فہم مضامین قرآن (رمضان المبارک)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

تجمل حسین

محفلین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کچھ دن قبل سالگرہ کے زمروں میں محب علوی صاحب کی لڑی ’’قرآن فہمی‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو انہوں نے اردو محفل کی نویں سالگرہ اور رمضان المبارک کے موقع پر شروع کیا تھا۔ کچھ مصروفیات کی بناء پر انہیں تاخیر ہوگئی جس پر انہوں نے آئندہ برس محفل کی دسویں سالگرہ یعنی جون۔جولائی 2015 کو اس لڑی میں قرآن فہمی کے متعلق اسباق دینے کا کہا تھا۔ اسی لڑی سے مجھے یاد آیا کہ پچھلے ماہ رمضان المبارک میں ایک کتاب ’’فہم مضامین قرآن‘‘ میں نے بھی منگوائی تھی جو کہ مجھے غالباََ رمضان المبارک کے آخر میں یا عید کے بعد ملی تھی جس پر میں نے سوچا تھا کہ انشاءاللہ آئندہ رمضان میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ اب میں نے سوچا کہ محفل کی سالگرہ بھی ہے اور رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ بھی ہے لہذا اس کتاب کے مطالعے میں محفلین کو بھی شریک کروں تاکہ ہم سب اس کتاب اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ سے فائدہ حاصل کرسکیں۔
اس سلسلہ میں مجھے پانچ دن کی تاخیر ہوچکی ہے تاہم میں کوشش کروں گا کہ شروع میں ہر روز دو دن کے صفحات شامل کرسکوں جب ہم رمضان المبارک کی تاریخ کے ساتھ مل جائیں تو پھر ایک دن کے صفحات روزانہ کی بنیاد پر شریک محفل کیا کروں گا۔ کیونکہ روزانہ ٹائپنگ بھی کرنی ہوگی۔ جس دن وقت نہ ملا تو سکین صفحات شامل کردیا کروں گا بعد ازاں ان سکین صفحات کو بھی ٹائپ کرکے تصاویر کی جگہ شامل کردوں گا تاکہ مکمل کتاب یونیکوڈ اردو میں دستیاب ہوسکے۔ جمعۃ المبارک کو چونکہ تعطیل ہوتی ہے لہذا کوشش رہے گی جمعۃ المبارک کے صفحات جمعرات کو ہی شامل کردوں۔
باقی جہاں تک کتاب کے تعارف کی بات ہے تو شاید میں کتاب کا تعارف مناسب الفاظ میں نہ کرواسکوں لہذا کتاب کے تعارف کے طور پر مؤلف ’’سرفراز محمد بھٹی‘‘ صاحب کی ہی تحریر پیش خدمت کررہا ہوں۔ امید ہے کہ احباب کو یہ سلسلہ پسند آئے گا۔
تبصرہ جات کے سلسلہ میں عرض ہے کہ تبصرہ جات الگ لڑی میں شروع کردیئے جائیں تاکہ کتاب میں تعطل نہ آئے اور جو بھی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہے اسی ایک لڑی سے ہی مکمل کتاب کا مطالعہ کرسکے۔ یا پھر ہر دن کے صفحات الگ لڑی میں شروع کیے جائیں۔ جیسے احباب مناسب خیال کریں اتفاق رائے سے بتادیں۔ شکریہ۔

تبصروں کے لیے الگ سے دھاگہ بنادیا گیا ہے۔ محفلین سے گزارش ہے کہ اپنے تبصرے درج ذیل لڑی میں تحریر کریں تاکہ اس سلسلہ میں تعطل نہ آئے۔
والسلام
طالب دعا: تجمل حسین
 
آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
فہم مضامینِ قرآن




مرتبہ




سرفراز محمد بھٹی

=============================================​

29_51.png

’’اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی، جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت اُن لوگوں کے لیے، جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ قُرآن (51:29)

=============================================​

کتاب کا تعارف بہ تحریر مؤلف سرفراز محمد بھٹی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم​

امابعد: قرآن حکیم اللہ جل شانہ کا آخری صحیفہ ہدایت ہے جو حضور رسولِ آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اس میں قیامت تک کے تمام فکری، تہذیبی، تمدنی، اجتماعی ضروریات پورا کرنے کی مکمل رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس دستورِ حیات کے مندرجات کو جان کر ان پر غور و فکر کرکے اسے سمجھا جائے اور اپنی زندگی کے ہر پہلو پر عملی طور پر اسے لاگو کرکے اس مقصدِ عظیم کو حاصل کیا جائے جس کے لئے پردگارِ عالم نے ہماری تخلیق فرمائی۔

آج تک ہمارا زور صرف تلاوتِ قرآن حکیم پر ہی رہا ہے یہ عمل ہے تو حصولِ رحمت و برکت کا باعث، لیکن یہ انسان کو اصل منزل تک نہیں پہنچاتا۔ اللہ کریم فرماتا ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اس میں انسان کو امتحان کے لئے بجھوایا گیا ہے اور یہ زندگی اس نے محنت و مشقت سے بسر کرنا ہے۔ اگر یہ محنت و مشقت اللہ کے حکموں کےبجالانے میں ہوتو کامیابی اور اگر خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کے لئے ہو تو ناکامی۔ اب حکموں کو جاننے کے لئے قرآن کے مطالب جاننے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہم عربی زبان سے نابلد ہیں اس لئے تلاوت کے ساتھ ترجمہ پڑھے بغیر ہم مقصد تو نہیں پاسکتے۔ اسے اگر دوسری طرح بھی دیکھیں کہ اللہ کریم نے کتابِ رحمت میں توحید کے بعد سب سے زیادہ عقیدہ آخرت کو بیان فرمایا ہے کہ مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے، حساب کتاب حق ہے اور پھر اعمال کے مطابق دائمی جزا و سزا۔ اعمالِ صالح کے لئے پھر ہمیں احکامِ الٰہی جاننا ضروری ہیں اور اس کو ترجمہ کے ذریعے ہی جانا جاسکتا ہے۔

غالباََ نظامِ تراویح اسی لئے وضع کیا گیا ہوگاکہ سامع قرآن سننے کے ساتھ احکامِ الٰہی کا بھی اعادہ کرلے تاکہ اگلے سال پھر وہ بہتر زندگی گزار سکے۔ اسی ضرورت کو مدِ نظر رکھ کر یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے کہ کسی کے پاس اگر اتنا وقت نہیں کہ وہ اس سوا پارہ کا ترجمہ دن میں پڑھ لے جس کی تلاوت شام کو تراویح میں سننا ہے تو کم از کم اس کتابچہ سے چند صفحات پڑھ کر ان موضوعات اور اشارات کو جان لے جن پر اس شام اس نے کلامِ پاک سننا ہے۔ جان لیجئے کہ خلاصہ جیسا کہ یہ کتابچہ ہے کبھی اصل کتاب کا بدل نہیں ہوسکتا اس لئے اس کتابچہ کو ترتیب دیتے ہوئے اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ اسے پڑھنے سے قاری کو تشنگی کا احساس ہو اور وہ تفصیل جاننے کے لئے قرآن حکیم کی جانب راغب ہو۔ یہ کتابچہ قرآن حکیم کا ترجمہ نہیں بلکہ صرف مختصر مفہوم دیا گیا ہے۔ اسے مرتب کرنے میں ہر ممکن احتیاط برتی گئی ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد محترم مولانا قاری محمد شریف صاحب نے اس کو بغور دیکھا پھر محبّی محترم رائے فقیر محمد صاحب فاضل علومِ دینی و فیلو چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ نے اس کو دیکھ کر جامعہ نعیمیہ میں جناب ڈاکٹر محمد سرفراز حسین نعیمی صاحب کو نظرِ ثانی کے لئے دیا۔ میں ان تمام حضرات کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں کہ ان کی تجاویز اور رہنمائی کے باعث بیان اور نکھر گیا۔

ان انتہائی کوششوں کے باوجود اگر کوئی کوتاہی باقی ہو تو میں اس کے لئے صدقِ دل سے توبہ کرتا ہوں اور اپنے ربِّ کریم سے معافی اور بخشش کا طالب ہوں۔ اہل علم سے بھی درخواست ہے کہ اگر کوئی غلطی ان کی نظر میں آئے تو احقر کو مطلع کریں تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی تصحیح کی جاسکے۔

میں جناب محمد انور صاحب کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے بہت کم وقت میں اسے کمپوز کیا۔ جناب محمد معظم حمید صاحب اور احمد فراز بھٹی صاحب کی معاونت کے لئے بھی مشکور ہوں۔

اب مجھے اپنے جہل کا اقرار کرنا ہے کہ میں کوئی عالم نہیں صرف رحمتِ الٰہی اور ایک لگن سے اس کی تکمیل ممکن ہوسکی ہے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ کریم اس ناچیز بندے کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے توشئہ آخرت بنائے اور اس کے پڑھنے اور سننے والوں کو دولتِ ہدایت و عمل سے نوازے اور تمام محسنین کو جنہوں نے میری رہنمائی اور معاونت فرمائی ہے دنیا اور آخرت میں اجر خیر کثیر سے نوازے۔ اللہ کریم میرے والدین، عزیز و اقربا اور تمام مسلمانوں کو مغفرت اور اخروی نعمتوں سے نوازے۔ آمین ثم آمین۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
وتب علینا انک انت التواب الرحیم​

بندہ راجی شفاعت غفران
سرفراز محمد بھٹی
256۔ ستلج بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور
22ستمبر 2006ء
28 شعبان المعظم 1424ھ

=========================================
اظہار تشکر

فہم مضامین قرآن کا مجھ جیسے بے علم شخص کا ہاتھ سے تحریر میں لانا اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عنایت تھی۔ انتہائی کوشش کے باوجود اس میں ابھی املا کی چند غلطیاں موجود تھیں کہ اللہ کریم نے اس سقم کو دور کرنے کا فریضہ اپنے ایک مخلص اور مقبول بندے جناب ملک مقبول احمد (مالک مقبول اکیڈمی) کو سونپا تو مقبول صاحب نے اس کا اظہار مجھ سے فرمایا میرے لئے یہ امر انتہائی خوش کن تھا۔ چنانچہ درستگی کے ساتھ ان کی خواہش کی تکمیل میں دو ایک مقامات پر مزید بہتری بھی لائی گئی۔ اب جناب ملک مقبول احمد صاحب اس کتاب کو ایک بہتر شان کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کی اس سعی اور جذبہ کو منظور و مقبول فرمائے اور اس کاوش کو ان کے لئے توشہ آخرت بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔
سرفراز محمد بھٹی عفی عنہ​
 
مدیر کی آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
یکم رمضان المبارک

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود (کے شر) سے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

یکم رمضان المبارک: پارہ اول سورۃ الفاتحہ رکوع 1
پارہ اول سورۃ البقرۃ 1 تا 16 رکوع
پارہ دوم سورۃ البقرۃ 17 تا 21 رکوع​
===============================================================
(1) سورۃ الفاتحہ رکوع1
===============================================================

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے​
الفاتحہ قرآن حکیم کی پہلی سورہ ہے جسے کلام الٰہی کا مقدمہ، دیباچہ اور خلاصہ کہا گیا ہے۔ اس کا اسلوب دعائیہ ہے۔ علماء کا قول ہے کہ یہ دعا ہے اور قرآن اس دعا (طلب ہدایت) کا جواب ہے۔
تمام تعریف ستائش حمد و ثناء کے لائق وہ ذاتِ اقدس ہے جو عالموں کا رب ہے جو رحمت والا ہے اور جس کی رحمت تمام مخلوقات کو اپنی بخششوں سے مالا مال کررہی ہے۔ جو اس دن کا مالک ہے جس دن اعمال کا بدلہ لوگوں کے حصے میں آئے گا۔ (خدایا) ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تو ہی ہے جس سے (اپنی ساری احتیاجوں میں) مدد مانگتے ہیں (خدایا) ہم پر (سعادت کی) سیدھی راہ کھول دے۔ وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہوئی جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ ان کا جن پر غضب کیا گیا نہ ان کا جو گمراہ ہوئے۔

===============================================================
(2) سورۃ البقرۃ رکوع1 تا 21
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے​

رکوع1۔۔۔۔فرمایا: کہ یہ کتاب ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہے اس میں جو تعلیم دی گئی ہے وہی صراط مستقیم اور جو وعدے کیے گئے ہیں وہ یقینی طور پر پورے ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے راہ ہدایت ہے جنہوں نے اسلامی نظریۂ حیات قبول کیا، جنہیں سچائی طلب و تلاش ہے اور آخرت کی جواب دہی پر یقین ہے۔
یہ لوگ جو متقی ہیں، غیب پر ایمان لاتے، نماز پابندی سے ادا کرتے، نیکی کی راہ میں مال خرچ کرتے، تمام آسمانی کتابوں اور الہامی نوشتوں پر ایمان رکھتے، جزا اور سزا کے دن پر یقین رکھتے ہیں بلاشبہ یہی ہدایت یافتہ اور کامیاب لوگ ہیں۔ جو لوگ انکارِ حق کے عادی ہوچکے ہیں وہ کسی طرح ماننے والے نہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہریں لگادی ہیں اور آنکھوں پر پردے تان دیئے ہیں اور ان کے لیے عذابِ عظیم تیار ہے۔

رکوع 2۔۔۔۔فرمایا: منافق، ایماندار ہوناظاہر کرتے ہیں پر دل سے نہیں۔ یہ بظاہر اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن خود دھوکے میں ہیں۔ یہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے۔ ان کو فساد سے روکیں تو کہتے ہیں ہم اصلاح کررہے ہیں۔ صحیح ایمان والوں کو بے وقوف کہتے ہیں۔ یہ خود جھوٹے اور بے وقوف ہیں۔ ان کے لیے عذاب الیم تیار ہے۔ یہ اللہ کے گھیرے میں ہیں وہ جب چاہے ان کی سماعت اور بصارت سلب کرلے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ فرمایا: کہ صرف اپنے خالق کی بندگی کرو۔ وہی کل کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ قوت و حیات اس کے قبضۂ اختیار میں ہے۔ اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور یہ جہنم کے نافرمانوں کے لیے ہے۔ نیکوکاروں کو جنت کی خوشخبری ہے۔ تمہارے پروردگار نے کائنات زمین میں خزانے، سات آسمان، سورج، چاند، ستارے بنائے۔ بارش کے ذریعے تمہیں فائدے پہنچائے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ فرمایا: اللہ نے انسان کو زمین پر نائب و خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا تو جن و ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ صرف ابلیس نے تکبر کیا اور سجدہ سے انکار کیا تو مردود ٹھہرا اور قیامت تک کے لیے آدم اور ذریتِ آدم کا دشمن بن گیا۔ انسان کو دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا گیا کہ جو ہدایت پر چلیں گے انعام پائیں گے اور جو بھٹک کر شیطان کی پیروی کریں گے، آیات کا انکار کریں گے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ یہاں سے بنی اسرائیل کی تاریخ، ان کی فضلیت، لغزشوں، گناہوں اور پھر فضیلت کے چھن جانے کا بیان ہے جس میں عبرت اور نصیحت ہے۔ فرمایا: نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو اور نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ جھکو۔ اپنے معاملات کے حل کے لیے صبر و صلوٰۃ سے مدد لو۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ بنی اسرائیل پر کیے گئے احسان بتلائے۔ فرمایا: کہ قیامت کے دن ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی۔کوئی نہ سفارش کرسکے گا نہ مجرم چھڑوا سکے گا۔ فرعون کے بنی اسرائیل پر مظالم اور فرعون کی تباہی بیان ہوئی۔ قوم موسٰی علیہ السلام کا بچھڑے کی پوجا، من و سلوٰی کے نزول کا تذکرہ ہوا۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے پانی مانگا تو بارہ چشمے عطا کیے گئے۔ پھر بنی اسرائیل کے کفرانِ نعمت، حکم عدولی، نبیوں کے ناحق قتل اور پھر ان پر عذاب کا مسلط ہونا بیان ہوا۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نظریہ کی نفی کی کہ وہ نبیوں کی اولاد ہونے کی وجہ سے زیادہ مقرب ہیں۔ فرمایا: تقرب صرف صحیح ایمان اور عمل صالح کرنے سے ہی ہوگا۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ فرمایا: بڑے دلائل اور معجزات کے باوجود بنی اسرائیل کے دل موم ہونے کی بجائے پتھر ہوگئے جن پر کوئی بات کارگر نہیں ہوتی وہ خود کو جنت کے ٹھیکیدار سمجھتے۔ فرمایا: عذابِ جہنم سے نجات کسی قوم کا میراث نہیں بلکہ جو صاحب ایمان عمل صالح کرے گا، جنت میں داخل ہوگا۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ فرمایا: کہ بنی اسرائیل نے اعمالِ صالح کے سب عہد توڑے۔ فسق و فجور میں مبتلا ہوئے۔ پس دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور روز جزا میں بھی سخت ترین عذاب کا لقمہ بنیں گے جس میں کوئی کمی نہ آئے گی نہ ان کو کہیں سے مدد ملے گی۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ فرمایا: موسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام ان پرمبعوث کیے گئے لیکن بنی اسرائیل نے تکبر اور سرکشی اختیار کی اور اپنی نفسانی خواہشات کی اتباع کی۔ اس کے باوجود خود کو مومن اور جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے اور نجات کو اپنا حق سمجھتے۔ لمبی عمر کی حرص کرتے ہیں کہ عمر ہزار سال پائیں۔ یہ عذاب سے نہیں بچ سکتے۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ بنی اسرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کے عذر پیش کرتے۔ کتاب اللہ کی مخالفت کرتے۔ جادو، سفلی عملیات، تعویذ گنڈوں اور ٹونوں ٹوٹکوں جیسے شیطانی عملیات کی پیروی کرتے۔ فرمایا: جو شخص اپنے ایمان کے عوض ان شیطانی عملیات کو حاصل کرنے کا گھاٹے کا سودا کرتا ہے اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

رکوع 13 ۔۔۔۔ مسلمانوں کو فرمایا: کہ یہود کی طرح ذو معنی لفظ “راعنا” سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پکاریں بلکہ “انظرنا” کہا کرو۔ فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو صرف نیکو کار جنت میں جائیں گے۔

رکوع 14 ۔۔۔۔ فرمایا: مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ جس کام کو حکم دیتا ہے کہ “ہوجا” وہ ہوجاتا ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔ نافرمانوں کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ کے ساتھ بھیجا ہے۔ نیکوکاروں کو خوشخبری دینے اور نافرمانوں کو مواخذۂ الٰہی سے ڈرانے والا۔ اصل مومن وہ ہیں جو قرآن کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح پڑھنے کا حق ہے اور انکار والے دنیا اور آخرت میں خسارے میں رہیں گے۔

رکوع 15 ۔۔۔۔ بنی اسرائیل کو احسان یاد دلائے اور فرمایا: کہ یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ ان کی اولاد کو امامت اور پیشوائی دی۔ ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کر کے دعا کی کہ الٰہی اس شہر کو امن والا شہر بنا اور یہاں بسنے والوں کے لئے میوے اور پھلوں کی بہتات کردے۔ ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور یہاں بسنے والوں کے لیے انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو تیری آیتیں انہیں پڑھ کر سنائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔

رکوع 16 ۔۔۔۔ توحید پر بات ہوئی۔ انبیاء کرام کے نام گنوا کر فرمایا: اُخروی نجات کے لیے اعمالِ صالح ضروری ہیں۔ مطلق نسب و نسبت پر مان کرکے اعمالِ صالح نہیں ترک کرنے چاہئیں۔ اس کے لیے نیک اعمال ضروری ہیں۔ فرمایا: دنیوی لالچ میں دینِ حق کو چھپانا بڑا ظلم ہے۔ فرمایا: ہر ایک کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔

پارہ دوم

رکوع 17
۔۔۔۔ فرمایا: کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آرزو دیکھ کر خانۂ خدا کو قبلہ قرار دیا ہے۔ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اب خانہ کعبہ کی طرف۔ جان لو سب سمتیں اللہ ہی کی ہیں۔

رکوع 18 ۔۔۔۔ فرمایا: بیت اللہ اب دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے قیامت تک کے لیے قبلہ مقرر کیا گیا ہے۔ دعائے ابراہیم علیہ السلام کے مطابق تم ایک اللہ، ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ایک کتاب اور ایک قبلہ کاپیروکار بنایا تاکہ تم باہم متحد رہو اور اپنے محسنِ حقیقی کے احسانات کو یاد رکھو، کفرانِ نعمت سے بچتے رہو۔ اللہ کی رحمت کے دروازے تم پر کھلے رہیں گے۔

رکوع 19 ۔۔۔۔ فرمایا کہ: دنیا میں کامیابی کے لیے کچھ مشکلات سے دوچار ہونا لازمی ہے۔ تم صبر و رضا، نماز و دعا کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرو۔ فرمایا: اللہ کی راہ میں جان دینے والے مرتے نہیں اور ہمیشگی کی زندگی پاتے ہیں لیکن تم کو اس کا شعور نہیں۔ جان لو حج و عمرہ کے مراسم صرف رسمیں نہیں بلکہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں سے نیکی کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے اور انسان گناہوں سے پاک ہوکر اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم کردے۔ فرمایا: خوف و طمع کی خاطر اللہ کے حکموں کو چھپانے والوں پر اللہ کی پھٹکار اور تمام مخلوقات کی لعنت ہے۔ صرف وہی معبودِ حقیقی معبودِ واحد ہے اس کے علاوہ کوئی قابل بندگی و پرستش نہیں۔

رکوع 20 ۔۔۔۔ رات اور دن کا چھوٹا بڑا ہونا، کشتیوں کا سمندر میں چلنا، بارش سے مردہ زمین کا زندہ ہونا، ہواؤں اور بادلوں کو قابو میں رکھنا عقل مندوں کے لیے اللہ کی نشانیاں ہیں۔

رکوع 21 ۔۔۔۔ فرمایا: حلال اور پاک چیزیں کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس کو غیر اللہ کا نام لیکر ذبح کیا گیا ہو، حرام کیے گئے ہیں۔ مجبوری میں کہ زندگی ختم ہورہی ہوتو حرام شے کی اجازت اس حد تک دی گئی ہے کہ جان بچ جائے۔
===============================================================​
 
آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
دو رمضان المبارک:
پارہ دوم سورۃ البقرۃ رکوع 22 تا 33
پارہ سوم سورۃ البقرۃ رکوع 33 تا 40
پارہ سوم سورۃ اٰلِ عمران رکوع 1 تا 2​
===============================================================
(2) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ البقرۃ (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 22 تا 40
===============================================================​
رکوع 22 ۔۔۔۔ فرمایا: کہ اصل نیکی یہ ہے کہ ایمان لائے اللہ پر، قیامت پر، فرشتوں، کتابوں اور پیغمبروں پر اور اللہ خوشنودی کے لیے رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں اور معاشرہ میں پھنسے محکوموں کو آزاد کرانے کے لیے مال خرچ کرے اور نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی، ایفائے وعدہ اور مصائب میں صبر کرنے والے سچے متقی اور نیکو کار ہیں۔
فرمایا: قتل کا بدلہ قصاص ہے لیکن رضامندی کے ساتھ خون بہا اور معاف کرنا بھی جائز کردیا۔ ترکہ چھوڑنے والا ورثاء کو جھگڑوں سے بچانے کے لیے دستور اسلامی کے تحت وصیت کرجائے۔

رکوع 23 ۔۔۔۔ فرمایا: تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں پرہیز گاری پیدا ہو۔ یہ گنتی کے دن ہیں اور اس کے بےشمار فائدے ہیں اور اجتماعی تربیت بھی ہے۔ مریض اور مسافر مجبور ہوں تو دوسرے دنوں میں روزے پورے کرلیں اور ناتوان و کمزور جو روزہ نہ رکھ سکیں وہ فدیہ کےطور پر کسی غریب یا حاجت مند کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادیں۔
اسی مہینہ میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس کے ہر حکم میں ان گنت برکتیں اور حکمتیں بھری ہوئی ہیں۔ فرمایا: کہ پوچھنے والوں کو بتادیں کہ میں ان کے قریب ہوں اور ہر پکارنے والے کی پکار سنتا اور دعا قبول کرتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ میرا حکم مانیں پھر روزہ کے آداب و احکام بیان کیے گئے۔ فرمایا: کہ ایک دوسرے کا مال، دھوکہ، فریب، ظلم، زیادتی، خیانت و بے انصافی وغیرہ سے مت کھاؤ۔ نہ ہی رشوتیں دو۔

رکوع 24 ۔۔۔۔ فرمایا: نئے چاند لوگوں کےلیے وقت کا حساب کرنے کا آلہ ہیں۔ ان کے ذریعے عبادات اور حج کے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں۔ فرمایا: اللہ کی راہ میں جنگ کرو لیکن زیادتی نہ کرو۔ فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ مسجد الحرام کے پاس قتال نہ کرو اگر کوئی حملہ کرے تو جواب دو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے۔ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ حرمت والے مہینوں کا احترام کرو۔ نیکی اور حسنِ سلوک کرو۔ حج و عمرہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہوں ان کے حدود و قواعد، احکام و فرائض پورے کرو۔

رکوع 25 ۔۔۔۔ فرمایا: حج کے مہینے مقرر ہیں اور اس سلسلے میں ضروری احکام بیان فرمائے۔ فرمایا: اچھی دعا دنیا و آخرت میں کامیابی کا مانگنا ہے۔ صرف دنیا میں آسائش مانگنے والوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ نیکی کی اصل تقویٰ ہے۔ غرور اور فساد اللہ کو ناپسند ہیں۔ فرمایا: اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ دانستہ غلطی نہ کرو۔ بنی اسرائیل سے عبرت حاصل کرو۔ مومنوں کا مذاق نہ اڑاؤ۔ شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ راہِ ہدایت سے نہ بھٹکو کہ تمہارے پاس واضح نشانیاں آچکی ہیں۔

رکوع 26 ۔۔۔۔ فرمایا: بنی اسرائیل کو ہم نے کیسی کھلی نشانیاں دکھائی ہیں۔ نعمت پالینے کے بعد نافرمانوں کو سزا سامانِ عبرت و بصیرت ہے۔ ابتدا میں تمام انسان امتِ واحدہ تھے۔ جب لوگوں کے عقائد میں اختلاف ہوتا پیغمبر بھجوائے جاتے جو ان کے اختلاف ختم کرتے۔ پھر مال کو والدین، قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا۔ اللہ نے مسلمانوں کو جہاد/قتال کی اجازت دے دی۔

رکوع 27 ۔۔۔۔ فرمایا: حرمت والے مہینوں میں جنگ بڑا گناہ ہے۔ لیکن فتنہ قتل سے بڑا گناہ ہے۔ مرتد کی سزا دائمی جہنم ہے۔ صاحبِ ایمان جنہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا، رحمت و بخشش کے مستحق ہیں۔ فرمایا: شراب اور جوا بہت بری چیزیں ہیں۔ جو تمہاری ضرورت سے بچ جائے اللہ کی راہ میں خرچ کردو۔ یتیموں کی تربیت اور نگہداشت پر زور دیا گیا۔فرمایا: نہ مشرکہ عورتوں سے نکاح کرو نہ اپنی عورتیں مشرک مردوں کے نکاح میں دو۔

