دہشت گردی اور خود کش حملوں کے موضوع پر پریس کانفرنس

الف نظامی

لائبریرین

اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جبکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے افراد اور گروہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف اور شرعی طور پر بغاوت و محاربت، اجتماعی قتل انسانی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہیں۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے فوجی جوان و افسر اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے معصوم شہری از روئے شرع قطعی طور پر شہید ہیں۔ اس بات کا اعلان تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ و چیئرمین پاکستان عوامی تحریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ٹورانٹو کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب میں اپنا تفصیلی فتوی جاری کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے فتویٰ کے پس منظر میں بتاتے ہوئے کہا : گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کی اذیت ناک لہر نے امت مسلمہ کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص بدنام کر رکھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں مسلمان من حیث المجموع دہشت گردی کی مذمت اور مخالفت کرتے ہیں اور اسلام کے ساتھ اسکا دور کا رشتہ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں وہاں کچھ لوگ اسکی خاموش حمایت بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس کی کھلم کھلا مذمت و مخالفت کے بجائے، موضوع کو خلط مبحث کے ذریعے الجھا دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے قومی علاقائی اور بین الاقوامی اسباب میں اسلام دشمن طاقتوں کی ریشہ دوانیاں، ان کی طرف سے مسلمانوں کی صریح حق تلفی، عالمی تنازعات میں بالادست طاقتوں کے دھرے معیارات اور محکوم و مظلوم طبقات کے ساتھ نا انصافی جیسے معاملات بڑے بنیادی ہیں۔ اسی طرح دہشت گردوں کی طرف سے مسلح فساد انگیزی، انسانی قتل و غارت گری، دنیا بھر کی بے گناہ اور پر امن انسانی آبادیوں پر خود کش حملے، مساجد، مزارات، تعلیمی اداروں، بازاروں، سرکاری عمارتوں، ٹریڈ سنٹروں، دفاعی تربیتی مرکزوں، سفارتحانوں، گاڑیوں اور دیگر سول سوسائٹی کے اہم مقامات پر بمباری جیسے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ یہ لوگ آئے دن سیکڑوں ہزاروں معصوم جانوں کا بے دردانہ قتل اور انسانی بربادی کے انتہائی بہیمانہ اور سفاکانہ اقدامات کو ناجائز طور پر جہاد کے ساتھ ملا دیتے ہیں اور یوں دہشت گردی اور تصور جہاد کو باہم خلط ملط کر دیتے ہیں۔ اس سے نوجوان نسل کے ذہن بالخصوص اور کئی سادہ لوح مسلمانوں کے ذہن بالعموم پراگندہ اور تشکیک و ابہام کا شکار ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں مغربی دنیا میں میڈیا اسلام اور عالم اسلام کے حوالے سے صرف دہشت گردی کے اقدامات و واقعات ہی ہائی لائیٹ کرتا ہے اور اسلام کے مثبت پہلو اور سرگرمیاں قطعی طور پر اجاگر نہیں کرتا۔ جس کے نتیجے میں پہلے غلط طور پر اسلام اور انتہاء پسندی و دہشت گردی کو باہم بریکٹ کر دیا گیا تھا اور اب صورت حال یہ ہے کہ اسلام کا نام سنتے ہی مغربی ذہنوں میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی تصویر ابھرنے لگ گئی ہے۔ اس سے نہ صرف مغرب میں پرورش پانے والی نوجوان اسلامی نسل انتہائی پریشان، متذبذب اور اضطراب انگیز ہیجان کا شکار ہے بلکہ پورے عالم اسلام کے نوجوان اعتقادی، فکری اور عملی لحاظ سے متزلزل اور ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ یہ انتشار رفتہ رفتہ ان کے اندر دین گریزی کے رجحانات کو تقویت دے رہا ہے۔

مزید یہ کہ ایسے حالات عالم اسلام اور مغرب کے درمیان تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے جار ہے ہیں۔ تخریبی طبقات اور انسانیت دشمن طاقتوں کو اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف نہ صرف اپنا کیس مزید مضبوط کرنے کا موقع ملتا جا رہا ہے بلکہ دہشت گردی کے فروغ سے مسلم ریاستوں میں مزید دخل اندازی اور ان پر دباؤ بڑھائے جانے کا راستہ بھی زیادہ سے زیادہ ہموار ہوتا جا رہا ہے۔ پھریہ خلیج عالمی سطح پر انسانیت کو نہ صرف بین المذاہب مخاصمت کی طرف دھکیل رہی ہے بلکہ عالمی انسانی سوسائٹی میں امن و سکون اور باہمی برداشت و رواداری کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلہ پر ملت اسلامیہ اور پوری دنیا کو حقیقت حال سے آگاہ کیا جائے اس مقصد کے لیے عربی، انگریزی، اردو اور دنیا کی چند دیگر متداول زبانوں میں اسلام کا دو ٹوک موقف قرآن و سنت اور عقائد و فقہ کی روشنی میں واضح کر دیا جائے۔ یہ موقف شرق تا غرب دنیا کے ہر خطہ میں تمام قابل ذکر اداروں اور موثر طبقات تک پہنچا دیا جائے تاکہ غلط فہمی اور ابہام و تشکیک میں مبتلا جملہ مسلم و غیر مسلم حلقوں کو دہشت گردی کے باب میں اصل تصور کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے قرآنی آیات، احادیث نبوی، جلیل القدر ائمہ تفسیر و حدیث کی تصریحات اور ائمہ عقیدہ و فقہ کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔

مزیدبرآں کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر مسلم طاقتوں کا مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو اور مسلم حکومتیں اس پر خاموش ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی اسلامی ریاست کے کسی گروہ کو انفرادی طور پر ایسے ظلم کے خلاف جہاد کے نام پر بھی مسلح جدوجہد کرنے اور رد عمل کے طور پر بھی مسلم یا غیر مسلم بے گناہ اور غیر حربی آبادیوں کو خود کش حملوں کے ذریعے تباہ کرنے اور قتل عام کرنے کی اجازت نہیں۔ چہ جائیکہ غیر مسلم بربریت کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کو گھروں، بازاروں اور مسجدوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔ ایسے عمل کو جہاد کہنا سراسر جہالت اور گمراہی ہے۔

انہوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والی جارحیت اور کشمیر، فلسطین، عراق اور افغانستان میں بے گناہ، مسلمانوں پر جاری فوج کشی کی بھرپور مذمت کی مگر ساتھ یہ بھی قرار دیا کہ اس کو جواز بنا کر بے گناہ مسلمانوں اور پر امن غیر مسلح شہریوں، خواہ ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی ملک یا مذہب سے کیوں نہ ہو، کی قتل و غارت گری اور ان پر دہشت گردی خلاف اسلام اور تعلیمات اسلام سے صریح انحراف ہے۔ انہوں نے بے شمار قرآنی آیات و احادیث، واقعات سیرت نبوی، آثار و اقوال صحابہ اور ائمہ تفسیر، حدیث اور فقہ کی توضیحات کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ اسلام حالت جنگ میں بھی پر امن شہریوں، خواتین، بچوں، بیماروں، ضعیفوں کو قتل کرنے حتی کہ دشمن ملک کی املاک، درختوں، فصلوں اور عبادت گاہوں، کو نشانہ بنانے سے منع کرتا ہے۔ چہ جائیکہ کہ کوئی گروہ از خود جہاد کے نام پر کلمہ گو مسلمانوں اور پر امن غیر مسلم شہریوں کا قتل عام شروع کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر دراصل اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کے اقدامات پاکستان کو غیر مستحکم کرنے، اس کے امن کو تباہ کرنے، اس کی معیشت کو برباد کرنے اسے ایک ناکام ریاست قرار دینے اور پھر اس کے جوہری اثاثوں کو غیر محفوظ قرار دے کر بیرون سامراجی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی گھمبیر و گھناؤنی سازش کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس بات کے واضح شواہد سامنے آچکے ہیں کہ یہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ممالک کے بنے ہوئے اسلحہ اور بارود کا استعمال کر رہے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ پاکستان دشمن عناصر کے ہاتھوں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ خواہ وہ اُن سے اسلحہ لے رہے ہوں، یا تربیت، مالی مدد لے رہے ہوں یا logistic support ان کا یہ عمل بلاشبہ اسلام اور پاکستان کے خلاف ایک گھناونی سازش کا حصہ ہے۔

انہوں نے احادیث اور اقوال صحابہ اور توضیحات ائمہ کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلا دہشت گرد فتنہ خوارج اور حروریہ کا تھا جو دور خلافت راشدہ میں ہی چوتھے خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضی کے خلاف اٹھا۔ ان خوارج نے آپ رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دے کر آپ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ان الحکم الا ﷲ یعنی قانون الٰہی کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مسلح دہشت گردی کو جہاد کا نام دیا۔ ان خوارج کی نشاندہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے 50 سے زائد احادیث میں کی تھی اور حکم دیا تھا کہ جہاں بھی ان سے مقابلہ ہو ان کا قلع قمع کر دیا جائے لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام نے ان خوارج کی سرکوبی کے لئے باقاعدہ جہاد کیا تھا۔

اہل علم کو، ارباب دانش کو، رائے عامہ پر اثر رکھنے والے ہر طبقے کو اور ہر پاکستانی شہری کو اب اس بحث سے نکل جانا چاہیے کہ یہ کون ہیں، ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں، ان کا عذر کیا ہے، یہ کس چیز کا رد عمل ہے۔ ایسے دہشت گرد عناصر جو بھی ہیں، ان کا نعرہ جیسا بھی ہے، ان کا تعلق کہیں سے بھی ہے ان کا پس منظر جیسا بھی ہے یہ اسلام کے دشمن ہیں۔ ان کے اقدامات اسلام کے خلاف ہیں، امت مسلمہ کے خلاف ہیں، پاکستان کے خلاف ہیں، اسلامی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے ہر عمل کا نتیجہ اسلام، امت مسلمہ اور پاکستان کا نقصان ہے۔ ان کا وجود پاکستان کی بقا و سالمیت، اسلام کے تشخص اور اسلامی تہذیب و تمدن کی شناخت کے لئے ایک کھلا خطرہ ہے۔ پوری قوم کو بیک زبان ہو کر ہر سطح پر ہر ممکن طریق سے ایسے دہشت گرد عناصر کی بھر پور مذمت اور ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔ پاکستانی قوم کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے، لہذا قومی یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے پوری قوم کو چاہیے کہ قومی دفاع اور تحفظ پاکستان اور بے گناہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں مصروف افواج پاکستان کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کریں۔


انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان کا یہ فتوی نہ تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت ہے اور نہ ہی ان کے توسیع پسندانہ عزائم اور اقدامات کی کسی بھی طرح تائید۔ اسی طرح یہ حکومت پاکستان کی متنازعہ پالیسیوں، غیر مقبول طرز حکومت اور غیر جمہوری رویوں کی توثیق بھی نہیں ہے۔ یہ فتوی انہوں نے قرآن و حدیث اور کتب تفسیر اور عقائد و فقہ کی روشنی میں دہشت گردی کی حیثیت کو واضح کرنے اور اسلام کا کیس پوری دنیا کے سامنے صحیح طور پر اجاگر کرنے کے لئے دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تفصیلی فتوی ڈیڑھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل تحریر کر دیا ہے جس میں درجنوں آیات قرآنی، بیسیوں احادیث نبوی، ائمہ و تفسیر، حدیث اور عقائد و فقہ کی درجنوں کتب سے استدلال کی روشنی میں اپنے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ اسی ہفتے کتابی صورت میں اردو، عربی اور انگریزی زبانوں میں بیک وقت شائع کیا جا رہا ہے۔

