سیری نالا بان سے لیا گیا اقتباس (یاداں)

گلزیب انجم

محفلین
نالا سیری بان سے لیا گیا اقتباس
یاداں (محمود احمد شاہد)
تحریر :- گل زیب انجم

کچے مکانوں کی چھتیں لپائی کر کے لوگوں نے مکئی چھیلنی شروع کر دی تھی۔ کیا اتفاق تھا لوگوں میں جب بھی کوئی کام ہوتا سب یوں اکھٹے ہو جاتے جیسے سارے سگے بہن بھائی ہیں ۔ لپائی کے لیے زیادہ تر سرخ اور چکنی مٹی استعمال ہوتی تھی اور یہ اکثر ڈاکخانے والی چڑھائی سے ملتی تھی جہاں باوے مہندے کا کھڑہک ہوتا تھا۔ اب یہ جگہ سڑک کنارے تھی گاڑیاں بھی آتی جاتی تھی اس لیے یہاں سے مٹی رات کو لی جاتی ۔ مٹی کے لیے خواتین و حضرات اکٹھے ہی ہوتے ۔ مرد کھدائی کر کر کے دابڑے یا ٹوکرے بھر دیتے اور خواتین اٹھا کر متعلقہ گھر کے صحن میں پھینک آتیں۔ مکان بھی کیا کچھ ہوتے تھے ایک یا دو کمرے یا کوئی بہت ہی بڑا مکان ہوتا تو آگے ایک برآمدہ جسے اُس وقت پسار کہتے تھے وہ ہو جاتا ۔ چار پانچ عورتوں کا ایک ہی پھیرا کافی ہوتا یا پھر پسار والے گھر کے لیے دو پھیرے ہو جاتے ۔ دوسرے دن خواتین پارلی بائیں والی باولی سے یا کھڈوڑے والے چوئے سے پانی لاتی اور مٹی کی اس ڈھیری پر ڈالتی جاتی اس مٹی میں بھنیسوں کا گوبر بھی ڈالا جاتا یہ گوبر مٹی کو دیرپا رکھنے کے لیے سود مند ثابت ہوتا ۔ جب مٹی نرم ہو جاتی تو اس کو گول دائرے کی شکل میں پھیلا دیتے اس پھیلانے والے عمل کو کہان کہا جاتا تھا اب اس کہان میں طاقتور خاتون یا پھر مرد داخل ہو کر پیروں سے ڈھیلوں کو مسل کر گوبر کی آمیزش سے گار بناتے پانی ڈالنے والا یا والی سلور کی ایک بالٹی جسے کلمنڈر کہتے تھے سے ان جگہوں میں پانی دور ہی سے پھینکتے یوں باہمی اتحاد سے گار بن جاتی جسے خشک ہونے سے بچانے کے لیے دوبارہ اگھٹا کر کے ڈھیر لگا دیتے اور اوپر کوئی پلاسٹک یا ٹاٹ وغیرہ ڈال دیتے۔ اکثر بوڑھیاں یہ عمل اس لیے بھی کرتی تھیں کہ کُکڑ نہ گرولی شوڑن۔ ایک دن چھت کی صفائی پر لگتا اور دوسرے دن چیکڑی چڑھانا شروع کر دیتے ۔
محلے بھر کے تقریباً ساٹھ فیصدایسے مکان تھے جن کی چھتیں آپس میں ملی ہوئی یا اتنے فاصلے پر ہوتی تھی کہ جوان جان آدمی چھلانگ مار کر ایک چھت سے دوسری چھت پر جا سکتا تھا۔
چھتوں پر دو تین رنگوں کی مکئی پڑھی ہوتی تھی جو کسی اونچی جگہ سے دیکھنے پر بہت دیدہ زیب لگا کرتی تھی۔
رات کو تقریباً ہر چھت پر ایک چارپائی ضرور ہوتی تھی جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ گھر کا کوئی ایک فرد چھت پر موجود ہے ۔ فصلیں کٹ جانے کے بعد بڈ ہو جایا کرتے تھے اس لیے لوگ جانور باندھتے نہیں تھے اور وہ جانور اکثر نیچی چھتوں سے فائدہ اٹھا لیتے تھے اور اگر ایک چھت پر چڑھ گے تو سمجھو کہ پورا محلہ ہی ان کی زد میں ہے اس لیے لوگ راکھی کے طور پر چھت پر لیٹا کرتے تھے۔
ہمارے مکان کے پچھواڑے میں ایک آلو بخارے کا درخت تھا اس کی سیدھ میں چودھریوں کے گھر تھے جن کی اونچائی ہمارے گھر سے اتنی زیادہ تھی کہ ان کا صحن اور ہماری چھت برابر ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن پھر بھی ان کی چھت پر بیٹھا آدمی ہماری چھت سے نظر آتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ میں اور پہولی ( میرا پڑوسی) اس چھت کی طرف دیکھا کرتے تھے اگر وہاں کوئی نہ ہو تو ہم سگریٹ نوشی کر لیتے اور اگر کوئی وہاں ہو تو پھر ہم آلو بخارے کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر یہ شوق فرماتے۔ سگریٹ بھی کون سا اتنا بڑا ہوتا تھا بس وہی ایک سگریٹ ہوتا تھا جس کو دوپہر سے لے کر شام تک تین بار آگ دکھا چکے ہوتے تھے ۔ لیکن ایک دوسرے کو قسم دے کر لگایا کرتے تھے کہ دو سوٹوں (کشوں) سے اوپر کوئی سوٹا نہیں لگائے گا یوں اس کے آخری دو سوٹے ہم رات کو اس وقت لگایا کرتے تھے جب یہ یقین ہو جاتا کہ صحن میں لیٹے لوگ سو چکے ہیں ، کبھی کبھار کسی کے سوٹے سے آگ فلٹر تک پہنچ آتی جو دوسرے کو کچھ زیادہ ہی نشہ دے جاتی۔
ہمارا دور چونکہ ایسا تھا جس میں ہم ہر وہ کام محلے والوں سے بھی چُھپ کر کرتے تھے جو گھر والوں سے چوری چھپے ہوتا تھا کیوں کہ گھر والے وہ جرم قطعی معاف نہیں کرتے تھے جس کی شکایت کوئی محلے دار کر دیتا اس لیے جو آدمی چودھریوں کی چھت پر بیٹھتا تھا اس سے ہم خوفزدہ سے رہتے تھے۔
