شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی لن ترانیاں عجیب ہیں۔اور یامقبول جان

مظہر آفتاب

محفلین
شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی لن ترانیاں عجیب ہیں۔ یہ اردو کہاں سے آ گئی، یہ تو صرف چند لوگوں یعنی 9 فیصد لوگوں کی مادری زبان ہے۔ علاقائی زبانوں اور مادری زبانوں میں تعلیم ہونی چاہیے۔ لیکن آپ ان لوگوں کا اپنا طرزِ عمل دیکھیں۔ پیدا ملتان میں ہوتے ہیں، مادری زبان سرائیکی، کالم اردو میں لکھتے ہیں، بلکہ پروگرام بھی اردو میں کرتے ہیں۔ پیدا پشاور میں ہوئے ہیں مادری زبان پشتو، لیکن اردو کے لازوال شاعر، پیدا تربت میں ہوئے، مادری زبان بلوچی، اردو کے قابلِ فخر شاعر۔ پنجاب کے تو ہر قصبے اور قریے میں یہ ہی معمول ہے کہ کوئی مادری زبان میں لکھنا پسند ہی نہیں کرتا۔ فیض احمد فیضؔ سے مجید امجد اور سعادت حسن منٹو سے راجندر سنگھ بیدی تک، سندھ سے تلوک چند محروم، بلوچستان سے گوپی چند نارنگ، عطا شاد، سرحد سے احمد فراز۔ ان سے کہو پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی میں کیوں نہیں لکھتے، تو بڑے وثوق سے کہیں گے کہ علاقائی زبان کے سننے اور پڑھنے والے کم ہیں۔ بڑے بڑے شعرا اور ادیبوں کی اکثریت سے میں ملا ہوں، جن میں فیض احمد فیض سے احمد فراز تک اور منیر نیازی سے عطا شاد تک شامل ہیں، سب یہی کہتے ہیں کہ لکھنے بیٹھتے ہیں تو طبیعت اردو میں ہی رواں ہوتی ہے۔

اردو کے مخالفین کا المیہ----از--اوریا مقبول جان ~ Urdu Blog
Urdu-kay-mukhalifeen-ka-almia-By-Orya-Maqbool-Jan.gif
 
میری سمجھ میں نہیں آتا لوگوں کو اردو سے ایسا کورانہ عناد کیوں ہے؟
کوئی کہتا ہے یہ بولی نہیں جاتی۔ بھائی، تمھارے کانوں کو تیزاب سے دھونے کی ضرورت ہے۔
کوئی کہتا ہے مادری زبان کا حق زیادہ ہے۔ بھائی، تمھاری مادری زبان دوسرے صوبوں میں کیوں نافذ کریں؟
کوئی احمق دور کی کوڑی لاتا ہے کہ اردو میں علمی سرمایہ نہیں۔ مسخرے، ترجمہ کرو گے تو سرمایہ بنے گا نا!
کوئی فرماتا ہے کہ بڑی محدود اور ہیچ مایہ زبان ہے۔ جی ہاں، آپ کے جدِ امجد جیفری چاسر انگریزی کی بابت بھی یہی خیال رکھتے تھے۔
کوئی کہتا ہے ہمیں اردو کی ضرورت نہیں ہے۔ بادشاہ سلامت، آپ جائیں جہنم میں۔ پاکستان کو اپنی شناخت کی بہت ضرورت ہے!
 

دوست

محفلین
مادری زبان کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں کہتا کہ اسے دوسرے صوبوں میں نافذ کرو۔ ایک سیدھا سا حل ہے کہ لسانی پالیسی سازی کی جائے جس میں:
  • بنیادی تعلیم مادری زبان میں دینے کا بندوبست کیا جائے۔
  • متعلقہ صوبے میں مادری زبان کو سرکاری زبانوں میں شامل کیا جائے۔
  • عدالتی کارروائی، صوبائی اور مقامی اسمبلیوں کی کارروائی اور دیگر انتظامی امور مادری زبانوں میں بھی سرانجام دینے کی اجازت دی جائے۔
  • مادری زبانوں کے فروغ کے لیے صوبائی سطح پر ویسے ہی فنڈز فراہم کیے جائیں جیسے اردو کے لیے وفاقی سطح پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
  • اس کے ہمراہ اردو میں تعلیم اور وفاقی سطح کے انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
  • عالمی سطح پر انگریزی میں ابلاغ کی ضرورت کے پیشِ نظر اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔
 
