سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے

محمداحمد

لائبریرین
اشاروں ستاروں اور استعاروں نے مروا دیا دوستو!
پہروں یوں شادی شدہ بے چارے سوچتے ہوں گے :grin:

اس پر ہم نے مسلسل غزل تیار کر رکھی تھی تاہم اسی تازہ بتازہ شعر پر گزارہ فرمائیے۔:)

محسن بھائی

اگر آپ کہیں تو یہ خوشخبری "اذنِ سخن" میں لگا دوں وہاں بڑی بےتابی سے انتظار ہو رہا ہے۔ :)
 

فاروقی

معطل
اشاروں ستاروں اور استعاروں نے مروا دیا دوستو!
پہروں یوں شادی شدہ بے چارے سوچتے ہوں گے :grin:

اس پر ہم نے مسلسل غزل تیار کر رکھی تھی تاہم اسی تازہ بتازہ شعر پر گزارہ فرمائیے۔:)


حسن کالا بھی ہوتا ہے، جو دیکھو عاشق نظروں سے
دن رات بے چارے سب، سنگھاڑے سوچتے ہوں گے




پسند نہ آئے تو لات مت ماریے..گا...........کیوں کہ کسی کے چرائے نہین اپنے ہیں
 

محمداحمد

لائبریرین
حسن کالا بھی ہوتا ہے، جو دیکھو عاشق نظروں سے
دن رات بے چارے سب، سنگھاڑے سوچتے ہوں گے




پسند نہ آئے تو لات مت ماریے..گا...........کیوں کہ کسی کے چرائے نہین اپنے ہیں

بالکل جناب شعر چیخ چیخ کے کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کے اپنے ہیں۔ :)
 

مغزل

محفلین
سوال یہ ہے کہ احمد صاحب نے ایسا کیا دولت کدے کے دروازے سے باندھ رکھا تھا؟
مغل صاحب اس قدر نہیں ڈرنا چاہئے۔
آپ ساتھ کوئی ہاکی چھتری لے جاتے تو کسی گزند کا کوئی امکان نہ تھا۔:grin:

دوست ایسا کچھ بھی نہیں۔
بس یہ خیال آگیا کہ نہ جانے احمد کی کیا مصروفیت ہو
بن بلائے اور بن بتائے جانا غیر تہذیبی عمل ہے۔
سو یہی سوچ کر واپس پلٹ آیا ۔۔
(بلکہ دروازے پر کھڑے رہ کر فون کیا تھا۔۔ کال اٹینڈ نہ ہوئی تب چلا آیا) :mrgreen:
 

محمداحمد

لائبریرین
محبت سوچتی ہوگی کہ ہم دونوں جدا کیوں ہیں
مقدر درمیاں میں ہے ستارے سوچتے ہوں گے

ستاروں کے تخیّل میں تو فُرقت دوریاں ہوں گی
مگر برعکس دریا کے کنارے سوچتے ہوں گے

واہ۔۔۔ بہت خوبصورت غزل ہے احمد صاحب !
یہ دو اشعار تو بہت ہی اچھے لگے۔۔

بہت شکریہ جیا صاحبہ
 

آصف شفیع

محفلین

آصف شفیع صاحب

بلاشبہ شعرگوئی کی غرض و غایت یہی ہوتی ہے کہ شاعر اپنے ذہن میں جنم لینے والے خیالات اور جمالیاتی پیکر کا حتی الوسع ابلاغ اپنے قاری تک کرسکے۔ اس غزل میں میں نے اپنی سی کوشش کی ہے اب میں مفاہیم کے ابلاغ میں کس حد تک کامیاب رہا ہوں اس کا فیصلہ تو آپ لوگ ہی کر سکتے ہیں اور آپ کی رائے میرے لیے بے حد اہم ہے جو یقیناً بہتری کا سبب بھی بنے گی۔ انشاء اللہ

