*غزل*

محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے

گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے

مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے

جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے

کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے

ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے

پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب!
’’جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں‘‘ یہاں لگی ہوں درست ہوگا ۔
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی ! ۔ لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔ متروک ہے ۔ ’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔
 
سلامت باشید۔
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
کیا کہنے!
لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔
متفق!
’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔
پتنگے فدا ہو گئے پھر بھی، نوشی
یہ بھی صرف ایک تجویز ہی ہے گو کہ شاعرہ نے طلب نہیں کی۔ :sneaky:
 
بہت خوب!
’’جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں‘‘ یہاں لگی ہوں درست ہوگا ۔
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی ! ۔ لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔ متروک ہے ۔ ’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔

اصلاح اور تجویز کے لیے بےحد شکریہ . سلامت رہیں .
 

عاطف ملک

محفلین
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے

ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
بہت سی دعائیں ہیں آپ کیلیے محترمہ!
سلامت رہیں

پڑھے جا رہا ہوں غزل بر غزل میں
نہ جانے مجھے آج کیا ہو چلا ہے
 
آخری تدوین:
محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے

گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے

مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے

جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے

کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے

ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے

پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
کیا کہنے ۔ خوبصورت

ایک صلاح

پتنگے فدا ہوگئے جبکہ نوشی
 

لاریب مرزا

محفلین
محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے

گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے

مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے

جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے

کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے

ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے

پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
واہ!! بہت خوب!!
 
Top