مادری زبان کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں کہتا کہ اسے دوسرے صوبوں میں نافذ کرو۔ ایک سیدھا سا حل ہے کہ لسانی پالیسی سازی کی جائے جس میں:
  • بنیادی تعلیم مادری زبان میں دینے کا بندوبست کیا جائے۔
  • متعلقہ صوبے میں مادری زبان کو سرکاری زبانوں میں شامل کیا جائے۔
  • عدالتی کارروائی، صوبائی اور مقامی اسمبلیوں کی کارروائی اور دیگر انتظامی امور مادری زبانوں میں بھی سرانجام دینے کی اجازت دی جائے۔
  • مادری زبانوں کے فروغ کے لیے صوبائی سطح پر ویسے ہی فنڈز فراہم کیے جائیں جیسے اردو کے لیے وفاقی سطح پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
  • اس کے ہمراہ اردو میں تعلیم اور وفاقی سطح کے انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
  • عالمی سطح پر انگریزی میں ابلاغ کی ضرورت کے پیشِ نظر اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔
آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ قابلِ عمل ہونے کی کیفیت (Feasibility) کو اچھی طرح سے جانتے ہوں گے۔
بات ایک قومی زبان کے ریاستی سطح پر نفاذ کی ہو رہی ہے۔ اس میں مادری زبان اور اس کے صوبائی نفاذ کا راگ الاپنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ معمولی سی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ یہ معاملہ قومی زبان کے نفاذ کے بعد کا ہے۔ قومی زبان کا قضیہ فیصل ہونے سے پہلے مادری زبان کا شور مچانے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یا تو آپ اپنی مادری زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنا چاہتے ہیں یا پھر محض فتنہ پردازی کا شوق رکھتے ہیں۔
یوں بھی جو لوگ اردو کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں ان کا نظریاتی پس منظر انھیں علاقائی زبانوں کو نظرانداز کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اردو کے دشمنوں سے البتہ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ علاقائی زبانوں کے معاملے کو افراط و تفریط کا شکار کر سکتے ہیں۔
نیز جس قسم کی پالیسی آپ نے تجویز فرمائی ہے اس پر عمل نہ صرف ناممکن ہے بلکہ اس کی کوشش بھی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ آپ علاقائی زبانوں کے لیے ایک وفاقی سطح کی زبان کے برابر اخراجات رکھنا چاہ رہے ہیں۔ ہوائی قلعوں سے باہر کی حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔
پھر مادری اور علاقائی زبانوں کے حوالے سے پاکستان ماشاءاللہ ایک گنجان علاقہ ہے۔ رنگ رنگ کی زبانیں اور بھانت بھانت کی بولیاں آپ کو چند سو کلومیٹروں کے فاصلے پر ملتی ہیں۔ پنجاب کی مثال لی جائے تو پنجابی، پوٹھواری، سرائیکی اور رچناوی (خانیوال سے سرگودھا اور ساہیوال سے جھنگ تک بولی جانے والی میری مادری زبان) بڑی بولیاں ہیں۔ اب حکم فرمائیے۔ ان میں سے کس کو صوبے بھر میں نافذ کر کے اردو کے برابر فنڈز دیے جائیں؟
نفاذِ اردو کے حامی علاقائی زبانوں کی ترویج سے دامن نہیں چھڑانا چاہتے۔ مگر وہ کم از کم یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ معاملہ بدیہی طور پر قومی زبان کے بعد کا ہے۔
پاکستان جیسا ملک جس میں اردو کا نفاذ کئی دہائیوں سے ممکن نہیں ہو سکا وہاں آپ علاقائی زبانوں کی بین بجانے لگیں گے تو انتشار کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر یہی آپ کا مدعا ہے تو الگ بات ہے!
"عالمی سطح پر انگریزی میں ابلاغ کی ضرورت کے پیشِ نظر" زیادہ سے زیادہ اختیاری طور پر انگریزی کا مضمون رکھا جا سکتا ہے۔ یا اعلیٰ تعلیم کے خواہاں امیدواروں کو بوقتِ ضرورت کورسز کروائے جا سکتے ہیں۔
سچ صرف آپ کا بیان فرمایا ہوا نہیں ہے۔
بومرینگ! :)
 