رکوع 28 ۔۔۔۔ فرمایا: حیض کے دوران عورتوں سے جنسی تعلقات سے گریز کرو۔ پھر طلاق، عدت اور رجوع کرنے کے احکامات بیان فرمائے۔
رکوع 29 ۔۔۔۔ رجعی طلاق، خلع، رجوع، حلالہ اور بیویوں کے ساتھ برتاؤ کے احکام بیان ہوئے۔
رکوع 30 ۔۔۔۔ عدت، رضاعت کے احکام بیان ہوئے۔
رکوع 31 ۔۔۔۔ فرمایا: کہ چھونے سے پہلے طلاق میں عورت کو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور پورے مہر کی ادائیگی تقویٰ سے قریب ہے۔ فرمایا: نمازیں پابندی اوقات سے ادا کرو۔
رکوع 32 ۔۔۔۔ جہاد کرنے کا حکم ملا اور فرمایا کہ اس کی ضروریات کے سلسلے میں اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرو تاکہ وہ تمہارے مال کو برکت کے ذریعے کئی گنا زیادہ کردے۔ پھر بنی اسرائیل کے سلسلے میں جالوت اور طالوت کے قصے بیان فرمائے۔
رکوع 33 ۔۔۔۔ فرمایا: فتح و نصرت کا انحصار لشکر کی قلت و کثرت پر نہیں یہ اللہ کی رحمت پر ہے۔


پارہ سوم

رکوع 34 ۔۔۔۔ فرمایا: قیامت سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ پھر کسی عمل کا موقع نہ ملے گا۔ فرمایا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، خود قائم ہے اور تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ زمین آسمان میں سب اسی کا ہے۔ وہ ہر کسی کے حالات سے باخبر ہے۔ کسی میں طاقت نہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے۔ ساری کائنات کی حفاظت اس کے لیے آسان ہے بلندی اور عظمت اسی کے لیے ہے۔ فرمایا: ہدایت اختیار کرنے والے کا رفیق و کارساز اللہ ہے اور کفر و سرکشی اختیار کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

رکوع 35 ۔۔۔۔ نمرود اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی درخواست پر کہ الٰہی مُردوں کو زندہ کرکے دکھا تاکہ یقین اور بڑھ جائے۔ فرمایا: چار پرندوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت ٹکڑے کرکے پہاڑوں پر ڈال دے۔ فرمایا: کہ اب آواز دو۔ پرندے دوبارہ زندہ ہوکر دوڑتے آئیں گے۔ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

رکوع 36 ۔۔۔۔ فرمایا: اللہ کی راہ میں خلوص دل سے مال خرچ کرنے اور صدقہ و خیرات کرنے کا بدلہ کئی گنا ہے۔ جس طرح زمین میں ایک دانے کے سات خوشے اور ہر خوشے میں سو دانے نکلتے ہیں۔ دکھاوا اور ریاکاری سب کچھ ضائع کردیتی ہے۔ اگر ضرورت مند کو کچح دے نہ سکو تو اس سے نرم گفتاری سے پیش آؤ کہ اسے ایذا رسانی نہ ہو۔

رکوع 37 ۔۔۔۔ اچھی اور محبوب چیز کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا ثواب زیادہ ہوگا۔ اللہ تمہارے صدقہ و خیرات سے کلی بے نیاز ہے۔ جتنا خوش دلی سے دو گے وہ اور دے گا۔ بہتر ہے خیرات چھپا کر دو۔ خیرات کے مستحق خاص طور پر وہ ہیں جو خود داری کے سبب اپنی غربت ظاہر نہیں کرتے۔

رکوع 38 ۔۔۔۔ اللہ کی رضا کی خاطر خیرات کرنے والوں کو نہ ماضی کا غم ہوگا نہ مستقبل کا۔ سود حرام ہے۔ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔ سود لینا چھوڑ دو، تنگ دست کو مہلت دو یا بخش دو۔ آخرت میں یہ تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔ فرمایا: نماز قائم رکھو۔ زکوٰۃ ادا کرتے رہو تمہیں پورا پورا اجر ملے گا اور نہ خوف ہوگا نہ غم۔

رکوع 39 ۔۔۔۔ جب بھی قرض دو لکھت پڑھت کرلیا کرو دو گواہ بھی رکھ لیا کرو۔ گواہوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ انصاف سے کام لیں۔ جب دستاویز لکھنا ممکن نہ ہو تو کوئی چیز رہن رکھ کر قرض لے لو۔ بہرحال رہن شدہ چیز سے کوئی مالی فائدہ نہ اٹھائے ورنہ وہ بھی سود تصور ہوگا۔

رکوع 40 ۔۔۔۔ سب مال و زر اور ارض و سماء میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ تمہارے دلوں کے راز جانتا ہے اور جزا و سزا پر قادر ہے۔ مسلمان بننے کے لیے لازم ہے کہ اللہ پر، فرشتوں پر، کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ کہ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ کامل ایمان کے لیے عقیدہ و احکام پر مکمل عمل ضروری ہے۔ سب کو اعمال کے مطابق سزا و جزا ہوگی۔ آخر میں دعا تعلیم فرمائی کہ الٰہی اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو مواخذہ نہ کرنا۔ پہلی امتوں کی طرح ہم پر بوجھ نہ ڈالنا۔ ایسی ذمہ داریاں ہم پر نہ ڈالنا جو ہم پوری نہ کرسکیں۔ ہمیں معاف فرما اور بخش دے۔ تو ہی ہمارا مولیٰ ہے۔ کافروں کے مقابلے میں مدد فرما۔

===============================================================
(3) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ اٰلِ عمران ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 2
===============================================================

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔​

رکوع 1
: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ حیّ القیوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل فرمایا جو اس سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اللہ کا علم بہت وسیع ہے۔ قرآن دو طرح کی آیات محکم اور متشابہات نازل ہوئیں۔ محکم جن کا مفہوم معلوم اور مقرر ہے۔ متشابہات جن کے مفہوم میں کچھ شبہ واقع ہوتا ہے۔ بعض بدطنیت لوگ مغالطہ دے کر لوگوں کو گمراہی میں پھنسانے کے لیے متشابہات سے اپنی رائے اور خواہش کے مطابق کھینچ کر مطلب نکالنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے۔ بہتر ہے محکمات پر مکمل عمل کیا جائے اور متشابہات کو محکمات کی روشنی میں دیکھے اور اگر شک ہو تو اللہ پر چھوڑ دے۔ پھر دعا تعلیم کی کہ اے اللہ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو پھر کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم پر رحمت فرماتے رہنا۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ کفر کا رویہ اختیار کرنے والوں کو نہ مال اور نہ اولاد کسی کام آئے گی۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ ان کا انجام آیات جھٹلانے والے فرعون کے ساتھیوں جیسا ہوگا۔ فانی اشیاء مثلاََ: عورتیں، بیٹے، سونا چاندی اور خزانے، گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں ان سے فائدہ اٹھانا بری بات نہیں لیکن ان میں مگن ہوکر اصل مقصد حیات کو بھول جانا درست نہیں۔ متقیوں کے لیے جنت اور بڑا اجر ہے اور متقی بخشش مانگنے والے، صبر کرنے والے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے، رات کے آخری حصہ میں عبادت کرنے والے اور حکم بجالانے والے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ اصل دین پر قائم رہو اور یہود و نصاریٰ کی طرح گروہ بندیوں کا شکار نہ ہوجاؤ۔ نبی کا فرض صرف بات کو پہنچانا ہے۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
تین رمضان المبارک:
===============================================================
(3) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ اٰلِ عمران (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 3تا 20
===============================================================​
رکوع 3۔۔۔۔ کافر جو پیغمبروں اور عدل و انصاف کی تلقین کرنے والوں سے جھگڑا کرتے اور ان کا ناحق قتل کرتے ہیں، بڑے ظالم ہیں ان کو سخت سزا ملے گی۔ عیسائی من گھڑت مسئلے بناتے ہیں کہ ان کو سزا نہ ملے گی اگر ملی بھی تو چند یوم کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے۔ جان لیں آخرت اٹل ہے اور سب کو ان کے اعمال کے مطابق اجرو سزا ملے گی۔ بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے۔ ہر شے پر اس کا کلی اختیار ہے۔ کائنات میں ہر طرح کی تبدیلیوں پر وہی قادر ہے۔ مسلمان کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ اللہ کا علم وسیع ہے اور ہر شے پر حاوی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہمیشہ شر، برائی اور گناہ سے بچتے رہیں اور تقویٰ اختیار کریں۔

رکوع 4۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور مکمل پیروی ہی اللہ سے محبت کا اظہار ہے۔ انبیاء کے سلسلہ کو بیان کیا۔ سیدہ مریم علیہ السلام کی پیدائش اور پرورش کا بیان آیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اولاد کے لئے دعا کی تو انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی گئی اور ان کی نشانی بتائی۔

رکوع 5۔۔۔۔ فرشتوں نے حضرت مریم علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی جو بِن باپ کے ہوں گے۔ وہ اللہ کے مقرب ہوں گے اور ماں کی گود میں بھی لوگوں سے باتیں کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی وہی تھی کہ صرف اللہ کے سامنے جھکو یہی سیدھی راہ ہے۔ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف سازشیں تیار کیں لیکن وہ اللہ کی مضبوط تدبیر کو توڑ نہ سکے۔

رکوع 6۔۔۔۔ اللہ نے کہا: اے عیسیٰ! میں تیری حفاظت کروں گا اور ان لوگوں کی سازشوں کو ناکام کردوں گا۔ یہ تجھے پکڑ کر قتل نہ کرسکیں گے۔میں تجھے اوپر اٹھالوں گا۔ کافروں کی عبرتناک سزا ہوگی۔ فرمایا: نیکوکار لوگوں کے لئے اجرِ عظیم ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی سی ہے کہ مٹی سے بنایا اور حکم دیا ہوجا اور وہ ہوگیا۔ نجران کے عیسائی مناظرہ کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مباہلہ کا حکم ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل خانہ کو لے کر مباہلہ کےلئے آئے تو کافر انہیں دیکھ کر مقابلہ کا ارادہ چھوڑ گئے۔

رکوع 7۔۔۔۔ مشرکوں کو کہو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کا شریک کسی کونہ ٹھہرائیں، اللہ کے سوا کسی کو رب نہ بنائیں۔ اگر وہ قبول نہ کریں تو کہو کہ گواہ رہو کہ ہم تو اس کے حکم کے تابع ہیں۔ فرمایا: کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی نہ تھے وہ دینِ حنیف پر تھے۔ اہل کتاب خود گمراہی میں مبتلا ہیں۔

رکوع 8۔۔۔۔ اہل کتاب کی چالاکیوں اور خیانتوں کا ذکر کیا گیا اور فرمایا: ان میں کچھ منافقین کہتے ہیں کہ صبح ایمان لاؤ شام کو انکار کردو۔ اصل میں یہ مکاریاں مسلمانوں سے حسد کی بناء پر ہیں۔ پھر دینی خیانت کے ساتھ ان کی دنیوی خیانت بھی بیان کردی۔ فرمایا: خیانت کرنے والوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ فرمایا: نبی تو لوگوں کو کفر سے نکال کر اسلام میں داخل کرتا ہے وہ کفر کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ یہی اہل کتاب اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔

رکوع 9۔۔۔۔ نبیوں سے عہد لیا کہ وہ اللہ کی بندگی سکھائیں گے، وہ اپنی تعلیم کبھی نہیں دیتے۔ جو کوئی اسلام میں داخل ہونے کی بجائے خود ساختہ دین کے متلاشی ہیں، وہ نافرمان ہیں۔ انہیں عبرتناک عذاب ہوگا اور عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور جو صاحب ایمان ہوکر کافرانہ زندگی اختیار کرے س کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ جو اس حالت میں مرگئے زمین بھر سونا بھی اس کا فدیہ قبول نہ ہوگا اور انہین درد ناک عذاب ہے۔

رکوع 10۔۔۔۔ قربانی عزیز ترین چیز کی ہونا چاہئے۔ کھانے کی یہ ساری چیزیں جو اسلام میں حلال ہیں، بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں۔ البتہ بعض چیزیں تورات کے نازل ہونے سے پہلے اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلی تھیں، اللہ نے حرام نہ کی تھیں۔ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والا ظالم ہے۔ فرمایا: کہو تم ابراہیم علیہ السلام کا اتباع کرو وہ شرک کرنے والے نہ تھے۔ فرمایا: اولین عبادت گاہ خانہ کعبہ ہے اس میں کھلی نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم۔ فرمایا: خانہ کعبہ کا حج لوگوں پر اللہ کا حق ہے۔ اہلِ کتاب کا کہا نہ مانو یہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ مسلمان ایمان لانے کے بعد کفر نہیں کرسکتا جب ان میں اللہ کا عظیم پیغمبر موجود ہے جس نے مضبوطی کے ساتھ دینِ الٰہی پالیا اس نے راہِ ہدایت پالی۔

رکوع 11۔۔۔۔اللہ سے ڈرتے رہو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ یہ اللہ کا احسان تھا کہ تم کو جو بکھرے تھے، یک جان کردیا۔ فرمایا: اپنے میں سے ایک جماعت دعوت و تبلیغ کے لیے قائم رکھو، جو لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتی ہے۔ فرقہ بندی میں مت پڑو۔ مرتد، منافق اور کافروں سے اللہ سوال کرے گا کہ تم ایمان لانے کے بعد کفر بھی کرتے رہے۔ اب عذاب چکھو۔ یہ سب روسیاہ ہوں گے۔ صاحب ایمان اور متقی اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور ان کے نورانی چہرے سفید چمکتے ہوں گے۔ یہ اللہ کی آیات ہیں۔ اللہ قطعاََ کسی پر ظلم پر نہ کرے گا اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

رکوع 12۔۔۔۔ تمام امتوں سےتم بہترین امت ہو جو اللہ پر ایمان لائے ہو۔ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو، برائی سے منع کرتے ہو۔ نافرمان اہل کتاب تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ انہوں نے اللہ کا غصہ کمایا ہے اس لئے کہ آیات کا انکار کیا اور نبیوں کو قتل کیا اور نافرمان ہیں۔ کچھ اہل کتاب سیدھی راہ پر قائم ہیں۔ ذکرِ نیم شب کے علاوہ سجدے بھی کرتے ہیں، قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ یہ لوگ نیک بخت ہیں۔ کافروں کا ٹھکانہ دوزخ ہے ان کا یہاں خرچ کیا آخرت میں کام نہ آئے گا۔ فرمایا: اے ایمان والو! غیروں کو راز دار نہ بناؤ، یہ تمہاری بربادی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ تم اہل کتاب کی دوستی کا دم بھرتے ہو لیکن وہ تمہاری جڑیں کاٹنے والے دشمن ہیں۔ تمہارے مصائب سے خوش اور خوشی سے حسد میں جلتے ہیں۔

رکوع 13۔۔۔۔ غزوۂ احد پر تبصرہ فرمایا: کہ اگر غزوۂ بدر کی طرح نظم و ضبط، صبر و استقلال کیا جاتا اور دو جماعتیں بزدلی کا مظاہرہ نہ کرتیں تو یقیناََ اللہ کی مدد و نصرت ان میں شامل ہوتی۔ پھر بھی اللہ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی و طمانیتِ قلب حاصل ہو۔ اے پیغمبر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں کوئی دخل نہیں کہ اللہ کس کو بخشتا ہے اور کس کو سزا دیتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر شے پر اللہ ہی کا قبضۂ اختیار ہے۔

رکوع 14۔۔۔۔ سودی لین دین ترک کرکے تقویٰ اختیار کرو تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو۔ آگ سے بچنے کی کوشش کرو۔ اپنے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور رحمتِ الٰہی کے حقدار بنو۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرو۔ غلطی کی اسی وقت اللہ سے معافی مانگ لو۔ جان لو کہ محض زبان سے ایمان کا دعویٰ کرکے جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان کے ساتھ عمل اور پھر مصائب سے صبر کے ساتھ مقابلہ نہ کرو گے۔

رکوع 15۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سول اور صداقت کے پیامبر ہیں۔ جس طرح ان سے پہلے بہت سے رسول پیغام حق دے کر چلے گئے، اسی طرح انہوں نے بھی ایک دن انتقال فرمانا ہے۔ تو کیا تم پھر حق سے پھر جاؤ گے۔ یادرکھو موت کا وقت مقرر ہے اور وقت سے پہلے موت نہیں آتی۔ پہلے بھی اللہ کے نیک بندوں نے انبیاء کی رفاقت میں اللہ کے دشمنوں سے جہاد کیا۔ مصائب و آلام پر ثابت قدم رہے اور اپنے رب سے استغفار کرتے رہے۔ ہم سے ثابت قدم رہنے اور مدد کی استدعا کرتے رہے۔ پروردگار نے انہیں دنیا اور آخرت میں بہترین صلہ عطا کیا اور وہ آخرت میں دائمی نعمتوں کے وارث بن گئے۔

رکوع 16۔۔۔۔ مسلمانوں کو فرمایا کہ منکرینِ حق کی باتوں کو نہ مانیں اس میں سخت نقصان ہے۔ فرمایا: غزوۂ احد میں مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی نہ کرتے تو جیتی ہوئی جنگ ہار میں نہ بدلتی۔ بہرحال یہ بھی مسلمانوں کا ایک امتحان تھا اور اللہ نےان کا قصور معاف کردیا۔

رکوع 17۔۔۔۔ مسلمانوں کو منافقت اختیار کرنے سے منع کیا۔ جہاد سے پہلو تہی کہ موت سے بچ جاؤ گے، فرمایا: موت و حیات تو اللہ قبضۂ اختیار میں ہے اور اس کے لیے وقت ازل سے مقرر ہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا بہت بڑی رحمت ہے۔ شہید کو حیات جاودانی نصیب ہوتی ہے اور اللہ کا قرب ملتا ہے۔

رکوع 18۔۔۔۔ جو لوگ زخم کھا کر بھی میدانِ جنگ میں رہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر فوراََ لپکے وہی متقی ہیں، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ فرمایا: کہ اگر نافرمانوں کو کچھ ڈھیل ملی ہے تو اس لیے کہ وہ گناہوں میں اور ترقی کرکے دردناک عذاب میں مبتلا کردیے جائیں۔ فرمایا: کہ اللہ چاہتا تو غیب کی خبریں سب کو دے دیتا لیکن اس نے اپنے رسولوں میں جسے چاہا چن لیا اور جتنا علم انہیں دینا چاہے دے دیتا ہے۔ پھر بخل سے منع فرمایا۔

رکوع 19۔۔۔۔ یہود نے اللہ کے حضور گستاخی کے کلمے کہے۔ انبیاء کا ناحق خون کیا اور دہکتی آگ کے عذاب سے مستحق ہوئے۔ فرمایا: اے پیغمبر یہ یہودو نصاریٰ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں انہوں نے آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا جو روشن کتاب لائے۔ فرمایا: ہر ایک نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ دنیا کی زندگی نہیں مگر دھوکے کی پونجی ہے۔ فرمایا: جان و مال کی آزمائش ہوگی اور کامیابی مصائب کا صبر و استقلال سے مقابلہ کرنے اور آزمائشوں سے گزر کر حاصل ہوگی۔ اللہ گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کرتا ہے کہ ہم عبرت حاصل کریں۔ فرمایا: یہودی علماء رشوتیں کھا کر غلط مسئلے بتاتے، ان لوگوں کی خوش فہمیاں انہیں عذاب سے نہ بچا سکیں گی۔

رکوع 20۔۔۔۔ صاحبانِ بصیرت، تخلیقاتِ ارض و سماء جو کھلی نشانیاں ہیں اور اس نظام پر غور کرتے ہیں تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ نظام بے مقصد نہیں بنایا۔ تُو پاک ہے ہم کو بخش دے اور عذاب سے بچالے کیونکہ جس کو تو نے جہنم رسید کیا وہ ہمیشہ کے لیے ذلیل و خوار ہوا۔ ہمیں وہ سب عطافرما جس کا تونے اپنے رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا اور روز قیامت ہمیں رسوا نہ کرنا۔ منکرین کو دنیا میں عیش و عشرت ملی تو یہ دائمی نہیں ان کا مستقل ٹھکانہ جہنم ہے۔ مسلمانو! ہمیشہ صبرو استقامت سے کام لو۔ اللہ سے ڈرتے رہ تاکہ اپنے مقصد میں کامیابی اختیار کرو۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
چار رمضان المبارک:
پارہ چہارم سورۃ النساء رکوع 1 تا 4
پارہ پنجم سورۃ النساء رکوع 4 تا 20​
===============================================================
(4) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النساء ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 20
===============================================================
اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ فرمایا: اللہ سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر جوڑے بنائے اور قرابت داری کا خیال رکھو۔ یتیموں کا مال انہیں دے دو۔ ایک سے زیادہ نکاح تب کرو اگر انصاف کرسکو۔ حق مہر خوشی سے دو۔ یتیموں کی اچھی تربیت کرو اور انہیں اپنی اولاد پر قیاس کرو لڑکوں سے ساتھ لڑکیوں کو بھی میراث میں حصہ دار بنایا۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ میراث کی تقسیم تفصیل سے بیان فرمائی اور فرمایا: کہ میراث دو، وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد۔ جبکہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں جو پیروی کرے گا جنت میں جائے گا اور جو حد سے بڑھے گا وہ آگ میں جھونکا جائے گا۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ بدکار مردوں اور عورتوں کی سزا بیان کی۔ فرمایا: اللہ توبہ قبول کرتا ہے اور اگر برائی سے باز نہ آئیں اور گناہ پر انہیں ندامت نہ ہوتو اس کی جھوٹی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوتی۔ فرمایا: بیواؤں کو وراثت کے طور نہ لو اور ماؤں کا احترام کرو۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ محرم عورتوں کی تفصیل بیان کی گئی اور فرمایا: کہ حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیا، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھائی اور بہن کی بیٹیاں، رضاعی مائیں اور بہنیں اور بیویوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہوں، بیٹوں کی بیویاں، دو اکٹھی بہنیں اور وہ عورتیں جو کسی اور کے نکاح میں ہوں۔

پارہ پنجم

رکوع 4۔۔۔۔ نکاح کے لیے حق مہر کا تعین لازمی قرار دیا اور لونڈیوں سے نکاح کی شرائط بیان فرمائیں۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ فرمایا: اللہ چاہتا ہے کہ انسان کو حلال و حرام میں فرق معلوم ہوجائے۔ اسے راہ ہدایت پر چلنا نصیب ہو اور اللہ اپنے بندوں کے گناہ بخشے اور ان پر رحمت کرے۔ فرمایا: کہ ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ فرمایا: بڑے گناہوں سے بچو تو چھوٹے گناہ معاف کردیں گے۔ فرمایا: مرنے والوں کا مال وارثوں کا حصہ ہے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ مرد، عورتوں کی ضروریاتِ زندگی کا بندوبست کرنے والا اور کفیل و نگران مقرر کیا ہے۔ سرکش عورتوں کی اصلاح، مصالحت اور ثالثی بیان ہوئی۔ فرمایا: شرک نہ کرو۔ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ حقوق العباد بیان ہوئے۔ بخل اور دکھاوے کو برا قرار دیا۔ فرمایا: قیامت کے دن کفار سخت پریشان اور پشیمان ہوں گے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ اگر پانی میسر نہ ہو تو تیمّم کرلو۔ یہود کی لڑائیاں بیان فرمائیں اور فرمایا کہ: مشرک کے لیے بخشش نہیں اور جھوٹ اور بہتان سخت گناہ ہیں۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ طاغوت اور بتوں کے فرمانبرداروں پر اللہ کی لعنت ہے۔ اللہ کی آیات کے منکر آگ کا ایندھن بنیں گے۔ ایماندار اور نیکوکاروں کو جنت کی نعمتیں ملیں گی۔ فرمایا: امانتوں کا احترام کرو اور عدل و انصاف سے کام لو۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرو۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ مسلمانوں کو ہر معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ دل سے تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس کے بغیر ایمان ناقص اور نامکمل ہوگا۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے والے روزِ قیامت نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ جہاد کے لیے تیار رہو، اس کا بڑا اجر ہے۔ فرمایا: کہ مظلوموں کی مدد میں بھی جہاد کرو۔ شیطان کے چیلوں سے جنگ کرو، کامیابی تمہیں ہی ملے گی۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ جو لوگ جہاد سے جی چراتے ہیں جان لیں کہ موت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ فرمایا: منافقین سے منہ موڑ لو اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھو۔ سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے نہ پھیلاؤ۔ دعا کے جواب میں بہتر دعا دو۔

رکوع 12۔۔۔۔ منافقوں اور مطلب پرستوں سے تعلق داری میں تمہیں کچھ نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بداعمالیوں کے باعث دین سے محروم کردیا ہے۔ اللہ ہر شے کا مالک ہے جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہی دے۔ فرمایا: منافقوں پر قابو پاکر انہیں قتل کردو۔

رکوع 13 ۔۔۔۔ مسلمان مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر غلطی سے قتل ہوجائے تو قاتل ایک مسلمان کو آزاد کرے اور اس کے گھروالوں کو خون بہا ادا کرے اور اگر وہ معاف کردیں تو یہ ان کی طرف سے صدقہ ہوگا۔ پھر قتلِ عمد کی سزا علیحدہ بیان کردی۔ مومن کوجان بوجھ کر قتل کرنے کی سزا جہنم ہے اور غضب اور لعنت اللہ۔ فرمایا: کہ جہاد کرنے والے اور جہاد سے جی چرانے والے برابر نہیں۔ جہاد کرنے والوں کے لیے اجرِ عظیم ہے۔

رکوع 14 ۔۔۔۔ ایمان لانے اور قرآن کو رہنما ماننے کے بعد دشمنوں کے خوف سے اپنے عقائد پر آزادانہ عمل نہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ کیا اللہ کی زمین تم پرتنگ ہے کہ ہجرت نہیں کرتے۔ جنہوں نے ہجرت کی راہ اختیار کی اللہ کی راہ میں، اللہ انہیں کشادہ ٹھکانے دے گا اور اس کا ثواب دے گا۔

رکوع 15 ۔۔۔۔ سفر میں نماز قصر کرلیا کرو یعنی چار فرض کے بجائے دو فرض کرلو۔ نمازِ خوف کی ادائیگی کا بیان آیا اور فرمایا: دشمنوں کو ڈھیل نہ دو۔

رکوع 16 ۔۔۔۔ دنیادار کی سرگوشیاں اور کانا پھوسیاں کوئی اچھا کام نہیں۔ جو حق و صداقت کے واضح ہوجانے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے روگردانی کرتا ہے، قول و عمل سے قرآن و سنت کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ اسے دنیا میں اسی کے راستہ پر چلاتا ہے اور مرنے کے بعد اسے جہنم میں جھونک دے گا۔

