فلسفیانہ مقالہ: پھر مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا!

پھر مسلمانوں کے زوال کا آغال ہوا!
تحریر از: مہدی نقوی حجاز
تقدیر نے مسلمانوں کا ساتھ اسی لمحے چھوڑ دیا جب وہ اتنے کاہل ہو گئے کہ انہوں نے اپنے تمام اعمال اور انکے انجام خدا کو سونپ دیے اور بدلے میں خدائے اپنے ذمے لے لی۔ یعنی انسانوں میں جنت و دوزخ تقسیم کرنے لگے۔ گھروں میں بیٹھ کر فلاں کو کافر اور فلاں کو مسلمان کہنے اور ثابت کرنے کے سوا ان کے پاس کچھ کام نہ رہا۔ تمام انسانی امور سے دست برداری اور شانہ خالی کر چکنے کے بعد اپنے آپ کو انہوں نے جنت کی بشارت سنا دی اور مصلے پر بیٹھ رہے!
مزید اگلی قسط میں!
 

عبدالحسیب

محفلین
صد فی صد متفق۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔
مولانا حالی نے غالباً سو سال قبل جو شعر کہا تھا آج بھی کس قدر صادق آتا ہے امت پر۔

جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے
 
صد فی صد متفق۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔
مولانا حالی نے غالباً سو سال قبل جو شعر کہا تھا آج بھی کس قدر صادق آتا ہے امت پر۔

جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے

تعریفی کلمات کا بے حد ممنون ہوں!
یقینا حالی ایک پہنچے ہوئے مسلم شناس تھے!
 
پھر مسلمانوں کے زوال کا آغال ہوا!
تحریر از: مہدی نقوی حجاز
تقدیر نے مسلمانوں کا ساتھ اسی لمحے چھوڑ دیا جب وہ اتنے کاہل ہو گئے کہ انہوں نے اپنے تمام اعمال اور انکے انجام خدا کو سونپ دیے اور بدلے میں خدائے اپنے ذمے لے لی۔ یعنی انسانوں میں جنت و دوزخ تقسیم کرنے لگے۔ گھروں میں بیٹھ کر فلاں کو کافر اور فلاں کو مسلمان کہنے اور ثابت کرنے کے سوا ان کے پاس کچھ کام نہ رہا۔ تمام انسانی امور سے دست برداری اور شانہ خالی کر چکنے کے بعد اپنے آپ کو انہوں نے جنت کی بشارت سنا دی اور مصلے پر بیٹھ رہے!
آپ نے تو سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کسی نے پوری رامائن اور کتھا کا خلاصہ ان دو لائنوں میں بیان کردیا تھا:
ایک تھا رام، اور ایک تھا راونڑا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اسکی جورو چھینی، اس نے جلایا گاؤنڑا
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
آپ نے تو سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کسی نے پوری رامائن اور کتھا کا خلاصہ ان دو لائنوں میں بیان کردیا تھا:
ایک تھا رام، اور ایک تھا راونڑا۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اس نے اسکی جورو چھینی، اس نے جلایا گاؤنڑا

راونڑا تو سمجھ میں آیا
لیکن یہ گاؤنڑا کیا ہے؟
 
آپ نے تو سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کسی نے پوری رامائن اور کتھا کا خلاصہ ان دو لائنوں میں بیان کردیا تھا:
ایک تھا رام، اور ایک تھا راونڑا۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اس نے اسکی جورو چھینی، اس نے جلایا گاؤنڑا

تعریف کا بہت ہی شکریہ محترم!
 
راونڑا تو سمجھ میں آیا
لیکن یہ گاؤنڑا کیا ہے؟
دراصل کچھ تھوڑا سا لمس پنجابی کا ہوگیا ہے ۔ جیسے اردو زبان میں کسی کا نام حقارت سے لیتے وقت یعنی اس کو قابل عزت نہ سمجھتے ہوئے کہتے ہیں جیسا عامر کو پکارتے وقت اوئے عامرے۔۔۔۔۔ وغیرہ
بعینہ اسی طرح پنجابی زبان میں کسی کو انتہائی حقارت سے پکارتے ہوئے اس کے نام کے ساتھ ڑے کا لفظ نتھی کردیتے ہیں جیسے رشید سے رشیدڑے، جاوید کو جاویدڑے وغیرہ وغیرہ
@باقی محمود احمد غزنوی صاحب بہتر بتا سکتے ہیں کہ گھر کا بھیدی لنکا کیسے ڈھاتا ہے
 
قسط ۲:
بقا کی خاطر زندگی!

زندگی کے مقصد کو فقط اور فقط بقا (survival) جانتے رہے۔ تعلیم و ارتقا پر توجہ کچھ نہ رہی۔ پڑھتے اس لیے تا کہ کھانے کو میسر آ سکے، کبھی یہ سوچ کر تعلیم ہی نہ حاصل کی کہ علم ہے۔ حاصل کرلو۔ ہمیشہ درجہ بندی کے شکاری اور شکار رہے۔ کیا کہیں کہ انہوں نے نظریہ اقتصاد کو ٹھکرا دیا۔ آرام پرست ہو گئے۔ ہمیشہ وسائل کی کمی کا شکوہ ہونٹوں پر ننگِ دانشمندان بنا رہا، اور آخر ڈوبتے ڈوبتے ڈوبے!

مزید اگلی قسط میں!
 
Top