سلیم کوثر غزل ۔ توفیق بنا دل میں ٹھکانہ نہیں ملتا ۔ سلیم کوثر

محمداحمد

لائبریرین
غزل
توفیق بنا دل میں ٹھکانہ نہیں ملتا
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں ملتا
پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں ملتا
ملتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ ملنے کا بہانہ نہیں ملتا
تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری
ضد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں ملتا
کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں
تم ملتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں ملتا
سلیم کوثر
 
غزل
توفیق بنا دل میں ٹھکانہ نہیں ملتا
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں ملتا
پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں ملتا
ملتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ ملنے کا بہانہ نہیں ملتا
تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری
ضد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں ملتا
کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں
تم ملتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں ملتا
سلیم کوثر
بہت ہی عمدہ، اللہ تعالی نظر بد اور بد نظری سے بچائے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
توفیق بِنا دل میں ٹھکانہ نہیں مِلتا
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں مِلتا

پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں مِلتا

مِلتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ مِلنے کا بہانہ نہیں مِلتا

تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری
ضِد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں مِلتا

کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں
تم مِلتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں مِلتا
 

باباجی

محفلین
واہ واہ
کیا ہی خوبصورت غزل شیئر کی ہے آپ نے
خاص طور سے یہ شعر


مِلتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ مِلنے کا بہانہ نہیں مِلتا​
 
مِلتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ مِلنے کا بہانہ نہیں مِلتا
بہت خوب

شریک محفل کرنے کا شکریہ
شاد و آباد رہیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں​
تم مِلتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں مِلتا​

یعنی
نہیں ملتے ہو مجھ سے تم تو سب ہمدرد ہیں مرے​
زمانہ مجھ سے جل جائے اگر تم ملنے آجاؤ​
واہ کیا خوبصورت انتخاب ہے۔۔۔​
 

بھلکڑ

لائبریرین

مِلتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ مِلنے کا بہانہ نہیں مِلتا​
واہ کیا خوبصورت کلام شئیر کیا ہے
 
Top