ایک دن ہم نے خاتون خانہ سے پوچھ ہی لیا ماسی رات کو آپ کی چھت پر کون ہوتا ہے جو پوری رات بتی (لالٹین) جلائے رکھتا ہے۔ وہ کہنے لگی مودا ہوتا ہے ہم نے پوچھا وہ بتی کیوں جلاتا ہے حالانکہ چاندنی اتنی ہوتی ہے کہ بتی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہماری بات سن کر وہ کہنے لگیں تم لوگ صرف مکئی کی راکھی کرتے ہو جب کہ وہ رات کو پڑھتا بھی ہے ۔ (یہ بتی والے کی تائی اماں تھیں) ۔ اس وقت یہ بھی عام رواج تھا کہ نام بہت مختصر بلائے جاتے تھے۔ اس لیے انہوں نے محمود کو مودا کہا تھا۔
محمود ہم سے یہی کوئی نو دس سال ہی بڑا تھا لیکن قد آور تھا لکو چھپی اور کالی کوجلہ ہم اکھٹے کھیلا کرتے تھے جب ہمیں پتہ چلا کہ یہ صاحب رات کو بتی جلا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اپنے اوپر خود ہی ترس آنے لگا ک کتنے دنوں سے ہم آلو بخارے کی آوٹ میں سگریٹ نوشی کرتے رہے۔ ایک دن ہم نے پوچھ ہی لیا کہ پڑھتے کیا ہو رات کو تو ہنس کر کہنے لگا ہیر (وارث شاہ کی لکھی ہوئی ایک کتاب کا نام ) پڑھتا ہوں میں تو جواب پا کر چپ ہی رہا لیکن پہولی نے کہا رانجھے آلی کتاب نہی لبھی۔۔ بعد میں کہنے لگا تمیں معلوم نہیں دو ڈھائی ماہ بعد پیپرز ہونے والے ہیں یہ پیپرز ہم نے اس وقت پہلی بار سنا تھا ورنہ ہم تو پرچے کہا کرتے تھے ۔
محمود دن کو کالج جاتا شام کو آ کر ہمارے ساتھ کھیلتا بھی لیکن اپنی منزل کا چناو اس نے اتنی خاموشی سے کیا کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والا دوست ابرار بٹ بھی اس فیصلے سے بے خبر رہا ۔ ابرار بارہویں کرنے کے بعد تلاش روزگار کے سلسلے میں پڑ گیا لیکن محمود بی اے کے بعد وکالت کی ڈگری لینے کراچی چلا گیا ۔ ہم ابھی بلور ہی کھلتے تھے کہ وہ وکیل بن کر اپنے ضلع میں آ گیا۔
وہ وکیل بن جانے کے بعد بھی دوستوں کے دوست رہے کوئی نخرہ کوئی بڈھیار نہیں آیا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ دوست بدلتے رہے۔ ان کی تعلیم ان کا کردار ان کا اخلاق انہیں ہم سے بہت بڑا کر گیا اب ہم دوست ان کی عدم موجودگی میں بھی محمود صاحب کہنے لگے ۔ کیوں کہ ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ہرگز نہیں رہا جو کسی کو عزت دیتے ہوئے شرماتے ہوں ۔
بہت پہلے کی بات ہے کہ بعد نماز عصر وہ جامع مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے چونکہ میری جماعت سے ایک دو رکعت چھوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے میں لیٹ تھا ۔ لیکن وہ دعا کے بعد بھی بیٹھے رہے جبکہ دیہات کے نمازی بس دعا تک ہی قیام کرنا مناسب سمجھتے ہیں اس کے بعد مسجد سے نکلنے کی جلدی ہوتی ہے لیکن معمول کے خلاف وہ بیٹھے رہے ۔ میرے سلام پھیر لینے کے بعد مخاطب کیے بغیر کہنے لگے یرا اس مسجد ناں وی کُج سوچو۔ میں نے ہاتھ جو دعا کے لیے کھلی کتاب کی طرح اٹھائے ہوئے تھے فوراً چہرے پر ملتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تو وہ کھلے صحن میں بیٹھے یوں اوپر دیکھ رہے تھے جیسے گھاس پھونس کی بنی چھت کو دیکھا جاتا ہے ۔ میں نے پوچھا کس سے باتیں کر رہے ہیں کہنے لگے توئ آخنا ساں ۔ میں نے کہا کیا___ پوچھنے پر گویا ہوئے کہ سوچتا ہوں اس صحن کا کچھ کیا جائے تو تمہارا کیا خیال ہے ۔ میں نے جستی چادروں کا کہا تو کہنے لگے وہ کیسے تو میں نے سارا نقشہ بیان کیا ۔ بڑی دلچسپی سے سننے کے بعد کہنے لگے چلو جسطرح اللہ کرسی ۔
بس وہ کوئی ایسا قبولیت کا وقت تھا کے دو کے بجائے چار فرشتوں (روایت ہے کہ عصر کے وقت فرشتوں کی بدلی ہوتی ہے اس لیے درمیانی نماز کے قائم کرنے کی فضیلت بھی زیادہ ہے کیوں کہ جو دو فرشتے جا رہے ہوتے ہیں وہ بھی نمازی کے روزنامچے میں عصر کی نماز لکھتے ہیں اور آنے والے بھی یوں ایک ہی نماز دو بار لکھی جاتی ہے ) نے ان کے الفاظ بارگاہ الہی میں پیش کر دیے جن کو قبولیت مل گئی۔