دوست

محفلین
ان دلائل کا جواب دینے سے قاصر ہوں: حماقت، فتنہ پردازی، اردو کے دشمنوں، مضحکہ خیز۔
کم و بیش دس برس سے (بدقسمتی یا خوش قسمتی) لسانیات کا طالب علم ہوں۔ زبان، معیاری زبان، لسانی پالیسی ان چند ایک معاملات میں سے ہیں جو سماجی لسانیات کے تحت ہم نے پڑھ رکھے ہیں۔ بطور طالب علم جو مشاہدات کیے، ان کے تحت مکرر عرض ہے کہ ایک مربوط لسانی پالیسی ہی تمام زبانوں کے تحفظ کی ضامن ہے۔ پاکستان میں کم و بیش تین درجن زبانیں بولی جاتی ہیں، ہر زبان ایک الگ ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے، دنیا کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ نظر فراہم کرتی ہے۔ ہر زبان کو جینے کا حق ہے۔ اور ہر زبان کو اس کی جغرافیائی حدود اور سماجی مرتبے کے اعتبار سے سرکاری سرپرستی ملنی چاہیئے بھارت میں 22 سرکاری زبانیں ہیں۔ پاکستان میں اردو کے ہمراہ سرائیکی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتو کم از کم اس معیار کے مطابق اپنے اپنے جغرافیائی خطوں میں قابل قبول اور قابلِ نفاذ ہونی چاہئیں۔ اس کے لیے ہر زبان کا حدوداربعہ طے کرنا پڑے گا، تعلیم میں اس کے مقام کا تعین کرنا پڑے گا، اور اس کے فروغ کے لیے مناسب اقدامات (تعلیمی مواد، لغات، صرف و نحو یا گرامر کی تیاری) کرنا ہوں گے۔
ہر زبان کا ایک معیاری لہجہ ہوتا ہے۔ پشتو، سندھی، بلوچی کے معیاری لہجے فروغ کے لیے معیار کے طور پر اپنائے جائیں گے (یہ زبان جاننے والے احباب اس سلسلے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ پشتو کا معیاری لہجہ شاید قندھار کی پشتو ہے، کوئی پختون دوست تصدیق کرے)۔ پنجابی کا معیاری لہجہ: ماجھی یا لاہوری پنجابی کو معیاری لہجہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ معیاری لہجہ ہی تعلیمی اور سرکاری سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان ایک رنگارنگ ثقافتوں اور زبانوں والا ملک ہے۔ اس رنگارنگی پر ایک رنگ پھیرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تنوع سے اتحاد مضبوط تر ہوتا ہے۔ جب اردو کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو ہم ایک مربوط لسانی پالیسی بنانے اور نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے بچے جو آج پنجابی جیسی مادری زبانوں کو بلھے شاہ، شاہ حسین اور میاں محمد بخش کی زبان کی بجائے چُوہڑے چماروں اور نچلے درجے کے نوکروں کی زبان سمجھنے لگ گئے ہیں، آج اگر وہ اسے بولنا ہتک سمجھتے ہیں تو کل اسے سننا بھی اپنی توہین جانیں گے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو بالا سے پڑنے والے سماجی دباؤ سے بچانے کے جتن کرنے ہیں، اپنی نئی نسل کو اس کی جڑوں سے وابستہ رکھنا ہے۔ اور یہ ایک مربوط لسانی پالیسی کے بغیر ناممکن ہے۔ انگریزی اور اردو سے وابستہ سماجی رتبہ مادری زبانوں کو نیچے کی جانب دبا رہا ہے اور اگر انہیں ان کا مناسب سماجی مقام نہ دیا گیا، نئی نسل کو ان زبانوں کی اہمیت سے آگاہ نہ کیا گیا تو بالآخر یہ دباؤ انہیں زمین میں دفن کر کے دم لے گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب مادری زبانوں کو سرکاری سطح پر سرپرستی دی جائے، ان کی تعلیم دی جائے، انہیں مقامی اور صوبائی اداروں میں استعمال کرنا گالی نہ سمجھا جائے۔
میں مکرر عرض کروں گا کہ سچ صرف آپ کا فرمایا ہوا نہیں ہے۔
 
