تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

نظام الدین

محفلین
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرالوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہے تو بھول جاؤ ہمیں
تمہیں بھلانے میں شاید ہمیں زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتہ نہ لگے

اسی لئے تو کھلائے ہیں پھول صفحوں پر
ہمیں جو زخم لگے ہیں وہ دوستانہ لگے

وہ اک ستارہ کہ جو راستہ دکھائے ہمیں
وہ اک اشارہ کہ جو حرف محرمانہ لگے

نہ جانے کب سے کوئی میرے ساتھ ہے قیصر
جو اجنبی نہ لگے اور آشنا نہ لگے

(نذیر قیصر)​
 
مدیر کی آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین
جناب قیصرالجعفری صاحب کی مشہورِ زمانہ غزل کے لئے بہت سی داد اور تشکّر۔
 
آخری تدوین:

صدام حسین

محفلین
کہیں یہ شعر پڑھا تھا کیا یہ اسی غزل کا ہے:

؎مجھے تو روک رہے ہو تم اس کی پوجا سے
اسے یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ دیوتا نہ لگے
 
وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب

خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں

وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ

کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگ
 

فرقان احمد

محفلین
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرالوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہے تو بھول جاؤ ہمیں
تمہیں بھلانے میں شاید ہمیں زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتہ نہ لگے

اسی لئے تو کھلائے ہیں پھول صفحوں پر
ہمیں جو زخم لگے ہیں وہ دوستانہ لگے

وہ اک ستارہ کہ جو راستہ دکھائے ہمیں
وہ اک اشارہ کہ جو حرف محرمانہ لگے

نہ جانے کب سے کوئی میرے ساتھ ہے قیصر
جو اجنبی نہ لگے اور آشنا نہ لگے

(نذیر قیصر)​
بہت خوب صورت غزل ہے، اور ہماری نہایت پسندیدہ ۔۔۔! تاہم، شاعر کا نام نذیر قیصر نہیں ہے، یہ غزل قیصرالجعفری صاحب کی ہے۔ یہ رہا ربط
 
Top