یہ درست ہے کہ اللہ جب کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو اس کی سوچوں کو بدل دیتا ہے اور یہ چناو بھی اللہ تعالی خود فرماتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے کام کے لیے منتخب کر لیا تھا اب محمود صاحب کی راہیں بھی وہ خود ہی ہموار کرنے لگا کہ مسجد کمیٹی کے سربراہ ان کے تایا تھے وہ بیمار ہوئے تو فوراً انہوں نے محمود صاحب کے والد صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی (یہ ذکر میں پہلے اخوان ثالث کے باب میں کر چکا ہوں) انہوں نے نہ جانے کس بنا پر کچھ ہی عرصہ بعد یہ ذمہ داری مسجد کمیٹی کے حوالے کر دی جو بعد میں صلاح مشورے سے دوبارہ انہی کے بیٹے یعنی محمود صاحب کو تفویض کر دی گئی۔ محمود صاحب کو جب یہ ذمہ داری ملی تو انہوں نے اپنے خیالات کی نیا کے پتوار کو اسی سمت ہلانا شروع کر دیا جو بہت عرصہ پہلے ان کے سامنے آئی تھی ۔ بلکہ اس سے بھی پہلے جب مسجد کمیٹی کے سربراہ نہیں بنے تھے تو وہ عید گاہ کی توسیع کے متعلق سوچ رہے تھے اور اس سلسلے میں صرف انہوں نے مستری ادریس مغل صاحب کو اپنا ہم راز بنایا تھا جو ان کے نئے محلہ دار بھی تھے اور فن تعمیری سے آشنا بھی۔
```ایک ینگ(young ) سا وکیل جس کے ظاہری مشاغل سیاسی سیاسی سے جو یاروں میں بیٹھتا تو باتوں باتوں میں اتنا ہنسا دیتا کہ گمان بھی نہ ہوتا کہ یہ کوٹلی بار کا جنرل سکریٹری بھی ہو گا ۔ سیاسی پہلو پر ذکر آیا ہی تو اپنی جماعت کی تعریف تو وہ کرتے ہی لیکن اپنے مخالف فریق کو بھی اتنے مدلل دلائل سے اسی کی جماعت کی خامیاں گنوا دیتے کہ وہ قائل ہو جاتا ۔ معاشرتی لحاظ سے ایک ایک چیز پر نظر چوکی کہوٹہ والی کسّی(ندی) سے لے کر سیری نالا بان تک کی ایک ایک جگہ کی قانونی طور پر معلومات رکھنا سیری کے ایک ایک گھر کا حوالہ انیس سو سنتالیس کے حساب سے دینا(اکثر ہمارے سامنے والے گھر کی طرف ہاتھ کر کے کہتے کہ یہاں مکدے کھتری کی بانڈ ہوا کرتی تھی)۔ ہر وقت دھیمی دھیمی ہنسی ہنسنے والا محمود دل میں کیا اعلی پلان بنائے رکھتا تھا اس کا انکشاف تب ہوا جب اسی کے سوئم پر مستری ادریس پچیس ہزار روپے نکال کر ان کے بھائی کو دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ رقم میرے پاس انہوں نے عید گاہ کی توسیع کے لیے یہ کہہ کر امانت رکھی تھی کہ اگلے ماہ اس میں کچھ اور ملا رلا کر چنائی کا میٹیریل منگوائیں گے۔ وہ مذہبی سکالر نہیں تھا کوئی محلے کی مسجد کا امام نہیں تھا وہ باریش نہیں تھا کوئی جنازوں پر واعظ کرنے والا نہیں تھا بس ایک پروفیشنل وکیل تھا لیکن اس کے اندر ایک ایسا درویش مقیم تھا کہ اس کی تنہائی میں اسے کسی نہ کسی اچھے کام کی طرف نشاندہی کراتا رہتا تھا ۔ ______ ،،،
لیکن مسجد کمیٹی کے صدر بننے سے ان کی ترجیحات میں مسجد کی توسیع والا معاملہ آ گیا اس لیے عید گاہ توسیع سے محروم رہ گئی ۔ اور وہ رقم ادریس مغل صاحب کے پاس جوں کی توں رہی۔
محلے میں ہر خوشی غمی کے موقع پر موجود ہونا ان کا خاندانی وصف رہا لیکن یہ خاندان سے بڑھ کر ایسے معاملات میں پیش پیش رہتے ۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ یہ ان کا خاندانی وصف تھا اس میں سیاست کا عمل دخل کبھی نہیں رہا ۔ ابھی ان کی طالب علمی کا دور تھا جب ان کو پہلی بار اس حثیت سے دیکھا کہ محلے میں رات تقریباً دس بجے ایک بچہ فوت ہو گیا اس بچے کے والد گھر نہیں تھے اور بڑا بھائی بھی اس قابل نہ تھا کہ وہ اس معاملے کو سنبھال سکتا اس وقت پوری رات حتی کہ دوسرے دن تدفین تک یہ ساتھ رہے ۔ شادی بیاہ کےمواقع پر بھی ان کی موجودگی سو فیصد یقینی ہوتی تھی وکیل بن جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی خاندانی ریت اور محلے داری کو خوب نبھایا ۔ اور ان کے ان اوصاف میں کھبی نجی مصروفیات آڑے نہیں آئی۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنی اچھائی کا چرچا بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں لیکن محمود صاحب میں یہ عادت کبھی نہیں پائی ۔ عید کے دوسرے دن ایک بچی جو ہمیشہ میری دکان پر آتی تھی چاند رات اور عید کا دن چھوڑ کر آئی تو میں نے اسے پوچھ لیا کہ آپ نے عید کی شاپنگ کہاں سے کی(یہ از راہ شکوہ پوچھا تھا کیونکہ میری دکان پر بھی وہ چیزیں تھیں جو بچیاں عید کے موقع پر خریدا کرتی ہیں لیکن یہ بچی نہیں آئی تھی ۔" وقت گزر گیا ہے کہ اس دن میرا مصمم ارادہ تھا کہ یہ بچی جتنی بھی شاپنگ کرے گی میں اس سے ایک روپیہ تک نہ لوں گا)" ہے تو بچی نے کہا ہم نے شاپنگ نہیں کی ۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ مجھے شاک سا لگا پوچھا کیوں ؟ تو وہ کہنے لگی میں ابھی آنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ چاچو محمود آ گئے تھے ۔ میں نے آدھی بات سن کر ہی کہہ دیا چاچو منع کرتے تھے۔ کہنے لگی نہیں مجھے جتنی چیزیں بھی چاہیے تھیں وہ کوٹلی سے لے آئے تھے ۔ بعد میں اس نے وہ ساری ارٹیفیشل جیولری بھی دکھائی مجھے ۔۔۔ دل میں سوچا محمود صاحب پہلی بار میں نے کچھ کرنے کی ٹھانی تھی لیکن آپ سبقت لے گئے۔ اس رات میں کتنی دیر ان کی شخصیت کے متعلق سوچتا رہا ۔ ظاہری لٹر مست سا آدمی اندر سے کیا تھا ۔۔ جوں جوں سوچتا رہا گہرائی میں جاتا رہا ان کی شخصیت کے اس پہلو میں کتنی دیر غوطہ زن رہا اس کا علم نہیں لیکن اس بحر بےکراں کی تہہ تک پھر بھی نہ پہنچ پایا۔ نہ جانے وہ کتنےبچوں کو پس پردہ کیا کچھ دیتے ہوں گے لیکن با مصداق دائیں ہاتھ کی خبر بائیں ہاتھ کو نہیں ہونے دی۔
ان کا شمار دنیا کے ان گنے چنے لوگوں میں ہوتا تھا جو کسی کی خوبی کو سہراتے ہوئے بخل سے کام نہیں لیتے تھے ۔ایک گلی میں گٹر نکالنے کا مسئلہ تھا اب ایک طرف کے فریق پیسے اور برادری کے لحاظ سے دوسروں سے تگڑے تھے اب گٹر کمزور پارٹی نکالنا چاہتی تھی لیکن اس کا چارا نہیں چلتا تھا۔ چودھری محمود صاحب وہاں پر موجود تھے لیکن نہ جانے کیوں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے ۔ تگڑی پارٹی کا موقف بھی تگڑا تھا وہ کہتے تھے کہ گٹر سے ہماری کاشتکار اراضی کو نقصان ہوتا ہے دوسروں کو کہتے تھے کہ آپ سانجھی جگہ پر بناتے کیوں ہیں اپنے صحن میں بنائیں جبکہ وہ گلی میں بنانے پر بضد تھے ۔ اتنی دیر میں میرا گزر ادھر سے ہوا تو محمود صاحب دیکھتے ہی کہنے لگے یرا تکیں آں اتھے اے گٹر کڈی سکنے ہن کے نہی ۔ میں نے سرسری جائزہ لے کر کہہ دیا نکال سکتے ہیں۔ میرا اتنا کہنا ہی تھا کہ محمود صاحب نے سینے سے لگا لیا بلکہ یوں کہنا بجا ہو گا کہ میرا سر اپنے پیٹ سے لگا لیا کیوںکہ میں بمشکل ہی پیٹ تک پہنچتا تھا۔ تگڑے لوگوں کے پوچھنے پر کہنے لگے گھر کی مرغی ویسے ہی دال برابر ہوتی ہے حالانکہ اے بےچارا وی او کج ہی پڑھے آ جہیڑا کج میں پڑھیا( یہ ان کا بڑا پن تھا وہ مشہور و معروف قانون دان تھے جب کہ میں تو صرف ایم اے سیاسیات تھا ) ۔ بس میں چاہتا تھا کہ اس کی ذہانت کو پرکھا جائے۔ مکان کی طرف دیکھ کر جو چیز اس نے ابزرو کی ہے وہ میں بھی کر چکا تھا ۔ ایسے ہی عزت افزائی کے مواقع ایک دو جگہ انہوں نے اور بھی دیے جبکہ یہ بڑا مشکل کام تھا۔ ان کے بعد ایسا میں نے کوئی نہیں دیکھا جو اپنی دانائی کا تاج دوسرے کے سر رکھ دے۔
محمود صاحب دوسرے پڑھے لکھے یا سرپنچ ٹائپ آدمیوں سے تھوڑے مختلف تھے کیونکہ وہ نہ صرف سرپینچی چمکاتے تھے بلکہ کہیں کوئی فیصلے میں اونچ نیچ ہو بھی جاتی تو دوسرے تیسرے دن خود جا کر معذرت بھی کر لیتے۔
ہمارے علاقے کی دو تین قومیں یعنی جاٹ باٹ اور راج ایسی ہی ہیں جن میں اقربا پروری اور برادری ازم رچ رچ کر بھری ہوا ہے ۔ اس وجہ سے کہیں پڑھے لکھے اور مخلص لوگ بھی اس اقربا پروری کی زد میں آ جاتے ہیں ۔ اگر کوئی نوجوان اس رسم سے بچنے کی کوشش کرے بھی تو باقی قبیلے والے اس کو گھسیٹ کر اس لت میں لے آتے ہیں، اس وجہ سے کہیں خدا ترس یا تو ایسی پنچایت سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر دل میں برا مناتے ہوئے بھی برادری کی رسم کو نبھا ہی لیتے ہیں ۔ چودھری محمود بھی ان لوگوں میں سے تھے جو برے کو برا تو سمجھتے تھے لیکن قانون قبیلہ کا بھی احترام کرتے تھے ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک پنچایت میں آپ شامل تھے پنچایت بھی ایسے لوگوں کی تھی جن میں ایک طرف آپ کے رشتے دار اور دوسری طرف محلے دار تھے پنچایت نے جو فیصلہ سنایا وہ سراسر غیر منصفانہ تھا کیونکہ سنانے والے نے وہاں انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خدا کی بے آواز لاٹھی سے لاپرواہی کرتے ہوئے صرف برادری ازم کو ترجیح دی آپ کو یہ بات بڑی ناگوار گزری لیکن بات وہی کہ اس وقت کچھ کر نہ سکے ۔ دو دن کھوئے کھوئے سے رہے جب دل کو کہیں چین نہ ملا جب نمازیں سکون دینے کے بجائے سکون چھیننے لگی تو(یہ بھی اللہ کا احسان میں شامل ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو فورا" توبہ کی توفیق دیتا ہے) آپ کوٹلی سے سیدھے اس گھر آئے جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی وہ بیوہ خاتون تھی ان کے پاس بالکل بچوں کی طرح بیٹھ کر کہنے لگے ماسی معافی مانگنے کے لیے آیا ہوں۔انہوں نے پوچھا اللہ خیر کرے کیا ہوا ہے کہنے لگے بھلے فیصلہ سنانے والے اور جن کے حق میں ہوا ہے وہ سب میرے رشتہ دار ہیں لیکن آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں خاتون نے آبدیدہ ہو کر محمود صاحب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا پتر میں نے معاف کیا اللہ بھی تجھے معاف کرے۔ تمہارے اس عمل سے میری نظروں میں تیرا مقام اور بلند ہو گیا ہے ۔ وہ یہ الفاظ سن کر اس طرح سے اٹھے کے جیسے انہوں نے ہائی کورٹ سے کیس جیت لیا ہو ۔تقاضاے بشریت میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے لیکن جرم کو جرم سمجھنا ہی نیکی ہے۔
چودھری محمود سیری اور اپنے خاندان کی سینیارٹی کے لحاظ سے دوسرے وکیل تھے لیکن اپنی فہم و فراست کی بنا پر وادی بھر کے وکلا میں سے نمبر ایک تھے۔ اپنا نام پہلے پہل محمود احمد شاہد لکھتے تھے پھر شاہد لکھنا چھوڑ دیا ۔ ایک دن چلتے چلتے پوچھ لیا کہ آپ اب شاہد نہیں لکھتے کہنے لگے ہم کیسے لکھ سکتے ہیں ہمارے اندر دنیا کی ہوس پاوں سے لے کر سر تک بھری ہوئی ہے ہماری زبانیں بات بات پر جھوٹ بولنے لگی ہیں ہم سچ کو سچ کہتے نہیں اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی سکت نہیں نہ جانے اور کیا کیا کہتے کے گاڑی والے نے ہارن بجا کر ہمیں شاہد کی منطق سے محروم کر دیا۔______
حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی کیا مجال کے آپ کے سامنے کوئی علاقائی یا ریاستی سطح پر کوئی خلاف شان بات کر جائے۔ دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد پنجاب سے ایک مولانا صاحب چندہ اور عطیات کی غرض سے سیری آئے بعد نماز عشاء جامع مسجد میں انہوں نے چندہ کے اغراض و مقاصد بیان کیے کہ ہمارے پاس متاثرین زلزلہ آئے ہوئے ہیں ان کے لیے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء چاہیے۔وہ مولانا صاحب کشمیری مہاجرین کے لیے کشمیر ہی سے عطیات وصول کر رہے تھے "کیسے ہمدرد تھے، دوران خطاب مولانا صاحب زلزلے کی وجوہات بتانے لگے پھر حسب عادت بات کو گہرائی کی بانسبت لمبائی سے پورا کرنے لگے ۔ دیکھو یہ عذاب نازل ہوا ہے اللہ جب چاہتا ہے بستیاں اجاڑ دیتا ہے ، یہ کشمیر میں عذاب ویسے نہیں آیا یہاں یہ ہو رہا تھا وہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی مولوی صاحب یہی کچھ ہی کہہ رہے تھے کہ محمود صاحب جو مسجد کے ادب و آداب کا پورا خیال کیے بیٹھے تھے اچانک کھڑے ہوئے اور میری طرف ہاتھ کر کے کہنے لگے توں وی کوگھو بنی سنسیں ۔ وہ کچھ اس انداز سے بولے کے پورا مجمع ہی خاموش ہو کر کبھی انہیں اور کبھی مجھے دیکھنے لگے وہ(جو لوگ خطاب سن رہے تھے ) سمجھ رہے تھے کہ میں نے کوئی غلطی کی ہے، میں ابھی بول نہ پایا تھا کہ انہوں نے فوراً سوال کیا کہ تم بتاو یہ زلزلے نظام الہی ہیں یا عذاب الہی ۔ میں جو ابھی تک واقع ہی کوگھو بنا تک رہا تھا معاملے کو فوراً سمجھتے ہوئے کہا یہ نظام الہی ہے۔ کہنے لگے مولوی صاحب کو بھی بتاو۔ پھر خود ہی مولوی صاحب سے اور مجمع سے مخاطب ہو کر کہنے لگے مولوی صاحب ہمارے ہی چندہ وصول کر کے ہمیں ہی پاپی گردان رہے ہیں کیا وہی تین اضلاع گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں باقی تین اضلاع میں گناہ نہیں ہوتا ۔ اگر یہ پکڑ گناہ پر ہی تھی تو کشمیر سے دوسرے شہروں(نام لیے بغیر) میں کیا کیا ہوتا ہے وہاں زلزلہ کیوں نہیں آیا ۔ محمود صاحب کبھی مولانا صاحب کو اور کبھی مجھے دیکھ کر یوں ہی بول رہے تھے ۔ مجھے اس لیے پوائنٹ کر رہے تھے کہ بقول ان کے کوگھو بنا کیوں بیٹھا ہوں جب کہ میرے کشمیر کو بلیم کیا جا رہا ہے۔ محمود صاحب کو بازو سے پکڑ کر بٹھایا اور مولانا صاحب سے پوچھا تُساں دسو کیہڑا گناہ اساں وچ تکیا اے ۔ تب وہ بھی بتیسی دکھا کر چلتے بنے مجمع والے جو محمود صاحب کا موقف نہ سمجھ پائے تھے اپنی اپنی قیاس آرائیاں کرنے لگے لیکن میں سوچ رہا تھا کہ واقعہ ماں اور وطن میں کوئی فرق نہیں ہوتا جس طرح ماں کے خلاف کوئی کچھ نہیں سن سکتا اسی طرح کوئی اہل ایمان وطن کے متعلق بھی نہیں سن سکتا ۔