شکریہ کہ آپ نے میری رائے کو اہمیت دی۔مقصد یہی ہوتا ہے کہ ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب مل سکیں۔ اور اس طرح سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر صرف تعریف ہی کروانی مقصود ہو تو واہ واہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مثبت تنقید سے آدمی بہت کچھ سیکھتا ہے۔احباب سے بھی گزارش ہے کہ تخلیقات پر سنجیدہ اور مفصل گفتگو کریں تاکہ تخلیق کے تمام پہلو واضح ہو سکیں۔
 

آصف شفیع

محفلین
میرے دوست مجھے تاخیر ہوگئی ۔۔
اور میرے لیے یہ سعادت بختی ہے کہ اس عرصے میں آصف شیخ اور آپ کے درمیان مکالمہ
نےمیرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات اور جوابات کاوہ تشفی بھرکم منھ توڑ جواب دیا ہے۔۔
کہ مزا آگیا۔۔باقی اب آپ سے ملاقات پر ہی گفتگو ہوگی ۔۔ گو کہ ضرورت نہیں مگر آصف
شیخ صاحب کی اجازت ہو تو کچھ میں بھی عرض کرنا چاہوں گا۔ :grin1:
والسلام مع الکرام
م۔م۔مغل

مغل صاحب! آپ ضرور فرمائیے۔ ڈسکشن جتنی زیادہ ہو ، قاری اور تخلیق کار دونوں کیلیے بہتر ہے۔ اگر آپ میرے نام کی تصحیح کر دیں تو نوازش ہو گی۔
 

نوید صادق

محفلین
دوسرے شعر میں درمیاں میں کے بجائے درمیاں ہونا چاہیے تھا۔ جیسے اس شعر میں دیکھیں:
محبت تیرا میرا مسئلہ ہے
زمانہ درمیاں کیوں آگیا ہے

آصف! اس سلسلہ میں آپ کی رائے درست نہیں ہے
یگانہ کا شعر ہے،

آنکھ نیچی ہوئی، ارے یہ کیا؟
کیوں غرض درمیان میں آئی!

رضی اختر شوق کا شعر ہے

زمین پر جو نہیں تھا تو آسمان میں تھا
کوئی تو اپنی محبت کے درمیان میں تھا


جمال احسانی کا شعر ہے

(شعر یاد نہیں آ رہا، غزل کا مطلع یاد ہے۔ چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا)
آپ کو یقینا" درمیان والا شعر یاد ہو گا۔

اس سلسلہ میں ایک بار خورشید رضوی صاحب سے بھی میری بات ہوئی تھی۔ اہلِ زبان اسے درست مانتے ہیں جبکہ فارسی دان غلط۔
 

نوید صادق

محفلین
سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے
زمیں سے آسماں تک استعارے سوچتے ہوں گے

(دونوں مصرعوں کا آپس میں کیا ربط ہے؟
دوسرے " استعارے سوچتے ہوں گے؟"؟؟؟
پہلا مصرعہ خوب ہے۔ دوسرے پر محنت اور توجہ کی ضرورت ہے بحوالہء مفہوم)


محبت سوچتی ہوگی کہ ہم دونوں جدا کیوں ہیں
مقدر درمیاں میں ہے ستارے سوچتے ہوں گے

(بہت خوب!!)


ستاروں کے تخیّل میں تو فُرقت دوریاں ہوں گی
مگر برعکس دریا کے کنارے سوچتے ہوں گے

("فرقت " اور "دوریاں" ہم معنی الفاظ ہیں۔ دوریاں کی جگہ کچھ اور لانا ہو گا۔ دوسرا مصرعہ اپنی جگہ بھرپور ہے)

مِری کج فہمیاں منزل سے دوری کا سبب ٹھہریں
اشارے تو اشارے ہیں، اشارے سوچتے ہوں گے

( پہلا مصرعہ عمدہ ہے۔ دوسرے پر نظرثانی کر لیں)

نظارہ منظروں کی کئی پرتوں سے عبارت ہے
کوئی ہو دیدہء بینا نظارے سوچتے ہوں گے

(وارث بھائی! یہ " کئ" نے کام خراب نہیں کر دیا۔ کسی زحاف کا کمال تو نہیں؟؟؟ میرے خیال میں تو یہاں "کتنی" ہونا چاہئے تھا)

