شریر بیوی صفحہ 83

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
Shararti_Bivi%20-%200083.gif
 

ذیشان حیدر

محفلین
تو محض اتفاق کی بات ہے کہ رات کو انہیں کھولنے کا موقع نہ ملا۔’’ ہم نے جانے سے انکار کیا تو پرھاس نے وہی جلی بھُنی باتیں سنانا شروع کیں کہ جو شخص ایسی کمینی حرکتیں کرے وہ اسی ذلت کا مسحتق ہے۔
قصہ مختصر اس نے ہمیں مجبور کر دیا ۔ ہم ایک ملازم کے ساتھ لالٹین لے کر پہنچے۔ کیا بتائیں کہ ہماری ہمت نہ پڑتی تھی کہ چاندنی آئی اور اس نے پھر غصہ بھری نگاہوں سے دیکھا اور خود دروازہ کی کنڈی کھول کر تیزی سے واپس چلی گئی ۔ ہم نے مجبوراً کچھ تامل کے بعد دروازہ کھول کر لالٹین کی روشنی سے اندر دیکھا ۔ جو نظارہ پیش نظرتھا ۔ وہ قابل عبرت تھا۔ خدا ہر شخص کو اس ذلت اور مصیبت سے بچائے۔ ہمارے اور ملازم دونوں کی زبان سے نکلا۔ ’’ارے‘‘ ملازم حیرت میں تھا۔
نہایت ہی ریاکاری سے ہم نے کہا۔ ’’ کامل یہ کیا معاملہ ، کامل یہ کیا معاملہ‘‘ کامل بھلا اس کاکیا جواب دیتے۔ عجیب منظر پیش تھا ۔ سارا غسلخانہ تعفن کے مارے سٹر رہا تھا ۔ گدھا بیچ غسلخانہ میں کھڑا تھا ۔ تمام چیزیں الٹی پڑی تھیں ۔ جگہ جگہ لید پڑی تھی۔ اور بدبو کے مارے دماغ اُڑا جا رہا تھا ۔ کامل ایک فرش کی بڑی دری میں لپٹے لپٹائے ایک کونے میں سرنگوں بیٹھے تھے۔
ہم الُٹے پاؤں کمرے میں واپس آئے۔ ہماری طبیعت متعض ہو رہی تھی اور ہم نے افسوس کے ساتھ کامل کی حالتِ زار چاندنی سے بیان کی مگر عورت کے دل میں شاید اس کی عزت وآبرو لینے کی کوشش کرنے والے کےلئے رحم نہیں آتا۔ اس نے پھر ترشروہو کر کامل کی سزا کو حق بجانب ٹھہرایا ۔ دراصل چائے میں جمال گوٹےکا ست ملادیا تھا جس کی وجہ سے کامل کا برا حال ہوگیا تھا ۔ ہم سر پکڑ کرایک کرسی پر بیٹھے اس مصیبت پر غور کر رہے تھے۔ حالانکہ ہمارے ساتھ کامل نے برا سلوک کای تھا ۔ اور وہ واقعی رحم کے قابل نہ تھے۔ مگر پھر بھی دراصل ہماری خطا تھی ۔ جو ہم نے اتنی ڈھیل دی۔ ہم چاہتے ترو یہ دن ہی نہ آتا۔ ہم اُٹھے اور ہم نے جا کر کامل سے کہا۔ ’’معاف کرنا‘‘ مگر غلطی تمہاری بھی تھی۔ جو تم اس شریر کے چکر میں پڑے۔ ’’کامل کچھ نہ بولے اور ہم لوٹ آئے۔
دوسرے غسلخانہ میں جلدی سے گرم پانی اور صاف کپڑے ہم نے پہنچوائے اور کامل کو وہاں بھجوایا۔ دوسرے آدمی کو ان کے گھر موٹر لینے بھیجا ۔ کامل غسل خانہ سے سیدھے نہا دھو کر اُدھر سے اُدھر ہی اپنے گھر چلے گئے۔
افسوس کہ یہ راز افشا ہوگیا نوکروں نے بات نہ معلوم کہاں سے کہاں پہنچائی۔ خاص خاص دوستوں کو مجبوراً تمام حالات بے کم و کاست شروع سے آخر تک سنانے پڑے اور شدہ شدہ یہ قصہ سب کو معلوم ہو گیا ۔ جس کی وجہ سے سوسائٹی میں کامل کا وہ منہ کالا ہوا کہ کسی سے ملنے کے قابل نہ رہے۔ وہ ہم سے ہمیشہ کےلئے غیر ہو گئے اور ہم سے ان سے پھر کوئی تعلق نہ رہا ۔ یہاں ہم ان باتوں کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتے جو بعد میں پیش آئیں ۔ اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ کامل نے ہماری بیوی سے خوفناک بدلہ لینے کی کوشش کی۔ اور مجبوراً ہم کو رخصت لے کر خود ا س جگہ کو چھوڑنا پڑا۔
 
Top