چھ فٹ اور دو تین انچ کا یہ خوبرو نوجوان ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ آنکھوں میں فکرِ فردا پیشانی پر غور و فکر کی چند شکنیں لیے یاروں دوستوں کی بزم کی جان بنا رہتا ڈھیلے ڈھالے سے کپڑے پاوں میں کالی چپل آستینوں کے بٹن کھلے ہوئے ہمیشہ بات کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے بائیں بازو کی آستین اوپر چڑھاتے رہنا جس کو ہم اپنی زبان میں باں کلونجی تے گل کرنا کہتے ہیں ۔ گھنے سیاہ کالے خمدار بال گھنی مونچھیں آنکھوں کے گرد سیاہ دائرے پیچکے گال ، گالوں سے ایک بات یاد آئی کہ آپ کو ہمیشہ یہ شوق رہتا تھا کہ گال (رخسار) بھرے ہوئے اور ابھرے ہوئے ہوں تینوں پہر گھی مکھن اور دودھ دہی کھا کر بھی آپ کے رخسار نہیں ابھر سکے طالب علمی کے دور میں ایک بار میں نے ان کی والدہ صاحبہ سے پوچھا بھی تھا کہ آپ کے دوسرے بیٹے (الیاس اور جاوید ) موٹے ہیں اور یہ کیوں پتلے ہیں تو وہ سادی زبان میں کہنے لگیں ایویں تھیان (دھیان) رکھنا اے ۔ یہ پرانے زمانے کی خواتین ان بچوں کے لیے کہا کرتیں تھی جو اپنے آگے پڑی چیز کو چھوڑ کر دوسرے کی چیز پر نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے نظر رکھی کہ نہیں البتہ موٹے نہیں ہوئے اور نہ ہی گال پھولے۔
سن دو ہزار پانچ اور چھ میں ان کا حلقہ احباب چار دوستوں پر مشتمل ہو گیا جس کی تشبیہ سیری سے تھی کیونکہ بڑے بڈھیرے کہا کرتے تھے سیری چار پاو کی سیری ہے ۔ اب ان کی رفقاء فاروق قمر ،غلام قادر المشہور قادری بٹ اور ڈاکٹر اعجاز ہوا کرتے تھے۔ ان چاروں کی بیٹھک البشیر میڈیکل اسٹور کی بالائی منزل ہوتی تھی ۔ جہاں عام گپوں کےعلاوہ سنجیدہ گفتگو بھی ہوا کرتی تھی ۔ اور کسی رفاعی کام کی تشکیل بھی یہ سنگت ڈاکٹر اعجاز کے بیرون ملک جانے سے تین پاو پر رہ گئی اور پھر کوئی چوتھا پاو اس میں شامل ہی نہ ہو سکا ۔
کہا جاتا ہے جاٹ کی جان جائے پر زمین نہ جائے لیکن یہاں بھی انہوں نے کمال کی بندہ پروری دکھا دی ۔ ایک آدمی نے اپنا کاشت کار رقبہ ان کے ہاتھوں فروخت کر دیا جس کو اس کا چھوٹا بھائی کاشت کرتا تھا ایڈونس کے طور پر جسے بیانہ کہتے ہیں کچھ رقم بھی محمود صاحب نے دے دی ۔ ابھی لکھت پڑھت ہونی ہی تھی کہ چھوٹے بھائی کو پتہ چل گیا اور وہ بھاگا بھاگا بڑے بھائی کے پاس گیا کہ آپ یہ سودا کینسل کر دیں اس نے کہا اب وہ بیانہ واپس نہیں لیتے ۔ جب اس نے یہ سنا تو وہ محمود صاحب کے پاس آیا اور کہا آپ کو پتہ ہے کہ میرے پاس یہی دو ڈھولہے ہیں اگر یہ بھی نہ رہے تو میرا کیا بنے گا اس موقع پر ایک دو اور لوگ بھی تھے جن کی موجودگی میں آپ نے بیانہ واپس لے کر سودا موقوف کر دیا۔
آپ خوبصورت قد بت کے مالک تھے اور پروفیشنل وکیل تھے اس کے باوجود پینٹ شرٹ نہیں پہنتے تھے ایک دن میں نے نہ پہننے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے جب میں اور ابرار بٹ انٹر کر رہے تھے اس وقت ہمیں شوق پیدا ہوا کہ پینٹ شرٹ پہنیں پھر اس شوق کو پورا بھی کیا لیکن ۔۔۔۔ لیکن کہہ کر چپ ہو گے اور آنکھوں کو سُکیڑتے ہوئے مجھے دیکھنے لگے ۔ میں نے پوچھا لیکن کیا ہوا ۔۔۔ کہنے لگے ایک دن میں اور ابرار ایک گلی سے گزرے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے چل رہے تھے ہم دونوں کبھی ایک دوسرے کو اور کبھی خود کو دیکھ کر خوش ہوتے ، اتنا کہہ کر ہنس دیے ، میں نے پوچھا کیا یاد آئی کہنے لگے ابرار کی ہائیٹ چھوٹی تھی اس نے وہ کمی پوری کرنے کے لیے بڑی ھیل والے بوٹ پہنے ہوتے تھے اور اوپر سے اداکار غلام محی الدین والے بال رکھے ہوئے تھے چلتا تو بوٹوں کی کھڑ کھڑ یوں ہوتی جیسے سڑک سے تانگہ گزر رہا ہو ۔ بس یرا ___ یہی کھڑ کھڑ ہو رہی تھی کہ اتنی دیر میں بالائی منزل کی کھڑکی سے کِسی نے آواز کسی ۔۔۔۔ وہ میرا تجسّس دیکھنے کے بات ادھوری چھوڑ دیتے میں پھر پوچھتا تو وہ ترچھی نظر سے دیکھ کر کہتے یرا کہہ دساں بس استیں بعد پینٹ نہی لائی ۔۔۔ میں نے کہا وہ آواز کیا کسّی تھی کِسی نے کہنے لگے آواز یہ تھی لغنیاں تے سوہنیاں ہس پر اے لنڈے نیاں ہن ۔۔۔ کہنے لگے اس کے بعد بی اے، ایل ایل بی کیا وکالت کی لیکن پینٹ نہی لائی ۔۔