اُنہیں معلوم کب تھا آگ جنگل ہی نگل لے گی
شرارے مثلِ جگنو ہیں، شرارے سوچتے ہوں گے

شعر اچھا تھا اگر سوچنے کا کام شراروں کی بجائے کسی اور چیز سے لیا جاتا

جو پسپا ہو کے لوٹی ہیں وہ لہریں پھر سے آئیں گی
سمندر سے جڑے سوکھے کنارے سوچتے ہوں گے

اچھا شعر ہے، بشرطیکہ لفظ " جڑے" نکال دیا جائے۔ سمندر کے کنارے یا سمندر سے جڑے ہوئے کنارے؟؟؟
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ نوید صاحب آپ کی تفصیلی بحث کیلیئے۔

آپ نے جس طرف اشارہ کیا ہے (نظاروں والا شعر)، بالکل صحیح کہا ہے، 'کئی' اس شعر کو بے وزن کر رہا ہے!

مطلع کے بارے میں تو احمد صاحب بہتر فرمائیں گے، لیکن مجھ کچھ یوں لگتا ہے کہ دوسرے مصرعے میں 'استعارے' نہیں سوچ رہے بلکہ 'کنارے' ہی سوچ رہے ہیں کہ سمندر کتنا گہرا کہ اس کی گہرائی کو زمین سے آسمان تک کس چیز کی مثل کہا جائے، وغیرہ!

والسلام
 

آصف شفیع

محفلین
نوید صاحب۔بہت خوب آپ نے تفصیلی بحث فرمائی۔ آپ کی رائے سے اتفاق ہے اور کچھ نکات کی طرف تو میں پہلے بھی اشارہ کر چکا ہوں لیکن پہلے شاعر سے پوچھ لینا چاہیے کہ وہ اس طرح کی تنقید یا بحث کے متحمل بھی ہیں یا نہیں۔
 

آصف شفیع

محفلین
[
آپ نے جس طرف اشارہ کیا ہے (نظاروں والا شعر)، بالکل صحیح کہا ہے، 'کئی' اس شعر کو بے وزن کر رہا ہے!
( میرے خیال میں کئی سے شعر بے وزن نہیں ہو رہا۔یہاں فعو کے وزن پر آ رہا ہے اور یہی ہونا چاہیے۔ نوید صاحب بے وزن کے بجائے کچھ اور کہنا چاہ رہے ہیں شاید )مطلع کے بارے میں تو احمد صاحب بہتر فرمائیں گے، لیکن مجھ کچھ یوں لگتا ہے کہ دوسرے مصرعے میں 'استعارے' نہیں سوچ رہے بلکہ 'کنارے' ہی سوچ رہے ہیں کہ سمندر کتنا گہرا کہ اس کی گہرائی کو زمین سے آسمان تک کس چیز کی مثل کہا جائے، وغیرہ!

والسلام[/quote]

(جی ٹھیک کہا آپ نے- اسی طرح کا مفہوم بن رہا ہے کہ کنا رے سوچ رہے ہیں اور اور زمیں سے آسماں تک استعاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں)
 

محمد وارث

لائبریرین
( میرے خیال میں کئی سے شعر بے وزن نہیں ہو رہا۔یہاں فعو کے وزن پر آ رہا ہے اور یہی ہونا چاہیے۔ نوید صاحب بے وزن کے بجائے کچھ اور کہنا چاہ رہے ہیں شاید )
والسلام

آصف صاحب یہ غزل بحر ہزج مثمن سالم میں ہے (مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)۔ اب مذکورہ شعر کو دیکھتے ہیں:

نظارہ منظروں کی کئی پرتوں سے عبارت ہے
کوئی ہو دیدہء بینا نظارے سوچتے ہوں گے

نظارہ من - مفاعیلن
ظرو کی کَ - (مفاعیل) جب کہ مفاعیلن چاہیئے
ی پرتو سے - مفاعیلن
عبارت ہے - مفاعیلن