رکوع 17 ۔۔۔۔ (ترجمہ فی الحال کتاب میں موجود نہیں)

رکوع 18 ۔۔۔۔ فرمایا: غیر اللہ کو خدا سمجھ کر پکارنا یعنی شرک کے لیے کوئی بخشش نہیں۔ شرک صرف غیراللہ کو پکارنا یا پوجنا نہیں بلکہ شیطان مردود کی تابعدار بھی شرک ہے۔ شیطان کے وعدے فریب اور دھوکا ہیں ان سے نفع نہیں یہ راستہ دوزخ کو جاتا ہے۔ اللہ نیکوکاروں کو جنت میں داخل کرے گا، نیکی کا پورا ثواب ملے گا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: کہ دین ان کا ہی سب سے اچھا ہے جو دل سے اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں۔

رکوع 19۔۔۔۔ اگر عدل و مساوات کے ساتھ معاشرتی حقوق ادا کرسکو تو چار تک نکاح کرسکتے ہو اور تمام معاملات خواہ وہ مہر، وراثت، نان و نفقہ، نگہداشت یا اخلاقی تربیت ہو تمہیں اللہ کے احکام کو ماننا ہوگا۔ اسی طرح یتیموں کے معاملے میں عدل و انصاف سے کام لو۔ زمین و آسمان میں سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز ہے۔

رکوع 20 ۔۔۔۔ انصاف پر قائم رہو اور ہمیشہ سچی گواہی دو خواہ وہ تمہارے والدین یا قرابت داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فرمایا: اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پختہ ایمان ہونا چاہیے۔ متزلزل یقین والے منافق ہرگز نہ بخشیں جائیں گے۔ فرمایا: بری مجلس جہاں اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جائے نہ بیٹھو کہ کہیں تم بھی انہیں میں سے نہ ہو جاؤ۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
پانچ رمضان المبارک:

پارہ ششم سورۃ النساء رکوع 21 تا 24
پارہ ششم سورۃ المائدہ رکوع 1 تا 11
پارہ ہفتم سورۃ المائدہ رکوع 11 تا 16​

===============================================================
(4) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النساء (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 21 تا 24
===============================================================​

پارہ ششم

رکوع 21 ۔۔۔۔ منافقین کی پانچ ظاہری علامات بیان کیں۔
1۔ خود دھوکہ میں مبتلا لیکن اپنے خیال میں اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں۔
2۔ سستی اور بے دلی سے نماز پڑھتے ہیں۔
3۔ نماز بغیر خلوص کے صرف دکھاوا اور ریا ہوتی ہے۔
4۔ اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔
5۔ ایمان اور کفر کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ نہ دل سے ایمان قبول کرتے ہیں اور نہ کھل کر کفر کا ساتھ دیتے ہیں۔​
فرمایا: کفار سے دوستی نہ رکھو۔ توبہ کرنے والے شکر گزار کر بن کر رہنے والوں کو بڑا ثواب ملے گا۔ اللہ پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی ظاہر ہو مگر مظلوم کو ظلم کے خلاف فریاد کا حق دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ وہ صبر کرکے معاف کردے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اور اللہ کے رسولوں میں فرق نکالنے والے اصلی، مکمل کافر ہیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے کا بے حد ثواب ہے۔

رکوع22 ۔۔۔۔ اہلِ کتاب کے سوال، یہود کی زیادتیاں، بداعمالیاں اور ان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سلوک، حیات و ممات مسیح کا بیان ہوا۔ فرمایا: ایمان لانے والوں، نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور اللہ پر یقین رکھنے والوں کو بڑا ثواب ہے۔

رکوع 23 ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجی جیسے دوسرے نبیوں پر بھیجی۔ اس کا مقصد اللہ کے احکام پر عمل کرنے والوں پر رحمتوں کی خوشخبری اور منکروں کو دردناک عذاب کی وعید سناتا ہے تاکہ روزِ قیامت لوگوں کو کوئی عذر اور اللہ پر حجت نہ رہے۔ اللہ بدکرداروں کو نہ تو معاف کرے گا اور نہ سیدھی راہ دکھائے گا اور جہنم کی آگ میں جھونک دے گا۔ اے بنی نوع انسان تمہارے پاس آخری رسولِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم سچائی لے کر آچکا بس اس کے کہے کا یقین کرو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اگر اس سچائی سے انکار کرو گے تو اللہ کی الوہیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کوئی فرق نہ آئے گا البتہ تم ہی اپنا نقصان کرو گے۔ فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام مریم علیہ السلام کا بیٹا، اللہ کا ایک حکم ہے۔ تمہارا بغیر کسی شریک کے تمہارا معبود ہے۔ اس کی ذات اولاد کی صفت سے پاک و منزہ ہے۔ ارض و سماء میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور وہی سب کا وکیل و کارساز ہے۔

رکوع 24 ۔۔۔۔ اللہ ایمانداروں اور نیکوکاروں کو پورا ثواب اور تکبر کرنے والوں کو دردناک عذاب دے گا۔ نیک بندے وہ ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو مضبوط پکڑا اور اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کیا ان پر رحمتوں کا نزول ہو گا۔ پھر کلالہ کی وراثت کے احکام بیان ہوئے۔

===============================================================
(5) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ المائدہ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 16
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ فرمایا مسلمانو! احکامِ الٰہی کی تکمیل و اطاعت کا عہد پورا کرو۔ حالتِ احرام میں شکار جائز نہیں۔ مسلمانو! شعائراللہ کی بے حرمتی نہ کرو اور بے حرمتی نہ کرو حرمت کے مہینوں کی، قربانی کے جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے ڈال دیئے گئے ہیں۔ نقصان نہ پہنچاؤ بیت اللہ کو آنے والے تاجروں کو۔ مشرکوں نے تمہیں حج سے روکا تھا تم اس کے بدلے میں حاجیوں کو نہ روکو۔ تم تو نیک کام میں مدد کرو اور برائی نہ کرو۔ مسلمانو! تم پر حرام ہوا مردار جانور، خون، سُور کا گوشت اور جس جانور پر غیراللہ کا نام پکارا گیا ہو ذبح کے وقت۔ فرمایا: تمہارے لیے دین مکمل ہوگیا۔ پھر حلال چیزوں کی تفصیل بیان فرمائی۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ وضو، غسل اور تیمم کا بیان آیا۔ فرمایا: اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو ہمیشہ یاد رکھو اسی کو پورا کرنے پر نجات کا دارو مدار ہے۔ تم عدل و صداقت کے پیکر بن جاؤ۔

رکوع 3۔۔۔۔ بنی اسرائیل سے بھی اللہ نے عہد لیا تھا لیکن انہوں نے عہد کو توڑا۔ عیسائیوں نے بھی عہد فراموش کردیا۔ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور علماء یہود کلام الٰہی میں تحریف کردیتے۔فرمایا: ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا اور روشن کتاب آچکی جو ایمان والوں کو جہل و گمراہی کی تاریکیوں سے نکالتا اور علم و بصیرت کی روشنی میں لاتا ہے۔ عیسائیوں نے کفر کیا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے۔ یہودونصاریٰ کا یہ کہنا کہ ہم خدا کے چہیتے ہیں ہم کچھ بھی کریں ہمیں نجات ہی نجات ہے تو ان سے پوچھو کہ پھر اللہ تم پر عذاب کیوں نازل کرتا رہا۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو ملک شام جو ان کے آباء کا وطن ہے فتح کرکے وہاں آباد ہونے کا کہا۔ جہاد کا حکم دیا اور ان کو اللہ کی ان پر مہربانیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ قوم نے کہا کہ جب تک وہاں کی دیوقامت قوم وہاں سے نکل نہ جائے وہ نہ جائیں گے۔ دو صاحبانِ ایمان نے بھی ان کو سمجھایا لیکن قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ تم جاؤ اور اپنے پروردگار کو بھی ساتھ لے جاؤ ہم تو یہیں رہیں گے۔ اللہ نے اس قوم پر وہ جگہ چالیس سال کے لیے حرام کرکے انہیں صحرائے سینا میں بھٹکائے رکھا۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ بیان ہوا۔ فرمایا: کہ ایک ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے پوری انسانیت کو حیاتِ نو بخشی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والوں اور ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کی سزا ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، سولی چڑھایا جائے یا مخالف جانب سے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا ملک بدر کیا جائے۔ دنیا میں یہ ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم تیار ہے۔ لیکن وہ لوگ جو پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرلیں تو اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ ایمان والوں سے فرمایا: کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کے لیے معافی نہیں، دردناک عذاب ہے۔ چوری کی سزا مردو عورت کے چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ ڈالو۔ فرمایا: پھر جس نے اپنے اوپر ظلم کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کی تو اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ عدل و انصاف کا حکم دیا۔ فرمایا: کہ ارض و سماء کی حکومت صرف اللہ کی ہے وہ جسے چاہے بخش دے یا عذاب دے وہ ہر شے پر قادر ہے۔

رکوع 7۔۔۔۔ تورات اور انجیل کی شان کا ذکر کرکے اور قرآن مجید کا وصف بیان کرکے فرمایا: کہ سب کتابیں برحق اور ایک دوسرے کی مددگار ہیں۔ فرمایا: کہ لوگ خواہشاتِ نفسانی کی بجائے قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں اور آخرت کی تیاری کریں۔ نافرمان جاہلیت کے زمانہ کا حکم چاہتے ہیں کہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوں۔ یہ لوگ انسان کی شکل میں جانور ہیں اور جانور جیسی مادر پدر آزادی کے خواہش مند ہیں۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ یہودو نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک ہیں اور دورُخی پالیسی رکھتے ہیں۔ مسلمانو! تمہارے حقیقی دوست و مددگار صرف اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احکام دین پر عمل کرنے والے وہ مخلص مومن ہی ہیں جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور ہر حال میں اللہ کے حضور خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ مسلمانوں کو دوبارہ تاکید کی گئی کہ یہودو نصاریٰ اور ان لوگوں سے جو تمہارے دین کا مضحکہ اڑاتے ہیں، نماز اور اذان کا تمسخر اڑاتے ہیں، یہ عقل سے خالی اور لعنت و غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے ہیں۔ ان کے بزرگوں اور علماء کو کیا ہوگیا ہے کہ حرام خوری اور جھوٹ بولنے سے انہیں منع نہیں کرتے۔ یہود کی گستاخیاں کہ اللہ کے ہاتھ بندھ گئے ہیں، اللہ نے ان پر لعنت کی اور فرمایا: کہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں اور جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے مگر یہ اپنی سرکشی، نافرمانی اور کرتوتوں کی وجہ سے اللہ کا غضب اور اس کی لعنتیں سمیٹ رہے ہیں۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے احکام لوگوں تک پہنچاؤ اور دشمنوں کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دینِ حق کی تبلیغ کرتے رہو اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محافظ ہے۔ فرمایا: جب تک اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کریں، قیامت کو برحق سمجھ کر عمل صالح نہ کریں اس وقت تک آخرت کے غم اور اندوہ اور حزن و ملال سے چھٹکارا نہ پائیں گے۔ فرمایا: تثلیث کا عقیدہ کفر ہے۔ مسیح علیہ السلام مریم کا بیٹا اور اللہ کا رسول ہے۔ یہ دونوں خوراک کے محتاج تھے اور اللہ ان باتوں سے پاک ہے۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ بنی اسرائیل نافرمانی میں حد سے گزر کر پہلے داؤد علیہ السلام اور پھر عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی لعنت کیے گئے۔ فرمایا: یہود سے دوستی پر کبھی اعتماد نہ کرو یہ تمہارے بدترین دشمن ہیں اور نصاریٰ قدرِ کم اور وہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں جو تکبر نہیں کرتے۔

پارہ ہفتم

رکوع 11 ۔۔۔۔ بعض ایسے رقیق القلب اور عارف حق ہیں کہ اللہ کا کلام سنتے ہی ان کی آنکھیں ڈبڈبا آتیں اور آنسو بہہ پڑتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم اس کلام پر ایمان لائے اور ہمیں دین حق کی گواہی دینے والوں میں شامل فرما۔ اللہ نے ان کے لیے جنت کے باغ اور منکروں اور آیتوں کے جھٹلانے والوں کے لیے دوزخ تیار کررکھی ہے۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ حلال چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ قسموں کے بارے میں احکام بیان ہوئے۔ فرمایا: شراب، جوا، بت پرستی، فال کے طریقے سب شیطانی کام ہیں۔ ان سے دور رہو جیسے بول وبراز اور گندی چیزوں سے دور رہتے ہو تاکہ فلاح حاصل کرو کیونکہ شیطان ان گندی چیزوں کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت، کینہ بغض و عناد پیدا کرنا چاہتا ہے۔ فرمایا: لوگو! اللہ کا کہا مانو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو، کتاب اللہ کے مطابق زندگیاں بسر کرو اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں خلل انداز ہونے والے کاموں کو چھوڑ دو۔ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرو اور اس میں بڑھتے چلے جاؤ۔

رکوع 13 ۔۔۔۔ جب حج کے لیے نکلو تو احرام کی حالت میں شکار نہ مارو اور جو کوئی جان بوجھ کر شکار کرے تو اسی کے برابر جانور خرید کر جرمانہ دینا ہوگا جو محتاجوں کو کھلایا جائے۔ تمہارے لیے سمندر اور دریا کا شکاراور اس کا کھانا ایسی حالت میں حلال ہے۔ حرم کا احترام قائم رہنا چاہیے۔ خبیث و طیب چیزیں ایک جیسی نہیں اسی طرح ناپاک اور پاک باز انسان برابر نہیں ہوسکتے۔

رکوع 14 ۔۔۔۔ مومنو ایسے سوال نہ کیا کرو کہ ان کے جواب سے تم میں رنج و غم پیدا ہو۔ یہ جو بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر انہیں مقدس سمجھتے ہیں یہ سب خرافات اور توہم پرستی ہے جس کا اللہ حکم نہیں دیتا۔ مرنے سے پہلے وصیت کرتے وقت دو گواہ بناؤ۔ ہرحال میں تقویٰ اختیار کرو، اللہ کے احکام کے منکر آخر کار رسوا ہوں گے۔

رکوع 15 ۔۔۔۔ قیامت کے دن اللہ سب پیغمبروں سے سوال کرے گا کہ لوگوں نے تمہاری تبلیغ کا کیا جواب دیا۔ رسول کہیں گے کہ سب کچھ اللہ ہی کو معلوم ہے جو چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیے گئے انعامات اور معجزات کا تذکرہ فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ ناشکروں کو ایسی سزا دوں گا جو زمانہ میں کسی کو نہ دی ہو۔

رکوع 16 ۔۔۔۔ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کیا تونے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ معبود بنالو۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ تو شرک سے پاک ہے۔ میری کیا مجال کہ ایسا کہوں، میں نے وہی کہا جس کا کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا۔ اگر تو ان کو بدکاریوں کی سزا دے تو تجھے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر معاف کردے تو تو زبردست حکمت والا ہے۔ فرمایا: کہ آج صادقین کو صداقت اور نیکوکاری نفع دے گی اور وہ ہمیشہ جنت کے باغوں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، رہیں گے اور اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور ارض و سماء میں ہر چیز کا مالک فقط اللہ ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
===============================================================​
کلالہ: مرنے والا/والی جو بے اولاد ہو اور جس کے والدین بھی زندہ نہ ہوں۔
 

تجمل حسین

محفلین
چھ رمضان المبارک:

پارہ ہفتم سورۃ الانعام رکوع 1تا 13
پارہ ہشتم سورۃ الانعام رکوع 14تا 20
===============================================================
(6) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الانعام ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 20
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔​

رکوع 1۔۔۔۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ارض و سماء کو پیدا کیا۔ اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر شرک کرتے ہیں۔ اسی رب نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور عمر مقرر کردی اور اس نے اس کائنات کی بھی مدت مقرر کردی۔ تمہارا رب سب ظاہری اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ فرمایا: کہ جب ان کے پاس اللہ کی کوئی نشانی (قرآن مجید) آتی ہے تو منہ موڑ لیتے ہیں انہیں اس بدعملی کی سزا جلد ملے گی۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ان سے زیادہ قوت اور دبدبہ والی خوشحال قومیں برائیوں اور نافرمانی کے باعث کیسے مٹا دی گئیں۔ اگر ہم کتاب کو کاغذ پر لکھ کر بھجواتے تو یہ اسے جادو کہتے۔ پھر اعتراض کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کو فرشتے کیوں نہیں آتے مگر ان میں فرشتوں کو دیکھنے کی طاقت کہاں؟ فرمایا: کہ رسولوں کی ہنسی اڑانے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

رکوع 2۔۔۔۔ زمین میں گھومو پھرو۔ گزشتہ قوموں کے آثار دیکھو اور پیغمبروں اور حق کو جھٹلانے والوں کا انجام دیکھو۔ ارض و سماء اور ان میں ہر شے کا مالک اللہ ہے۔ اس نے رحمت کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ وہ قیامت کے دن سب کو اکٹھا کرکے جزا اور سزا دے گا۔ وہی قادر مطلق ہے، اس کی اطاعت لازمی ہے، شرک سے نفرت کا اظہار کرو اور کہو اللہ واحد و یکتا ہے۔

رکوع 3۔۔۔۔ سب سے بدبخت اور ظالم وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے اور اس کے احکام کا انکار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے تو اللہ مشرکوں سے پوچھے گا بتاؤ وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم ہمارا حصہ دار بناتے تھے۔ وہ قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ لیکن یہ کذب بیانی ان کےکام نہ آئے گی۔ بعض چالباز مسلمانوں سے کہتے ہیں یہ پرانے قصے ہیں۔ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان کا مقصد سمجھنا نہیں۔ باہر آتے ہی لوگوں سے کہتے ہیں کہ لوگوں ان کی باتیں مت سنو۔ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اسلام کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ایک دن انہیں دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا کریں گے کہ کاش ہم آیتوں کو نہ جھٹلاتے۔ یہ وہ سخت دل ہیں کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں جائیں تو وہی کچھ دوبارہ کریں گے۔ قیامت کے دن ان کے لیے عذابِ الٰہی تیار ہے۔

رکوع 4۔ روزِ جزا کو جھٹلانے والوں پر جب قیامت کی گھڑی اچانک آئے گی تو وہ حسرت و یاس کے عالم میں افسوس کریں گے کہ کیوں انہوں نے احکامِ الٰہی کو نظر انداز کیا اور بد اعمالیاں کیں۔ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں ان لوگوں نے پہلے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا ہے۔ فرمایا: لوگو! اگر تم پر افتاد آپڑے تو کیا غیراللہ کو پکارو ے؟ نہیں، صرف اللہ کو۔ جو اگر چاہے تو تمہاری فریاد رسی کرے گا۔

رکوع 5۔۔۔۔ پہلی قوموں کی طرف بھی پیغمبر بھجوائے اور ان کی سرکشی اور انکار کے باعث وہ نیست و نابو کردی گئیں۔ ہم نے رسول ڈرانے اور خوشخبری دینے کو بھیجے۔ جو ایمان لایا، سنور گیا اور جس نے جھٹلایا، عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ آپ بتادیں کہ میرے پاس نہ اللہ کے خزانے ہیں نہ علم غیب ہے نہ فرشتہ ہوں۔ میں وہی کہتا ہوں جو وحی آئے۔

رکوع 6۔۔۔۔ متقی وہی بن سکتا ہے جو اللہ سے ڈرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوص والوں کو دور نہ کریں بلکہ ان کی دلجوئی کریں۔

رکوع 7۔۔۔۔ رسول کسی انسان کا پیرو نہیں ہوتا۔ منکروں کا فیصلہ اللہ پر ہے اور سزا دینا بھی اللہ ہی کا کام ہے۔ غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی کچھ نہیں جانتا۔ انسان تو دن کو کام کرتا ہے اور رات کو تھک کر سوجاتا ہے پھر وہ ہمیشہ کے لیے سوجائے گا اور اٹھے گا تو سب اعمال اس کے سامنے ہوں گے پھر وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

رکوع 8۔۔۔۔ ہر مشکل میں اللہ ہی حقیقی مددگار ہے۔ وہ ہر طرح کا عذاب بھیج سکتا ہے اس نے ہر چیز کا وقت مقرر کررکھا ہے۔ فرمایا: کہ آیتوں کے جھگڑا کرنے والوں، ٹھٹھا مذاق کرنے والوں کے پاس سے اٹھ جائیں، جب یہ ایسا کریں۔ نیک لوگوں کی ذمہ داری نصیحت کرنا ہے۔ ان لوگوں سے بچو جنہوں نے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے۔ قیامت کے دن اپنے گناہوں کی شامت نے انہیں گھیر رکھا ہوگا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

رکوع 9۔۔۔۔ اللہ کی صفات بیاں کیں کہ وہ سب کا پالنہار ہے۔ قیامت میں اسی کے سامنے اکٹھا ہونا ہے۔ اس نے آسمان اور زمین بنائی۔”کُن “ کہہ دے تو سب ہوجاتا ہے۔ قیامت کے دن کا بادشاہ وہی ہے۔ وہ چھپے اور کھلے کا واقف ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا جو ذاتِ خداوندی پر غور کرنے کی عمدہ مثال ہے۔ فرمایا: جنہوں نے اپنا ایمان بچالیا وہی سیدھی راہ پر ہیں۔

رکوع 10۔۔۔۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دنیا کی چیزوں اور واقعات سے بالکل ٹھیک نتیجہ نکالنے کی سمجھ عنایت کی گئی تھی اور ان کو نبیوں کے گروہ میں ممتاز کیااور ان کی توحید پرستی کے انعام میں ان کی نسل سے نبی پیدا کیے جو برگزیدہ اور ہدایت یافتہ مقبول لوگ تھے۔ تم بھی ان لوگوں کی پیروی کرو اور دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوجاؤ۔

رکوع 11۔۔۔۔ بعض لوگوں نے اللہ کی صفات کا پورا پورا اندازہ نہیں لگایا اور پھر وحی الٰہی کا انکار کیا۔ ان کے پوچھئے کہ تورات جس کو تم مانتے ہو، موسیٰ علیہ السلام کو کس نے دی؟ اور یہ کتاب (قرآن مجید) جسے ہم نے اتارا ہے اس میں فائدے نہ ختم ہونے والے ہیں۔ آپ مکہ اور اس کے اطراف والوں کو اس کے فوائد بتائیں اور برے انجام سے ڈرائیں۔ لوگ اس کے احکام پر چلیں، نماز قائم کریں جو فرمانبردار کا نشان ہے۔ انکار کرنے والوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ عیش و عشرت کا سامان سب یہیں رہ جائے گا اور تم جس طرح خالی ہاتھ آئے تھے اسی طرح خالی ہاتھ جاؤ گے اور مرتے وقت تم تنہا ہو گے کوئی تمہارا سفارشی تمہارے ساتھ نہ ہوگا۔

رکوع 12۔۔۔۔ بتایا گیا کہ کس طرح دانہ زمین میں پھٹ کر غلہ کے پودے، گٹھلی پھٹ کر درخت، انڈے سے زندہ جانور، اندھیرے سے روشنی، حساب کے لیے سورج، چاند کو پیدا کیا گیا۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ ان کو بنانے والا بڑی قوت اور قدرت والا ہے۔ فرمایا: تمہیں بھی ایک شخص آدم علیہ السلام سے پیدا کیا۔ اس نے آسمان سے پانی اتارا اور سب پھل اور سبزیاں پیدا کیں۔ بعض کہتے ہیں فرشتے اللہ کے بیٹے بیٹیاں ہیں، یہ سب جہالت ہے۔ اللہ ان باتوں سے پاک اور بلند ہے۔

رکوع 13۔۔۔۔ اللہ کی کوئی بیوی اور اولاد نہیں۔ معبود فقط وہی ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تم کائنات کو دیکھ کر اللہ کو پہچانو۔ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان نگہبان نہیں اور نہ ہی ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ پھر رواداری کی تعلیم دی کہ تم ان کے معبودوں کو برا نہ کہو کہ کہیں وہ تمہارے رب کو بغیر سمجھے برا نہ کہیں۔ سنو! جو لوگ انکار اور سرکشی پر ڈٹے ہوئے ہیں اللہ ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر دے گا اور وہ اسی کے اندر بھٹکتے رہیں گے۔


پارہ ہشتم

رکوع 14۔۔۔۔ اللہ کے فرشتے بھی آجائیں اور مُردوں کو قبروں سے اٹھا کر ان سے ہمکلام کرادیا جائے تو بھی یہ لوگ ایمانے لانے والے نہیں سوائے یہ کہ اللہ چاہے۔ قرآن مجید کے احکام اٹل ہیں اور بھٹکنے والوں کو اور راہِ راست پر چلنے والوں کو سب سے زیادہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ کے نام پر کیے گئے جانور کھاؤ، گناہ نہ کرو اور غیراللہ کا ذبیحہ حرام ہے۔

رکوع 15۔ایمان روشنی اور کفر تاریکی ہے۔ اللہ جسے دین کی روشنی عطا کرے وہ کب برابر ہوسکتا ہے کسی جاہل، کافر، مشرک کے، جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ ہرجگہ دین حق کی مخالفت وہاں کے مالدار بدقماش سردار ہی کیا کرتے ہیں تاکہ ان کا جھوٹا وقار اور اقتدار قائم رہے۔ پھر وہ ویسی ہی نشانیوں کے طالب ہوتے ہیں جو ہم اپنے رسولوں کو دیتے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ یہ مکار چالباز اپنی متکبرانہ شرارتوں کی وجہ سے جلد عذابِ شدید کا نشانہ بنیں گے۔ یاد رکھو دینِ اسلام ہی پروردگار کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور سیدھی راہ ہے۔

رکوع 16۔۔۔۔ قیامت کے دن جن و بشر سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے تھے اور ہماری آیات آیات سنا کر آج کے دن سے نہ ڈرایا ٹھا۔ سب جواب دیں گے ہم غلطی پر رہے کہ خود کو بڑی آفت میں پھنسا لیا ہے۔ اللہ نے کسی کو ناحق سزا نہیں دی اور اسے تمہارے ماننے نہ ماننےکی بھی پرواہ نہیں۔ اللہ نے اپنی رحمت سے کھیتی اور مویشی پیدا کیے۔ ان کافروں نے اللہ کے ساتھ جھوٹے معبودوں کا بھی حصہ نکالا جن کا کوئی دخل نہ تھا۔ انہیں اللہ کی بے ادبی کی سخت سزا ملے گی۔ دن میں جانوروں کی قربانی تھی، شیطان نے ان سے اولاد کو بتوں کے نام پر قربان کرایا۔ اس طرح دین کی کئی غلط شکلیں پیدا کیں جو سب گمراہی ہی گمراہی ہے۔

