر چلنا ہی نہیں اس کی بابت بات کرنا بھی کافی مشکل ہی ہے، صوفیانہ تحاریر ہوں یا فلسفیانہ تحاریر ہوں
احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔ یہ حد ایمان لگاتا ہے، ورنہ ادب تو کہتا ہے جو کہو کہہ دو اور ادب کا نام دے دو، چاہے عورت کو بے لباس کردو ۔۔۔ ادب کا نام دے دو ۔۔۔۔۔ چاہے مذہب پر سوالیہ نشان لگا دو ۔۔۔۔ ادب کا نام دے دو۔۔۔۔۔ مارکیٹ میں ایسے نام بہت ہیں جو اللہ کی بات کرتے ہوئے اس
پختگی کو بھول جاتے ہیں وہ خالق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور راقم انسان ۔۔۔۔۔۔ یہ انسان کی حد ہے وہ اپنی حد میں رہ کر بات کرتا ہے
یعنی انسان ہے تو انسانوں ہی کی مانند بات کرے گا، سوچے گے ۔۔۔۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو بھی ایک انسانی
خاکے میں ڈھال لیتا ہے ، نادانستگی میں، انجانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھاری کی بلند و بالا تحریر، الفاظ کے حسن و جمال کی چمک
ایسی ہوتی ہے کہ قاری کی آنکھوں میں جو تفریق الفاظوں میں ختم کر دی جاتی ہے انجانے میں سامنے نہیں آتی، اگر آتی
بھی ہے تو وہ اس کو سرسری بات سمجھ کر آگے گزر جاتا ہے

یاد نہیں فقیر کب سے انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے ، مگر جب سے کر رہا ہے اس وقت سے کوسوں دور بیٹھ کر ہمیشہ اسی
کوشش میں رہتا ہے کہ لفظوں سے کسی کا دل نہ توڑا جائے، اس بات کی احتیاط ایسی کہ خاموش رہنے کو ترجیع دیتا ہے
یا پھر ان بکس میں بات کرتا ہے۔۔۔۔ افسوس اس صورتحال میں ان بکس کی سہولت میسر نہیں، خاموشی ممکن نہیں آپ سے
مکالمے میں جو بات کہنی تھی وہ یہاں درج کر رہا ہوں۔

جس کی معذرت پہلے ہی کر رہا ہوں کہ اگر میری بات سے دل پر میل آئے تو مجھے درگزر فرما دینا آپ، میں کم علم نہیں
لا علم ہوں۔ بات کرنے کا سلیقہ نہیں، اپنی چھوٹی سی دنیا کو کل کائنات سمجھتا ہوں اس لئے اکثر لوگوں کی باتوں کو سمجھ
نہیں پاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دیالو" اگر خالق ہے، شہ رگ سے نزدیک ۔۔۔ یعنی کلمہ گو کہے گا یہ پڑھ کر دیالو ۔۔۔ اللہ پاک کو کہا گیا ہے
اس ذات پاک کے لئے لفظ دیالو شایان شان ہے کہ نہیں اس بات کو بھی قطع نظر کر کے ۔۔۔۔ تحریر میں آگے یوں ہے کہ

’ایسے زاویوں پہ حرکت کرتے دیالو کو احساس ہوا کہ ‘

میں کہوں ۔۔۔۔۔ میری بہن کو احساس ہوا، میری بہن کہے اس کو احساس ہوا ۔۔۔ یعنی ان جملوں میں یہ تاثر عموما لیا جاتا ہے
کہ احساس ہونے سے قبل احساس نہیں تھا ، علم نہیں تھا، خبر نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا تحریر کا دیالو جو خالق ہے
شہ رگ سے نزدیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لا علم تھا کسی پل ؟؟؟ پھر اس کو انسانی ذات کی طرح احساس ہوا ؟؟؟

میں نے جو بات آپ تک پہنچانی تھی پہنچا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے لکھنے کی ساکت نہیں

اللہ پاک ہم سب کے حال پر اپنا کرم فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین صد آمین

دعا گو
س ن مخمور
امر تنہائی

آپ کو تکلیف پُہنچی مجھے اس سے تکلیف ہوئی ہے ۔ آپ نے اپنا حق استعمال کرتے جو کہا ، وہ بہت ٹھیک کہا ہے ،میں نے جو اپنی جگہ کہا وہ بھی ایک حقیقت ہے ۔اسلیے معذرت میری طرف سے ہوئی ہے مگر ایک خیال جسے اختلاف ہے کہ مارکیٹ -----------جس کے کوئی دام نہ ہوں وہ بے دام ----انمول ہو یا حقیر ------وہ مارکیٹ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بہت شُکریہ آپ نے تحریر پڑھی ، اللہ تعالیٰ آپ کیساتھ معاملہ ِ خیر کرے اور میرے ساتھ بھی ۔۔۔
 

نور وجدان

لائبریرین
پہلے کی طرح بے حد خوبصورت تحریر۔ اللہ آپ کے جذبوں کو آپ کیلئے نفع بخش بنائےاور اتمامِ ذات کا ذریعہ بھی۔ آگ کچی مٹی کو مضبوط اینٹ بنا دیتی ہے جس سے عمارت کی تعمیر ہو اور وہی آگ عمارت کو خاکستر بھی کر سکتی ہے۔ سب لوگ اپنے جذبات کو درست سمت نہیں دے پاتے، اللہ نے شعور دے کر، اپنا راستہ متعین کرنے کی ذمہ داری ہم پہ ڈال دی ہے۔

رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
اللہ کریم آپ کو سکون کی دولت عطا کریں ، آپ کی راہوں کو آسان کریں ۔آمین
رستہ ملنے کے بعد جنون کو سودا بھی رہتا ہے ۔
 
Top