کُ ئی ہو دی - مفاعیلن
دَ ء بینا - مفاعیلن
نظارے سو - مفاعیلن
چ تے ہو گے - مفاعیلن

'کئی' کا وزن آپ نے درست لکھا کہ 'فعو' جیسے میر کی اس غزل میں

گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

لیکن یہاں بحر کو 'فعو' درکار نہیں ہے بلکہ 'فعل' درکار ہے، اسی لیئے شاید نوید صاحب نے لکھا تھا کہ 'کئی' کو اگر 'کتنی' کر دیا جائے تو وزن پورا ہو جائے گا۔
 

آصف شفیع

محفلین
آصف! اس سلسلہ میں آپ کی رائے درست نہیں ہے
یگانہ کا شعر ہے،

آنکھ نیچی ہوئی، ارے یہ کیا؟
کیوں غرض درمیان میں آئی!

رضی اختر شوق کا شعر ہے

زمین پر جو نہیں تھا تو آسمان میں تھا
کوئی تو اپنی محبت کے درمیان میں تھا
جمال احسانی کا شعر ہے
(شعر یاد نہیں آ رہا، غزل کا مطلع یاد ہے۔ چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا)
آپ کو یقینا" درمیان والا شعر یاد ہو گا۔
(چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
یہ اور بات کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
مگر یہ دکھ ہے۔ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا)

اس سلسلہ میں ایک بار خورشید رضوی صاحب سے بھی میری بات ہوئی تھی۔ اہلِ زبان اسے درست مانتے ہیں جبکہ فارسی دان غلط۔

نوید صاحب! آپ کی رائے سے اتفاق ہے اور میں نے جمال کے شعر بھی لکھ دیے ہیں لیکن ان تمام شعروں میں "درمیان" پورا استعمال ہو رہا ہے۔ "درمیاں" نہیں۔ ذرا غور کیجیے۔ اور اگر "درمیاں میں" کی کوئی سند مل جائے تو بات کلیئر ہو جایے گی۔ "درمیان میں" والی بات سے متفق ہوں۔"درمیاں"کے حوالے کیلیے میں نے شعر کوٹ کیا تھا۔ آپ کو کوئی شعر "درمیاں میں" کے حوالے سے ملے تو بتائیے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
آصف صاحب، ناصر کاظمی کے اشعار دیکھیئے گا:

کیسی گردش میں اب کے سال پڑا
جنگ سر سے ٹلی تو کال پڑا

تجھ سے مل کر بھی دل کو چین نہیں
درمیاں میں وہی سوال پڑا
 

آصف شفیع

محفلین
آصف صاحب، ناصر کاظمی کے اشعار دیکھیئے گا:

کیسی گردش میں اب کے سال پڑا
جنگ سر سے ٹلی تو کال پڑا

تجھ سے مل کر بھی دل کو چین نہیں
درمیاں میں وہی سوال پڑا


وارث صاحب۔ بہت شکریہ۔ اب تو سند مل گئی۔ اس سے میرے علم میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔
 

آصف شفیع

محفلین
نظارہ من - مفاعیلن
ظرو کی کَ - (مفاعیل) جب کہ مفاعیلن چاہیئے
ی پرتو سے - مفاعیلن
عبارت ہے - مفاعیلن

کُ ئی ہو دی - مفاعیلن
دَ ء بینا - مفاعیلن
نظارے سو - مفاعیلن
چ تے ہو گے - مفاعیلن

'کئی' کا وزن آپ نے درست لکھا کہ 'فعو' جیسے میر کی اس غزل میں

گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

لیکن یہاں بحر کو 'فعو' درکار نہیں ہے بلکہ 'فعل' درکار ہے، اسی لیئے شاید نوید صاحب نے لکھا تھا کہ 'کئی' کو اگر 'کتنی' کر دیا جائے تو وزن پورا ہو جائے گا۔[/quote]

جی۔ آپ نے درست فرمایا۔ تقطیع کرنے سے نکتہ کلیئر ہو گیا ہے۔وارث صاحب! بہت بہت شکریہ۔ شاعر کو مصرعہ تبدیل کرلینا چاہییے۔
 
Top