رکوع 17۔۔۔۔ اللہ کی مہربانیاں دیکھو، اس نے باغ پیدا کیے کہ پھل کھاؤ۔ جانور پیدا کیے کچھ بوجھ اٹھانے والے، کچھ دودھ اور گوشت فراہم کرنے والے۔ اللہ کی حلال چیزوں کو بلاتامل کھاؤ اور شیطان کی پیروی سے بچو۔

رکوع 18۔۔۔۔ مردار جانوروں، بہتا خون، سؤر کا گوشت، غیراللہ کے نام کا ذبیحہ تم پر حرام ہیں۔ حق و صداقت کی تکذیب کرنے والے نافرمان، انجام کار عذابِ الٰہی کا لقمہ بن کر صفحۂ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادیئے جاتے ہیں۔

رکوع 19۔ ۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بتادیں کہ قرآن مجید کے ذریعے جن باتوں کی ممانعت فرمائی گئی ہے اور جن کے احترام کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں:۔

1۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2۔ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔
3۔ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو ہلاک نہ کرو، رازق ہم ہیں۔
4۔ بے حیائی اور فواحش کے تمام طریقوں سے دور رہو۔
5۔ کسی کا ناحق قتل نہ کرو۔
6۔یتیموں کےمال کے قریب بھی نہ جاؤ۔
7۔ ناپ تول پورا کرو۔
8۔ تمام فیصلوں میں انصاف سے کام لو۔
9۔ اللہ کے ساتھ کیے عہد و پیمان کو دل و جان سے پورا کرو۔​
اللہ نے تم کو یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ تم نصیحت پکڑو اور سیدھی راہ پر چلو اور بھٹکنے سے بچ جاؤ۔

رکوع 20 ۔۔۔۔ کامل ترین کتاب "قرآن مجید" تمام انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے لہٰذا تم اس کی پیروی کرو۔ اب جبکہ یہ کتاب آچکی، دیکھتے ہیں کون اس ہدایت پر عمل کرتا ہے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے اور کون اس سے کترا کر مستحقِ عذاب ہوتا ہے۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز صرف توحید کے اقرار، رسولوں کی تعلیمات کی تصدیق اور ان احکام کی پیروی میں ہے۔ یاد رکھو اللہ کے سوا کوئی کچھ دینے والا نہیں۔ (اللہ کے سوا حقیقی داتا کوئی نہیں)

دین میں نئی راہیں نکالنے والوں، فرقہ بندی کرنے والوں اور امتِ مسلمہ میں اختلاف و انتشار پیدا کرکے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے والوں کا دین حق سے کوئی سروکار نہیں۔ یاد رکھو جو نیک کام کرے گا دس گنا اجر پائے گا اور برائی کا مرتکب اس برائی کے برابر ہی سزا کا مستحق ہوگا۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیجئے کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھی راہ بتادی ہے اور وہ مضبوط و مستحکم دین اسلام کی راہ ہے۔ پس میری نماز، میری قربانیاں، میرا مرنااور جینا سب کچھ اللہ کے لیے ہی ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار اور شرک و سانجھ پن سے پاک و منزّہ ہے۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
سات رمضان المبارک:

پارہ ہشتم سورۃ الاعراف رکوع 1تا 11
پارہ نہم سورۃ الاعراف رکوع 12تا 24​
===============================================================
(7) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الاعراف ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 24
===============================================================

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قرآن ایک عظیم الشان کتاب ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نافرمانوں کو ان کے انجامِ بد کی آگاہی ہو اور اہلِ ایمان کو نصیحت ہو۔ لوگو! احکام شریعت پر عمل کرو اور اللہ کو چھوڑ کر اپنے ٹھہرائے ہوئے مددگاروں کے پیچھے نہ چلو۔ دیکھو جن قوموں نے دعوتِ حق کا مقابلہ کیا وہ ہلاک کردی گئیں۔ قوموں سے پُرسش ہوگی کہ انہوں نے حق کا اقرار کیوں نہ کیا اور پیغمبروں سے بھی بازپرس ہوگی کہ انہوں نے حقِ رسالت ادا کیا یا نہیں۔ پھر ہم اپنے علم سے احوال سنائیں گے کہ ہم کہیں غائب تو نہ تھے۔ اس دن اعمال تو لے جائیں گے، نیکیوں کا پلہ بھاری ہوا تو کامیابی ورنہ ناکامی۔ دیکھو ہم نے تم کو زندگی کا سامان دیا تھا لیکن تم شکر گزار نہیں ہو۔

رکوع 2۔۔۔۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش، ابلیس کا سجدہ سے انکار، اس کا تکبر، اللہ کا آدم علیہ السلام کو جنت میں ایک طرف نہ جانے کاحکم، ابلیس کا آدم و حوا کو بہکانا اور ان کا لغزش کے سرزد ہونے کے باعث برہنہ ہونا، پھر زمین پر اتارے جانےکا احوال، ابلیس کا مردود ہونا، اس کی درخواست پر اللہ نے اسے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت دی اور فرمایا کہ جو تیری پیروی کرے گا اسے تیرے ساتھ جہنم میں جھونکوں گا۔

رکوع 3۔۔۔۔ ہم نے زمین میں ایسی چیزیں اُگا دی ہیں جن سے تم لباس تیار کرکے ستر ڈھانپ سکتے ہو۔ اصل لباس تقویٰ ہے۔ تم شیطان کے بہکاوے میں نہ آنا کہیں وہ تمہیں ننگا اور بے حیا نہ کردے۔ کہہ دیجئے کہ مجھے انصاف اور عبادت کوہر وقت قائم رکھنے اور بندگی کو خالص اللہ کے لیے کرنے کا حکم ملا ہے۔ دنیا کی تمام نعمتیں استعمال کرو لیکن اسراف اور بے اعتدالی سےگریز کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

رکوع 4۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیں: اللہ نے ان کے لیے جو پوشاکیں اور آرائشیں حلال کیں اور رزقِ حلال کی اشیاء پیدا کیں ان کو کس نے حرام کیا۔ وہ تو ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت تک رہیں گی۔ سنو اللہ نے جو چیزیں تم پر حرام کی ہیں ، یہ ہیں:
1۔ تمام بے حیائی اور فواحش کےکام خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔
2۔ ہر بات جو خلاف شرع اور گناہ ہو۔
3۔ کسی پر بلاوجہ ظلم و زیادتی۔
4۔ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرنا، حاجت روائی، مشکل کشائی میں کسی دوسرے کو شامل سمجھنا۔
5۔ اللہ کے نام ان باتوں کومنسوب کرنا جس کی سند اس نے نہیں اتاری اور اللہ کے نام ایسی بات کہنا جس کے متعلق تمہیں یقین نہ ہو کہ یہ اس کا فرمان ہے۔​
فرمایا: اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں اور میری آیتیں سنائیں تو جنہوں نے تابعداری کی ان کو کوئی ڈر نہیں مگر جھٹلانے والے ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ زمین پر سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹا افتراء کرتے ہیں اس کے احکام اور آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے معبود کہاں گئے جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے بولیں گے کہ ہم نے کفر کیا ان کا ٹھکانہ جہنم اور دہرا عذاب ہے۔

رکوع 5۔۔۔۔ آیتوں کو جھٹلانے والے متکبروں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور نیکوں کی جزا جنت ہے۔ وہ شکر ادا کریں گے اور پکاریں گے کہ ہم نے رب کا وعدہ سچا پایا۔ غیبی آواز اللہ کی راہ سے روکنے والوں پر اللہ کی لعنت کرے گی۔

رکوع 6۔۔۔۔ وہ لوگ جو دنیوی زندگی کی رعنائیوں اور رنگینیوں میں کھو کر آخرت کی حقیقتوں کو فراموش کر بیٹھے تھے اللہ بھی قیامت کے دن انہیں بھول جائےگا۔ اور جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دے گا۔ آج کوئی ان کے کام نہ آئے گا اور نہ ہی ندامت و پشیمانی کسی کام آئے گی۔

رکوع 7۔۔۔۔ تمہارے پروردگار نے چھ دنوں میں ارض و سماء کو تخلیق کیا پھر اپنے تختِ جلال پر جلوہ گر ہوا۔ پھر رات، دن، سورج، چاند، ستارے وغیرہ تمام عالم فلکیات کے نظام کو اس قاعدے اور قرینے کے ساتھ مربوط کیا کہ یہ سب اس کے تابع فرمان حرکت کررہے ہیں۔ لیکن یہ سب اس نے بغیر کسی کی مدد اپنی قدرت سے بنایا ہے۔ اسی لیے ان پر حکم بھی صرف اسی کا چلتا ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ اپنی تمام ضرورتوں کے لیے صرف اپنے رب کو ہی خشوع و خضوع سے پکارو یہ تمہارا رب ہی ہے جو بارانِ رحمت برساتا، پھل اُگاتا ہے۔

رکوع 8۔۔۔۔ نوح علیہ السلام کو رسول بناکر ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ انہوں نے توحید کی تعلیم دی جسے لوگوں نے جھٹلایا۔ آخرکار ان کو طوفان کے ذریعے صفحۂ ہستی سے مٹادیا اور نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے بچالیا گیا۔

رکوع 9۔۔۔۔ حضرت ہود علیہ السلام کو قوم عاد کی طرف بھیجا۔ انہوں نے قوم سے کہا صرف اللہ کی بندگی کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بدکاریوں سے بچو۔ جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو اللہ نے ان کو جڑ سے اکھاڑ کر صفحۂ ہستی سے مٹادیا اور حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھی عذاب سے محفوظ رہے

رکوع 10۔۔۔۔ قوم ثمود کو حضرت صالح علیہ السلام نے توحید کا پیغام دیا۔ انہوں نے اسے جھٹلایا تو لرزا دینے والے عذاب سے نیست و نابود کردیئے گئے۔ پھر قوم لوط کی بدکاریوں اور بے حیائی کا تذکرہ فرمایا جن پر حضرت لوط علیہ السلام کی تعلیم بے اثر رہی اور وہ قوم بھی تباہی سے ہمکنار ہوئی۔

رکوع 11۔۔۔۔ اہل مدین کی تباہی کا ذکر ہوا جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔


پارہ نہم

ر کوع 12۔۔۔۔ جہاں بھی کوئی نبی بھیجا گیا تو وہاں کے مغرور اور متکبر سرداروں نے اپنا اقتدار اور چودھراہٹ قائم رکھنے کے لیے حق کی مخالفت کی اور عذابِ الٰہی سے نیست و نابود ہوئے۔ اگر یہ لوگ پیغمبروں کا کہا مانتے، گناہوں کو چھوڑ کر نیکوکار ہوتے تو ان پر رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیے جاتے اور وہ عذابِ الٰہی کی گرفت میں نہ آتے۔

رکوع 13۔۔۔۔ فرمایا کہ پہلوں کی حالتوں سے پچھلے سبق سیکھیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعات بیان ہوئے

رکوع 14۔۔۔۔ فرعون کے جادوگروں کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہار گئے۔

رکوع 15۔۔۔۔ جادوگروں کی شکست کے بعد فرعون اور اس کے سرداروں نے سوچا کہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ کو کھلا نہ چھوڑنا چاہیے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی مدد مانگنے کی تلقین کی۔

رکوع 16۔۔۔۔ فرعونیوں پر ان کی بدکرداریوں کے باعث عذابوں کا ذکر فرمایا۔

رکوع 17۔۔۔۔ کوہِ طور پر موسیٰ علیہ السلام کے تیس شب و روز، معتکف ہوکر عبادت کرنا، تجلیٔ الٰہی کا ظہور، تختیوں پر احکامات (تورات) عطا ہونے کے واقعات بیان ہوئے۔ فرمایا کہ اجر صرف نیک عملوں پر ملے گا۔

رکوع 18۔۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں سامری سنار نے گائے کے بچھڑے کی طلائی مورتی بنائی جس کی پرستش شروع کردی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور سے واپس آئے تو یہ حالات دیکھ کر غضب ناک ہوئے اور اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام پر ناراض ہوئے۔

رکوع 19۔۔۔۔ بچھڑے کو معبود بنانے والوں پر عنقریب اللہ کا غضب پہنچے گا اور انہیں دنیا میں ذلت نصیب ہوگی اور جنہوں نے توبہ کی تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ وہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کی رفاقت نبھائی اور مدد کی ہے اور قرآن کے احکام پر عمل کیا ہے، وہی لوگ کامیاب ہوئے۔

رکوع 20۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ وہ رسول جس کی تابعداری کا حکم دیا گیا ہے وہ میں ہوں۔ پھر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا ذکر کیا اور ان پر اپنی نوازشوں کا ذکر کیا۔ پھر جب یہ شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا گیا

رکوع 21۔۔۔۔ یہاں بھی بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے قصے بیان کیے گئے۔

رکوع 22۔۔۔۔ جب اللہ نے عالم ارواح میں تمام روحوں سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے جواب دیا کہ ہم اقرار کرتے اور گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور یہ عہدِ الست اس لیے لیا کہ قیامت کے روز تم یہ عذر نہ کرسکو کہ ہم بے خبر تھے۔ فرمایا: کہ شرک میں تقلید عذر نہیں کہ ہمارے باپ دادا بھی یہ کرتے تھے۔ پھر ایک شخص کا واقعہ فرمایا جسے اللہ نے اپنی آیات کا فہم عطا کیا مگر وہ دنیاوی لالچ اور خواہشات میں ایسا پھنسا جیسے کتا کہ اگر اس پر بوجھ ڈالیں تو ہانپتا ہے اور اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو بھی ہانپتا رہتا ہے۔

رکوع 23۔۔۔۔ منکروں کو ایک دم نہیں پکڑا جاتا بلکہ انہیں ڈھیل دی جاتی ہے پھر دعوتِ فکردی کہ اپنی حالت پر غور کرو۔ منکرین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کا پوچھتے ہیں تو فرمادیں کہ اس کا حقیقی علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کردیں کہ میں خود اپنی جان کا نفع نقصان بھی اپنے اختیار میں نہیں رکھتا۔ میں تو صرف بندوں کو بدکرداری کی سزا سے ڈرانے اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنانے والا ہوں۔

رکوع 24۔۔۔۔ انسانی پیدائش کے متعلق بیان فرمایا کہ تم اللہ سے اولاد کی دعائیں کرتے ہو۔ جب وہ تمہیں عطا کرتا ہے تو اسے بتوں کی طرف منسوب کرتے ہو۔ بت نہ تمہاری سنے ہیں اور نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہ کر غور سے سنو اور اللہ کی یاد دل سے کرو۔ آخر میں ملائکہ کی مثال دی کہ جب وہ اللہ کا بندہ رہنے اور اس کی اطاعت میں ہیٹی محسوس نہیں کرتے، اسے یاد کرتے ہیں اور اس پاک ذات کو سجدہ کرتے ہیں تو تم کیوں نہیں کرتے؟
===============================================================​
 
مدیر کی آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
آٹھ رمضان المبارک:

پارہ نہم سورۃ الانفال رکوع 1 تا 5
پارہ دہم سورۃ الانفال رکوع 5 تا 10
پارہ دہم سورۃ التوبہ رکوع 1 تا 12​
===============================================================
(8 ) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الانفال ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 10
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال غنیمت کا پوچھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ یہ دراصل اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے۔ اس لئے تم ہر حال میں تقویٰ اختیار کرو۔ آپس میں صلح سے رہو اور تمام معاملات میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ ایمان والے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ خوفِ الٰہی سے ان کے دل دہل جاتے ہیں۔نماز کی پابندی اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ رکوع 2۔۔۔۔ غزوۂ احد میں اپنی مدد کا تذکرہ فرمایا۔ فرمایا کہ فسادیوں کی یہی سزا ہے اور اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق وہ ہے جو حق سننے سے بہرے، حق کہنے سے گونگے اور حق سمجھنے سے بے نیاز ہوگئے ہیں۔ دینِ اسلام کے قانون اللہ کے مقررکردہ ہیں جو ہر وقت تمہارے اعمال کو نظر میں رکھتا ہےخواہ ظاہری ہوں یا تنہائی میں۔ باہمی امانتوں میں بددیانتی اور خیانت مت کرو۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں گناہوں سے دور رکھے گا، بخش دے گا۔ پھر کفارِ مکہ کی سازشوں اورمسلمانوں پر اپنی مہربانی کا تذکرہ فرمایا۔

رکوع 5۔۔۔۔ کفار سے کہہ دیں کہ اگر باز آجائیں تو ان کے گذشتہ اعمال معاف کردیئے جائیں گے۔ اگر نہ مانیں تو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرو، اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔


پارہ دہم

رکوع 5 ۔۔۔۔ تقسیمِ غنیمت کے متعلق فرمایا کہ پانچ حصے کرو۔ ایک حصہ اللہ اور رسول صلی اللہ کے لئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہوگا اور چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرو۔ مسلمان اللہ کی مدد کے بھروسے جہاد کرتے رہیں اور کفار کی کثرت اور سازوسامان کی فراوانی سے مرعوب نہ ہوں۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ جنگ میں ثابت قدم رہو، اللہ کو یاد کرو اور صبر کرو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ فرعونیوں کی سرکشی اور ان کی تباہی کی مثال دی اور فرمایا کہ بدترین لوگ وہ ہیں جو اللہ کے منکر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد شکنی کرتے ہیں۔ اللہ ان کو عبرتناک سزا دے گا۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ اپنی قوت کو بڑھاؤ تاکہ تمہارا رعب و دبدبہ دشمنوں پر قائم رہے اور وہ تم سے لڑائی کی جرأت نہ کریں اور اگر تمہارے مخالف صلح کی خواہش کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صلح پر راضی ہوجائیں۔ اگر وہ دھوکہ کریں گے تو بھی تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔

رکوع 9۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب اور شوق دلائیں۔ اگر ان میں سے بیس صبرواستقامت اور اللہ کے توکل پر ہوں گے تو وہ سو پر فتح حاصل کریں گے۔ سو ہوں گے تو ایک ہزار پر غالب ہوں گے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر مشکلات میں صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا تو دوگنی تعداد اور طاقت کے خلاف اللہ کی مدد سے کامیاب ہوں گے۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ اسلامی برادری یعنی مہاجرین و انصارجنہوں نے جان و مال سے جہاد کیا آپس میں اچھے رفیق ہیں۔ جو لوگ ابھی مکہ میں ہی قیام پذیر ہیں ان کی اعانت و سرپرستی کی ضرورت ہے جب تک کہ ہجرت نہ کریں۔ لیکن اگر وہ دین کے معاملے میں مدد چاہیں تو مدد لازم ہے لیکن اگر اس قوم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عہد ہو جن کے خلاف انہیں مدد درکار ہے تو عہد پورا کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض ہے۔

===============================================================
(9) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ التوبہ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 12
===============================================================​

رکوع 1۔۔۔۔جن مشرکوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح و امن کا معاہدہ کیا تھا اب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کی بدعہدیوں کی وجہ سے ان سے معاہدوں کے خاتمہ کا اعلان کیا جاتا ہے اور ان کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ جس میں وہ یا تو شرک سے باز آکر دینِ حق قبول کرلیں ورنہ پھر جزیرۃ العرب سے نکل جائیں ورنہ ان کو بزور شمشیر نکال دیا جائے گا۔ البتہ جنہوں نے بدعہدی نہیں کی ان کا عہد ان کے وعدہ تک پورا کرو۔ چار ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد مشرکوں کو پکڑو، مارو، قید کرو اور اگر توبہ کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں تو انہیں آزاد کردو۔ اگر کوئی مشرک پناہ میں آئے تو اسے حفاظت میں رکھو، اللہ کے احکام سے آگاہ کرو پھر اس کو اس کے امن کی جگہ تک پہنچا دو۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ مشرکوں کے ساتھ کسی قسم کا نرم رویہ اختیار نہ کرو کیونکہ ان کے بغض و عداوت کا عالم یہ ہے کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو کسی کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بہرحال اگر یہ توبہ کرلیں، نماز اور زکوٰۃ میں پابندی کریں، تمہارے بھائی بن جائیں تو پھر ان سے کوئی تعرض جائز نہیں اور اگر یہ مرتد ہوجائیں تو ان سے جہاد کرو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں ذلیل و خوار کرے گا اور تمہیں ان پر فتح و نصرت سے ہمکنار کرے گا۔ مت گمان کرو کہ بغیر کوشش اور جدوجہد کے کسی کو کامیابی کاپھل ملے گا۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ اب بیت اللہ کے انتظام و انصرام میں کفار و مشرکین کا کوئی حصہ نہیں اور یہ کام متقی لوگوں کے کرنے کا ہے۔ خانہ کعبہ کی دیکھ بھال کا کام ایمان اور جہاد کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جن لوگوں کا آخرت پر یقین ہے انہوں نے ہجرت کی اور جہاد فی سبیل اللہ کیا ان کے درجات بہت عظیم ہیں۔ دین حق کے مقابلے میں قرابت داریوں اور دوستیوں کی پرواہ نہ کرو اور دیکھو کہ ان کی محبت تمہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری سے غافل نہ کردے۔ اللہ نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔

رکوع 4 ۔۔۔۔غزوۂ حنین کے حالات اور اپنی نوازشات کا تذکرہ فرمایا اور فرمایاکہ اس سال کے بعد (فتح مکہ کے بعد 9ھ میں حج کے موقع پر اعلان کردیا گیا) مشرک مسجد الحرام کے نزدیک نہ آئیں۔ تم کو غربت و افلاس کا خوف کھانے کی ضرورت نہیں اللہ تمہیں اپنے فضل و کرم سے غنی کردے گا۔ اہل کتاب جو اللہ کی وحدانیت اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے نہ حرام کو حرام سمجھتےہیں ان سے جہاد کرو جب تک جزیہ و خراج دینے اور تمہارے ماتحت رہنے کا عہد نہ کریں۔

رکوع 5 ۔۔۔۔یہود نے کہا عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے۔ نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہا حالانکہ یہ دونوں ایک جیسے انسان تھے۔ اللہ کو چھوڑ کر یہ اپنے عالموں اور درویشوں اور مسیح کو اپنا پروردگار ٹھہراتے ہیں حالانکہ عالم انسانیت کو یہ حکم دیا گیا کہ اللہ واحد ہی تمہارا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ منکرین حق اسلام کی روشنی کو مشرکانہ پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں مگر یہ اللہ کے مقابلے میں کبھی کامیاب نہ ہوں گے اس سچے دین کا ہر دین پر غلبہ ہوگا۔ اہل کتاب کے علماء اور درویش ان سے نذرانے وصول کرکے انہیں حق پر چلنے سے روکتے ہیں (غلط مسئلےبتاکر) تاکہ ان کی گدیاں قائم رہیں۔ جو لوگ سونا چاندی خزانہ کرکے رکھتے ہیں یہ سیم و زر آگ میں تپا کر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ زمانے کی تقسیم کا ذکر فرمایا کہ سال میں بارہ مہینے ہیں اور ان میں چار ماہ مقدس ہیں۔ یہی درست بات ہے کہ تم ان کا تقدس پامال کرکے اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔

رکوع 6 ۔۔۔۔جب تمہیں جہاد پر چلنے کو کہا جائے تو کاہلی مت کرو۔ اگر تم نہ نکلو گے تو دردناک عذاب میں مبتلا ہوجاؤگے اور اللہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو مقرر کردے گا۔ پھر ہجرت، غارِ ثور کا ذکر فرمایا۔ جہاد کا حکم دیا اور منافقوں کے حیلے بیان فرمائے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر منافقین کا پول کھول دیا۔ فرمایا کہہ دیں کہ نافرمانوں کا مال قبول نہیں ہوگا چاہے خوشی سے دیں یا ناخوشی سے، وہ اس لیے کہ ان کا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار ہے۔ نماز بھی کاہلی سے پڑھتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ وہ اللہ کے دیئے پر راضی رہتے اور کہتے کہ ہم کو اللہ ہی کافی ہے

رکوع 8 ۔۔۔۔زکوٰۃ و صدقات اِن لوگوں کے لیے ہیں: مفلسوں، محتاجوں، زکوٰۃ کا کام کرنے والوں، جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، غلاموں کی آزادی کے لیے، قرض داروں کی مدد کرنے میں، راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دینے والوں کے لیے دردناک سزا ہے۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ نفاق کی علامتیں، کافروں اور منافقوں کی سزا بیان کی اور فرمایا کہ پہلی قوموں کے حالات سے عبرت حاصل کرو۔ پھر مومنوں کی خصوصیات بتائیں کہ مردوزن ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ نیک باتیں سکھاتے اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکوٰۃ دیتے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر چلتے ہیں۔ اللہ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کی رضامندی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

رکوع 10۔۔۔۔ کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان سے سخت رویہ رکھیں۔ نفاق کی جڑ بخل ہے اللہ ان کے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ مغفرت کے لیے ایمان شرط ہے۔

رکوع 11۔۔۔۔منافق کی پرکھ جہاد ہے۔ یہ عارضی آرام و راحت کی خاطر قوم کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقوں سے قطع تعلق کرلیں اور اپنی جماعت کو متحد اور مضبوط کرنے میں لگ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان فاسقوں کی نہ نمازِ جنازہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ تندرست ہوکر اپاہج بنتے ہیں۔ مومن تو اپنی جان و مال سے لڑتے ہیں اور ان کا انعام جنت کے باغ ہیں۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ بعض لوگ جہاد میں کمزوری، ناتوانی، بیماری اور بے سامانی کی وجہ سے شریک نہ ہوئے تو ان پر کوئی دوش نہیں۔ البتہ وہ جو صرف بدنیتی سے جی کتراتے ہیں، بہانوں سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگادی ہیں۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
نو رمضان المبارک:

پارہ گیارہ سورۃ التوبہ رکوع 12 تا 16
پارہ گیارہ سورۃ یونس رکوع 1 تا 11
پارہ گیارہ سورۃ ہود رکوع 1
پارہ بارہ سورۃ ہود رکوع 2 تا 4​
===============================================================
(9) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ التوبہ (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 12 تا 16
===============================================================​

رکوع 12 ۔۔۔۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹیں گے تو منافق آکر بہانے بنائیں گے اور جھوٹی قسمیں کھاکر عذرو معذرت کریں گے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کسی بات کا یقین نہ کرنا، نہ ان سے راضی ہونا اور کہہ دینا کہ میرا اللہ تمہاری کرتوتوں سے آگاہ ہے۔

رکوع 13 ۔۔۔۔ مہاجر و انصار جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر فوراً اسلام میں داخل ہوئے اور جو لوگ راستبازی سے ان کے بعد اسلام میں داخل ہوتے رہے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور ان کے لیے جنت کے باغاز تیار ہیں۔ مدینہ کے بعض لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور گردو نواح کی آبادی کے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔ اللہ انہیں جانتا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب تیار ہے۔ بعض طبیعت کی کمزوری سے گناہ کرکے پھر نادم ہوتے ہیں اللہ انہیں معاف کردے گا سب کچھ اللہ کی نظرمیں ہے۔ پھر مسجد ضرار کا قصہ بیان کیا اور فرمایا کہ اصل چیز نیک نیتی ہے اور تقویٰ پائیدار بنیاد ہے۔