آپ والدین کی بہت فرمانبردار اولاد تھے ۔ گھریلو ماحول چونکہ زمیندارہ تھا والدین اکثر زمینوں سے ہی وابستہ رہتے آپ گھر آتے دیکھتے بےجی گھر نہیں تو فوراً باڑی میں جاتے جو گھاس وغیرہ انہوں نے کاٹا ہوتا باندھتے اور اٹھا کر گھر لے آتے وہ کہا بھی کرتیں تم نہ اٹھاو لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے وکیل گھاس لے کر جا رہا ہے ۔ کہتے کہہ وکیلاں کی ماؤ پیو نہے کم ہشنا منع اے۔ بےجی چونکہ بھاری جسامت کی تھیں اور چلتی بھی آستہ آستہ تھیں لیکن آپ گھاس اٹھا کر بھی آگے نہ ہوتے کہیں بار انہوں نے کہا بھی میں لغی ہشساں تو لغا جل لیکن کہتے نہیں گپاں لانے دوہے اکھٹے جولساں ۔ گھر آ کر گھاس پھینکتے اور اپنی قمیض کے بٹن کھولتے ہوئے کہتے بی (بڑی بہن کو بی کہتے تھے ) پکھا (ہاتھ سے ہلانے والا پنکھا) دیو ۔ پھر بجائے خود کو جھلنے کے بےجی کو ہوا دیتے وہ ہنستے ہوئے کہتی ہُسھڑ آپے کی لغا ہس چولنا میغی اے ۔۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ بےجی کو بھی گرمی سخت لگتی ہوتی تھی ۔ بےجی کی خدمت وہ بیٹیوں سے بڑھ کر کرتے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے کے بہانے بازوں دباتے کبھی کنگھی پکڑ کر بال سنوارتے اور تو اور بےجی کے ہاتھوں پیروں کو مہندی بھی لگاتے وہ ہنستے ہوئے کہتی پترا آپوں وی رام (آرام) کر میغی وی کرن دے۔ ان کی بات سن کر کہتے ہاتھوں پیروں کو مہندی لگانے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ آرام کیا جائے۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر ہنستے ۔
بی(بہن) سے بہت گہری دوستی تھی دونوں بہن بھائی ایک جیسے لمبے لمبے، رنگ بھی اور نین نقش بھی ایک جیسے پھر دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کی مشاورت سے کام کرتے ۔ دونوں بہن بھائیوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے اس لیے اکثر اوقات محمود بی کے پاس ہی آ کر بیٹھا کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے کبھی محمود ان کو کہتے اے منج کیندی اے جسنی نہ شکل تے نہ نہوار۔ بی بات سن کر کہتی شکلے نہوارے آلی تساں جے آندی اے پاء دود سیاں تے پاء ہی پھیری۔ دونوں اپنی اپنی بھنیسوں کی تعریف میں جب زمین آسمان کے قلابے ملانے لگتے تو ان کے تایا جو بی کے سسر بھی ہیں اور یہ سارے بہن بھائی ان کو نکے پہاپا کہا کرتے تھے وہ ہنستے ہوئے کہتے تساں دوواں کی وکیل یا فیر بیپاری( بیوپاری) ہونا چاہی نا سی۔ ان کی بات سن کر یہ دونوں بھی ہنستے اور پھر موضوع بدل لیتے۔ کیا بہن بھائی کی خوش گپیایں تھی لیکن جب سے ان کی بےجی فوت ہوئیں تو محمود صاحب سے بہاریں ہی روٹھ گئیں ۔ اب وہ شوخی گفتار رہی نہ وہ البیلی سی رفتار رہی بس اداسی دن رات بڑھتی ہی رہی جس ماں کے پاس بیٹھ کر سکون ملتا تھا وہ ماں ہی نہیں رہی تو پھر سکون کیسا بہن بھائی ایک دوسرے سے کم ملنے لگے کے ان کی ملاقات اور بےجی کی یادیں اکھٹی ہو جاتیں تو آنکھوں سے چشمے پھوٹ نکلتے ۔ بے جی کی جدائی ویسے تو ساری اولاد کے لیے ہی صدمہ تھی لیکن ان دونوں پر کچھ زیادہ ہی گراں گزری بی کا چہرہ تو چہرہ پتہ چلتا تھا کہ آنکھوں نے بھی کبھی کسی کو ہنستے نہیں دیکھا بی چارپائی کی ہو کر بیٹھ گی کبھی کبھار وفا شعار شریک حیات بازوں سے پکڑ کر بےجی کی تربت پر لاتا دیدار کرا کر واپس لے جاتا ۔ لیکن محمود صاحب تو ایک جری مرد تھے وہ عورتوں کی طرح ہم جولیوں کے ساتھ بیٹھ کر بےجی کے قصے سنا کر غم ہلکا نہیں کر سکے بلکہ جب بھی کوٹلی سے آتے گاڑی کھوئیرٹہ روڈ پر چڑھتی تو بےجی کی یادیں سڑک پر چلتی پھرتی نظر آنے لگتی۔ یہ وہی سڑک تھی جب آخری بار رات کے کسی پہر بےجی کو لایا جا رہا تھا لیکن بےجی آج محمود کی کار کے بجائے ایمبولینس میں آ رہے تھیں ۔ آج محمود جی کو سب بہن بھائیوں کے ایک ہی سوال کا جواب تلاشنا تھا کہ بےجی کو ایمبولینس میں کیوں لایا جا رہا ہے ۔ محکمہ شاہرات والوں کا بھلا ہو جن کے کارنامے کب کسی کو اتنی دیر یادوں میں گم صم رہنے دیتے ہیں بس ایک جھنپ لگتا محمود دوبارہ سوالات کی بوچھاڑ سے نکل کر ڈرائیور سیٹ پر آ جاتے ۔ اب کوٹلی آتے جاتے بس چالیس کی سپیڈ ہوتی یادیں ہوتی اور محمود صاحب ہوتے۔
پانی کی ایک ایک بوند گرنے سے گڑھا بن جاتا ہے اور جہاں آبشار گرتا ہو وہاں کیا بنتا ہو گا کوئی پہاڑوں ہی سے پوچھے ۔ وہ لمبا تڑنگا جوان جس کی عادت میں ہی شامل نہیں تھا تھک ہار کر بیٹھنا آخر وہ اپنے ہی غموں سے ہارنے لگا بےجی کی یادیں اب اشکوں کی صورت اختیار کرنے لگی تو اس نے پھر اشکوں کو اندر گرانا شروع کر دیا لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ آنسو تو دنیا والوں سے چھپائے جا سکتے ہیں لیکن ان کا اثر دنیا والوں سے نہیں چھپ سکے گا۔ آخر وہی ہوا آنسوؤں کی بوندوں نے کوہ ہمالیہ کو شگاف ڈال کر مسمار کر دیا اور ایک چلتا پھرتا بہادر مرد زیرک انسان لائق فائق وکیل ہنستا کھیلتا دوست سینے کی اس جگہ کو پکڑ کر بیٹھ گیا جسے کہتے ہیں یہاں دل ہوتا ہے ۔ بس پھر کیا تھا ______ بس۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کی باتیں تھی کوئی کہہ رہا تھا دل کھٹی گئیا جو تھوڑا سمجھدار تھا اس نے دل کا دورہ کہا اور آخر ایک ڈاکٹر نے قفس عنصری کے اس عمل کو ہارٹ اٹیک کہہ کر چلتا پھرتا محمود اسٹریچر پر ڈال کر دے دیا۔
سب درست کہہ رہے تھے لیکن کوئی "بی" کی نہیں سن رہا تھا جو بار بار بھائی کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر کہہ رہی تھی ____ ویر جی _____ مہاڑیو وکیل جی _____ مہاڑیاں آکھاں نہے تاریو تساں تے ایک میٹنگ وچ گے سو کہہ فیصلہ کری تے آئے ہو کیاں نو دسنے _____تساں تے مہاڑے کولوں کوئی گل نہی سی چھپائی ______ فیر اج نہے فیصلے نا کیاں نو دسنے _______ پگلی کیوں نہیں سمجھتی تھی ____ کہ مرد راز نہیں دیتے _____ آخر وہ راز لے کر بےجی کے پہلو میں لیٹ گیا جہاں سے راز باہر نہیں آتے۔
جس طرح وہ بےجی کی موت کو دو ماہ میں کسی پل نہیں بھول پائے اور ٹھیک دو ماہ بعد جا کر انہی سے ملے۔ بےجی کے چہلم پر آنے والے ابھی واپس اپنے گھروں کو ہی نہیں پہنچ پائے تھے کہ یہ سندیسہ بھی مل گیا کہ وکیل صاحب کیس جیت کر والدہ کے پاس پہنچ گے ہیں ۔ جس طرح محمود اپنی والدہ کا دکھ نہیں برداش کر سکے اسی طرح ان کی موت کا صدمہ ان کے والد صاحب نہیں سہہ پائے اور ٹھیک پانچ سال بعد وہ بھی اسی بستی میں جا بسے جس کی چاردیواری کے کتبے پر لکھا ہے ______ چودھری شیر محمد آبائی قبرستان ۔
محمود صاحب کے وہ پلان جو مسجد کے حوالے سے تھے انہی کے بھائی الیاس اور بہت ہی قریبی دوست قادری بٹ نے پوری جانفشانی سے پایا تکمیل تک پہنچائے جن کا پورا پورا کریڈٹ ان شاءالله آپ کو کروٹ کروٹ راحت کی صورت میں ملتا رہے گا۔ بےشک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
آج وہ مسجد جس کے صحن کا سوچا کرتے تھے کہ اس پر سائبان کے طور پر کچھ کیا جائے ماشاءاللہ تین منزلہ مسجد بن گئی ہے۔ اور اس کی ایک ایک اینٹ سے آپ کی یاد وابستہ ہے ۔
لوگ آج بھی چل پھر رہے ہیں بڑی بڑی ڈگریاں لا رہے ہیں ______ مکئی آج بھی سکھائی جا رہی ہے _____ بتیوں کی جگہ سیور انرجی نے لے لی ____ چیکڑی کا نام تک لوگ بھول گے ______ سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا لیکن کہیں ____ نالا سیری بان کنارے _____ اک پاگل بہن _____ بیٹھی ہے جس کے دل و دماغ میں کہیں بہت دور سے _____ ہاں ____ بہت دور ___ سے ناصر کاظمی کی غزل کا _____ شعر _____ سنائی دیتا ہے _______" جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی _______وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی"۔ _________** ♡♡♡
 
Top