بحوالہ تحریک منہاج القرآن
 

اہل علم کو، ارباب دانش کو، رائے عامہ پر اثر رکھنے والے ہر طبقے کو اور ہر پاکستانی شہری کو اب اس بحث سے نکل جانا چاہیے کہ یہ کون ہیں، ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں، ان کا عذر کیا ہے، یہ کس چیز کا رد عمل ہے۔ ایسے دہشت گرد عناصر جو بھی ہیں، ان کا نعرہ جیسا بھی ہے، ان کا تعلق کہیں سے بھی ہے ان کا پس منظر جیسا بھی ہے یہ اسلام کے دشمن ہیں۔ ان کے اقدامات اسلام کے خلاف ہیں، امت مسلمہ کے خلاف ہیں، پاکستان کے خلاف ہیں، اسلامی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے ہر عمل کا نتیجہ اسلام، امت مسلمہ اور پاکستان کا نقصان ہے۔ ان کا وجود پاکستان کی بقا و سالمیت، اسلام کے تشخص اور اسلامی تہذیب و تمدن کی شناخت کے لئے ایک کھلا خطرہ ہے۔ پوری قوم کو بیک زبان ہو کر ہر سطح پر ہر ممکن طریق سے ایسے دہشت گرد عناصر کی بھر پور مذمت اور ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔ پاکستانی قوم کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے، لہذا قومی یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے پوری قوم کو چاہیے کہ قومی دفاع اور تحفظ پاکستان اور بے گناہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں مصروف افواج پاکستان کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کریں۔
بحوالہ تحریک منہاج القرآن
حق حق حق۔ ۔ ۔ ۔
 

arifkarim

معطل
اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔
بہت اہم "انفارمیشن" فراہم کی ہےمولانا قادری صاحب نے۔
بات یہ نہیں ہے کہ اسلام "کس" چیز کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ بات یہ ہے کہ جسکی اجازت نہیں دیتا ، اسپر کتنا "عمل" ہو رہا ہے!
 

الف نظامی

لائبریرین
1100788407-2.gif
 

مہوش علی

لائبریرین
بات ذرا کھل کر کہنے کی ہے۔ دل میں میں بات رکھنا نہیں چاہتی۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، بلکہ فقط زمینی حقائق بیان کرنے ہیں تاکہ اصلاح صحیح طریقے سے ہو سکے۔
*******************

کیا کہوں کہ کچھ دیر کر دی مہرباں آتے آتے ۔۔۔۔ یا یہ کہوں کہ: دیر آید درست آید۔

بہرحال پازیٹیو پہلو کو مدنظر رکھتے ہیں۔ شکوہ طاہر القادری صاحب سے پہلے ہی نہیں تھا کہ وہ شروع سے ہی ان خود کش حملوں کی مخالفت کر رہے تھے۔

اور شکوہ ہے تو بنیادی طور پر دیوبند مکتبہ فکر کی اکثریت علماء و مفتیان کرام سے ہے (سب سے نہیں کیونکہ ان میں مولانا حسن جان جیسے بھی تھے جنہوں نے اپنی مقدور بھر کوشش کی)۔ پھر تبلیغی جماعت ہے جو اسکے مخالف رہی اور اسی بنیاد پر کچھ تبلیغی حضرات کو طالبان نے قتل بھی کیا۔

جو طبقہ ان خود کش حملوں میں ملوث ہے، اسکا براہ راست یا بالواسطہ تعلق دیوبند مکتبہ فکر سے ہے۔ اس لیے اگر ان پر کسی کے فتوے کا زیادہ اثر ہو سکتا ہے تو وہ دارلعلوم دیوبند کے فتوے کا ہی ہے۔ اس لیے یہ ذمہ داری بہرحال مکتبہ دیو بند کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس پاگل پن کے خلاف فتوے جاری کرتے اور دلائل سے ان لوگوں کے فساد کو ظاہر کرتے۔

طاہر القادری صاحب نے اپنی بساط میں جو کچھ تھا وہ کیا، اور یقینا اسکے بھی مثبت نتائج نکلیں گے، مگر زمینی حقیقت یہ بتلا رہی ہے کہ جو فسادی لوگ ان خود کش حملوں میں ملوث ہیں، ان پر طاہر القادری صاحب کے فتوے کا اثر ہونے والا نہیں کیونکہ انکے نزدیک طاہر القادری صاحب کافر ہو مشرک اور پتا نہیں کیا کچھ ہیں۔
************
سوال:
سعودی مفتی حضرات نے سالوں پہلے القاعدہ کو موجودہ دور کے خارجی قرار دیتے ہوئے انکے شر و فساد کی بنا پر ان کا خون حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے بذات خود سعودیہ میں القاعدہ اتنی پنپ نہ سکی۔
تو کیا وجہ ہوئی کہ ہمارے مفتی حضرات اس بات کا احساس نہ کر سکے کہ اگر اس گروہ کے فتنے و فساد کو نہ روکا گیا تو کتنا معصوم خون بہے گا۔
آج بھی آپ کو ایسے لوگ نظر آ جائیں گے جو طالبان کے اس سارے خون خرابے اور خود کش حملوں کا الزام فقط امریکہ پر لگا کر انہیں ہر جرم سے بری الذمہ قرار دے دیں گے اور انکے فتنہ و فساد کے خلاف پاک فوج کی کاروائیوں کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

بس اب تو کچھ کہنے کو بھی دل نہیں کرتا کہ میں تو اس طالبانی فتنے کے خلاف کہہ کہہ کر تھک چکی ہوں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ اب قوم کو بھی اسکا احساس ہوتا جا رہا ہے اور وہ اس فتنے کے خلاف متحد ہوتی جا رہی ہے اور انشاء اللہ اس فتنے کا قلع قمع قریب ہے۔
 

زین

لائبریرین
آج بھی آپ کو ایسے لوگ نظر آ جائیں گے جو طالبان کے اس سارے خون خرابے اور خود کش حملوں کا الزام فقط امریکہ پر لگا کر انہیں ہر جرم سے بری الذمہ قرار دے دیں گے اور انکے فتنہ و فساد کے خلاف پاک فوج کی کاروائیوں کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر اور دوسرے حساس مقامات پر منظم انداز سے حملے کرنا اتنا آسان نہیں ، نہ ہی کسی ’’بڑی طاقت‘‘ کی مدد کے بغیر ممکن ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اور شکوہ ہے تو بنیادی طور پر دیوبند مکتبہ فکر کی اکثریت علماء و مفتیان کرام سے ہے (سب سے نہیں کیونکہ ان میں مولانا حسن جان جیسے بھی تھے جنہوں نے اپنی مقدور بھر کوشش کی)۔ پھر تبلیغی جماعت ہے جو اسکے مخالف رہی اور اسی بنیاد پر کچھ تبلیغی حضرات کو طالبان نے قتل بھی کیا۔