رکوع 14 ۔۔۔۔ اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور مال بیچ دو۔ مسلمان توبہ کرنے، شکراور بندگی کرنے والے ہیں۔ رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ان مومنوں کو خوشخبری دے دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن کو زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لیے خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، مغفرت کی دعا کریں۔

رکوع 15 ۔۔۔۔ ایمان والو! کسی حال میں بھی اللہ کے خوف سے بے پرواہ نہ ہوجاؤ۔ ہمیشہ سچوں کا ساتھ دو اور انہی جیسے کام کرو۔ اللہ سے بہترین صلہ پاؤگے۔ اسلامی ریاست کے قیام و بقا کے لیے اور فساد کو ختم کرنے کےلیے جہاد ضروری ہے اور مومنوں کو زیبا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے بجائے پیچھے رہ جائیں۔

رکوع 16 ۔۔۔۔ مسلمانو! اپنے گردو پیش پھیلے منکرینِ حق کے خلاف پوری شد و مد کے ساتھ جہاد کرو۔ مسلمانو! تمہارے پاس اللہ کا ایک عظیم الشان رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکا ہے جس کو تمہارا رنج و الم اور مصائب میں مبتلا ہونا شاق گزرتا ہے اور تمہاری بھلائی کا بے حد خواہش مند ہے۔ اگر تم اس کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے کیونکہ انہوں نے تو کہہ دیاہے کہ “میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔”

===============================================================
(10) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ یونس ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 11
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ یہ آیات مضبوط اور پختہ کتاب کی ہیں جس میں شک و شبہ، تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں اور یہ کتاب اللہ نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر انہیں انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے کہ وہ لوگوں کو گناہوں سے ڈرائے اور نیکوکاروں کو خوشخبری دے۔ تمہارا رب وہ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر مستوی ہوا عرش پر۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکتا۔ مرنے کے بعد تمہیں دوسری زندگی ملے گی اور تمہارے اعمال کی جوابدہی ہوگی۔ تمہارے اللہ نے سورج، چاند، ماہ و سال بنائے۔ ان کھلی نشانیوں کے باوجود اگر کوئی ہماری نشانیوں سے بے خبر ہے تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے البتہ نیکوکاروں کے لیے جنت ہے۔

رکوع 2۔۔۔۔ سرکشوں کو فوراً سزا دینا مشکل نہیں مگر ان کو اصلاح کے لیے مہلت دی جاتی ہے۔ انسان رنج و محن میں اللہ کو پکارتا ہے اور جب اس کی تکلیف دور ہوتی ہے تو پھر ہمیں بھول جاتا ہے۔ قرآن کے احکام اٹل ہیں حتیٰ کہ کوئی رسول بھی اپنی خواہشِ نفس کے مطابق نہیں بدل سکتا۔ جو لوگ اللہ کی بجائے ان کی پرستش کرتے ہیں جو انہیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں یہ ہمارے سفارشی ہیں تو یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اللہ تو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔

رکوع 3۔۔۔۔ اللہ تمہیں بحر و بر کی تری اور خشکی کے نظارے کراتا ہے جب تم طوفانوں میں گھِر کر ہم سے مدد مانگتے ہو تو وہ تمہیں نجات دیتا ہے تو پھر تم شرارت و سرکشی پر اُتر آتے ہو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہو۔ نیک اور احسان کرنے والے آخرت میں فلاح و کامرانی پائیں گے اور دینِ حق کے منکر اور شرک کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ آخرت میں جب شرک کرنے والوں کے معبودوں کو ان کے ساتھ کھڑا کریں گے تو وہ مشرکوں سے کسی بھی تعلق سے انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو اس قابل ہی نہیں کہ کوئی ہماری عبادت کرتا۔ تو یہ حقیقت بھی عیاں ہوجائے گی کہ اصل مالک تو صرف اللہ ہے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ تمہارا رب صرف اللہ ہی ہے۔ وہی موت و حیات کا مالک ہے اور حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو پھر اس کے سوا پیروی کا مستحق کون ہے۔ بعض نے قرآن کو پیغمبر کی تصنیف کہا کہ یہ کلامِ الٰہی نہیں۔ ایسوں کو کھلا چیلنج ہے کہ سب مل کر اس جیسی ایک سورۃ ہی بنا لاؤ۔ تم سے پہلے بھی کچھ لوگ جھلا چکے ان ظالموں کا دردناک انجام بھی دیکھ لو۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ اس حق کو سنا اَن سنا نہ کرو یہ سرکشی اور ظلم ہے اور اس کا انجام بہت سخت ہے۔ کافروں پر واضح کردیا گیا کہ اللہ کا ہر وعدہ پورا ہوکر رہے گا چاہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو یا بعد میں۔ ہر امت کے لیے ایک مہلت رکھی گئی ہے۔ جس کے اختتام پر اس کی سرکشی کا حساب چکا دیا جائے گا اور عذاب مسلط کردیا جائے گا۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ قیامت کی ہولناکی اتنی سخت ہوگی کہ یہ ظالم اگر زمین کا سارا خزانہ بھی فدیہ میں دے دے تو عذاب سے نہ بچ سکے گا۔ فیصلہ انصاف سے ہوگا اور ان پر کوئی زیادتی نہ کی جائے گی۔ یاد رکھو ارض و سماء میں سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ اس وعدہ سچا ہے وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ یہ کتاب تیرے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفاء، ہدایت اور رحمت ہے۔ مگر تم پھر بھی سرکشی کرتے ہو اور اس کتاب کی بجائے اپنی مرضی سے حلال و حرام کا معیار قائم کرتے ہو۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ لوگو تم جو اچھے یا برے فعل کرتے ہو سب اللہ کو معلوم ہیں اور زمین آسمان کی ذرہ برابر شے بھی اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ جو فقط اللہ سے لو لگاتے، اسی کا سہارا پکڑتے ہیں ان کو کوئی غم یا خوف نہیں۔ علم کی روشنی سے محروم ہی اللہ کے سوا بھی کسی کی بندگی کرتے ہیں۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات اور کام کے لیے دن بنایا اور اللہ پر جھوٹ افتراء کرنے والے آخرت میں کبھی فلاح نہ پائیں گے۔

رکوع 8۔۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام اور فرعون کا ذکر فرمایا اور سرکشی اور تکبر کرنے والوں کا حشر بیان فرمایا۔

رکوع 9۔۔۔۔ اس رکوع میں بھی فرعون کی سرکشی اور تباہی بیان ہوئی۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ دنیا میں پھنس کر انسان غافل ہوکر اللہ سے بھی بے دھیان ہوجاتا ہے۔ اس غفلت کے باعث بہت سی قومیں اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہوئیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ذکر کیا کہ وہ عذاب کی ابتدائی علامات کو دیکھ کر ایمان لے آئے تو ہم نے عذاب ٹال دیا۔ ایمان میں زبردستی نہیں، لوگوں کے سامنے بے شمار نشانیاں ہیں۔ یہ غور کریں اگر پھر بھی ایمان لانے میں ہچکچاہٹ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ عذاب کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیں کہ میں ان کی بندگی نہیں کرتا جن کی اللہ کے سوا تم کرتے ہو۔ میرا اللہ سب سے زبردست ہے جس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ تم اللہ کے دین مضبوطی سے پکڑ لو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ وہ تمہیں نفع یا ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ اور شرک ظلم ہے۔ لوگو! تمہارے پاس اب پیغام حق آچکا ہے جو اس کے مطابق زندگی گزارے گا کامیاب ہوگا اور جو بے راہ روی و گمراہی اختیار کرے گا، ذلیل و خوار ہوگا۔ صبر کیجئے حتیٰ کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

===============================================================
(11) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ ہود ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 4
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ قرآن حکیم ایک حکم اور ایک نظام ہے اور اس کا نازل کرنے والا بڑی حکمت والا دانا اور باخبر ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ اپنی کوتاہیوں کی معافی اسی سے مانگو اور ہرمعاملے میں اسی کی طرف رجوع کرو۔ اس زندگی میں خوب نیکیاں کرو وہ تمہیں اجر و ثواب میں زیادہ دے گا۔ مرنے کے بعد تم سب اس کے سامنے حاضر ہوگے جو ہر شے پر قادر ہے اور تمہاری ہرپوشیدہ بات سے واقف ہے۔


پارہ بارہ

رکوع 2 ۔۔۔۔ انسان کی سطحی سوچ کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے آرام دیں تو یہ اترانے والا شیخی خور ہے اور اگر تکلیف دیں تو بے حد گبھرا جاتا ہے۔ کسی وقت بھی اسے اللہ کی طرف سے آزمائش یا اس کا انعام تصور نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے الزامات سے ہرگز پریشان نہ ہوں، اللہ کے احکام پر عمل کرتے جائیں۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑی ہے تو انہیں کہیں کہ اس جیسی دس سورتیں تو بنالاؤ۔ اگر نہ کرسکو تو جان لو کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ انہوں نے دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور دنیا کے مال کے حصول کے لیے ہی سرگرداں ہیں ان کو یہ سب مال دے دیا جائے گا مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے برعکس جو ایمان لاکر نیک کام کرے گا صرف اللہ کے سامنے جھکے گا وہ سدابہار دائمی باغات کا حقدار ہوگا۔ جیسے اندھے اور سوجاکھے، بہرے اور سننے والے ایک جیسے نہیں اسی طرح موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے۔ تو کیا تم اب بھی غور نہیں کرو گے؟

رکوع 3 ۔۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتِ توحید کا ذکر کیا کہ ان کی قوم نے آپ کی بشریت کی وجہ سے اور ان کے پیراؤں کو نچلے درجے کے جان کر ان کے پیغام کو جھٹلادیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ اے قوم میرے پاس نہ تو خزانے ہیں نہ میں غیب دان نہ ہی فرشتہ ہوں تو انہوں نے کہا چھوڑو یہ باتیں تم ہم پر وہ عذاب لاؤجس کی بات کرتے ہو۔ نوح علیہ السلام نے کہا عذاب دینا یا رحمت و مغفرت سے ہمکنار کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ کشتی نوح اور قومِ نوح پر عذابِ الٰہی کی تفصیل بیان فرمائی اور کہا کہ ہم یہ پرانے قصے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
دس رمضان المبارک:

پارہ بارہ سورۃ ہود رکوع 5تا 10
پارہ بارہ سورۃ یوسف رکوع 1تا 7
پارہ تیرہ سورۃ یوسف رکوع 7تا 12
پارہ تیرہ سورۃ رعد رکوع 1تا 2​
===============================================================
(11) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ ہود (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 5تا 10
===============================================================​

رکوع 5۔۔۔۔ حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اے قوم اپنے رب سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے رہو۔ ہر مشکل میں صرف اسی کی طرف توجہ کرو اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ قوم سرکشی سے باز نہ آئی تو اللہ نے ان پر آندھی کا عذاب مسلط کردیا اور وہ اللہ کے رحمت سے دور ہوئے۔

رکوع 6۔۔۔۔ حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف بھیجے گئے۔ قوم ثمود نے حق کی آواز کو جھٹلایا اور اللہ نے زلزلوں کے عذاب سے ان کو نیست و نابود کردیا۔

رکوع 7۔۔۔۔ قوم لوط علیہ السلام کی بدکرداریوں کا ذکر اور پھر پتھر جو کنکروں سے بنے تھے، برساکر انہیں تباہ و برباد کردیا۔

رکوع 8۔۔۔۔ مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے قوم کو اللہ کا پیغام دیا لیکن قوم نے اسے نہ مانا آخر اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا کہ ان نافرمانوں کو کڑک نے آپکڑا پھر یہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

رکوع 9۔۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قوم فرعون کا تذکرہ فرمایا کہ کس طرح انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بتائی ہوئی راہِ توحید کی نفی کی اور فرعون کو خدا مان کر اس تابعداری کرنے پر اصرار کرتے رہے چنانچہ ان کو دنیا میں بھی غرق کیا گیا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار ہے۔ فرمایاکہ ان اقوام کی تباہی اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کی نافرمانیوں کے باعث ہے۔

رکوع 10۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبروں کے پیغام پر بھی قومیں اختلاف کرتی رہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم کی پیروی کریں، حدود اللہ سے تجاوز نہ کریں اور نافرمانوں کے ساتھ تعلقات نہ بڑھائیں۔ نماز کو اپنے اوقات میں ادا کریں۔ اللہ نیکیوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ لوگو! تم سے پہلے جو قومیں تباہ ہوئی ہیں وہ اپنے کفر، شرک،ظلم وغیرہ کے باعث ہوئیں۔ ارض و سماء کی تمام مخفی باتیں صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں اور سب معاملات کے فیصلے بھی صرف وہی کرتا ہے۔ پس ہردم اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو وہ تمہارے اعمال سے ہرگز غافل نہیں۔

===============================================================
(12) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ یوسف ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 12
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ عربی زبان میں تمہارے لیے غور و فکر کرنے کے لیے ایک بہترین تاریخی واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس سے پہلے نہ کہیں تم نے پڑھا اور نہ سنا۔ قصہ یوں ہے کہ بچپن میں ایک بچے نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کرتے ہیں۔ اس نے خواب اپنے والد کو سنایا تو والد نے کہا کہ اسے اپنے بھائیوں کو نہ سنانا اور تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا۔

رکوع 2۔۔۔۔ بھائی یوسف علیہ السلام سے حد کرتے تھے کیونکہ وہ والد کا پیارا تھا۔ آخر ان میں مشورہ ہونے لگا کہ یا یوسف علیہ السلام کو مار ڈالو یا کسی دوسرے ملک چھوڑ آؤ۔ ایک بھائی نے کہا کہ بہتر ہے کہ اسے مت مارو بلکہ کسی کنویں میں ڈال دو تاکہ کوئی مسافر اسے دیکھے اور لے جائے۔ ایک روز وہ یوسف علیہ السلام کو والد کی اجازت سے ساتھ لے گئے اور انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا۔ واپس آکر والد کے پاس روئے کہ یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا اٹھاکر لے گیا ہے۔ ادھر یوسف علیہ السلام کو ایک قافلے والوں نے دیکھا اور نکال کر لے گئے اور اپنے ملک پہنچ کر انہیں بیچ دیا۔

رکوع 3۔۔۔۔ خریدار مصر کا تھا۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بیٹا بنا لیا۔ بعد میں اس کی عورت نے ان پر بری نگاہ ڈالی۔ ایک دن اس نے دروازہ بند کرلیا۔ یوسف علیہ السلام وہاں سے بھاگے۔ عورت نے پیچھے سے کرتہ پکڑا جو پھٹ گیا۔ آگے پیچھے بھاگے تو باہر دیکھا کہ اس کا خاوند عزیز کھڑا دیکھ رہا ہے۔ فوراً بولی کہ یہ مجھے برے ارادے سے پیش آیا ہے۔ آخر کار انہیں میں سے ایک شخص نے کہا کہ یوسف علیہ السلام کا کرتہ دیکھو۔ اگر آگے سے پھٹا ہے تو یوسف علیہ کا منہ زلیخا کی طرف تھا اور عورت سچی ہوگی۔ اگر پیچھے سے پھٹا ہے تو یوسف علیہ السلام بھاگ رہے تھے تو اس صورت میں یوسف درست کہہ رہے ہیں۔ آخر زلیخا ہی کا قصور ثابت ہوا۔

رکوع 4۔۔۔۔ عورتوں کے مکروفریب کو دیکھ کر یوسف علیہ السلام نے ان سے بچنے کے لیے رب سے قید طلب کی تو ان کی دعا قبول ہوئی۔

رکوع 5۔۔۔۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے قیدخانہ میں حق کی تبلیغ شروع کردی اور لوگوں سے کہا کہ کیا ایک زبردست رب بہتر ہے یا جدا جدا معبود؟ لوگوں کو توحید کی تعلیم دی اور خوابوں کی تعبیر بتانے لگے۔

رکوع 6۔۔۔۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور سات سوکھی۔ درباریوں سے تعبیر پوچھی تو کوئی نہ بتاسکا۔ قید خانے کے ایک ساتھی نے جاکر اس خواب کی تعبیر یوسف علیہ السلام سے پوچھی اور اپنے بادشاہ کو بتائی۔

رکوع 7۔۔۔۔ بادشاہ کو معلوم ہوا کہ تعبیر یوسف علیہ السلام نے بتائی ہے تو ان کو قید خانہ سے بلا کر شاہی مشیر مقرر کیا اور آخر میں انہیں مصر کی بادشاہت مل گئی۔


پارہ تیرہ

رکوع 8۔۔۔۔ مصر میں غلہ کا قحط تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے سالوں میں جو غلہ جمع کیا تھا، ضرورت مندوں میں بانٹتے تھے۔ ان کے بھائی بھی غلہ لینے حاضر ہوئے تو یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا وہ نہ پہچان سکے۔ انہیں غلہ ملا تو انہوں نے اپنے بھائی کے حصے کا غلہ مانگا جو ساتھ نہ آیا تھا۔ یوسف علیہ السلام نے اس کے حصے کا غلہ بھی دیا اور غلہ کی قیمت بھی غلہ کے ساتھ واپس رکھوادی۔ گھر جاکر سامان کھولا تو غلہ کے ساتھ پونجی دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور والد صاحب سے درخواست کی کہ آئندہ بھائی بنیامین (یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی) کوبھی ساتھ لے جانے کی اجازت دیں۔ وہ دوبارہ غلہ لینے گئے تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ الگ الگ دروازوں سے وہاں داخل ہونا۔

رکوع 9۔۔۔۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بنیامین اپنے پاس بلا کر اس پر اپنی اصلیت ظاہر کردی اور بتادیا میں تمہارا بھائی ہوں۔ واپسی پر بنیامین کے سامان میں ایک قیمتی پیالہ رکھ دیا گیا اور ان کا قافلہ روک کر تلاشی لی گئی تو پیالہ برآمد ہوا۔ اب سزا کے طور پر بنیامین کو رکھ لیا گیا۔

رکوع 10۔۔۔۔ واپسی پر انہوں نے والد کو ماجرہ سنایا کہ کس طرح ان کا بھائی وہاں رہ گیا ہے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے منہ سے بے اختیار نکلا: ’’آہ یوسف‘‘ اور کہا میری اپنےرب سے کوئی شکایت نہیں وہ بڑا رحیم ہے مجھ پر رحم فرمائے گا۔ باپ نے کہا جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو۔ وہ عزیز مصر کے پاس آئے اور عرض کی کہ ہمارے گھرپر سختی پڑی ہے اور ہم ناقص پونجی لائے ہیں ہمیں صدقہ و خیرات کے طور ہی غلہ دیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا اور پوچھا بتاؤ تم نے یوسف علیہ السلام اور ا س کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بھائی پکار اٹھے کہ تو یوسف علیہ السلام ہے۔ کہا ہاں میں یوسف علیہ السلام ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ اللہ نے اپنے فضل سے ہم کو تقویٰ پر قائم رکھا اور مصیبتوں میں صبر و ہمت عطا کی۔ بھائیوں کے سر ندامت سے جھک گئے اور خطاکار ہونے کا اقرار کیا۔ یوسف علیہ السلام نے کہا میرا کرتہ لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو (ان کی بینائی بیٹے کے ہجر میں رو رو کر ختم ہوچکی تھی) ان کی بینائی لوٹ آئے گی پھر تم سب یہاں آؤ۔

رکوع 11۔۔۔۔ بھائی واپس آئے، کرتہ رکھا، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔ یہ سب مصر آگئے اور اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن کا خواب پورا ہوا۔

رکوع 12۔۔۔۔ پہلی قوموں کے قصے یہاں اس لیے بیان کیے جارہے ہیں تاکہ عبرت حاصل کرو اور اپنے لیے مفید نتیجے نکالنے میں تمہیں مدد مل سکے۔

===============================================================
(13) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الرعد ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 2
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ قرآن حق ہے اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کے بغیر ستون کے بنایا پھر وہ عرش پر قائم ہوا اور سورج چاند کو اپنے اپنے کام پر لگادیا۔ اللہ کا نظام مقررہ قاعدے کے مطابق چل رہا ہے۔ زمین بنائی، پہاڑ، ندیاں بنائیں، پھلوں کے جوڑے، رات دن بنائے۔ اہلِ فکر کے لیے یہ نشانیاں ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزات مانگتے ہیں۔ فرمادیں کہ میرا معجزہ فصیح و بلیغ قرآن ہے جو تمہارے سامنے پیش کردیا گیا ہے جس میں تمہارے لیےہدایت ہے۔

رکوع 2۔۔۔۔ ہر بات کا علم اللہ ہی کو ہے۔ وہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ نہ بدلیں۔ ہر طرف پھیلی نشانیوں کے باوجود کس نشانی کی ضرورت ہے۔ صرف اللہ ہی کی بندگی کرو کسی اور کی بندگی کام نہ آئے گی اور کافروں کی سبھی بندگی گمراہی ہے۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ ارض و سماء کا مالک صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا تمہارے حمایتی تو خود اپنے بھلے برے کے بھی مالک نہیں (السجدہ)۔ اللہ ہی ہر شے کا خالق و مالک ہے اور وہی اکیلا زبردست ہے۔ جس نے اللہ کا حکم مانا نفع میں رہا اور جھٹلانے والا دوزخ کا ایندھن بنا۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
گیارہ رمضان المبارک:

پارہ تیرہ سورۃ الرعد رکوع 3 تا 6
پارہ تیرہ سورۃ ابراہیم رکوع 1 تا 7
پارہ چودہ سورۃ الحجر رکوع 1 تا 6
پارہ چودہ سورۃ النحل رکوع 1 تا 12​
===============================================================
(13) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الرعد (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 3 تا 6
===============================================================​

رکوع 3۔۔۔۔ عقل کے اندھے اور غور و فکر کرنے والے کبھی برابر نہیں ہوسکے۔ غور و فکر کرنے والے اور جن کے دل کی آنکھیں ہیں وہ راہِ حق کو پاکر اللہ سے کیے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ اور جنہوں نے صبرکیا، نماز قائم رکھی اور اللہ سے ڈرتے رہے اور اللہ کی راہ میں ظاہراً اور پوشیدہ خرچ کیا ان کے لیے آخرت میں نعمتوں بھرے باغات ہیں مگر جو اللہ سے کیا عہد توڑتے ہیں اور فساد کی آگ بھڑکاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور برا ٹھکانہ ہوگا اور اللہ ہی ہے جو رزق تنگ یا کشادہ کرتا ہے اور آخرت کی زندگی ہی ہمیشہ کی زندگی ہے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ کافر معجزوں کا اصرار کرتے ہیں سو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو رجوع کریں انہیں ہدایت عطا کرتا ہے۔ دل اللہ کی یاد سے ہی سکون حاصل کرتے ہیں اور نیکوکاروں کا اچھا ٹھکانہ ہے۔ جو لوگ رحمٰن کے منکر ہیں انہیں کہہ دیں کہ میرا رب وہی اللہ ہے جو لاشریک ہے۔ وہی ہرکام میں میرا سہارا ہے اور وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا گیا اور دینِ حق کا انکار کیا گیا۔ اللہ نے اپنے قانون کے مطابق انہیں مہلت دی اور بالآخر انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیاگیا۔ جو لوگ دنیا میں تقویٰ اختیار کریں گے انہیں سر سبز باغات والے گھروں بسایا جائے گا جہاں انہیں کوئی ڈر نہ ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیں کہ میں تو صرف اللہ کی بندگی کرنے اور شرک سے باز رکھنے کے لیے آیا ہوں۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ رسول سچی باتیں بتانے کے لیے آتا ہے۔ بغیر اذنِ الٰہی وہ کوئی نشانی ظاہر نہیں کرسکتا۔ سب اختیار صرف اللہ کے پاس ہیں وہ جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق چلاتا ہے۔سب اس نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے اور اللہ ہر شے کا گواہ ہے۔

===============================================================
(14) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ ابراہیم ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 7
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ فرمایا کہ اس کتاب کے نزول کا مقصد لوگوں کو فکر و عمل کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی اور اللہ کی طرف جانے والی راہ پر ڈالنا ہے۔ ہم نے جو رسول بھیجا انہیں کی قوم سے تھا تاکہ وہ ان ہی کی زبان میں دینِ حق ان کو سمجھا دے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال دی کہ وہ اپنی قوم کو فرعون سے نجات دلانے کے باوجود انہیں گمراہی کے اندھیروں سے نہ نکال سکے۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ کیا تمہارے پاس نوح علیہ السلام کی قوم اور عاد و ثمود کی خبریں نہیں پہنچیں جنہیں ہمارے رسولوں نے حق بات بتائی لیکن انہوں نے نہ مانی۔ وہ کہتے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور چاہتے ہو کہ ہم اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ دیں اور فکر و عمل کی ظلمتوں میں ڈوبے رہیں۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ کافروں نے رسول سے کہا یا ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ ورنہ ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ ان کے حق کا مسلسل انکار کرنے پر رسول نے دعا کی کہ یا رب ان کا اور ہمارا فیصلہ کردے اور ہمیں ان پر فتح دے۔ تو اللہ عزوجل نے اپنا وعدہ پورا کیا اور سب ضدی لوگ دنیا ہی میں تباہ ہوگئے۔ فرمایا: مرنے کے بعد یہ سب دوزخ میں جائیں گے۔ بدن سے جل جل کر جو پانی جیسی پیپ بہے گی وہ انہیں پلائی جائے گی۔ منکرین کے کوئی بھی اعمال مثلاً خوش خلقی، خیرات، صدقات اور نیک کام بغیر ایمان کے انہیں دوزخ سے نہیں بچا سکیں گے جہاں انہیں سخت اور دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ قیامت کے دن سب فیصلے ہوجانے کے بعد شیطان کہے گا کہ اللہ کے سب وعدے سچے تھے اور میرے جھوٹے۔ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے قبول کرلی، قصور سب تمہارا تھا۔ میں تمہاری کوئی مددنہیں کرسکتا۔ تم احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کی بجائے میری اطاعت کرکے شرک کے مرتکب ہوئے۔ فرمایا: جو لوگ ایمان لائےاورنیک عمل کیے جنت کے باغوں میں داخل کیے گئے اور اللہ پختہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ ناشکروں نے اللہ کے احسان کا بدلہ کفر سے دیا اور جہنم کو پسند کیا اور یہ سخت نادان ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اس کے برابر بنارکھا ہے۔ یہ کچھ دن دنیا کے مزے اڑا کر ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ ایمان والو سے کہو کہ نماز قائم رکھیں اور حاجت مندوں کو چپکے اور ظاہری طور پر اپنی حلال کمائی سے دیتے رہیں تاکہ قیامت میں ان کا پھل پاسکیں۔ پھر ارض و سماء رزق کا سامان، سمندر، ندیاں، سورج، چاند، رات دن، غلہ، پھل، ترکاریاں انسانوں کے لیے بنانے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ تمہاری ہر خواہش پوری کی اگر اللہ کے احسان گنو تو گن نہ سکو گے۔

