حسنِ اخلاق کے نفاست کے !......... غزل اصلاح اور مشوروں کے لئے

ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ جہاں محفل میں ثقیل ترین الفاظ اور محاوروں میں کہے گئے اشعار کا شہرہ ہے وہیں میں نسبتاََ آسان الفاظ میں اپنی بات کہنے میں یقین رکھتا ہوں۔ سو یہ غزل اسی سزا کی مستحق ہے جواس قماش کی غزلوں کا حق ہے ! استاد محترم جناب الف عین سر، محترم بھائی جناب راحیل فاروق ، برادرم جناب محمد وارث اور دیگر احباب محفل سے اصلاح، مشوروں اور رائے کی درخواست ہے ۔
بحر کے ارکان ہیں : فاعلاتن مفاعلن فعلن
★★★★★★★★★★★★★★★
حسنِ اخلاق کے نفاست کے !
ہم مقلد ہیں اس شریعت کے !

اپنی نظریں جھکا کے دکھلا دو
لوگ قائل نہیں عقیدت کے !

زلف بکھری، تبھی تو سمجھے لوگ
ڈیرے لگتے ہیں کیسے فرقت کے !

گل کی عشوہ گری، یہ رقصِ صبا
ہیں کنائے تری شرارت کے !

پھول جوڑے میں ہو، تو شیشے میں
ڈھیر لگ جاتے ہیں رقابت کے !

نقش تیرے ادب کے شہپارے
سر بسر باب ہیں سلاست کے !

گو بہت مجھ میں ہے وہ دل نزدیک
پھر بھی باہر مری وَساطت کے !

آنکھ کھلتے ہی خواب ٹوٹ گیا
رخش پابند تھا مسافت کے !

قسموں وعدوں کو توڑ کر کاشف
لطف بھولے ہر اک اذیّت کے !
★★★★★★★★★★★★★★★
دو اشعار اور ہوئے تھے لیکن شاید اس غزل کے بیشتر اشعار کے مرکزی خیال یا مضمون سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن پھر بھی پیش کر رہا ہوں

اِذنِ پرواز، طائرِ غم کو!
ہے یہ باہر مری جسارت کے !

دل میں اٹھی جو موجِ درد و غم
تھی مماثل کسی قیامت کے !
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین

الف عین

لائبریرین
باقی تو سارے درست ہیں لیکن بس یہ ایک قطار میں موجود اشعار دیکھو:
نقش تیرے ادب کے شہپارے
سر بسر باب ہیں سلاست کے !
÷÷ مطلب؟ ’نقش‘ کی وجہ سے سمجھ نہیں سکا۔ میری ہی فہم کا قصور ہو گا۔

گو بہت مجھ میں ہے وہ دل نزدیک
پھر بھی باہر مری وَساطت کے !
÷÷÷ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں۔

آنکھ کھلتے ہی خواب ٹوٹ گیا
رخش پابند تھا مسافت کے !
÷÷÷مسافت کے یا مسافت کا؟

قسموں وعدوں کو توڑ کر کاشف
لطف بھولے ہر اک اذیّت کے !
÷÷÷یہاں بھی صیغہ غلط ہے۔ ’اذیت کا‘ کا محل ہے
 
Top