سر سید احمد خاں کے قلم سے

سیدہ شگفتہ نے 'سرسید احمد خان' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 20, 2007

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,137

    سر سید احمد خان کی تحاریر

    ایک فہرست



     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,137


    یہاں مرتب کریں ۔۔۔


     
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,137
    قواعدِ صرف و نحوِ زبانِ اُردو (1840ء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,137
    جِلاءُ القُلوب بذکر المحبوب (1843ء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    29,512
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    sunshine
    آثار الصنادید
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    19,316
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اوپر والی کتب کے علاوہ، سرسید کی دیگر تصانیف:

    جامِ جم (فارسی) 1840ء۔ سلاطین تیمیوریہ کا امیر تیمور سے لیکر بہادر شاہ تک تذکرہ ہے۔

    تحفۂ حسن، 1844ء۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی کی کتاب "تحفۂ اثنا عشریہ" کے ایک باب کا ترجمہ ہے، اور اسی کتاب کی تائید میں ہے۔

    تسہیل فی جر الثقیل، 1844ء

    کلمۃ الحق، 1849ء

    راہِ سنت و ردِ بدعت، 1850ء۔ بدعت اور اہلِ بدعت کے خلاف ہے۔

    نمیقہ در بیانِ مسئلہ تصورِ شیخ، 1852ء

    سلسلۃ الملوک، 1852ء۔ راجہ یدہشٹر سے ملکہ وکٹوریہ تک، دہلی کے بادشاہوں کا تذکرہ ہے۔

    قولِ متین در ابطالِ حرکتِ زمین۔

    فوائد الافکار فی اعمال الفرجار، ترجمہ 1864ء

    سیرتِ فریدیہ۔ اپنے نانا کی حیات و سیرت کے متعلق لکھی ہے اور اپنے ابتدائی حالات بھی بیان فرمائے ہیں۔

    تاریخِ ضلع بجنور۔ 1857 میں تلف ہوگئی۔

    تصیح آئینِ اکبری۔

    تاریخِ سرکشی بجنور۔

    رسالہ اسبابِ بغاوتِ ہند۔ مشہور و معروف و متنازعہ ہے۔

    لائل محمڈنز آف انڈیا، 1860 اور 1861۔ سلسلہ وار تھی، صرف تین نمبروں تک جاری رہی۔

    تحقیق لفظ نصاریٰ۔

    تصیح تاریخِ فیروز شاہی، 1862۔ ضیاءالدین برنی کی مشہور تصنیف کی سرسید نے تصیح کی۔

    تبئین الکلام، 1862

    علاج ہومیو پیتھک، 1867

    احکامِ طعام اہلِ کتاب۔

    سفر نامۂ لندن۔

    خطبات احمدیہ، 1870۔ شاید سرسید کی سب سے اہم تصنیف ہے۔ سیرتِ رسولِ اکرم (ص) پر جو نازیبا حملے مغربی عالم اور پادری کرتے تھے انکا علمی و ادبی جواب ہے۔ اور سیرتِ رسول (ص) کا دل آویز مرقع پیش کیا۔ انگلینڈ میں مرتب کی اور پہلے وہیں انگریزی میں چھپی تھی، اردو ترجمہ بعد میں شائع ہوا۔

    رسالہ ابطالِ غلامی۔ جو مسلمان علما اسلام میں غلامی کو جائز سمجھتے تھے، انکو قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیا۔

    تفسیر القرآن۔ خطباتِ احمدیہ اور آثار الصنادید کے بعد یہ سب سے اہم لیکن متنازعہ تصنیف ہے، اس میں سرسید نے تمام معجزات اور جنوں اور شیاطین کے خارجی وجود سے انکار کیا ہے، جس کو بہت سارے مسلمان "کفر" اور دیگر "اجتہادی غلطی" سمجھتے ہیں۔

    النظر فی بعض المسائل۔

    سفر نامۂ پنجاب، 1884

    جواب امہات المومنین۔

    ان کتب کے علاوہ، "خطوط سر سید"، "مجموعۂ لیکچرز و اسپیچز"، اور "مضامینِ تہذیب الاخلاق" بھی مستقل تصانیف کا درجہ رکھتے ہیں۔



    (بحوالہ، "انتخاب مضامینِ سرسید مع سوانح و تنقیدی تعارف" شائع کردہ اردو اکیڈمی سندھ، کراچی۔ سنِ اشاعت 1960ء)


    ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    28,137
  8. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,023
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    خطبات احمدیہ کے بارے میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی کہ پھر محفل کا پتہ مل گیا۔ اب مجھے یہ کتاب بھی ڈھونڈنی پڑے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر