عیادت کرنامنع ہے - عطا الحق قاسمی

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

عیادت کرنامنع ہے۔​
ہمارے ایک دوست حال ہی میں طویل علالت کے بعدصحت یاب ہوئے تھے۔موصوف چلنے پھرنے کے قابل ہوئے توپہلا"بیان"انہوں نے عیادت کرنے والوں کے خلاف داغا۔بولے"تمہیں پتہ ہے بیماری میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کس نے پہنچائی؟''۔
"کس نے؟''میں نے پوچھا
"عیادت کرنے والوں نے"دوست نے جوابدیا
"وہ کیسے؟''
"وہ ایسے کہ صبح سےشام تک ان کاتانتابندھارہتاتھا،ایک آتا،دوسراجاتاتھا۔''
"یہ تواچھی بات ہے،اپنوں اورغیروں کاپتہ ایسے مواقع ہی پرچلتاہے!"۔
"میں نے کب کہاکہ یہ اچھی بات نہیں!"۔
"تمہاری باتوں سے تومجھے یہی محسوس ہوا!''
"تم نے ابھی میری بات سنی کب ہے؟ یہ عیادت کرنے والے میری حالت دیکھ کرایسے مغموم چہرے بناتے تھے کہ لگتاتھاکہ مجھ سے زیادہ دکھی یہ ہیں۔''
"ظاہرہے عزیزواقارب کودکھ توہوتاہی ہے۔''
ہاں!تمہاری بات اصولی طورپرٹھیک ہے۔غلط تویہ اس وقت ثابت ہوئي جب ان میں سے کچھ نے کہاکہ کوئی مسئلہ ہوتوہمیں بتاؤاس پرمیں نے ان کاشکریہ اداکیالیکن انہوں نے اصرارکیاکہانہیں ہمیں خدمت بتاؤہم تمہیں صحت یاب دیکھناچاہتے ہیں!''
"پھرکیاہوا؟
"میں سمجھاکہ وہ خلوص دل سے اس مشکل وقت میں میرے کام آناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ایک سے جھجکتے جھجکتے"میری علالت کی وجہ سے بچے سکول نہیں جارہے کیونکہ انہیں لانے لے جانے والاکوئی نہیں جس سے ان کی تعلیم کاحرج ہورہاہے،آپ اپنے بچوں کوسکول چھوڑںئے جاتے ہیں،رستے میں میری بچوں کوبھی "پک"کرلیاکریں۔''
"توکیاانہوں نے انکارکردیا۔"
"نہیں!پورے ایک ہفتے تک بچوں کولے جاتے رہے،اس کے بعدانہوں نے شکل ہی نہیں دکھائی!"
"یہ توواقعی بری بات ہے!"
"ابھی تومیں نے تمہیں اوربھی بہت سی بری باتیں سنانی ہیں۔''
"مثلا"
"مثلایہ کہ میری بیوی میری دیکھ بھال کرتے کرتے خودبیمارہوگئی،اس پرمیں نے اپنے ایک غم خوارسے کہاکہ آپ آج کی رات میری دیکھ بھال کے لیے یہاں رک جائیں،میں کل کوئی اورانتظام کرلوں گا۔انہوں نے خندہ پیشانی سے کہا
"کیوں نہیں،کیوں نہیں میں گھراطلاع دے کرابھی آتاہوں"میری تھوڑی دیربعدان کی جگہ ان کی بیوی کافون آیاکہ گھرآتے ہی انہیں تیزبخارہوگیاہے اس لیے وہ نہیں آسکیں گے!"
"چلوچھوڑویار!کوئی اوربات کرو!"میں نے بدمزہ ہوکرکہا۔
"کیسے چھوڑوں!مجھے توان خالی عیادت کرنے والوں سے چڑہوگئی ہے۔شکرہے تم ان دنوں بیرون ملک تھے"
"اچھادفع کرو،کوئی اوربات کرتے ہیں۔"
"اپنی بات توتم نے کہہ دی۔۔۔۔۔"
"میں نے ابھی اپنی بات نہیں کہی،کیونکہ یہ عیادت کرنے والےاب بھی سخت پریشان کرتے ہیں"
"وہ کیوں!تم توٹھیک ہوگئے ہو!"
"میں توٹھیک ہوگیا،یہ ٹھیک نہیں ہوئے،ابھی کل ایک صحافی دوست آئے،ملکی حالات سے سخت پریشان تھے۔پاکستان کانام ان کی زبان پرآتاتھاتوآب دیدہ ہوجاتے تھے۔میں نے ان کی یہ حالت دیکھی توکہاکہ آپ اگرچاہیں توملک کوان خطرات سے نکال سکتے ہیں بولے وہ کیسے؟میں نے کہاآپ ان تمام افرادکے چہروں پرپردہ اٹھائیں جوحکومت کے اندراورحکومت کے باہرملکی سالمیت کے خلاف کام کررہے ہیں!کہنے لگے حتی المقدوریہ کام کرتارہتاہوں،میں نے کہاحتی المقدورکیاہوتاہے،اگرملک بچاناہے توپوراسچ لکھناہوگا۔کہنے لگے ۔تم ان باتوں کونہیں سمجھتے میں بے عمل ضرورہوں تاہم اس کامطلب یہ نہیں کہ مجھے پاکستان سے محبت نہیں۔۔۔۔اورپاکستان کانام زبان پرآنے پرایک بارپھروہ آبدیدہ ہوگئے!"
"یہ عیادت کے ذکرمیں پاکستان کہاں سے آگیا!"
"کیاتمہیں تمہیں۔۔۔۔پتہ یہ کیسے درمیان میں آگیا؟یہ لوگ بیمارپاکستان کی عیادت دن میں کئی بارکرتے ہیں۔مگران میں کوئی اس کی صحت یابی کے لیے اپناکردارادانہیں کرتا۔صحافی سچ نہیں لکھتا۔استادموسی کی بجائےفرعون پیداکرتاہے۔سیاست دان اقتدارکے ملک دشمنوں سے گٹھ جوڑکرلیتاہے،عالم فسادپھیلاتے ہیں،انکم ٹیکس والے لاکھوں کے لیے کروڑوں کاٹیکس چھوڑدیتے ہیں،صنعت کارہوس زرمیں مبتلاہے،حکمران کوحکومت کاچسکہ ہے۔دانش واردل کی باتیں کہنے کی بجائے فیشن ایبل کی باتیں کرتاہے۔جرنیل ہتھیارڈال دیتاہے اوراس کے ساتھ ساتھ یہ سب لوگ پاکستان کی عیادت بھی کرتے رہتے ہیں۔اوراس کے دکھوں میں اضافہ کررہے ہیں۔میں توانہی دنوں میں ایک تختی لکھواکرمینارپاکستان پرلگارہاہوں!"
"کون سی تختی؟"
"چندلفظوں پرمشتمل تختی۔۔۔۔ اس پرلکھاہوگا"عیادت کرنامنع ہے۔"
شایدتختی لوگوں کوعیادت کے آداب سکھائے؟

(عطاء الحق قاسمی)



والسلام
جاویداقبال
 
Top