جو طبقہ ان خود کش حملوں میں ملوث ہے، اسکا براہ راست یا بالواسطہ تعلق دیوبند مکتبہ فکر سے ہے۔ اس لیے اگر ان پر کسی کے فتوے کا زیادہ اثر ہو سکتا ہے تو وہ دارلعلوم دیوبند کے فتوے کا ہی ہے۔ اس لیے یہ ذمہ داری بہرحال مکتبہ دیو بند کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس پاگل پن کے خلاف فتوے جاری کرتے اور دلائل سے ان لوگوں کے فساد کو ظاہر کرتے۔

طاہر القادری صاحب نے اپنی بساط میں جو کچھ تھا وہ کیا، اور یقینا اسکے بھی مثبت نتائج نکلیں گے، مگر زمینی حقیقت یہ بتلا رہی ہے کہ جو فسادی لوگ ان خود کش حملوں میں ملوث ہیں، ان پر طاہر القادری صاحب کے فتوے کا اثر ہونے والا نہیں کیونکہ انکے نزدیک طاہر القادری صاحب کافر ہو مشرک اور پتا نہیں کیا کچھ ہیں۔
************
سوال:
سعودی مفتی حضرات نے سالوں پہلے القاعدہ کو موجودہ دور کے خارجی قرار دیتے ہوئے انکے شر و فساد کی بنا پر ان کا خون حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے بذات خود سعودیہ میں القاعدہ اتنی پنپ نہ سکی۔
تو کیا وجہ ہوئی کہ ہمارے مفتی حضرات اس بات کا احساس نہ کر سکے کہ اگر اس گروہ کے فتنے و فساد کو نہ روکا گیا تو کتنا معصوم خون بہے گا۔
آج بھی آپ کو ایسے لوگ نظر آ جائیں گے جو طالبان کے اس سارے خون خرابے اور خود کش حملوں کا الزام فقط امریکہ پر لگا کر انہیں ہر جرم سے بری الذمہ قرار دے دیں گے اور انکے فتنہ و فساد کے خلاف پاک فوج کی کاروائیوں کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

بس اب تو کچھ کہنے کو بھی دل نہیں کرتا کہ میں تو اس طالبانی فتنے کے خلاف کہہ کہہ کر تھک چکی ہوں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ اب قوم کو بھی اسکا احساس ہوتا جا رہا ہے اور وہ اس فتنے کے خلاف متحد ہوتی جا رہی ہے اور انشاء اللہ اس فتنے کا قلع قمع قریب ہے۔

دیوبندی علماء کا خودکش حملوں کی مذمت کرنا نہایت اہم ہے ، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ بارے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
زیادہ سے زیادہ یہی کہہ دیں گے کہ یہ حملہ کرنے والے مسلمان نہیں ہیں ان کا کوئی مسلک و مذہب نہیں۔ اب بندہ پوچھے کہ آج تک جو
خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں کتنے دہریے تھے؟؟؟؟:rolleyes:
 

الف نظامی

لائبریرین
جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر اور دوسرے حساس مقامات پر منظم انداز سے حملے کرنا اتنا آسان نہیں ، نہ ہی کسی ’’بڑی طاقت‘‘ کی مدد کے بغیر ممکن ہے۔
ایک جملہ کی کمی ہے۔
اس قسم کے بیانات اس لیے دئیے جاتے ہیں کہ طالبان کی تشکیل میں جماعتیوں کا جو کردار ہے وہ سامنے نہ آجائے اور انہیں منہ نہ چھپانا پڑے۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے طالبان کے امیر مولوی ولی الرحمان نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
 

فرخ

محفلین
کیا قادری صاحب کا یہ فتویٰ وزیر داخلہ رحمان ملک کی اپیل کا جواب ہے؟ کیونکہ رحمان ملک نے فوراً ہی انہیں‌خراج تحسین بھی پیش کردیا۔(اس پوسٹ کے مطابق: http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=27001)
ورنہ یہ فتویٰ تو دیگر علماء اکرام تقریباً اسی وقت سے دے چُکے ہیں جب سے مسلمانوں‌پر خود کُش حملے شروع کیئے گئے ہیں۔ طاہر القادری صاحب کے الگ سے فتویٰ جاری کرنے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں‌آئی اور وہ بھی اتنی دیر سے ؟؟؟؟؟؟ پہلے کیا کر رہے تھے جب باقی علماء اکرام یہ فتویٰ جاری کر رہے تھے؟
 

فرخ

محفلین
‌جماعتیوں سے مراد شائید جماعت اسلامی ہے آپکی؟مگر یہ بات کہاں‌سے سامنے آئی کہ طالبان کی تشکیل میں انکا بھی ہاتھ رہا ہے۔ جہاں‌تک میں جانتا ہوں، جماعت طالبان کے سامنے آنے سے پہلے ہی حزب السلامی کا حصہ ہے طالبان کا نہیں۔

ایک جملہ کی کمی ہے۔

اس قسم کے بیانات اس لیے دئیے جاتے ہیں کہ طالبان کی تشکیل میں جماعتیوں کا جو کردار ہے وہ سامنے نہ آجائے اور انہیں منہ نہ چھپانا پڑے۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے طالبان کے امیر مولوی ولی الرحمان نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
کیا قادری صاحب کا یہ فتویٰ وزیر داخلہ رحمان ملک کی اپیل کا جواب ہے؟ کیونکہ رحمان ملک نے فوراً ہی انہیں‌خراج تحسین بھی پیش کردیا۔(اس پوسٹ کے مطابق: http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=27001)
ورنہ یہ فتویٰ تو دیگر علماء اکرام تقریباً اسی وقت سے دے چُکے ہیں جب سے مسلمانوں‌پر خود کُش حملے شروع کیئے گئے ہیں۔ طاہر القادری صاحب کے الگ سے فتویٰ جاری کرنے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں‌آئی اور وہ بھی اتنی دیر سے ؟؟؟؟؟؟ پہلے کیا کر رہے تھے جب باقی علماء اکرام یہ فتویٰ جاری کر رہے تھے؟

