فیض فیض فیض احمد فیض ::::: شرح ِبے دردئ حالات نہ ہونے پائی ::::: Faiz Ahmad Faiz

طارق شاہ

محفلین


غزل
شرح ِبے دردئ حالات نہ ہونے پائی
اب کے بھی، دِل کی مدارات نہ ہونے پائی

پِھر وہی وعدہ، جو اِقرار نہ ہونے پایا !
پِھروہی بات، جو اثبات نہ ہونے پائی

پِھر وہ پروانے جنھیں اذنِ شہادت نہ مِلا
پِھر وہ شمعیں، کہ جنھیں رات نہ ہونے پائی

پِھر وہی جاں بہ لَبی، لذَّتِ مے سے پہلے!
پِھر وہ محفِل، جو خرابات نہ ہونے پائی

پِھر دَمِ دِید رہے چشم و نظر دِید طلب !
پِھر، شبِ وصل مُلاقات نہ ہونے پائی

پِھر وہاں، بابِ اثر جانئے کب بند ہُوا
پِھر یہاں ختم مناجات نہ ہونے پائی

فیضؔ سر پر جو ، ہر اِک روز قیامت گُذری
ایک بھی ، روزِ مکافات نہ ہونے پائی

فیض احمد فیؔض
 
شرحِ بے دردیِ حالات نہ ہونے پائی
اب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائی

پھر وہی وعدہ جو اقرار نہ بننے پایا!
پھر وہی بات جو اثبات نہ ہونے پائی

پھر وہ پروانے جنہیں اذنِ شہادت نہ ملا
پھر وہ شمعیں کہ جنہیں رات نہ ہونے پائی

پھر وہی جاں بلبی لذت مے سے پہلے
پھر وہ محفل جو خرابات نہ ہونے پائی

پھر دمِ دید رہے چشم و نظر دید طلب
پھر شبِ وصل ملاقات نہ ہونے پائی

پھر وہاں بابِ اثر جائنے کب بند ہوا
پھر یہاں ختم مناجات نہ ہونے پائی

فیض سر پر جو ہر اک روز قیامت گزری
ایک بھی روز مکافات نہ ہونے پائی
فیض احمد فیض
23 مارچ 71ء
 
آخری تدوین:
Top