ان دلائل کا جواب دینے سے قاصر ہوں: حماقت، فتنہ پردازی، اردو کے دشمنوں، مضحکہ خیز۔
مجھ سے چوک ہو گئی۔ سخت الفاظ کے استعمال پر شرمندہ ہوں۔ جناب کی اعلیٰ ظرفی کو سلام!
کم و بیش دس برس سے (بدقسمتی یا خوش قسمتی) لسانیات کا طالب علم ہوں۔ زبان، معیاری زبان، لسانی پالیسی ان چند ایک معاملات میں سے ہیں جو سماجی لسانیات کے تحت ہم نے پڑھ رکھے ہیں۔ بطور طالب علم جو مشاہدات کیے، ان کے تحت مکرر عرض ہے کہ ایک مربوط لسانی پالیسی ہی تمام زبانوں کے تحفظ کی ضامن ہے۔ پاکستان میں کم و بیش تین درجن زبانیں بولی جاتی ہیں، ہر زبان ایک الگ ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے، دنیا کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ نظر فراہم کرتی ہے۔ ہر زبان کو جینے کا حق ہے۔ اور ہر زبان کو اس کی جغرافیائی حدود اور سماجی مرتبے کے اعتبار سے سرکاری سرپرستی ملنی چاہیئے بھارت میں 22 سرکاری زبانیں ہیں۔ پاکستان میں اردو کے ہمراہ سرائیکی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتو کم از کم اس معیار کے مطابق اپنے اپنے جغرافیائی خطوں میں قابل قبول اور قابلِ نفاذ ہونی چاہئیں۔ اس کے لیے ہر زبان کا حدوداربعہ طے کرنا پڑے گا، تعلیم میں اس کے مقام کا تعین کرنا پڑے گا، اور اس کے فروغ کے لیے مناسب اقدامات (تعلیمی مواد، لغات، صرف و نحو یا گرامر کی تیاری) کرنا ہوں گے۔
میں آپ کی لیاقت اور قابلیت کی قدر کرتا ہوں۔ مجھے پہلے سے احساس ہے کہ آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔
لسانی پالیسی کی ضرورت سے کس کافر کو انکار ہے؟ بات صرف اتنی ہے کہ جو پالیسی سرکار نے تجویز فرمائی ہے وہ بالفعل قابلِ عمل معلوم نہیں ہوتی۔ علاقائی زبانوں کے نفاذ سے مجھے کوئی کد نہیں مگر میں حفظِ مراتب کا قائل ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اردو کا مسئلہ حل ہوا تو نچلی سطح پر بھی امید رکھی جا سکتی ہے۔ ورنہ شدید انتشار اور ناکامی یقینی ہے۔
ہر زبان کا ایک معیاری لہجہ ہوتا ہے۔ پشتو، سندھی، بلوچی کے معیاری لہجے فروغ کے لیے معیار کے طور پر اپنائے جائیں گے (یہ زبان جاننے والے احباب اس سلسلے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ پشتو کا معیاری لہجہ شاید قندھار کی پشتو ہے، کوئی پختون دوست تصدیق کرے)۔ پنجابی کا معیاری لہجہ: ماجھی یا لاہوری پنجابی کو معیاری لہجہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ معیاری لہجہ ہی تعلیمی اور سرکاری سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا۔
