برای اصلاح

ارتضی عافی

محفلین
تم ہی بس میرا جہاں ہے فاعلن
اور میں تیرا جہاں ہوں فاعلن
تم ہی بس میرا گماں ہے فاعلن
اور میں تیرا گماں ہوں فاعلن
اور باہم گر رہے ہم فاعلن
تو زمین و آسماں ہوں فاعلن
الف عین سر سلام کیا یہ اشعار درست ہے اور فاعلن کشی کی نام ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
تمہارے اور فاعلن کے بیچ میں کیا آؤں؟
شتر گربہ اس خامی کو کہتے ہیں جب ضمیروں میں اختلاف پایا جائے، جیسے ایک مصرع میں تم، دوسعرے میں آپ۔ یہاں عجیب چوں چوں کا مربا ہو گیا ہے۔
درست یوں ہو گا۔ ویسے ’فاعلن‘ چاہے نام ہو، لیکن ہر مصرع میں دہرایا جانا غلط ہے۔
توہی بس میرا جہاں ہے فاعلن
اور میں تیرا جہاں ہوں فاعلن
تو ہی بس میرا گماں ہے فاعلن
اور میں تیرا گماں ہوں فاعلن

اور باہم گر رہے ہم فاعلن
روانی کی خاطر یہاں تو فاعلن کو مخاطب کرنا چھوڑو،

تو زمین و آسماں ہوں فاعلن
مصرع بے معنی ہے، شاید یہ مراد ہو
تو زمیں، میں آسماں ہوں
 

ارتضی عافی

محفلین
تمہارے اور فاعلن کے بیچ میں کیا آؤں؟
شتر گربہ اس خامی کو کہتے ہیں جب ضمیروں میں اختلاف پایا جائے، جیسے ایک مصرع میں تم، دوسعرے میں آپ۔ یہاں عجیب چوں چوں کا مربا ہو گیا ہے۔
درست یوں ہو گا۔ ویسے ’فاعلن‘ چاہے نام ہو، لیکن ہر مصرع میں دہرایا جانا غلط ہے۔
توہی بس میرا جہاں ہے فاعلن
اور میں تیرا جہاں ہوں فاعلن
تو ہی بس میرا گماں ہے فاعلن
اور میں تیرا گماں ہوں فاعلن

اور باہم گر رہے ہم فاعلن
روانی کی خاطر یہاں تو فاعلن کو مخاطب کرنا چھوڑو،

تو زمین و آسماں ہوں فاعلن
مصرع بے معنی ہے، شاید یہ مراد ہو
تو زمیں، میں آسماں ہوں
سر کس طور سےنام لانا غلط ہے اور کیا پہلے دوسرے میں نام لینا اور تیسرا مصرع چھوڈ کر چھوتے میں نام لینا جائز ہے اور پھر اسی طرح آگے کے بارے میں میں کیا رائے درکار ہوگی
 

ارتضی عافی

محفلین
تو ہی بس میرا جہاں ہے فاعلن
اور میں تیرا جہاں ہوں فاعلن
تو ہی بس میرا گماں ہے آج کل
اور میں تیرا گماں ہوں فاعلن
اور باہم گر رہے ہم زیست میں
تو زمیں میں آسماں ہوں فاعلن
الف عین سر کیا اب درست ہے اگر نہیں تو غلطی بیان فرمائے نوکر تو عافی
 

الف عین

لائبریرین
ہاں اب ردیف قوافی درست ہیں۔
اشعار کی رو سے
اور باہم گر رہے ہم زیست میں
÷÷یہ زیست کہاں سے آ گئی، سمجھنے سے قاصر ہوں۔ زمین اور آسمان گر رہے ہیں تو وہ تو خلاؤں میں ہوں گے نا!! ویسے گر کمیوں رہے ہیں، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
 

ارتضی عافی

محفلین
ہاں اب ردیف قوافی درست ہیں۔
اشعار کی رو سے
اور باہم گر رہے ہم زیست میں
÷÷یہ زیست کہاں سے آ گئی، سمجھنے سے قاصر ہوں۔ زمین اور آسمان گر رہے ہیں تو وہ تو خلاؤں میں ہوں گے نا!! ویسے گر کمیوں رہے ہیں، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
ذیست کی جگہ دنیا استعمال کر سکتا ہوں؟ اگر نہیں تو سر مہربانی فرما کر کوئی جملہ بتا دے اس جگہ پر تا کہ میرے لیے مزید وضاحت ہوں تا کہ مجھے اور سمجھ آجائے
 

الف عین

لائبریرین
ذیست کی جگہ دنیا استعمال کر سکتا ہوں؟ اگر نہیں تو سر مہربانی فرما کر کوئی جملہ بتا دے اس جگہ پر تا کہ میرے لیے مزید وضاحت ہوں تا کہ مجھے اور سمجھ آجائے
جب تم کو ہی سمجھنے میں نہیں آیا تو مجھے کس طرح سمجھ میں آ سکتا ہے!!!
زیست میں گرنا یا زندگی میں گرنا یا دنیا میں گرنا۔ سوال یہ ہے کہ گرنے کی بات کیا ہے؟
 

ارتضی عافی

محفلین
جب تم کو ہی سمجھنے میں نہیں آیا تو مجھے کس طرح سمجھ میں آ سکتا ہے!!!
زیست میں گرنا یا زندگی میں گرنا یا دنیا میں گرنا۔ سوال یہ ہے کہ گرنے کی بات کیا ہے؟
شکریہ میں سر اس مصرعے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم دونوں اگر رہے زندگی میں یا اس دنیا میں تو زمین تو ہے اور آسماں میں ہوں گرنے کی بات اس مصرعے میں نہیں ہے ویسے گرنے سے مجھے خود بھی سمجھ نہیں آیا گرنے کی یہاں میں نے بات نہیں کیا بلکہ دنیا میں اکھٹا رہنے کی بات ہے ۔۔۔ اگر ہم اکھٹے رہے تو زمین تو اور آسماں میں ہوں یعنی ہم دونوں اپنے لیے سب کچھ ہے زمیں بھی آسماں بھی
 

الف عین

لائبریرین
اوہو، گر بمعنی ’اگر‘ کہنا چاہ رہے تھے، میں ’گِر‘ سمجھا، فعل،
بہر حال ابلاغ نہیں ہو رہا ہے
 

ارتضی عافی

محفلین
اوہو، گر بمعنی ’اگر‘ کہنا چاہ رہے تھے، میں ’گِر‘ سمجھا، فعل،
بہر حال ابلاغ نہیں ہو رہا ہے
اوہو، گر بمعنی ’اگر‘ کہنا چاہ رہے تھے، میں ’گِر‘ سمجھا، فعل،
بہر حال ابلاغ نہیں ہو رہا ہے
تو سر شعر غلط ہے؟ گر کی جگہ سر میں نے استفادہ اگر کیا اب دیکھنا سر

اور اگر باہم رہے ہم زیست میں
تو زمیں میں آسماں ہوں فاعلن
یا زیست کی جگہ دنیا استعمال کروں یا کہ پورا شعر چھوڈ دوں ۔
 

سید عمران

محفلین
ہی ہی ہی۔۔۔
ایک مصرع سمجھا نہیں جارہا۔۔۔
شاعری کیا خاک سمجھ میں آئے گی۔۔۔
ہماری سمجھ میں نہیں آئی آج تک!!!
:D:D:D:D:D
 
آخری تدوین:
Top