تعلیانہ اشعار

تعلی شاعر کا وہ پہلو بیان کرتی ہے جسے وہ اکثر چهپانا چاہتا ہے، شاعرانہ تعلی کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس پر تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں ( بعید نہیں کہ لکھے جا چکے ہوں) اس قسم کے اشعار یکجا جمع کریں تو انبار لگ جائیں، شاعر کو اپنی تعریف میں جب زمین و آسمان کے قلابے ملانے ہوتے ہیں تو وہ اس کا سہارا لیتا ہے، تقریباً ہر بڑا اور محترم شاعر تعلی کرتا ہے اور اسے حق بهی ہے مگر کچھ تعلیاں ایسی ہوتی ہیں جہاں ہم یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ جناب والا اب زیادہ ہو رہا ہے! !! :)
تو جن اشعار میں ہمارے شعرائے کرام جذبات کی رو میں بہتے ہوئے یا مخالفین کو جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے یا جو بهی صورت رہی، حد اعتدال پهلانگ گیے ان اشعار کو اس لڑی میں پروتے ہیں.
آپ حضرات بهی اپنے علم کی ضیا بکھیریں اور حافظہ کے گوڈاون سے کچھ تعلیانہ اشعار پیش کریں . نوازش ہوگی..
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
ہمیں بھی جلوہ گاہِ ناز میں لیتے چلو موسیٰ
تمھیں غش آ گیا تو حُسنِ جاناں کو دیکھے گا۔

اس مقام پر آ کر شاعر حفظِ مراتب کا لحاظ بھی نہ رکھ سکے ورنہ ایسی بات کبھی نہ کرتے۔
 
Top