رکوع 6۔۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی کہ اے رب اس شہر کو امن والا کردے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کی بلا سے بچائے رکھ۔ عرض کی کہ میں چکا ہوں کہ بتوں نے کتنے لوگوں کو غلط رستے پر ڈالا ہے۔ لیکن جو میرے راستے پر رہا تو وہ میرا ہے اور جو گمراہ ہوا اس کا معاملہ تیرے ساتھ ہے۔ عرض کیا کہ اے رب اس ریگستان میں تیرے گھر کے پاس میں اپنی اولاد کو چھوڑ گیا تھا تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ اللہ انہیں میوے اور نعمتیں عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بنیں۔ اے اللہ آپ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں دو فرزند اسمٰعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام عطا کیے بے شک میرا رب دعائیں سنتا ہے۔ پھر دعا فرمائی الٰہی مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا کر اور میری دعا قبول کر اور مجھ کو میرے ماں باپ اور سب ایمان والوں کو یوم حساب بخش دے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ اللہ کے منکر سمجھ لیں کہ اس دنیا میں انہیں مہلت دی گئی ہے۔ اس دن سے ڈرو جب ان پر عذاب آئے گا۔ تہ وہ کہیں گے ہمیں مہلت دے کہ تیرا حکم مانیں اور رسولوں کی پیروی کریں۔ پھر وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا نتیجہ مل کر رہے گا۔

پارہ چودہ
===============================================================
(15) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الحجر ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 6
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ یہ عظیم الشان کتاب اور آیات واضح احکام پر مشتمل ہیں۔ منکرین کل آرزدہ ہوں گے کہ بہتر تھا کہ ہم مسلمان ہوتے۔ چنانچہ جب مسلمانوں کو فتح ملی اور ان کو شکست تو یہ دنیا ہی میں پچھتائے اور آخرت میں بھی ان کے لیے حسرت اور پچھتاوا ہے۔ یہ ان کی عقل کا فتور ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام اللہ پڑھ کر سنایا اور ڈرایا تو بولے اگر تو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو تیرے ساتھ فرشتے ہونے چاہئیں، وہ کہاں ہیں؟ فرمایا ہم فرشتے نہیں اتارے، قرآن بجائے خود ایک زبردست نشانی ہے جو ہم نے اتاری اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔ پچھلی قوموں کے پاس بھی رسول آئے اور ان کی ہنسی اڑائی گئی۔ یہ لوگ دنیا ہی کی لذت میں پھنسے ہوئے ہیں اور کفر پر اڑے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بیہودہ گوئیوں سے کبیدہ خاطر نہ ہوں اور اپنے اللہ سے لو لگائے رہیں۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ ہم نے آسمان میں برج بناکر شیطان مردود سے محفوظ کیا اور دیکھنے میں خوشنما بنایا۔ زمین کی پائیداری کے لیے پہاڑ کھڑے کیے اور زمین سے زندگی کی تمام اشیائے ضرورت تمہیں بہم پہنچائی ہیں اور یہ سب حکم الٰہی سے ہوتا ہے۔ پھر ہوائیں چلائیں اور آسمان سے پانی برسایا۔ ہم ہی زندی اور موت دینے والے ہیں اور ہم ہی ایک دن سب انسانوں کوجمع کریں گے اور ہر ایک کو اعمال کی سزا عدل و انصاف کے ساتھ دیں گے۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ یہاں انسان کی پیدائش اور ابلیس کی سرکشی کا تذکرہ فرمایا۔ اللہ کے بندوں پر شیطان مردود کا کوئی زور نہ چل سکے گا لیکن بہکے ہوؤں میں سے جو شیطان کی راہ پر چلے داخلِ دوزخ ہوں گے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ پرہیزگار بغیر کسی خوف کے سرسبز میوے دار باغات میں رہیں گے۔ لوگوں سے کہہ دیں کہ اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے اور اس کا عذاب بھی دردناک عذاب ہے۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے مہمانوں کا قصہ بیان فرمایا جو اصل میں فرشتے تھے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دینے آئے تھے۔ فرشتوں نے انہیں بتایا کہ اب ان کی اگلی منزل قومِ لوط ہے جو اپنی بدکرداری اور سرکشی کے باعث عذاب سے بے نام ہوجائیں گے سوائے لوط علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے کوئی عذاب سے نہ بچ سکے گا یہاں تک کہ ان کی بیوی بھی ہلاک ہونے والوں میں ہے۔ اللہ کے قانون کے مطابق محض رشتہ و قرابت داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جاتی۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ فرشتے انسانی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہنچے تو وہ انہیں نہ پہچان سکے۔ پوچھنے پر بتایا کہ ہم تمہاری نافرمان قوم کو نیست و نابود کرنے آئے ہیں۔ پس آپ گھر والوں کو لے کر رات رہے شہر سے چلے جاؤ اور کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ صبح قوم تباہ ہوجائے گی۔ قوم لوط اسی اثناء میں ان خوبصورت نوجوانوں (فرشتوں) پر بدکاری کی غرض سے ٹوٹ پڑی۔ لوط علیہ السلام نے منع کیا کہ یہ مہمان ہیں لیکن وہ حضرت لوط علیہ السلام کی کسی بات کے ماننے کو تیار نہ ہوئے۔ فرشتوں نےکہا کہ یہ آپ کی کوئی بات نہیں مان رہے ہم ان کی خرمستیوں کا علاج کریں گے۔ چنانچہ پو پھٹتے ہی بادلوں کی کڑک اور بجلیوں کی چمک کا شدید طوفان آیا اور کنکروں کا مینہ برسا جس نے اشراق تک تمام تباہ کرڈالے۔ قومِ لوط کے قصے میں پہچان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح قوم شعیب کا انجام تفصیل سے بیان ہوا۔ ان دو قوموں کی بستیوں کے کھنڈر حجاز اور شام کے راستے میں سبق آموز ہیں۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ قومِ ثمود کا حال بیان کیا جو پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا کر رہتے تھے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور انہیں زلزلہ اور ہیبت ناک چنگھاڑ سے تباہ کردیا۔ یہ کائنات نہ ہی کھیل ہے، نہ ہی بے مقصد تخلیق ہوئی اور نہ ہی قیامت کا وقوع غیر یقینی ہے۔ اگر تم اس کی ہولناکی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے اندر عفوو درگزر کی خوبی پیدا کرو۔ یقین جانو ہرشے کا خالق اللہ ہے جس نے تمہیں سورۃ فاتحہ اور بڑے درجے کا قرآن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں احکامِ الٰہی کھول کھول کر بتادیں اور ان کی پرواہ نہ کریں اور اپنے رب کے آگے سجدہ کرنے والوں میں شامل رہو اور عبادت میں مشغول رہو کہ انہیں سے اطمینانِ قلب ملتا ہے۔

===============================================================
(16) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النحل ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکو 1 تا 12
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ اللہ نے آسمان اور زمین بنائے۔ وہ ذات بلند و برتر ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ اپنی طاقت و قوت سے اتنا مغرور ہوگیا کہ اپنے خالق کو ہی بھول گیا۔ پھر اللہ نے انسانوں پر انعامات کا تذکرہ کیا۔ یہاں پر سیدھی راہ بھی ہے جس پر چل کر انعام ملتا ہے اور اس سے کچھ ٹیڑھی پگڈنڈیاں بھی ہیں جو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتی ہیں۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ رازق اللہ ہی ہے جو آسمان سے مینہ برساکر زمین میں تمہارے لیے پھل، سبزیاں اور غلہ پیدا کرتا ہے۔ پھر سمندر، دریا تمہیں مچھلیاں دیتے ہیں کہ اور یہ کہ ان میں جہاز اور کشتیاں چلا کر تم تجارت کرسکو۔ غرض تمہیں اتنی نعمتیں دیں جن کا شمار نہیں۔ پھر تم جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ خود کیسے پیدا ہوئے۔ یہ تو مردہ و بے جان ہیں اور انہیں اس کا بھی شعور نہیں کہ یہ کب اٹھائے جائیں گے تو یہ کسی کو کیا دے سکتے ہیں۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ تمہارا معبود اکیلا معبود ہے اور جن کو آخرت کا شعور نہیں وہ مغرور ہیں اور اللہ تکبر کرنے والے مغروروں کو پسند نہیں کرتا۔ بعض لوگ قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، یہ اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے جس کی سزا ان کو قیامت کے دن دگنے عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے گی، خود گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ پہلے بھی کچھ لوگ بے خوف بیٹھے تھے اور رسولوں اور کتابوں کی ہنسی اڑاتے، اللہ نے ان پر ان کی چھتیں گرا کر چشم زدن میں انہیں تباہ کر ڈالا۔ پھر وہ آخرت میں بھی رسوا ہوں گے۔ کافر عذاب دیکھ کر برے کاموں سے مکر جائیں گے لیکن اللہ فرمائے گا میں تمہاری بدکاریوں سے واقف ہوں اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور نیک لوگوں کے لیے بھلائی ہے اور آخرت میں بڑا اجر۔ متقی ہمیشہ باغوں میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان کی جان قبض کرتے فرشتے ان کو جنت کی خوشخبری سنادیتے ہیں۔ کافروں کو سبق حاصل کرنا چاہیے ورنہ وہ سر پکڑ کر روئیں گے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ انہوں نے رسولوں کی نصیحتوں کا ٹھٹھہ اڑایا اور آخر اس عذاب میں گھِر گئے جس کی ہنسی اڑاتے تھے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ ہم نے جو نظامِ دنیا کا قانون قائم کر رکھا ہے اس میں بدکاروں کو فوراً سزا نہیں دی جاتی انہیں نصیحت کے ذرائع مہیا کیے جاتے ہیں پھر اختیار اور مہلت۔ پھر بھی جو منکر ہوں گے انہیں سزا مل کر رہے گی۔ رسولوں کا کام صرف نصیحت کرنا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو۔ شیطان کے پھندے میں پھنسنے والوں کو ہدایت سے محروم کردے گااور وہ سزا سے نہ بچ سکیں گے۔ اللہ کا وعدہ پختہ وعدہ ہے اور اسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور اللہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ کیے کا پھل ملے اور کافر جان جائیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور سمجھ لو کہ ہمارے لیے کچھ کرنا دشوار نہیں ہے اور ہم کہیں ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ جنہوں نے اللہ کے واسطے گھر بار چھوڑا، ظلم اٹھایا، صبر کیا ان کے لیے دنیا میں بھی اچھا ٹھکانہ ہے اور آخرت میں بڑا ثواب ہے۔ پہلے بھی کچھ رسولوں کے ذریعے کتابیں بھجوائیں ۔ اب تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آخری کتاب دے کر بھیجا ہے جو قیامت تک کے لیے ہدایت ہے (اور اس میں تمام گزشتہ شریعتوں کا نچوڑ ہے)۔ اگر ہم چاہیں تو دینِ حق کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو زمین میں دھنسا دیں یا ایسی جگہ سے عذاب بھیجیں کہ انہیں گمان بھی نہ ہو۔ کائنات کا مطالعہ کرو اور مادی اجسام کو دیکھو کہ ان کے سائے چاروں طرف جھک رہے ہیں اور اپنے پروردگار کے حضور سجدہ ریزہ ہو کر تابعداری کا درس دے رہے ہیں (السجدہ) اور ارض و سماء میں ہر شے جاندار ہو یا فرشتے، تکبر نہیں کرتے اور اللہ سے ڈر رکھتے ہیں وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ دو معبود مت بناؤ۔ معبود وہ ایک ہی ہے اسی سے ڈرو۔ ارض و سماء میں سب کچھ اسی کا ہی۔ اسی کی عبادت کرو۔ سب نعمتیں اسی کی طرف سے ملتی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ مصیبت میں اسے پکارتے ہیں اور تکلیف دور ہوجائے تو دوسروں کو شریک بناتے ہو۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ اگر اللہ لوگوں کو ان کی کرتوتوں پر فوراً پکڑتا تو زمین پر ایک بھی ذی روح نہ بچتا۔ یہ تو اس نے اپنے کرم سے ڈھیل دے رکھی ہے لیکن معینہ مدت گزر جانے پر ایک ساعت کی بھی دیر نہ ہوگی۔ سب فنا ہوجائے گا۔ شیطان سے بہکنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ غور کرو چوپایوں کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم تمہیں پینے کو دودھ دیتے ہیں۔ کھجور اور انگور سے تم نشہ والی چیز بناتے ہو۔ ہم نے شہد کی مکھی کی فطرت میں شامل کردیا کہ وہ میووں اور پھلوں کا رس چوسے اور تمہارے لئے شہد بنائے جو بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ انسان خود اپنی حالت پر غور کرے اللہ کو پہچاننے کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔

رکوع 10۔۔۔۔ غلام اور آقا برابر نہیں۔ عورت پیدا کی کہ نسل کا سلسلہ جاری رہے۔ کھانے کو تمہیں ستھری چیزیں دیں۔ وہ بھی ہیں جو ان کو پوجتے ہیں جو ان کے لیے نہ روزی دے سکتے ہیں نہ ارض و سماء میں کسی شے کے مختار ہیں۔ مالک اور محتاج بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ عدل و انصاف کرنے والا ہی سیدھی راہ پر ہے۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ آسمانوں اور زمینوں کے بھید اللہ عزوجل ہی کے پاس ہیں اور جب وہ قیامت کا رادہ کرے گا وہ پلک جھپکنے میں آجائے گی۔ اللہ نے تم کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا اور تم کو کان، آنکھیں اور دل دیا تاکہ احسان مانو۔ پرندوں کو دیکھو کہ ایک قاعدہ قانون کے تحت اڑتے ہیں اور اللہ کے سوا انہیں سنبھالنے اور تھامنے والا کوئی نہیں۔ یہ تمہارے لیے نشانیاں ہیں۔ پھر انسان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تو ان کو کھول کر باتیں سمجھانا ہے۔ پھر بھی اگر نافرمانی کریں تو آخر ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ قیامت میں رسول کو کھڑا کیا جائے گا کہ بتائے اس کی قوم نے کیا سلوک کیا۔ منکر بول نہ سکیں گے نہ ہی ان کی توبہ قبول ہوگی اور نہ ہی عذاب میں کمی ہوگی۔ پھر وہ اپنے شریکوں کو پکاریں گے تو شیطان کہے گا کہ تم نے خود خوشی سے میرا کہنا مانا۔ میں نے زبردستی تو نہیں کی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک عظیم الشان کتاب اتاری ہے جس میں قیامت تک کے لیے ہدایت ہے اور تابعداری کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
بارہ رمضان المبارک:
پارہ چودہ سورۃ النحل رکوع 13تا 16
پارہ پندرہ سورۃ بنی اسرائیل رکوع 1تا 12
پارہ پندرہ سورۃ الکھف رکوع 1تا 10​
===============================================================
(16) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سورۃ النحل (جاری)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 13تا 16
===============================================================​

رکوع 13۔۔۔۔ اللہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ اہل قرابت کے ساتھ عدل و انصاف، رحم ومروت اور نیکی سے پیش آؤ اور بے حیائی اور، ناشائستہ کام، ظلم و زیادتی اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ فرمایا: عہد و پیمان کو ہمیشہ پورا کرو، قول دے کر نہ پھرو، دھوکہ دینے کے لیے قسمیں نہ کھاؤ اور نہ انہیں معمولی دنیوی مفاد کے لیے استعمال کرتے پھرو۔ یاد رکھو جو تمہارے پاس ہے، ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے سدا باقی رہے گا۔ دنیا میں صبر کرنے والوں کو اجر ملے گا۔ جب قرآن مجید پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ یاد رکھو اللہ کی پناہ اور مدد مانگنے والوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا اور اس کا زور تو ان پر ہی ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور رفیق مانتے ہیں۔

رکوع 14۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ میرے پاک رب نے قرآن اتارا تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور مسلمانوں کو ہدایت اور خوشخبری دے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے ایک عجمی شخص سکھاتا ہے، ایسی حماقت وہی کرسکتے ہیں جو اللہ کی نشانیاں دیکھ کر اللہ کو نہیں پہچانتے۔ قیامت کو ان منکروں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ان بدبختوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے عزیز رکھا تو اللہ نے ان کے دلوں اور آنکھوں اور کانوں پر مہریں لگا دی ہیں اور آخرت میں یہ لوگ خراب ہوں گے اور جو ایمان لائے، ہجرت کی، جہاد کیا، صبر و استقلال کے ساتھ دین پر جمے رہے اللہ ان کی پہلی لغزشیں معاف کردے گا وہ غفور و رحیم ہے۔

رکوع 15۔۔۔۔ یاد رکھو ایک ایسا دن آئے گا جب ہر کسی کو انصاف ملے گا۔ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ جن کے پاس رسولوں کو بھجوایا اور انہوں نے انہیں جھٹلایا تو ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ اللہ نے تمہارے لیے حلال اور پاک نعمتیں عطاکی ہیں اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کرو۔ اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار، لہو، سؤر کا گوشت اور وہ جس پر بوقتِ ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ تم اپنی طرف سے کچھ حلال یا حرام نہ کرو۔ یہ اللہ پر بہتان ہوگا جس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ جو جہالت کے باعث کوئی برا کام کربیٹھے پھر نادم ہوکر توبہ اور اصلاح نفس کرے تو بلاشبہ تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

رکوع 16۔۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام فرمانبرداروں میں بہترین نمونہ تھے۔ وہ اپنے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے تھے اور شکرگزار تھے۔ ہم نے دنیا میں بھی انہیں منتخب بندہ بنایا اور آخرت میں بھی نیک بندوں میں شامل ہوں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی باتوں کو جاری رکھنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ اگر کسی سے اذیت کا بدلہ لو تو اسی قدر لو جو تمہیں پہنچائی گئی ہے لیکن اگر صبر کرو تو یہ اللہ کو پسند ہے۔ یاد رکھو اللہ کی نصرت صرف انہی لوگوں کے ساتھ رہتی ہے جو برائیوں سے بچتے اور نیک روش اختیار کرتے ہیں۔

===============================================================
(17) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ بنی اسرائیل ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 12
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ پاک ہے وہ ذات جو رات کو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ جس کے گرداگرد ہم نے برکت دی ہے اپنی قدرت کے نمونے دکھانے کو لے گیا۔ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی تاکہ وہ بنی اسرائیل کو معرفت کا راستہ دکھائیں اور کتاب سے ہدایت حاصل کریں کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور تم انہی لوگوں کی اولاد ہو جن کو نوح علیہ السلام کی کشتی پر بچایا۔ تمہیں تورات میں بتایا گیا کہ دو دفعہ خرابی پھیلاؤ گے۔ اللہ نے ان پر مہربانیاں کیں لیکن وہ پھر نافرمانیوں پر اتر آئے اور ان کی تباہی و بربادی ہوئی۔ یہ قرآن انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے اور نیکوکاروں کو اجر کثیر دیتا ہے اور منکرین کو عذابِ الیم۔

رکوع 2۔۔۔۔ انسان بڑا جلد باز ہے ہم نے رات اور دن بنائے پھر رات کو مٹاکر روشن دن بنایا تاکہ تم روزی تلاش کرسکو اور تمہیں دنوں، مہینوں اور سالوں کی گنتی معلوم ہو۔ قیامت کے دن ہر ایک کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا جو برائی سے بچا اور سیدھی راہ پر رہا وہی کامیاب رہا۔ ہم بدلہ اس وقت لیتے ہیں جب رسولوں کے ذریعے ہدایت بھجوا چکے ہوں۔ نافرمانوں کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔ دنیا کے طالبوں کو نعمتیں دنیا میں ہی دے دیں لیکن آخرت میں دوزخ ٹھہرائی اور جنہوں نے آخرت کو ترجیح دی اور کوشش کی ان کے لیے آخرت میں آرام دہ زندگی ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ورنہ بالکل محروم رہ جاؤ گے۔

رکوع 3۔۔۔۔ تیرے پروردگار کا حکم ہے کہ اس کے سوا کسی نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور اگر وہ دونوں یا ایک تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کرو اور ان کومت جھڑکو اور ان سے بات ادب سے کرو اور ان کے سامنے عاجزی اور انکساری اور نیازمندی سے جھک جاؤ اور کہو اے رب! ان پر رحم کر جیسے انہوں نے مجھ پر بچپن میں رحم کیا۔ تمہارا رب تمہاری نیت جانتا ہے وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرتا ہے۔ فرمایا: قرابت داروں کو ان کا حق دے دو اور محتاجوں اور مسافروں کی مدد کرو۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ اگر تیرے پاس محتاج کو دینے کے لیے کچھ نہیں تو حاجت مند کو سختی سے جواب نہ دے کہ اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے۔ تیرا رب جس کی چاہے روزی کھول دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردے۔

رکوع 4۔۔۔۔ اپنی اولاد کو مفلسی کی وجہ سے ہلاک نہ کرو کیونکہ رازق تو ہم ہیں اور زنا کے پاس نہ جاؤ یہ بے حیائی اور بری راہ ہے۔ ناحق قتل حرام ہے۔ یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ۔ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلو اور اللہ کے ساتھ کسی کو معبود نہ بناؤ ونہ جہنم میں جھونک دیئے جاؤ گے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ قرآن حکیم کا سب سے اہم مقصد انسانوں کو توحید سکھلانا ہے۔ دیکھو کائنات کی ہر شے اللہ کی حمد و ثناء میں مصروف خود کو مخلوق ہونے کا اقرار کرتی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ لوگ جو آخرت کو نہیں مانتے ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ وہ توحید کی آیات پر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں کیونکہ ان کو اپنے جھوٹے معبودوں کا ذکر ہی پسند ہے۔ پھر وہ آپس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گمراہی کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو ہم نئے سرے سے کیسے زندہ ہوں گے۔ وہ کیا جانیں کہ یہ اللہ کے لیے کیا مشکل ہے۔ قیامت برحق ہے اور جب وہ پکارے گا تو سب اس کے حکم کی تعمیل میں اس کے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو۔ شیطان ان میں جھگڑا کرتا ہے بیشک وہ انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے جو ارض و سماء میں ہے۔ فرمایا: ہم نے داؤد علیہ السلام کو زبور دی۔ تم اپنے جھوٹے معبودوں کو پکار کر دیکھو کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ مددگار فقط اللہ ہے۔ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب تک وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔ قیامت سے پہلے نافرمانوں کی بستیوں کو تباہ برباد کردیا جائے گا۔ قوم ثمود کو دیکھو کس طرح نافرمانیوں کے باعث ایسے تباہ ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ تخلیق آدم اور ابلیس کا سجدہ سے انکار اور پھر اسے دھتکار دیئے جانے کا تذکرہ فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے واسطے دریا میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تو روزی کما سکے۔ پھر جب دریا میں طوفان ہو تو اللہ کو پکارتے ہو اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھول جاتے ہو۔ پھر جب تمہیں خشکی پر پہنچا دیا جاتا ہے تو اطمینان کا سانس لیتے ہی اللہ کو بھول جاتے ہو۔ یہ بڑی ناشکری ہے۔ یاد رکھو اگر وہ تم پر سخت عذاب مسلط کردے تو کسی کو بچانے والا نہ پاؤ گے۔ ہم نے انسان کو بہت نعمتیں عطاکیں کہ وہ شکرگزار بندے بنیں لیکن بہت کم شکر گزار ہیں۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ قیامت کے روز سب کو حاضر کیا جائے اور اعمال نامہ انہیں دیا جائے گا۔ جن کے دائیں ہاتھ میں ہوگا، خوش ہوں گے۔ ان کو انعام ملیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا محور صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور بقیہ تمام معبودوں کے بطلان کا اعلان ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرکے مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال کر چند روز بھی چین سے نہ رہیں گے۔ پھر یہ ہمیشہ کے لیے باہر نکال دیے جائیں گے۔ یہی ہمارا مقرر کردہ قاعدہ ہے۔

رکوع 9 ۔۔۔۔ آفتاب ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے اوقات میں اپنے پروردگار کی عبادت کیا کرو۔ اور فجر کے وقت بھی لمبی قرأت کے ذریعے ایک نماز ادا کیا کرو۔ پھر رات کی تنہائیوں میں تہجد بھی پڑھا کرو یہ تمہارے لیے نفل ہے اور بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے۔ اور دعا کرو کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا، سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال، سچائی کے ساتھ نکال۔ اور اعلان کردو حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔ ہم نے قرآن نازل فرمایا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔

رکوع 10 ۔۔۔۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں روح کیا ہے، تو کہہ دیں کہ یہ میرے رب کا امر ہے اور تم لوگوں کو اس بارے میں بہت کم علم دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جو کچھ ملا ہے اپنے رب کی رحمت سے ہے اور پروردگار کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑا فضل ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزے مانگتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ قرآن سے بڑھ کو کونسا معجزہ ہے۔ لیکن یہ تو چشمے، باغات، نہروں وغیرہ کے معجزے چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ میں تو ایک بشر ہوں اور پیغام پہنچانے والا ہوں۔

رکوع 11۔۔۔۔ کیا اس بات نے کافروں کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ اللہ نے ہدایت کے لیے آدمی کو بھیجا ہے۔ ان سے کہہ دیں کہ اگر زمین پر فرشتے بستے تو اللہ فرشتوں کے ذریعے پیغام بھیجتا ۔ یہ ان کی بہانہ بازیاں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ریزہ ریزہ ہڈیوں سے دوبارہ کیسے زندہ ہوگا تو کہہ دیں جس اللہ نے زمین و آسمان بنائے ہیں وہ ایسوں کو بھی بنا سکتا ہے۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ ارشاد ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے فرعون کو واضح معجزات دکھائے لیکن اس نے کہا یہ جادو ہے وہ جان بوجھ کر حقیقت کا انکار کرتا رہا۔ قرآن برحق ہے اور اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نذیر و بشیر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ قرآن تمہارے سامنے ہےمانو یا نہ مانو مگر حقیقت حال جاننے والوں نے اسے پہچان لیا اور وہ آیتیں پڑھ کر سجدہ میں گر جاتے ہیں اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب اور پھر سجدہ میں گر جاتے ہیں (السجدہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ سبھی تعریفوں کا مستحق صرف اللہ ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، سبھی اچھے نام اسی کے ہیں اسے اللہ کہو یا رحمٰن۔ اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔

===============================================================
(18 ) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الکہف ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 10
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا اور اس میں کچھ کجی نہ رکھی تاکہ وہ ایمان لانے والوں کو خوشخبری اور منکروں کو آفات سے ڈرائے۔ رسول کا کام فقط راستہ بتانا اور اس پر چل کر دکھانا ہے۔ پھر اصحابِ کہف کا قصہ بیان فرمایا۔