میرا گمان ہے کہ آپ پنجابی ہیں۔ بہرحال اگر آپ سرائیکی سنیں یا اس کے چلن پر غور فرمائیں تو پنجاب میں معیاری لہجے کا خیال آپ کو خام معلوم ہونے لگے گا۔ پنجاب رقبے کے لحاظ سے انگلستان سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ فرنگی آر پی قائم کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں تو لہجے سے لے کر لغت تک تنوع ہی تنوع ہے۔ اس قدر کہ میں جسے اپنی مقامی زبان میں "دُدھ" کہتا ہوں، پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر اسے "کھیر" کہا جاتا ہے جو نہ صرف مختلف ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔ یہ تنوع اس قدر ہمہ گیر ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ اہلِ لاہور سرائیکیوں کی پچاس فیصد زبان نہیں سمجھ سکتے۔ خود میرے لیے پوٹھواری کو اپنے سامنے سن کر سمجھنا بھی شاید بیس فیصد سے زیادہ ممکن نہیں۔ اس درجے کی لسانی بوقلمونی آپ کو انگلستان چھوڑیے، ریاست ہائے متحدہ میں بھی کہاں ملے گی؟
سوسئُر سے لے کر دریدا تک لسانیات کا بیشتر مواد السنۂِ مغربیہ کے مطالعے پر مبنی ہے۔ میرا گمان ہے کہ اس کے کچھ اصول شاید ہندوستانی زبانوں پر منطبق نہ کیے جا سکیں گے۔
پاکستان ایک رنگارنگ ثقافتوں اور زبانوں والا ملک ہے۔ اس رنگارنگی پر ایک رنگ پھیرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تنوع سے اتحاد مضبوط تر ہوتا ہے۔
یا رب! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور​
سرکار، یہ کہا کس ظالم نے ہے کہ اردو کے علاوہ باقی تمام زبانوں پر خطِ تنسیخ پھیر دیا جائے؟ ہم تو صرف ترجیحات (priorities) کی بات کر رہے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے بچے جو آج پنجابی جیسی مادری زبانوں کو بلھے شاہ، شاہ حسین اور میاں محمد بخش کی زبان کی بجائے چُوہڑے چماروں اور نچلے درجے کے نوکروں کی زبان سمجھنے لگ گئے ہیں، آج اگر وہ اسے بولنا ہتک سمجھتے ہیں تو کل اسے سننا بھی اپنی توہین جانیں گے۔
فی الحال تو یہ مسئلہ اردو کے ساتھ بھی ہے۔ اور قومی زبان ہونے کے ناتے اردو کا مسئلہ حل کرنا پہلی ترجیح ہونا چاہیے اور اس کے بعد مقامی زبانوں کی باری آنی چاہیے۔
انگریزی اور اردو سے وابستہ سماجی رتبہ مادری زبانوں کو نیچے کی جانب دبا رہا ہے اور اگر انہیں ان کا مناسب سماجی مقام نہ دیا گیا، نئی نسل کو ان زبانوں کی اہمیت سے آگاہ نہ کیا گیا تو بالآخر یہ دباؤ انہیں زمین میں دفن کر کے دم لے گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب مادری زبانوں کو سرکاری سطح پر سرپرستی دی جائے، ان کی تعلیم دی جائے، انہیں مقامی اور صوبائی اداروں میں استعمال کرنا گالی نہ سمجھا جائے۔
متفق!
میں مکرر عرض کروں گا کہ سچ صرف آپ کا فرمایا ہوا نہیں ہے۔
میں بھی مکرر عرض کرنا چاہوں گا کہ اس قسم کے جملے بومرینگ کی طرح ہوتے ہیں۔ پلٹ کر خود آپ پر بھی وارد ہو سکتے ہیں۔
 