طالبان کے فتنے کے خلاف جو بھی جب بھی آواز بلند کرے گا، اسکی تعریف حکومت کیا اور رحمان ملک کیا، پورا پاکستان کرے گا (سوائے کسی کنجوس یا طالبان سے ہمدردی رکھنے والے کسی شخص کے)۔

اور مکتبہ دیوبند سے جو ڈھکے چھپے الفاظ میں اکثر طالبان کا نام لیے بغیر خود کش حملوں کے نام پر جو تھوڑے بہت مذمتی الفاظ نکلے ہیں، اگر آپ انہیں فتوے کا نام دے رہے ہیں تو یاد رکھئیے یہ فتوے ہرگز کافی نہیں اور نہ ہی علماء اس سے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوئے۔
اسکے برعکس طالبانی فتنے کے خلاف بھرپور مہم چلانا بالکل الگ چیز ہے کہ جس سے اس فتنے کا خاتمہ ہو پاتا۔ طالبان کو انہوں نے فتنہ قرار دیا، نہ ان میں موجود خارجیت کی نشاندہی کی، نہ انہیں باغی قرار دیا نہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوئی تحریک چلائی،۔۔۔۔۔۔ نہیں، اسکے برعکس اکثر کیسز میں یہ طالبان کے مکمل حامی تھی (صرف اس میں سے خود کش حملے منفی کر دیں)، اور اکثر کیسز میں یہ دل سے چاہتے تھے کہ طالبان اپنی پوری بربریت و طاقت کے ساتھ گن پوائنٹ پر علاقوں پر اور عوام پر قابض ہوتے چلے جائیں اور اپنے طالبانی ورژن کا مذہب زبردستی عوام پر نافذ کرتے چلے جائیں۔

ہو سکتا ہے کہ آج انکی اکثریت کی رائے کچھ تبدیل ہو چکی ہو، مگر ماضی میں کم از کم یہی ٹرینڈ تھا اور اسی وجہ سے طالبانی فتنہ ماضی میں مستقل پھلتا پھولتا رہا اور بڑھ چڑھ کر اژدر بن گیا۔

یہ وہ حقیقت اور غلطی ہے جسکا مکتبہ دیوبند کو کھل کر اعتراف کرنا چاہیے، اور سعودی علماء کی طرح طالبان کو خارجی فتنہ قرار دے کر ان کی سرکوبی کی انتہائی مہم چلانی چاہیے۔ انکی ابتک کی خاموشی کی وجہ سے ہی ہزاروں معصوم طالبانی فتنے کے ہاتھوں اپنا خون بہا چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اور خالی خولی ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ دینا کہ اسلام میں خود کش حملے حرام ہیں، یہ ہرگز کافی نہیں۔ اسکا حشر ہم خود اس فورم میں دیکھ چکے ہیں جب ہمارے ممبر "واجد" طالبان کے خود کش حملوں کے جواز میں ہر طرح کے "عذر" لے کر آ جاتے تھے۔ یہ عذر جتنے مرضی لولے لنگڑے سہی، مگر یہ کافی ہیں کہ انتہا پسند انکی مدد سے ہزاروں معصوموں کے ورغلا کر خود کش حملہ آور بنا دیں۔

چنانچہ خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کے بعد ان لولے لنگڑے عذروں کا بھی قلع قمع لازمی کرنا تھا، اور کھل کر ۔۔۔۔ بلکہ "بہت کھل" کر اور صاف صاف "طالبان" کا نام لے کر انکی مذمت کرنا تھی، انکے طرز عمل کو خارجی طرز عمل قرار دینا تھا، انہیں اسلام مخالف اور فتنہ و فساد قرار دینا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ یہ سب کچھ نہیں کیا، تو پھر آج اتنا معصوم بن کر پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم نے تو خود کش حملوں کو حرام قرار دے دیا تھا تو پھر یہ سب خون خرابہ کیوں ہوا اور یہ فتنہ کیوں نہ رکا۔۔۔۔ انکی اس معصومیت پر بس یہ خود ہی قربان جائیں، اور میں تو اللہ کی پناہ طلب کرتی ہوئی اس سے بیزاری اختیار کرتی ہوں۔

پی ایس:
میری یہاں مراد پورا مکتبہ دیو بند نہیں ہے اور نہ ہی انکی کوئی مخالفت مقصود ہے۔ اصل مکتبہ دیو بند ہرگز انتہا پسند نہیں بلکہ اسکی کچھ شاخیں انتہا پسند ہیں، اکثر لوگ اس چیز کا ادراک نہیں کرتے اور پورے مکتب کو لپیٹ دیتے ہیں۔ بہرحال، مکتبہ دیوبند میرے نزدیک نہ سپاہ صحابہ ہے اور نہ طالبان، بلکہ اصل دیو بند تبلیغی جماعت یا مولانا فضل الرحمان کی شکل میں پاکستان میں موجود ہے۔ یہ متعدل لوگ ہیں اور انکا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف آواز بھی اٹھائی، مگر افسوس کہ یہ آواز کافی نہ تھی اور اسی غلطی کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے۔
 
طالبان کے فتنے کے خلاف جو بھی جب بھی آواز بلند کرے گا، اسکی تعریف حکومت کیا اور رحمان ملک کیا، پورا پاکستان کرے گا (سوائے کسی کنجوس یا طالبان سے ہمدردی رکھنے والے کسی شخص کے)۔

اور مکتبہ دیوبند سے جو ڈھکے چھپے الفاظ میں اکثر طالبان کا نام لیے بغیر خود کش حملوں کے نام پر جو تھوڑے بہت مذمتی الفاظ نکلے ہیں، اگر آپ انہیں فتوے کا نام دے رہے ہیں تو یاد رکھئیے یہ فتوے ہرگز کافی نہیں اور نہ ہی علماء اس سے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوئے۔
اسکے برعکس طالبانی فتنے کے خلاف بھرپور مہم چلانا بالکل الگ چیز ہے کہ جس سے اس فتنے کا خاتمہ ہو پاتا۔ طالبان کو انہوں نے فتنہ قرار دیا، نہ ان میں موجود خارجیت کی نشاندہی کی، نہ انہیں باغی قرار دیا نہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوئی تحریک چلائی،۔۔۔۔۔۔ نہیں، اسکے برعکس اکثر کیسز میں یہ طالبان کے مکمل حامی تھی (صرف اس میں سے خود کش حملے منفی کر دیں)، اور اکثر کیسز میں یہ دل سے چاہتے تھے کہ طالبان اپنی پوری بربریت و طاقت کے ساتھ گن پوائنٹ پر علاقوں پر اور عوام پر قابض ہوتے چلے جائیں اور اپنے طالبانی ورژن کا مذہب زبردستی عوام پر نافذ کرتے چلے جائیں۔

