شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

مایُوس سہی، حسرتیِ موت ہُوں، فانؔی !
کِس منہ سے کہوں دِل میں تمنّا ہی نہیں ہے

فانؔی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

مُجھے آتا نہیں اچھّی طرح اِظہارِ غم کرنا
مگر کُچھ مُنحصر اِس پر نہیں اُس کا کَرَم کرنا

اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

اِمتِیازِحسرت و رنج و اَلَم جاتا رہا
غم ہُوا اِتنا کہ اب احساسِ غم جاتا رہا


اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

جِس سے تھا خودداریِ اربابِ حاجت کا نِباہ
وہ سَلِیقہ تم سے، اے اہلِ کَرَم ! جاتا رہا


اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

نُور و ظُلمت


نُور و ظُلمت نے اِس طرح مِل کر
دائرے دائروں میں ڈالے ہیں
آج آسان نہیں ہے یہ کہنا
یہ اندھیرے ہیں وہ اُجالے ہیں

آنند نرائن مُلّا
 

طارق شاہ

محفلین

حُکمِ معزُولی بہ نامِ تِیرَگی آہی گیا
وادئ شب میں پیامِ روشنی آ ہی گیا

اے عرُوسِ ہند کے بِکھرے ہُوئے موتی کے ہار!
گُوندھنے پِھر تجھ کو تیرا جوہری آ ہی گیا

اِک حقیقت بن کے مُلّؔا خواب ارمانِ وَطن
اے زہے قسمت!کہ اپنے جیتے جی آ ہی گیا

آنند نرائن مُلّؔا
 

طارق شاہ

محفلین

ہم کہتے نہ تھے درؔد، مِیاں چھوڑو یہ باتیں
پائی نہ سزا، اور وفا کیجیے اُس سے

خواجہ مِیر درؔد دہلوی
 
Top