دوست

محفلین
لسانی پالیسی بن جانے اور نفاذ ہو جانے کے بعد بہت سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ ہم لسانیات والے اسی کام کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔ ماجھی لہجہ انگریزوں نے نہیں خود پنجابی کے ماہرین نے معیار قرار دے رکھا ہے۔
عرض یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے، اگر نکالنے کی سعی کی جائے تو۔
اردو کے نفاذ کے حوالے سے اتنی عرض ہے کہ اس "تنگی" اور "نفسا نفسی" کے دور میں بھی اردو میں ترجمہ کے لیے پنجاب سرکار نے جامعہ گجرات کو ایک کام سونپا ہے جس کے تحت پنجاب کے سارے قوانین اردو میں ترجمہ کیے جائیں گے، سرکاری محکموں میں مترجمین کی تقرریاں ہو رہی ہیں، سرکاری محکموں میں اردو میں خط و کتابت کے احکامات سامنے آ رہے ہیں، ملک کے تمام بڑے شہروں (کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور۔۔۔) میں والدین مقامی زبانوں کی بجائے بچوں کو اردو سکھا رہے ہیں، انٹرنیٹ پر پچھلے دس برس میں اردو تقریباً صفر سے اس قدر ہو چکی ہے کہ کسی انگریزی پوسٹ پر بھی اردو میں لکھا ہوا تبصرہ مل جاتا ہے، اردو میڈیا اتنا طاقتور ہے کہ انگریزی کے چینل (اشتہارات نہ ملنے کی وجہ سے) دو برس چل کر (2009 تا 2011-12) بند ہو گئے، مقامی زبانوں میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے آؤٹ لیٹس خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں (پنجابی کے کُل ملا کر تین چار اخبارات بھی نہیں ہیں، جبکہ یہ سرائیکی کو نکال کر بھی کوئی پانچ کروڑ لوگوں کی مادری زبان ہے)، مقامی زبانوں کا رونا رونے والے بھی روزی روٹی کے لیے اردو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ رہنے پر مجبور ہیں۔
جب ہم لسانی پالیسی کی بھیرویں بجاتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی خوفناک سماجی عدم مساوات ہے جو مقامی زبانوں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
لسانیات میرے جیسوں کا پیشہ ہے۔ ہمارے شب و روز زبانوں کی تدریس، ان پر تحقیق اور ان کے بارے مشاہدات سے عبارت ہیں۔ ہم اس لیے اردو کے نفاذ پر کالم نہیں لکھتے کہ اس میں لکھنے اور اس میں پروگرام کرنے سے کروڑوں روپے کی آمدن ہو گی۔ ہم عادت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اردو کے نفاذ کی بات بھی کرتے ہیں اور باقی زبانوں کو بھی ان کا حق دینے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اردو کو اگر اس کا "حق" نہیں مل رہا تو جب تک مقامی زبانوں کی "باری" آئی تب تک ان کے کُتبے ہی باقی بچیں گے۔ توروالی (جو سوات کے ایک چھوٹے سے علاقے کے پچاس ہزار لوگوں کی زبان ہے)، بلتی، کھوار، شِنا اور اس جیسی درجنوں چھوٹی زبانیں جو شمال کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور وادیوں کی زبانیں ہیں سرکاری اور قومی زبان کے نفاذ کے نام پر تہ تیغ ہو جائیں گی۔
میرا خیال ہے کہ اس کے بعد مزید بات کرنا دائرے میں چکر کاٹنے سے بہتر کچھ نہ ہو گا۔
وما علینا الا البلاغ
 

زیک

مسافر
اگر چند نسلوں میں کچھ علاقائی زبانیں ناپید ہو جائیں گی تو کیا یہ بہت بری بات ہو گی؟ ایسا تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں پورے فرانس میں ہمیشہ سے پیرس کی فرنچ ہی بولی جاتی تھی؟
 

محمدظہیر

محفلین
یہ اردو کہاں سے آ گئی، یہ تو صرف چند لوگوں یعنی 9 فیصد لوگوں کی مادری زبان ہے
تقسیم ہند کے وقت زبان بھی تقسیم ہوئی ۔ جہاں پیدا ہوئی تھی( لکھنؤ ، دلی ) وہاں سے اٹھا کر ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں کی علاقائی زبانیں پنجابی ، سرائیکی، سندھی وغیرہ ہیں۔
 
Top