ہو سکتا ہے کہ آج انکی اکثریت کی رائے کچھ تبدیل ہو چکی ہو، مگر ماضی میں کم از کم یہی ٹرینڈ تھا اور اسی وجہ سے طالبانی فتنہ ماضی میں مستقل پھلتا پھولتا رہا اور بڑھ چڑھ کر اژدر بن گیا۔

یہ وہ حقیقت اور غلطی ہے جسکا مکتبہ دیوبند کو کھل کر اعتراف کرنا چاہیے، اور سعودی علماء کی طرح طالبان کو خارجی فتنہ قرار دے کر ان کی سرکوبی کی انتہائی مہم چلانی چاہیے۔ انکی ابتک کی خاموشی کی وجہ سے ہی ہزاروں معصوم طالبانی فتنے کے ہاتھوں اپنا خون بہا چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اور خالی خولی ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ دینا کہ اسلام میں خود کش حملے حرام ہیں، یہ ہرگز کافی نہیں۔ اسکا حشر ہم خود اس فورم میں دیکھ چکے ہیں جب ہمارے ممبر "واجد" طالبان کے خود کش حملوں کے جواز میں ہر طرح کے "عذر" لے کر آ جاتے تھے۔ یہ عذر جتنے مرضی لولے لنگڑے سہی، مگر یہ کافی ہیں کہ انتہا پسند انکی مدد سے ہزاروں معصوموں کے ورغلا کر خود کش حملہ آور بنا دیں۔

چنانچہ خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کے بعد ان لولے لنگڑے عذروں کا بھی قلع قمع لازمی کرنا تھا، اور کھل کر ۔۔۔۔ بلکہ "بہت کھل" کر اور صاف صاف "طالبان" کا نام لے کر انکی مذمت کرنا تھی، انکے طرز عمل کو خارجی طرز عمل قرار دینا تھا، انہیں اسلام مخالف اور فتنہ و فساد قرار دینا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ یہ سب کچھ نہیں کیا، تو پھر آج اتنا معصوم بن کر پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم نے تو خود کش حملوں کو حرام قرار دے دیا تھا تو پھر یہ سب خون خرابہ کیوں ہوا اور یہ فتنہ کیوں نہ رکا۔۔۔۔ انکی اس معصومیت پر بس یہ خود ہی قربان جائیں، اور میں تو اللہ کی پناہ طلب کرتی ہوئی اس سے بیزاری اختیار کرتی ہوں۔

پی ایس:
میری یہاں مراد پورا مکتبہ دیو بند نہیں ہے اور نہ ہی انکی کوئی مخالفت مقصود ہے۔ اصل مکتبہ دیو بند ہرگز انتہا پسند نہیں بلکہ اسکی کچھ شاخیں انتہا پسند ہیں، اکثر لوگ اس چیز کا ادراک نہیں کرتے اور پورے مکتب کو لپیٹ دیتے ہیں۔ بہرحال، مکتبہ دیوبند میرے نزدیک نہ سپاہ صحابہ ہے اور نہ طالبان، بلکہ اصل دیو بند تبلیغی جماعت یا مولانا فضل الرحمان کی شکل میں پاکستان میں موجود ہے۔ یہ متعدل لوگ ہیں اور انکا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف آواز بھی اٹھائی، مگر افسوس کہ یہ آواز کافی نہ تھی اور اسی غلطی کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے۔

بالکل درست کہہ رہی ہیں آپ۔ ۔اس فتنے کو اسلام کا نام دینے والے سیاسی مولوی حضرات ہی ہیں اور اب علماءِ کرام کی ہی ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاد اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا صحیح اسلامی نظریہ اور طریقہءِ کار عوام کے گوش گذار کرین اور آلودہ اذہان کی تطہیر کی جائے تاکہ دہشت گردوں کو خام مال میسّر نہ آسکے۔ اسکی ایک بھرپور میڈیا مہم ہونی چاہیئے۔ خالی خولی مذمت سے کچھ نہیں ہوگا۔ قوم کے نوجوانوں کی اس مسئلے پر بھرپور طریقے سے کنفیوزن دور کی جائے:)
 

فرخ

محفلین
آپ کی اتنی لمبی بھڑاس کا اصل مطلب صر ف ایک ہی پرانی رٹ ہے۔ حکومت میں موجود لوگوں کی چاپلوسی اور یہ ایم کیو ایم کا ہی وطیرہ ہے۔ورنہ اس رحمان ملک کے کرتوتوں سے پوری قوم واقف ہے اور آپ کو موقع ملنے کی دیر تھی اور اسکی کرپٹ کی بھی حمایت شروع کردی۔
میرا پوائینٹ بہت واضح ہے۔ طالبان کی دھشت گردیوں کے خلاف فتوٰی اور انہیں‌حرام قرار دیا جانا بہت پہلے ہی کیا جا چُکا۔ اب اتنی مدت بعد آکر مولانا طاہرالقادری صاحب کو یہ یاد آیا اور وہ ابھی اس کرپٹ رحمان ملک کی اپیل پر؟
سوال یہ ہےپہلے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا جب باقی علماء اکرام اس فتنے کے خلاف بول رہے تھے چاہے دیوبند کے ہوں یا کہیں اور کے؟

اگر طاہر القادری صاحب موجودہ کرپٹ حکومت کے اپیل سے پہلے یا اسکے علاوہ از خود یہ فتوٰی صادر فرماتے تو بہت بات بنتی۔ مگر معذرت کے ساتھ اب اس سے صرف حکومتِ وقت چاپلوسی کی بو محسوس ہوتی ہے۔

مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے، کہ طاہر القادری صاحب نے اس حکومت کے کالے کرتوتوں کے خلاف اب تک کوئی فتوٰی جاری کیوں نہیں کیا؟