رکوع 2۔3۔۔۔۔ اصحابِ کہف کی تفصیل ہے اور اس قصے میں مفید سبق یہ ہے کہ اللہ ہی کو رب ماننے اور فقط اسی کی عبادت کرنے سے دل کو بڑی تقویت ملتی ہے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ یہ نہ کہیے کہ یہ کام میں کل کروں گا مگر یہ کہ اگر اللہ چاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انہی سے ہر وقت میل جول رکھو جو صبح و شام اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اسی کی رضا کے طالب ہیں۔ منکروں کے لیے عذابِ الیم تیار رکھا ہے اور ایمان والوں کو انعام میں جنت کے باغات ہیں۔ وہ اچھی جگہ اور اچھا بدلہ ہے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ یہاں سے دو شخصوں کی تمثیل بیان کی کہ ایک شخص کو خوبصورت باغ عطا کیے تو وہ اپنی خوشحالی پر اتراتا اور اللہ کی ناشکری کرتا، قیامت کا بھی مذاق اڑاتا۔ دوسرا شخص صاحبِ ایمان و یقین مگر معاشی طور پر تہی دست تھا۔ اس نے باغ والے کو کہا کہ بدبخت اللہ کی نافرمانی نہ کرو جس نے تمہیں سب کچھ دیا ہے۔ وہ باز نہ آیا اور آخرکار ناگہانی آفت سے اس کے باغ برباد ہوگئے اب وہ کفِ افسوس ملتا کہ کاش ایمان رکھتا۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ ارشاد ہوا کہ آسمان سے پانی برسا۔ تمام اطراف سر سبزو شاداب ہو گئے۔ دیکھنے کو یہ بہار ابدی ہے مگر چار دن بعد سارا سبزہ سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا اسی طرح دنیوی زندگی ہے۔ آج ہری بھری تو کل اجڑی ہوئی۔ مال اور بیٹے زندگی کی رونق ہیں لیکن صرف نیکی ہی باقی رہتی ہے کہ اجر پاسکے۔ قیامت کے دن سب ہوں گے ہر ایک کے ہاتھ میں اعمال نامہ ہوگا۔ گنہگار ڈریں گے جو کیا تھا سامنے پائیں گے۔ تمہارا رب ظلم نہ کرے گا۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو رفیق ٹھہراتے ہو۔ میرے سوا وہ تو تمہارے بھی دشمن ہیں۔ صرف بے انصاف لوگ ہی اسے رفیق بنائیں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا پکارو ان کو جن کو میرے سوا پکارتے تھے تو کوئی جواب نہ آئے گا۔ پھر انہیں ہر جانب آگ ہی نظر آئے گی اور انہیں یقین ہوجائے گاکہ اب اسی میں جلتے رہنا ہے۔ قرآن مجید میں اسی لئے انسان سے کہا جارہا ہے کہ اللہ سے دل لگاؤ ورنہ تباہ ہوجاؤ گے۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ قرآن حکیم میں ہم نے لوگوں کو بات مثالیں دے دے کے سمجھائی۔ کیا ایمان لانے، استغفار کرنے سے ان کے اگلوں کی رسم نے روکا ہوا ہے کہ عذاب کا انتظار کریں۔ اور سنو اللہ نے پیغمبر اسی لئے مبعوث کیے کہ مومنوں کو خوشخبری دیں اور کافروں کو نافرمانی سے ڈرائیں۔ لیکن انہوں نے آیات کو ٹھٹھا سمجھ لیا اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو ہدایت پہنچی اور اس نے منہ پھیر لیا۔ ایسے لوگوں کو ماضی کے سرکشوں کا انجام نہیں بھولنا چاہیے اور اپنے حال سے سبق لینا چاہیے کہ حق و صداقت سے روگردانی کی پاداش میں قومیں کس طرح صفحۂ ہستی سے مٹاڈالی گئیں۔

رکوع 9۔10 ۔۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا جس میں کشتی ڈبونا، لڑکے کا قتل اور دیوار کی درستگی بیان کی گئی۔ کشتی محنت کشوں کی تھی اس میں خضر علیہ السلام نے سوراخ کرکے ناکارہ کردیا کہ ظالم بادشاہ کے ہاتھ نہ آئے اور محنت کش معمولی مرمت سے اسے کام میں لاسکیں۔ لڑکے کے والدین نیک اور بڑے ایمان دار تھے۔ خضر علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر سے عاجز نہ کردے سو لڑکے کو قتل کردیا۔ دیوار گرنے والی شکستہ تھی اور اس کے نیچے دو یتیموں کا مال دفن تھا۔ خضر علیہ السلام نے دیوار گرا کر دوبارہ تعمیر کردی کہ ان کا خزانہ محفوظ رہے۔
===============================================================​
 

تجمل حسین

محفلین
تیرہ رمضان المبارک:
پارہ پندرہ سورۃ الکہف رکوع 11 تا 12
پارہ سولہ سورۃ مریم رکوع 1 تا 6
پارہ سولہ سورۃ طٰہٰ رکوع 1 تا 8
پارہ سترہ سورۃ الانبیاء رکوع 1 تا 4​
===============================================================
(18 ) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃالکہف (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 11 تا 12
===============================================================​

رکوع 11 ۔۔۔۔ ذوالقرنین کا قصہ بیان ہوا۔ پھر قیامت کا احوال بیان فرمایا کہ پہلا صور پھونکتے ہی سب کچھ تباہ و فنا ہوجائے گا۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور سب میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ منکروں پر دوزخ ہوگی جو ان کی مہمانداری کے لئے ہے۔

رکوع 12 ۔۔۔۔ جو لوگ حق و صداقت کا انکار کرتے رہے اور اللہ کو چھوڑ کر اس کے بندوں کو کارساز بناتے ہیں اچھی طرح سن لیں کہ ان کو اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی دوزخ سے۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی باتوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا۔ ایمان والے فردوس کے باغات میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا علم اتنا وسیع ہے کہ ایک سمندر تو کیا اور سمندر بھی سیاہی بن جائیں پھر بھی اللہ کا علم نہ لکھا جائے۔ فرمایا: کہیے میں بھی ایک آدمی ہوں تم جیسا۔ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ نیک عمل کرو اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ مرنے کے بعد اعمال کا حساب دینے کے لیے ایک دن اس کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
===============================================================
(19) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ مریم ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 6
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا تذکرہ بیان فرمایا جو اللہ کے نبی اور عبادت گزار بندے تھے۔ زکریا علیہ السلام جو ضعیفی کی عمر کو پہنچ چکے تھے اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ میری عورت بھی بانجھ ہے مجھے اپنے پاس سے ایک وارث اور کام سنبھالنے والا بخش دے۔ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یحییٰ علیہ السلام جیسا فرمانبردار اور پاکیزہ فطرت بیٹا عطا فرمایا۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ حضرت مریم علیہ السلام کا ذکر بیان ہوا جو ایک باحیا اور پاک دامن ناکتخدا خاتون تھیں جنہیں اللہ نے شوہر نادیدگی کی حالت میں معجزاتی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر فرزند عطا فرمایا۔ لوگوں نے سیدہ مریم علیہ السلام پر تعجب کیا تو گود سے بچے نے جواب دیا میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے کتاب دی گئی ہے اور نبی بنایا گیا ہے اور خیرو برکت لایا ہوں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا اور اپنی ماں کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا۔ اور اللہ کا مجھ پر سلام ہے جس دن پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور پھر دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ فرمایا: صرف اللہ کی بندگی کرو وہی سیدھی راہ ہے۔ قرآن آج تم کو متنبہ کرتا ہے کہ اس کی ہدایت کی پیروی نہ کروورنہ قیامت کو پچھتاؤ گے۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام سچا نبی تھا اس نے عقیدۂ توحید کی خاطر اپنے باپ سے بھی قطع تعلق کرلیا۔ باپ نے سنگساری کی کی دھمکی دی۔ ابراہیم علیہ السلام توحید پرستی کے جرم میں گھر، قوم، وطن عراق چھوڑ کر شام کے علاقہ کنعان میں چلے گئے جہاں اللہ نے انہیں اسحاق علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام جیسی اولاد عطافرمائی اور دونوں کو نبی کیا۔

رکوع 4 ۔۔۔۔۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ میرے چنے ہوئے نبی اور پیامبر تھے۔ جن کو کوہِ طور کی دائیں جانب بلا کر راز کی باتیں بتلائیں اور ان کی مدد کے لیے بھائی ہارون کو نبی بناکر ساتھ کردیا۔ اسمعٰیل علیہ السلام وعدہ کا سچا، پیامبر اور نبی تھا اور گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا۔ پھر ادریس علیہ السلام کا ذکر آیا کہ سچا نبی تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نبی بنایا اور جن پر خاص انعام کیا۔ جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے دل پر گہرا اثر ہوتا ہے کہ آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور ہمارے سامنے سجدہ میں گر پڑھتے ہیں (السجدہ)۔ فرمایا: پھر وہ آئے جو اپنی خواہشات کی پیروی میں نماز کھو بیٹھے۔ قیامت کا انکار کیا، شرک کے مرتکب ہوئے۔ پھر جس نے توبہ کی اور نیک عمل کیے وہ بہشت میں جائیں گے۔ جنت کے وارث پرہیزگار ہیں۔ پس تو اسی کی بندگی کر اور بندگی پر قائم رہ۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ بعض لوگ تعجب کرتے ہیں کہ کیا مجھے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ جس نے پہلے بنایا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ شیطان کے ہمراہی ایک جگہ اکٹھے کیے جائیں گے اور انہیں گھٹنوں کے بل جہنم کے گرد گرادیں گے۔ ہر برائی کے قائد/پیشا کو الگ کرکے زیادہ سزا ملے گی۔ صاحبان تقویٰ جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ گمراہیوں کو مقررہ مدت کے لیے مہلت دی جاتی ہے جس کے بعد عبرتناک سزا دنیا اور آخرت میں دی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی آیات و احکامات کا مسلسل انکار کرنے والے ہیں۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ اللہ کے منکرین پر شیطان مسلط کردیئے جاتے ہیں جو انہیں ہر وقت برائی کی طرف اکساتے ہیں اور مہلت ختم ہونے تک ایک ایک لمحہ پورا ہوتا ہے۔ پھر اعمال کی سزا بھگتیں گے۔ سفارش کی اجازت صرف اللہ کے مقبول بندوں کو ہوگی۔ جو نادان گستاخی کرتے ہیں کہ اللہ صاحب اولاد ہے تو یہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ اللہ کا کوئی ہمسر نہیں اور بقا صرف اللہ کو ہے جس نے قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں اتار کر آسان کردیا۔ دیکھو لو کہ نافرمانوں کی نسلیں تباہ ہوچکیں ہیں اور ان کا کوئی وجود باتی نہیں۔
===============================================================
(20) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ طٰہٰ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 8
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ قرآن مجید ان کی نصیحت کے لیے اتارا ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس نے زمین و آسمان بنائے۔ وہ بڑی رحمت والا عرش پر قائم ہے۔ کائنات کی ہرشے اللہ کی ہے جو ہر کھلی اور چھپی باتوں اور بھیدوں کو جانتا ہے اور وہی معبود ہونے کے قابل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام جنگل میں راستہ بھول گئے۔ آگ دیکھی اور اس کی طرف گئے۔ پہنچے تو آواز آئی میں تیرا رب ہوں اور رسالت مل گئی اور ہدایت ملی کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں سو میری بندگی کر۔ نماز قائم کر اور قیامت آنے والی ہے اس کا وقت کسی کو نہیں بتایا تاکہ اس وقت کے انتظار میں رہیں اور کوئی برا کام نہ کریں۔ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔ بولا لاٹھی۔ فرمایا: اسے زمین پر ڈال دو تو وہ دوڑتا سانپ بن گئی اور پکڑا تو لاٹھی۔ فرمایا: اپنا ہاتھ بغل میں رکھ۔ نکلا تو سورج کی طرح چمکتا نکلا۔ یہ نشانیاں دے کر فرعون کی سرکوبی کو جانے کا حکم دیا۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی پروردگار میرا سینہ کشاہ اور کام آسان کر دے اورمیری زبان کی گرہ کھول دے اور میرے بھائی ہارون کو میرا کام بٹانے والا کردے تاکہ ہم دونوں مل کر تیرا حکم بجالائیں۔ فرمایا: موسیٰ علیہ السلام تیری درخواست منظور ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش، بچ کر فرعون کے گھر پہنچنا اور پرورش پانا یعنی پہلے احسانات کا احوال بیان کیا۔ ارشاد ہوا کہ فرعون نے بہت سر اٹھایا ہوا ہے تم دونوں اس کے پاس جاؤ۔ نرمی سے بات کرو شاید وہ سوچے یا ڈرے اور فرمایا مت ڈرو میں ساتھ ہوں، دیکھتا اور سنتا ہوں۔ کہو کہ ہم اپنے رب کے پیامبر ہیں۔ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرو انہیں غلامی سے آزاد کردو۔ یہ گئے اور سب کا سب کہا۔ فرعون کج بحثی پر اتر آیا۔ پوچھا تمہارا رب کون ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے نشانیاں بیان کیں۔

رکوع 3۔۔۔۔ فرعون نے جادوگروں کو مقابلے کے لیے بلا لیا۔ انہوں نے زمین پر رسیاں پھینکیں وہ سانپ بن گئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عصا پھینکا جو سانپ بن کر ان سب سانپوں کو کھا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی باتیں سن کر جادوگر اللہ پر ایمان لے آئے اور سجدہ میں گر گئے اور فرعون کی دھمکیوں کے باوجود عقیدۂ توحید پر قائم رہے اور شرک سے بیزار۔ گنہگاروں اور نافرمانوں کے لیے دوزخ اور صاحبانِ ایمان کے لیے جنت دائمی ٹھکانہ ہے۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ میرے بندوں کے ساتھ رات یہاں سے نکل جائے۔ راہ میں بحر قلزم آئے تو پانی پر عصا مارے۔ وہاں راہ بنے تو اس سے چل کر آگے بڑھے۔ فرعون نے پیچھا کیا وہ بھی بحرقلزم کے خشک راہ میں داخل ہوا۔ فرعون اور اس کا لشکر درمیان میں تھے کہ موسیٰ علیہ السلام پار پہنچ گئے تو پانی مل گیا اور یوں فرعون لشکر سمیت سمندر میں ڈوب کر تباہ ہوگیا۔ اے بنی اسرائیل یاد کرو کہ تم کو تمہارے دشمن سے چھڑایا، تمہیں صاف ستھری روزی من و سلویٰ عطا کی مگر تم نافرمان بنے اور میرا غضب نازل ہوا۔

موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خاص عبادت کے لیے گئے اور قوم کی نگرانی کے لیے بھائی ہارون کو چھوڑ گئے۔ بعد میں قوم نے سونے کا بچھڑا پوجنا شروع کردیا جسے سامری نے بنایا۔ اللہ نے وحی کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام کو مطلع کیا کہ قوم شرک پرستی میں مبتلا ہوگئی ہے۔ واپس لوٹے، قوم کو اللہ کے احسان بتائے اور کہا کہ وہ مشرکوں کی باتوں میں آکر شرک میں مبتلا ہوگئے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ ہارون علیہ السلام نے بھی قوم کو سمجھایا کہ حقیقی پروردگار صرف تمہارا رب ہے تم کیوں بہک گئے ہو لیکن وہ نہ مانے۔ سامری سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے ایک مٹھی مٹی رسول (جبریل علیہ السلام) کے پاؤں کی لی اور وہ بچھڑے میں ڈال دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا جادور ہوجا اور بچھڑے کو جلا کر دریا میں اس کی راکھ پھینک دی اور قوم سے کہا کہ معبود تو صرف اللہ ہی ہے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ اللہ پہاڑوں کو اُڑا دے گا اور زمین کو صاف میدان میں بدل دے گا۔ اس دن رحمٰن کے ڈر سے سب کی آوازیں پست ہوں گی اور کسی کی سفارش کام نہ آئے گی مگر جسے اللہ نے اجازت دی۔ اس دن سب اس کے آگے جھکے ہوں گے۔ ایمان والوں کو کوئی خوف نہ ہوگا۔ ہم نے قرآن عربی زبان میں نازل کیااور اس میں باتیں پھیر پھیر کر سنائیں تاکہ ہدایت پاؤ۔ اللہ ہی عالی مرتبت و بادشاہ حقیقی ہے۔ پس اسی کے آگے دعا مانگو کہ میرے علم دین میں فراوانی اور زیادتی عطا فرما۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم اور ابلیس کا انکار۔ پھر آدم کو ایک کام سے منع کیا گیا لیکن وہ ابلیس کے بہلاوے میں آگئے اور بھول کے نتیجے میں جنت چھوڑنا پڑی۔ فرمایا: جس نے ہماری یاد سے منہ موڑا ہم قیامت میں اسے اندھا اٹھائیں گے کیونکہ اس نے دنیا میں حق و صداقت دیکھنے اور قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے اور کلام الٰہی میں غور و فکر کرنے سے ہمیشہ چشم پوشی کی۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ فرمایا: اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! اگر تمہارے پروردگار سے یہ قانون مقرر نہ ہوتا کہ انکار و بدعملی کے نتائج ایک معینہ وقت پر ظہور میں آئیں گے تو منکرینِ حق کو کب کا عذاب ہوچکا ہوتا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کریں اور صبح و شام اور رات کو اللہ کی بندی میں مصروف رہیں۔ اپنے افرادِ خانہ کو باقاعدگی کے ساتھ پابندِ صلوٰۃ کریں اور بہانہ بازوں کو آگاہ کردیں کہ انجام کے منتظر رہو۔ بہت جلد جان لوگے کہ کون صراطِ مستقیم پر تھا اور کون منزل مراد پاگیا۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
 

تجمل حسین

محفلین
تیرہ رمضان المبارک: (حصہ دوم)

پارہ سترہ
===============================================================
(21) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ انبیاء ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 4
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ قیامت کا وقت اب قریب آگیا ہے مگر افسوس کہ تم دنیا کے دھندوں میں پھنس کر آخرت سے غافل پڑے ہو۔ ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری مانند ایک بشر ہی تو ہے کیا تم اس کا سحر مانتے ہو؟ اسے کہو کہ کوئی نشانی لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی مرد ہی نبی بھیجے۔ ان سے پوچھیں کہ کیا وہ کھاتے نہ تھے، ان کے بدن اسی طرح کے نہ تھے اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔

رکوع 2۔۔۔۔ دیکھو ہم نے کتنی بستیاں جو گنہگار تھیں، ہلاک کردیں۔ ان کی جگہ دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب وہ بھی شرک میں مبتلا ہوئے اور ہمارے رسولوں کا کہا نہ مانا تو عذاب نے ان کو گھیر لیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔ زمین و آسمان کی تخلیق تفریحاً نہیں کی، یہ مقصد کے تحت ہے۔ انسان کو بھی زندگی کھیل کود ہی میں نہ گزارنی چاہیے یہاں حق و باطل کی جنگ رہتی ہے۔ باطل بڑھ جائے تو اسے نیست و نابود کردیا جاتا ہے۔ انسان کو حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ کائنات کی سب مخلوقات دن رات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور تیرے سوا کوئی شے سرکشی نہیں کرتی نہ اس کے حکم کی ادائیگی میں کاہلی دکھاتی ہے۔ معبود تو ایک اللہ ہی ہے وہی عرش کا مالک ہے اور اس کا کوئی مددگار نہیں۔

رکوع 3۔۔۔۔ کائنات کی پیدائش کی تفصیل بیان فرمائی۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ ہر زندہ کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ خیر و شر کے ذریعے آزمائش ہوگی اور ہر نیک و بد کو اور ہر فرد کو ایک دن اپنے خالق کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ کاش دینِ حق کے منکر اس وقت کو جان سکتے جب دوزخ کی آگ ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، انہیں جلائے گی اور کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوگا اور انہیں کوئی مہلت نہ مل سکے گی۔

رکوع 4۔۔۔۔ حق تعالیٰ اگر تمہیں پکڑنا چاہے تو تمہیں کون پناہ دے سکتا ہے؟ جن فرضی خداؤں پر تم تکیہ کیے ہوئے ہو وہ بیچارے تو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ جان لو کہ متاع زیست دینے والی واحد ذات اللہ ہی ہے۔ جو لوگ ہدایت حاصل نہیں کرنا چاہتے تو آخرکار تباہی سے ہمکنار ہوں گے۔ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ ہر ایک کا رائی کے برابر عمل بھی ضائع نہ ہوگا۔ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو تورات دی تھی اور اب قرآن نازل فرمایا ہے جس میں پچھلی کتابوں کا خلاصہ درج ہے۔ کیا ایسے فائدہ مند نصیحت نامہ کا اقرار کرتے ہو؟
===============================================================​
 
آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
چودہ رمضان المبارک:
پارہ سترہ سورۃ الانبیاء رکوع 5تا 7
پارہ سترہ سورۃ الحج رکوع 110
پارہ اٹھارہ سورۃ المومنون رکوع 1تا 6
پارہ اٹھارہ سورۃ النور رکوع 1تا 2​
===============================================================
(21) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الانبیاء (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 5تا 7
===============================================================​

رکوع 5۔۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت حق اور ان کی قوم کے رد عمل کا ذکر فرمایا۔ قوم نے بتوں کی مخالفت کے جرم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں ڈالا تو اللہ نے اپنے بندے کی مدد کی اور آگ کو حکم دیا کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا تاکہ ابراہیم علیہ السلام تیرے اندر آرام سے صحیح سلامت رہیں۔ یوں حق و صداقت کا بول بالا ہوا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کو عراق سے شام پہنچایا اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام انعام میں دیئے اور انہیں پیشوا بنایا اور انہیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ اداکرنے کا حکم دیا۔ لوط علیہ السلام کو سمجھ اور دانائی دی اور گندے کام کرنے والوں کی بستی سے بچاکر نکالا اور اپنی رحمت میں لے لیا۔

رکوع 6۔۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، اسمٰیل علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، ذوالکفل علیہ السلام، یونس علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ یہ سب اپنے خالق کو پکارنے والے اور صرف اسی کے آگے جھکنے والے تھے۔ پھر حضرت مریم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قدرت کی نشانی بتایا۔

رکوع 7۔۔۔۔ جو صاحبِ ایمان اعمالِ صالح کی بجاآوری میں محنت و سعی کرے گا اس کی محنت اور کوشش رائیگاں نہ جائے گی کیونکہ ہر عمل اللہ کے ہاں قلمبند ہورہا ہے۔اور جس بستی کا مقدر تباہی ہوچکا وہ کسی صورت شرک و سرکشی چھوڑ کر توحید اور فرمانبرداری کی راہ پر نہ آئیں گے۔ پھر علاماتِ قیامت بیان فرمائیں۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو، دوزخ کا ایندھن ہیں۔ اگر یہ بت معبود ہوتے تو دوزخ تک نہ جاتے جبکہ مقبول بندے جنت کی راحتوں بھری دنیا میں ہوں گے اور انہیں جنت کی سرزمین کا وارث بنایا جائے گا۔
لوگو! رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے، جنہوں نے اعلان کیا کہ تمام انسانوں کا معبود، معبودِ واحد ہی ہے۔ پس اسی کے آگے سرِ تسلیم خم کرو اور یقین کرو کہ وہ ہر بات کو جانتا ہے جو برملا کہی جائے یا صیغۂ راز میں رکھی جائے۔

===============================================================
(22) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ حج ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 10
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ قیامت کے دن دودھ پلانے والی بچوں کو دودھ پلانا بھول جائیں گی۔ حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے۔ اللہ کا عذاب دیکھ کر لوگوں کے ہوش اڑے ہوں گے۔ بعض بے علم اللہ کے متعلق جھگڑتے اور ابلیس کے پیرو ہیں۔ شیطان کے رفیقوں کا راستہ دوزخ کو پہنچتا ہے۔ اگر تم کو دوبارہ جی اٹھنے پر شک ہے تو غور کرو کہ کس طرح تمہیں ایک قطرہ پانی سے بنایا، پھر کوئی بچپن یا جوانی میں مرجاتے ہیں، کچھ بڑھاپے تک زندہ رہتے ہیں۔ پھر زمین پر غور کرو کہ پانی برسنے سے کس طرح سرسبز ہوجاتی ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ قیامت آنے میں کوئی شبہ نہیں جب سب مُردے اٹھائے جائیں گے۔ بدکاروں، خود پرستوں، ٹیڑھی عقل والوں کو دوزخ کی دہکتی آگ میں جانا ہے۔

رکوع 2۔۔۔۔ متزلزل یقین دنیا اور آخرت گنوا بیٹھتا ہے۔ شرک تباہی کا سبب ہے اور نیکو کاروں کا بدلہ جنت ہے۔ بندگی کا تقاضا ہے کہ بندہ مالک کا ہر حکم سرِتسلیم خم کر کے بخوشی قبول کرے۔ قیامت کے دن اللہ مسلمان، یہود، صابی، نصاریٰ، مجوسی اور مشرکین مکہ کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا، اس لئے کہ اللہ ہر ایک پر چشم دید گواہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور جو اس اکیلے کے حضور سجدہ ریزی کو گراں سمجھتا ہے اس کو آخرت میں آگ کا لباس پہنایا جائے گا (السجدہ)۔ ان پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔ لوہے کے گرز مارے جائیں گے اور اگر نکلنا چاہیں تو واپس دھکیل دیئے جائیں گے۔

رکوع 3۔۔۔۔ ایمان والوں کو انعامات سے نوازا جائے گا اور جنت ان کا دائمی ٹھکانہ ہوگا اور منکرین مسلمانوں کو مسجد الحرام جانے سے روکتے تھے انہیں دردناک عذاب ملے گا۔

رکوع 4۔۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ یہاں بیت اللہ بنائے جس میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی اور اسے پاک رکھا جائے طواف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے۔ اور لوگوں کو اس کے حج کے لئے پکارے۔ وہ قربانی دیں اور اس گھر کا طواف کریں۔ فقط اللہ کی عبادت کرو۔ جھوٹ سے بچو اور دوسروں کو دھوکا نہ دو اور شرک تباہ کن ہے۔

رکوع 5۔۔۔۔ اللہ نے ہرامت کے لیے قربانی کو عبادت قرار دیا اور یہ کہ ذبح صرف اللہ کے نام پر کیا جائے جو تمام انسانوں کا واحد رب ہے۔ خوشخبری دیں ان کو جن کے دل اللہ کی عظمت و جلال کے تصور سے لرز جاتے ہیں، مصائب و آلام، صبر و استقلال سے برداشت کرتے ہیں۔ نماز پابندی سے ادا کرتے اور خوشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کے پاس گوشت اور لہو نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا اخلاص اور فرمانبرداری کا جذبہ پہنچتا ہے۔

رکوع 6۔۔۔۔ مشرکین مکہ سے لڑائی کی اجازت مل گئی۔ ایمان والوں کی پہچان یہ ہے کہ جب ان کو اقتدار ملے تو ہ نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں، اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ لیکن انجام ہر بات کا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔پھر منکروں کا تذکرہ فرمایا جن کا انجام تباہی تھا۔

رکوع 7۔۔۔۔ ارشاد ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیں کہ میں تو تمہیں تمہارے اعمال کے نتیجوں سے خبردار کرنے والا ہوں۔ جو یقین اور نیک کام کریں ان کی بخشش ہوجائے گی اور منکروں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ شیطان تو نبیوں کے پیغام میں شبہے ڈالتا رہا ہے اور پختہ یقین کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اللہ سیدھا راستہ دکھا دے گا۔ مگر منکر صراطِ مستقیم نہ پاسکیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ پھر اس دن یقین کے ساتھ بھلائیاں کرنے والے جنت اور منکروں کے لیے ذلت کا عذاب ہوگا۔

رکوع 8۔۔۔۔ گھر، وطن اور جاں نثار کرنے والوں کو اللہ آخرت میں عمدہ روزی اور پسند کی جگہ عطا کرے گا۔ اللہ نے مظلوم کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔ وہی سچا معبود ہے اس کے سوا لوگوں کے بنائے ہوئے سب معبود جھوٹے ہیں۔ وہی سب سے بلند اور برتر ہے۔ اس سے بڑا کوئی نہیں۔ وہی آسمان سے پانی برساکر زمین کو سر سبز کرتا ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے کا مالک بڑا خوبیوں والا بے پرواہ ہے۔

رکوع 9۔۔۔۔ اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان کیں۔ فرمایا کہ ہر اُمت کے لیے بندگی کی ایک راہ مقرر کردی گئی ہے۔ لوگ اس میں نہ مین میخ نکالیں نہ فضول جھگڑے کریں۔ اللہ قیامت کے دن تم میں فیصلہ کردے گا۔ افسوس کہ لوگ اس کو چھوڑ کر ایسوں کی بندگی کرتے ہیں جن کی ان کے پاس نہ سند ہے نہ دلیل۔ جب ان کے روبرو تلاوت کی جاتی ہے ان کے چہرے خبث باطنی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ انجام کار انہیں آگ کا ایندھن ہی تو بننا ہے۔

رکوع 10۔۔۔۔ سنو جو لوگ اللہ کے سوا تمہارے معبود بنے بیٹھے ہیں وہ سب مل کر ایک مکھی بھی نہیں بناسکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو چھڑا نہیں سکتے۔ یاد رکھو کائنات میں صرف اللہ ہی غالب اور طاقت ور ہے۔ ایمان والوں کا یہی کام ہے کہ رکوع کریں، سجدہ کریں، اپنے رب کی بندگی کریں، بھلائی کریں تاکہ ان کا بھلا ہو۔ احکام الٰہی بجالانے میں اپنی جان و مال سب کچھ لگادو۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے منتخب کیا۔ تمہارا نام مسلم رکھا۔ قرآن کے ذریعے ہدایت دی اور اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ جو کچھ تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے آنے والوں کو سکھاؤ۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو مضبوط پکڑو، وہی تمہارا کارساز ہے، مالک و مددگار ہے۔

جاری۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین
چودہ رمضان المبارک: (حصہ دوم)

پارہ اٹھارہ
===============================================================
(23) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ المومنون ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 6
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ فلاح حاصل ہوئی ایمان والوں کو جو نماز میں جھکنے والے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور نکمی باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی ضرورت اپنی بیویوں سے پوری کرتے ہیں۔ امانتوں اور عہد کا پورا کرتے ہیں، نمازوں سے خبردار رہتے ہیں، وہی جنت کے وارث ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ پھر انسان کی پیدائش اور زندگی کے بعد کے مرحلے بیان فرمائے۔ فرمایا کہ ہم نے آسمان سے پانی ناپ کر برسایا۔ تمہارے لئے باغات اُگائے، ان میں میوے پیدا کیے اور پینے کو مویشیوں کے پیٹ سے دودھ۔ تم ان سے کھانے کو گوشت، سواری اور باربرداری کا کام بھی لیتے ہو اور کشتی پر سوار ہوتے ہو۔

رکوع 2۔۔۔۔ نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کے پاس ہدایت پہنچانے کو بھجوایا۔ قوم نے انکار کیا تو ہم نے اسے کشتی بنانے کا حکم دیا کہ اس میں ہرچیز جوڑا جوڑا ڈالےاور گھر والوں بھی۔ پھر ہم نے ظالموں کو طوفان میں غرق کردیا اور پھر ایک اور قوم پیدا کی۔

رکوع 3۔۔۔۔ اس قوم بھی وہی ٹیڑھی راہ اختیار کی۔ منکروں نے کہا کہ حقیقت میں یہی اس دنیا کی زنگدگی ہے۔ اس کے بعد جزا اور سزا کچھ نہیں۔ یہ ایک آدمی (رسول) ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھ لایا ہے اور یہ بات ہم نہیں مانتے۔ رسول علیہ السلام نے اللہ سے مدد مانگی کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو اللہ نے عذاب نازل کیا اور انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا۔ اس کے بعد ہم لگاتار رسول بھیجتے رہے۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ فرعون اور اس کے سردار متکبر تھے انہوں نے حق بات کو جھٹلایا اور غارت ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہ السلام کو بھی نشانی بنایا۔

رکوع 4۔۔۔۔ دین ایک ہی ہے اور رسولوں سے فرمایا کہ وہ نمونہ بن کر رہیں۔ فرقہ بندی بری چیز ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے خوف کھاتے ہیں، اس کی باتوں میں یقین رکھتے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے، صدقہ و خیرات دیتے ہیں اور انہیں آخرت کا یقین ہے۔ بھلائی اور نیکیاں حاصل کرنے میں سب سے آگے آگے ہیں، وہی کامیاب ہیں۔ ہم کسی کی برداشت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ جب منکر عذاب کے شکنجے میں آئیں گے تو چلائیں گے، اس دن کی چیخ و پکار نہ سنی جائے گی۔ ان کے پاس رسول آتے رہے لیکن انہوں نے نہ پہچانا اور کہتے اسے سودا (جنون) ہے۔ اصل میں نادانوں کو سچی بات کڑوی لگتی ، سو یہ عذاب ان کی کرتوتوں کا بدلہ ہے۔

رکوع 5۔۔۔۔ اللہ نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیا کہ ان سے ٹھیک ٹھیک کام لو۔ تم آخر اس کے سامنے پیش ہوگے، وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ یہ لوگ وہی کہتے ہیں جو ان کے باپ دادا کہتے تھے۔ ان سے پوچھو کہ اس کائنات کا مالک کون ہے؟ سب کچھ اسی کے حکم کے تابع ہے، وہ دوبارہ زندہ کرے گا اور جزا و سزا دے گا۔ اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے۔

رکوع 6۔۔۔۔ اللہ کے غضب سے پناہ مانگو اور کہو کہ اے رب! اگر میری زندگی میں تیرا عذاب ان نافرمانوں پر آنے والا ہے تو مجھے ان کے ساتھ عذاب میں شریک نہ کرنا اور اپنی رحمت سے تمام آفتوں سے محفوظ رکھنا۔ فرمایا جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ قرابتیں رہیں گی نہ کوئی ایک دوسرے کو پوچھے گا۔ پھر حشر میں جن کے اعمال بھاری ہوں گے جنت میں جائیں گے اور ہلکے اعمال والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ جہاں آگ ان کے منہ جھلس دے گی۔ یہی تھے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر انہیں پچھتاوا ہوگا۔ زندگی کھیل نہیں، دارالعمل ہے۔ تمہارے اعمال کا بڑا زبردست نتیجہ نکلے گا یا تو جنت میں داخل ہوکر آرام کرو گے یا دوزخ کی دہکتی آگ میں نہ جانے کب تک جلو گے۔ اللہ کے سوا کوئی مالک و معبود نہیں اور منکروں کا بھلا نہ ہوگا اور تو رب سے معافی اور رحم مانگ وہ سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے۔

===============================================================
(24) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النور ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1تا 2
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1۔۔۔۔ یہ سور ۃ ہماری نازل کردہ ہے اور اس میں دیئے گئے احکام ہم نے فرض قرار دیئے ہیں۔ زناکار مرد اور زناکار عورت کی سزا ہر ایک کو سو،سو کوڑے مارو۔ ان پر ترس نہ کھاؤ۔ زانی مرد زانیہ عورت یا مشرکہ کے ساتھ ہی نکاح کرے اور زانیہ عورت زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرے اور اہل ایمان کے لیے حرام ہے کہ فاجروں کو اپنی لڑکیاں دیں۔ اسی طرح زانیہ کسی مومنِ صالح کے لیے موزوں نہیں۔ جو لوگ پاک عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو ان کی سزا 80کوڑے ہے۔ ان کی گواہی کبھی قبول نہ ہوگی وہ فاسق ہیں سوائے اس کے کہ وہ تائب ہوجائیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ پھر بیوی پر تہمت اور لعان کا معاملہ بیان ہوا۔

رکوع 2۔۔۔۔ واقعہ افک بیان ہوا اور فرمایا کہ بہتان غلط تھا اور مسلمانوں کو بھی چاہیے تھا کہ اس بے ہودہ خبر کو سن کر اچھے گمان کا اظہار کرتے۔ جو لوگ اس گناہ میں شریک ہوئے ان کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تم منافقوں کی فریب کاریوں کو نہیں جانتے تمہیں ان کی باتوں میں نہ آنا چاہیے۔ اس فتنہ کا وبال سب پر پڑتا لیکن اللہ نے اپنے فضل اور رحمت سے اسے رفع دفع کردیا ہے۔ یہ اس کی مہربانی اور شفقت تھی جس سے تم بچ گئے ورنہ تمہیں نہ معلوم کیا ہوتا۔
 

تجمل حسین

محفلین
پندرہ رمضان المبارک:
پارہ اٹھارہ سورۃ النور رکوع 3 تا 9
پارہ اٹھارہ سورۃ الفرقان رکوع 1 تا 2
پارہ انیس سورۃ الفرقان رکوع 3 تا 6
پارہ انیس سورۃ الشعراء رکوع 1 تا 11
پارہ انیس سورۃ النمل رکوع1​

===============================================================
(24) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النور (جاری) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 3 تا 9
===============================================================​

رکوع 3 ۔۔۔۔ اے ایمان والو! شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو وہ تو صرف بدی اور فحش باتوں کا ہی حکم دیتا ہے اور جان لو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کبھی ایک شخص بھی نہ سنورتا۔ اور تم میں سے مال دار لوگوں کو اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھنا چاہیے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں درگزر کرنا چاہیے اگر چاہتے ہیں کہ اللہ ان سے درگزر کرے اور انہیں معاف کرے اور اللہ غفورالرحیم ہے۔ مومن پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت اور بڑا عذاب ہے۔ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے صاحب خانہ سے اجازت لو اور اہلِ خانہ کو بلند آواز میں سلام کہو۔ اگر صاحب خانہ کسی وجہ سے ملنے سے معذرت چاہے تو خوش دلی سے لوٹ جاؤ البتہ غیر مسکونہ مکانات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں۔ مومنات بھی نظریں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوند، اپنے باپ، اپنے خاوندوں کے باپ، اپنے بیٹے، اپنے خاوندوں کے بیٹے، اپنے بھائی، بھتیجوں، بھانجوں، اپنی عورتوں، لونڈیاں، باندیاں اور چھوٹے بچوں پر۔ عورتیں اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں کہ زیور کی جھنکار سنائی دے اور ڈھکی ہوئی زیب و زینت ظاہر ہو اور آس پاس کے لوگ اس طرف متوجہ ہوں۔ اپنے بن بیاہے مردوں، عورتوں اور اپنے نیکوکار غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرو۔ جنہیں نکاح نہ ملے صبر کریں۔ لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کریں۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور وہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ کے عبادت گزار بندے مساجد میں باقاعدہ حاضر ہوتے ہیں، صبح و شام اس کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔ دنیوی کاروبار ان کو مقررہ اوقات میں ذکر کرنے سے نہیں روکتا۔ وہ آخرت سے ڈرتے ہیں کہ اس دن اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ منکروں کے عمل چونکہ اللہ کے نور سے خالی ہوتے ہیں، وہ صحرا میں پیاسے کی طرح ہیں کہ دور سے تو پانی نظر آئے اور نزدیک پہنچے تو کچھ نہ پائے۔ یہ اچھے برے میں فرق نہیں کرتے، دنیا کے مزے میں پھنسے رہتے ہیں، ان کی حالت بڑی ہولناک ہے۔ ان پر تہ بہ تہ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں اور جو اللہ پر ایمان نہ لائے، اللہ اسے روشن نہ کرے تو اسے روشنی نصیب نہیں ہوسکتی۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ کیا دیکھا نہیں کہ زمین و آسمان میں ہر چیز اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے۔ پرندے پر پھیلائے اسی کے گن گارہے ہیں تو انسان کیوں غافل ہے۔ ارض و سماء پر اسی کی حکومت ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ دیکھو اللہ کس طرح بادلوں کو تہ بہ تہ لا رہا ہے، پھر مینہ برساتا ہے۔ اسی طرح اللہ دیگر نشانیاں، بجلی کی چمک، اولوں کا گرنا، رات اور دن کا بدلنا، جانداروں کا ظہور اور ان کا مختلف طریقوں سے حرکت کرنا، بیان فرماتا ہے۔ بعض منہ سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں اور جب عمل کا موقع آئے تو کترا جاتے ہیں۔ اصل میں یہ ایمان ہی نہ لائے تھے۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ سچا اور حقیقی ایماندار وہ ہے جو خود کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع فرمان بنالیتا ہے اور ان کے ہر فیصلہ پر راضی ہو، خواہ وہ اس کی خواہش و مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگ ہی کامیاب و کامران ہوں گے۔ ہمیں زبانی جمع خرچی اور لمبی چوڑی قسمیں نہیں، دستور کے مطابق تابعداری مطلوب ہے۔ یاد رکھو اللہ کو ہر کام کی خبر ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو ایمان لائے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عمل کرے آئندہ اس زمین پر حاکم بنایا جائے گا مگر شرط یہ ہے کہ میری عبادت کرو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، ناشکری نہ کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر چلو۔ یادرکھو منکروں کا ٹھکانہ تو آگ ہے۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ مسلمانوں تمہارے خادم اور نابالغ بچے تمہاری اجازت کے بغیر کے بغیر فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو آرام کے وقت اور عشاء کی نماز کے بعد تمہارے خلوت کدوں میں داخل نہ ہوں۔ یہ وہ اوقات ہیں کہ تم اپنے زائد کپڑے اُتار کر رکھ دیتے ہو۔ ان اوقات کے علاوہ نابالغ بچے بغیر اجازت گھر میں آجا سکتے ہیں لیکن جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا حکم مردوں کا سا ہے۔ ارشاد ہوا کہ بوڑھی عورتیں گھر کے اندر اوپر کے کپڑے اتار رکھیں تو مضائقہ نہیں لیکن اگر وہ بھی پردہ داری کریں تو یہ بہتر ہے۔ اندھے، لنگڑے، بیمار اور خود تم پر کوئی پابندی نہیں کہ کھانا گھر سے، باپ دادا کے ہاں سے قرابت داروں کے گھروں سے کھاؤ یا دوستوں کے ہاں سے، نہ پابندی ہے کہ علیحدہ علیحدہ یا سب مل کر کھاؤ۔ مگر یہ پابندی ہے کہ دوسرے کے گھر میں داخل ہو تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہو۔

جاری۔۔۔۔۔
 

تجمل حسین

محفلین
پندرہ رمضان المبارک: (حصہ دوم)

رکوع 9 ۔۔۔۔ ایمان والے وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین لائے اور جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اجتماعی کام کے لیے بلائیں تو فوراً حاضر ہوجائیں اور کام ختم ہونے تک بلا اجازت واپس نہ ہوں۔ اور جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو جسے چاہیں اجازت دے دیا کریں اور اللہ سے ان کے لیے مغفرت مانگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ جان لو کہ اللہ کے حکموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ارض و سماء کی ہر چیز اللہ کی ہے، وہ تمہارا حال کلی طور پر جانتا ہے، اسے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ اس دن وہ تمہارا کچا چٹھا کھول کر تمہارے سامنے رکھ دے گا، ابھی سمجھ لو کہ اس سے ڈرنا چاہیے۔
===============================================================
(25) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الفرقان ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 6
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ وہ ذات پاک اور بڑی حکمت والی ہے جس نے حق و باطل کی تمیز کے لیے قرآن حکیم نازل فرمایا۔ اور اپنے ایک برگزیدہ بندہ کو اسے سنانے اور انسانوں کو برے اعمال سے ڈرانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ اللہ کی سلطنت آسمانوں اور زمین پر ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ ہی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی یا شریک ہے۔ عجیب بات ہے کہ لوگوں نے اس کے سوا بھی معبود تجویز کررکھے ہیں جو کوئی چیز نہ بناسکیں بلکہ خود بنائے گئے ہیں اور وہ اپنے حق میں برے بھلے کے مالک نہیں نہ ہی مرنے، جینے اور مرکر جی اٹھنے کے۔ منکروں نے کہا قرآن بھی کچھ نہیں یہ تو پہلوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ یہ اس نے اتارا جو زمین و آسمان کے بھید جانتا ہے۔ پھر انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے پر اعتراض کیا کہ یہ تو کھانا کھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے۔ اس کے ساتھ فرشتہ ہوتا یا خزانہ ہوتا یا باغ ہوتا کہ فراغت کے ساتھ کھانا کھاتا۔ یہ تو بہکے ہوئے لوگ ہیں جو راستہ نہیں پاسکتے۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ اللہ چاہے تو اس سے بہتر دے سکتا ہے لیکن یہ تو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لیے ہم نے آگ بنا رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتادیں کہ پرہیز گاروں سے دائمی باغ کے ٹھکانے کا وعدہ ہوچکا ہے جو ان کا بدلہ ہوگا اور اس دن جھوٹے معبودوں سے بازپرس ہوگی کہ کیا تم نے میرے بندوں کو بہکایا یا وہ خود راہ سے بھٹکے۔ وہ کہیں گے تو پاک ہے، ہمارے لائق نہ تھا کہ انہیں اپنی پوجا کو کہتے لیکن تو نے ان کے باپ دادا کو آسودہ کردیا تھا کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ تباہ ہونے والے لوگ تھے اور مشرکوں کو عذاب دیا جائے گا۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ یہ متکبر لوگ ہیں کہ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ اترے یا ہم رب کو دیکھ لیتے۔ ارشاد ہوا کہ جس دن فرشتے تمہارے سامنے آئیں گے ان مجرموں کی کم بختی آجائے گی۔ اس دن بہشت کے لوگوں کا ٹھکانہ اچھا ہوگا۔ روزِ قیامت جب آسمان پھٹ جائے گا، آسمان سے بے شمار فرشتے اتریں گے۔ دربارِ الٰہی قائم ہوگا، منکروں پر یہ دن بھاری ہوگا۔ اس دن گنہگار حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ میں نے فلاں فلاں کو دوست کیوں بنایا کہ اس نے مجھے سیدھی راہ سے ہٹایا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہے گا میرے رب! میری قوم نے قرآن کو بے کار سمجھ لیا تھا۔ منکر کہنے لگے کہ قرآن کو ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا۔ یہ اس لئے تھا کہ اس کے ذریعے تیرے دل کو قوی رکھیں اور اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی اور ایک ساتھی ہارون علیہ السلام دیا۔ پھر جنہوں نے ہماری باتوں کو جھٹلایا انہیں نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح قوم نوح، عاد اور ثمود کی نافرمانی اور تباہی کا احوال بیان ہوا۔ فرمایا تو نے اس شخص پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے راہِ راست پر لانے کا ذمہ لیتے ہیں۔ لیکن یہ تو جانوروں کی طرح ہیں جو سنتے سمجھتے نہیں۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ تیرے رب نے سائے کو کیسا لمبا کیا وہ چاہتا تو ٹھہرا رکھتا۔ پھر رات کو اوڑھنا بنایا، نیند کو آرام اوردن کو کام کاج کے لیے بنایا اور وہی ہے جو بارش سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے۔ انسان کتنا نادان ہے کہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتا ہے جو اسے نہ نفع دے سکیں نہ نقصان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیں کہ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے، میرا مقصد تو صرف تم کو اللہ کی طرف پہنچنے کی راہ بتانا ہے۔ ارشاد ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حیّ و قیّوم پر بھروسہ رکھیں، اس کی خوبیاں بیان کریں، وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ مشرک لوگ کیا ہیں جب ان سے کہو کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمٰن کون ہے (السجدہ)۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ یہ باقاعدہ نظام ہے جسے دیکھ کر اگر عقل والے چاہیں تو اللہ عزوجل کو بہ آسانی پہچان سکتے ہیں اور اس کی شکرگزاری اپنے اوپر لازم کرسکتے ہیں۔ رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر دبے پاؤں چلتے ہیں۔ ناسمجھ لوگوں کو نرم جواب دیتے ہیں تاکہ شر نہ بڑھے۔ رات اللہ کے حضور سجدہ و قیام میں گزارتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ الٰہی ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا اور جہنم سے ہمیں دور رکھ۔ پھر نیکوں کی کچھ اور صفتیں بیان فرمائیں۔ خرچ میں میانہ روی برتتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں پکارتے، ناحق کسی کا قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے۔ جو اللہ کے قانون کو نہ مانے اسے قیامت کے دن دوگنا عذاب ہوگا مگر جس نے توبہ کی، نیک عملی اختیار کی اور اللہ کی طرف پلٹا جیسے پلٹنے کا حق ہے۔ اللہ کے بندے جھوٹ میں شامل نہیں ہوتے اور نہ دغا، فریب، جعلسازی میں حصہ لیتے ہیں اور جب ان کو رب کی باتیں سمجھائی جائیں تو توجہ سے سنتے اور اثر لیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ الٰہی ہم کو ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔ ان لوگوں کو جنت کے محلات میں رکھا جائے گا۔ اور جو لوگ نہ اللہ کو پکاریں گے نہ دینِ حق پر عمل کریں گے تو اللہ کو بھی ایسے بے غیرتوں کی پرواہ نہیں وہ عنقریب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔

===============================================================
(26) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ الشعراء ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1 تا 11
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے​

رکوع 1 ۔۔۔۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی بدبخت دین حق کو نہیں مانتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو کیوں ہلکان کرتے ہیں۔ منکرین کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبروں کا بتایا ہوا راستہ درست ہے لیکن ہم اپنی آبائی جہالت میں مبتلا غلطی پر تھے۔ اگر یہ ایمان لانا چاہتے تو زمین پر قدرت کی اَن گنت نشانیاں بکھری ہوئی ہیں وہ انہیں دیکھ کر گردنیں عاجزی سے جھکا دیتے لیکن اکثر نے بے ایمانی پر کمر باندھ رکھی ہے جبکہ تمہارا پروردگار زبردست رحم کرنے والا ہے۔

رکوع 2 ۔۔۔۔ پچھلے زمانہ کے حالات بتاتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزات، عصائے موسیٰ اور یدِ بیضاء کا احوال بتایا۔

رکوع 3 ۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ، جادوگروں کا ہارنا اور ایمان لانا اور فرعون کے غضبناک ہونے کا قصہ بیان ہوا۔

رکوع 4 ۔۔۔۔ جادوگروں کی ہار کے بعد فرعون سرکشی سے باز نہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام کو راتوں رات مصر سے نکلنے کا حکم دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کا سمندر پار کرنا، فرعون کا لشکر سمیت پیچھا کرتے سمندر میں داخل ہونا، پانی کا مل جانا اور ان کا سمندر میں غرق ہونے کے واقعات بیان فرمائے۔

رکوع 5 ۔۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام نے باپ اور قوم کو کہا کہ کیا مورتیاں سنتی ہیں یا کسی کا برا بھلا کرتی ہیں تو جواب ملا کہ ہم تو آبا و اجداد کو ایسا ہی کرتے دیکھتے آئے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا ر تو مجھے راہ دکھاتا اور کھلاتا پلاتا ہے۔ پھر اس نے دعا کی “الٰہی مجھے نیکوں میں شامل کردے، میرا ذکرِ خیر میرے بعد آنے والے لوگوں میں باقی رکھ، مجھے جنت کا مستحق اور وارث بنا۔ میرے باپ کی ہدایت کر جو اس کی مغفرت کا باعث ہو۔ قیامت میں مجھے رسوا نہ کر۔ جو اللہ کے سامنے کفرو شرک سے محفوظ دل لے کر حاضر ہوگا وہی فلاح پائے گا اور متقیوں کو جنت میں ڈالا جائے گا اور نافرمان گمراہی میں مبتلا جہنم میں جائیں گے۔ یہ لوگ اقرار کریں گے ہم صریح غلطی پر تھے۔

رکوع 6 ۔۔۔۔ قوم نوح کے رسولوں کو جھٹلانے اور غرق ہونے کا واقعہ بیان۔

رکوع 7 ۔۔۔۔ قوم عاد کی نافرمانی، حضرت ہود علیہ السلام کا قوم کو سمجھانا، قوم کا انکار اور ان پر تباہی کا آنا بیان کیا گیا۔

رکوع 8 ۔۔۔۔ قوم ثمود کی نافرمانی اور تباہی کا احوال۔

رکوع 9۔۔۔۔ قوم لوط کی نافرمانی اور ان کا برا انجام بیان فرمایا۔

رکوع 10 ۔۔۔۔۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا قوم کو ہدایت کرنا کہ اللہ سے ڈرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو، ترازو سیدھے رکھو، کسی کی حق تلفی نہ کرو۔ ملک میں فساد خرابی نہ پھیلاؤ۔ قوم کا ان کی ہدایت کو جھٹلانا اور آخر تباہ و برباد ہو۔

رکوع 11 ۔۔۔۔ قرآن عربی زبان میں اللہ نے اپنے معتبر فرشتے جبریل علیہ السلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اتارا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرانے والا مقرر کیا گیا۔ اس میں پہلی کتابوں کا ذکر بھی ہے اور علمائے بنی اسرائیل اسے خوب پہچانتے ہیں مگر یہ ایمان نہ لائیں گے جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ہم نے کسی بستی کو تباہ نہیں کیا جب تک وہاں ڈرانے والا نہیں بھیجا۔ اللہ کے ساتھ دوسرا معبود مت پکارو اور صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرو جو رحم کرنے والا ہی۔ شیاطی جھوٹے، دغاباز، گناہوں میں لت پت ناپاک لوگوں سے میل رکھتے ہیں۔ شاعر لوگوں کی بنیاد محض تخیل پر ہوتی ہے اس کے برعکس توحید پرست صاحبِ عمل نیکوکار ہوتے ہیں۔
===============================================================
(27) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سورۃ النمل ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رکوع 1
===============================================================​

اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے۔​

رکوع 1 ۔۔۔۔ قرآن صاحبان ایمان کے لیے خوشخبری اور واضح رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور آخرت کے منکروں کے لیے سخت عذاب ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کا کوہِ طور پر جانے، وہاں پیغمبری ملنے، ہدایت حاصل ہونے کا ذکر ہوا۔ پھر فرعون کا تکبر، انکار اور اس کے انجام کا تذکرہ فرمایا۔
===============================================================​
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top