طالبان کے فتنے کے خلاف جو بھی جب بھی آواز بلند کرے گا، اسکی تعریف حکومت کیا اور رحمان ملک کیا، پورا پاکستان کرے گا (سوائے کسی کنجوس یا طالبان سے ہمدردی رکھنے والے کسی شخص کے)۔

اور مکتبہ دیوبند سے جو ڈھکے چھپے الفاظ میں اکثر طالبان کا نام لیے بغیر خود کش حملوں کے نام پر جو تھوڑے بہت مذمتی الفاظ نکلے ہیں، اگر آپ انہیں فتوے کا نام دے رہے ہیں تو یاد رکھئیے یہ فتوے ہرگز کافی نہیں اور نہ ہی علماء اس سے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوئے۔
اسکے برعکس طالبانی فتنے کے خلاف بھرپور مہم چلانا بالکل الگ چیز ہے کہ جس سے اس فتنے کا خاتمہ ہو پاتا۔ طالبان کو انہوں نے فتنہ قرار دیا، نہ ان میں موجود خارجیت کی نشاندہی کی، نہ انہیں باغی قرار دیا نہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوئی تحریک چلائی،۔۔۔۔۔۔ نہیں، اسکے برعکس اکثر کیسز میں یہ طالبان کے مکمل حامی تھی (صرف اس میں سے خود کش حملے منفی کر دیں)، اور اکثر کیسز میں یہ دل سے چاہتے تھے کہ طالبان اپنی پوری بربریت و طاقت کے ساتھ گن پوائنٹ پر علاقوں پر اور عوام پر قابض ہوتے چلے جائیں اور اپنے طالبانی ورژن کا مذہب زبردستی عوام پر نافذ کرتے چلے جائیں۔

ہو سکتا ہے کہ آج انکی اکثریت کی رائے کچھ تبدیل ہو چکی ہو، مگر ماضی میں کم از کم یہی ٹرینڈ تھا اور اسی وجہ سے طالبانی فتنہ ماضی میں مستقل پھلتا پھولتا رہا اور بڑھ چڑھ کر اژدر بن گیا۔

یہ وہ حقیقت اور غلطی ہے جسکا مکتبہ دیوبند کو کھل کر اعتراف کرنا چاہیے، اور سعودی علماء کی طرح طالبان کو خارجی فتنہ قرار دے کر ان کی سرکوبی کی انتہائی مہم چلانی چاہیے۔ انکی ابتک کی خاموشی کی وجہ سے ہی ہزاروں معصوم طالبانی فتنے کے ہاتھوں اپنا خون بہا چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اور خالی خولی ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ دینا کہ اسلام میں خود کش حملے حرام ہیں، یہ ہرگز کافی نہیں۔ اسکا حشر ہم خود اس فورم میں دیکھ چکے ہیں جب ہمارے ممبر "واجد" طالبان کے خود کش حملوں کے جواز میں ہر طرح کے "عذر" لے کر آ جاتے تھے۔ یہ عذر جتنے مرضی لولے لنگڑے سہی، مگر یہ کافی ہیں کہ انتہا پسند انکی مدد سے ہزاروں معصوموں کے ورغلا کر خود کش حملہ آور بنا دیں۔

چنانچہ خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کے بعد ان لولے لنگڑے عذروں کا بھی قلع قمع لازمی کرنا تھا، اور کھل کر ۔۔۔۔ بلکہ "بہت کھل" کر اور صاف صاف "طالبان" کا نام لے کر انکی مذمت کرنا تھی، انکے طرز عمل کو خارجی طرز عمل قرار دینا تھا، انہیں اسلام مخالف اور فتنہ و فساد قرار دینا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ یہ سب کچھ نہیں کیا، تو پھر آج اتنا معصوم بن کر پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم نے تو خود کش حملوں کو حرام قرار دے دیا تھا تو پھر یہ سب خون خرابہ کیوں ہوا اور یہ فتنہ کیوں نہ رکا۔۔۔۔ انکی اس معصومیت پر بس یہ خود ہی قربان جائیں، اور میں تو اللہ کی پناہ طلب کرتی ہوئی اس سے بیزاری اختیار کرتی ہوں۔

پی ایس:
میری یہاں مراد پورا مکتبہ دیو بند نہیں ہے اور نہ ہی انکی کوئی مخالفت مقصود ہے۔ اصل مکتبہ دیو بند ہرگز انتہا پسند نہیں بلکہ اسکی کچھ شاخیں انتہا پسند ہیں، اکثر لوگ اس چیز کا ادراک نہیں کرتے اور پورے مکتب کو لپیٹ دیتے ہیں۔ بہرحال، مکتبہ دیوبند میرے نزدیک نہ سپاہ صحابہ ہے اور نہ طالبان، بلکہ اصل دیو بند تبلیغی جماعت یا مولانا فضل الرحمان کی شکل میں پاکستان میں موجود ہے۔ یہ متعدل لوگ ہیں اور انکا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف آواز بھی اٹھائی، مگر افسوس کہ یہ آواز کافی نہ تھی اور اسی غلطی کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ورنہ یہ فتویٰ تو دیگر علماء اکرام تقریباً اسی وقت سے دے چُکے ہیں جب سے مسلمانوں‌پر خود کُش حملے شروع کیئے گئے ہیں۔ طاہر القادری صاحب کے الگ سے فتویٰ جاری کرنے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں‌آئی اور وہ بھی اتنی دیر سے ؟؟؟؟؟؟ پہلے کیا کر رہے تھے جب باقی علماء اکرام یہ فتویٰ جاری کر رہے تھے؟

میرا پوائینٹ بہت واضح ہے۔ طالبان کی دھشت گردیوں کے خلاف فتوٰی اور انہیں‌حرام قرار دیا جانا بہت پہلے ہی کیا جا چُکا۔ اب اتنی مدت بعد آکر مولانا طاہرالقادری صاحب کو یہ یاد آیا اور وہ ابھی اس کرپٹ رحمان ملک کی اپیل پر؟
سوال یہ ہےپہلے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا جب باقی علماء اکرام اس فتنے کے خلاف بول رہے تھے چاہے دیوبند کے ہوں یا کہیں اور کے؟



آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس سے قبل کئی مرتبہ ڈاکٹر طاہر القادری دہشت گردی کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔
یہ ملاحظہ کیجیے
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں یہ انسانیت کے قاتل ہیں : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

دہشت گرد انسانیت کے بد ترین دشمن ہیں : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام ’’قومی امن کانفرنس‘‘ سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ٹیلی فونک خطاب
قرآن نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل اور ایک جان کی حفاظت پوری انسانیت کو زندہ رکھنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ہمارے پیغمبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ اس کے ہاتھ اور اس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ گویا ناحق جان تلف کرنا تو کجا بلا وجہ بد کلامی کا مرتکب ہونے والا بھی حقیقی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

آج پوری دنیا میں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دہشت گرد نہ صرف امن کے دشمن ہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے خلاف امن پسند قوتوں کو جدوجہد کرنا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ اس دہشت گردی کو ہوا کس نے دی؟ یہ محاذ کس نے کھولا؟ آج سے دس سال قبل تک تو یہ صورتحال ہمارے ہاں نہیں تھی۔

قومی امن کانفرنس، مشترکہ اعلامیہ کی منظوری

اسلام امن و محبت کا دین ہے اس میں نفرت انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی کسی بھی شکل و صورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کنونشن اسلام کے نام پر ہونے والی جملہ دہشتگردانہ کارروائیوں کی پرزور مذمت کرتا ہے اور انہیں خلاف اسلام قرار دیتا ہے۔ تحفظ پاکستان علماء و مشائخ کنونشن

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اسلام آباد میں وفاقی مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا کوئی مذہب نہیں۔ اسلام انتہاء پسندی اور ہر سطح کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ ایسے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں۔


تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ڈیرہ اسماعیل خان بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے بد ترین دشمن ہیں اور ان کا کوئی مذہب نہیں۔ اسلام انتہا پسندی اور ہر سطح کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ ایسے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں قومی امن کانفرنس کا دوسرا اجلاس

اسلام تو غیر مسلموں کو بھی امن اور مکمل حقوق دیتا ہے مگر مٹھی بھر شر پسند عناصر کے عمل سے پاکستان کا پرامن امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا ہے۔ تنگ نظر اور محدود فکر کو شریعت کے نام پر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا اور جنوبی ایشیاء میں اس کی مؤثر اور مضبوط حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد فکر کو 17 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے لیے ملک کا امن تاراج کیا جارہا ہے۔ فتنہ پرور پاکستان کے امن سے کھیل کر عالمی استعمار کی سازش کو کامیاب کرنے پر تلے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری انوار اختر ایڈووکیٹ نے کہا ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر پالیسی تشکیل دینی چاہیے اور ایڈہاک اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر قومی پالیسی تشکیل نہ دی گئی اور حالات کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو پاکستان دشمن طاقتوں کے لیے ماحول سازگار ہو گا کہ وہ پاکستان کے خلاف مزید منفی پروپیگنڈے کر کے اسکی سالمیت اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے اقدامات کر سکیں


پاکستان میں دہشت گردی کی آگ جلانے والے ملک دشمن عناصر کے آلہ کار ہیں: ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

پشاور حیات آباد میں بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت، دہشت گرد انسانیت کے بدترین دشمن ہیں : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں دھماکے کی پرزور مذمت


اسلام جبر اور بربریت کا نہیں بلکہ رحمت و شفقت اور امن و سلامتی کا دین ہے : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

تحریک منہاج القرآن نے ہمیشہ نا انصافی، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف علم بلند کیا ہے : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

حالیہ بد ترین دہشت گردی کی لہر پاکستان اور اسلام کے خلاف گھناؤنی اور منظم سازش ہے : ڈاکٹر محمد طاہر القادری

دہشت گردی اور عدم تحفظ کی وجہ سے پاکستانی قوم میں احساس محرومیت بڑھ رہا ہے : فیض الرحمان درانی

پشاور میں بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت، دہشت گرد انسانیت کے بد ترین دشمن ہیں : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

بھوک، افلاس، بدامنی اور دہشت گردی کے عذاب سے نجات کے لیے اجتماعی توبہ کی جائے : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
 

dxbgraphics

محفلین
یہ سب نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی کارستانی ہے جو آئے دن پاکستان مین دندناتے نظر آتے ہیں۔ اصل مقصد پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کر کے ایٹمی اثاثوں تک پہنچ ہے۔
 

dxbgraphics

محفلین
آپ کی اتنی لمبی بھڑاس کا اصل مطلب صر ف ایک ہی پرانی رٹ ہے۔ حکومت میں موجود لوگوں کی چاپلوسی اور یہ ایم کیو ایم کا ہی وطیرہ ہے۔ورنہ اس رحمان ملک کے کرتوتوں سے پوری قوم واقف ہے اور آپ کو موقع ملنے کی دیر تھی اور اسکی کرپٹ کی بھی حمایت شروع کردی۔
میرا پوائینٹ بہت واضح ہے۔ طالبان کی دھشت گردیوں کے خلاف فتوٰی اور انہیں‌حرام قرار دیا جانا بہت پہلے ہی کیا جا چُکا۔ اب اتنی مدت بعد آکر مولانا طاہرالقادری صاحب کو یہ یاد آیا اور وہ ابھی اس کرپٹ رحمان ملک کی اپیل پر؟
سوال یہ ہےپہلے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا جب باقی علماء اکرام اس فتنے کے خلاف بول رہے تھے چاہے دیوبند کے ہوں یا کہیں اور کے؟

اگر طاہر القادری صاحب موجودہ کرپٹ حکومت کے اپیل سے پہلے یا اسکے علاوہ از خود یہ فتوٰی صادر فرماتے تو بہت بات بنتی۔ مگر معذرت کے ساتھ اب اس سے صرف حکومتِ وقت چاپلوسی کی بو محسوس ہوتی ہے۔

مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے، کہ طاہر القادری صاحب نے اس حکومت کے کالے کرتوتوں کے خلاف اب تک کوئی فتوٰی جاری کیوں نہیں کیا؟

مجھے بھی چاپلوسی کی بو محسوس ہوتی ہے
 
Top