برائے اصلاح و تنقید

امان زرگر

محفلین
"کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں"
تری چاہت مجھے لے آئی ہے کس دور محزوں میں
تری باتیں جگر میرا جلائیں اس طرح جاناں
‏(‏تری یادیں مرے دل میں سجا لیں درد کی محفل)
اتر آئے جگر کا خون میری چشم گلگوں میں
بدل جائے تصور ہی وفاؤں کا جہاں میں پھر
بچھائے گر کبھی لیلی نگاہیں راہ مجنوں میں
‏(‏بدل دے اے تصور اب وفا کی رسم فرسودہ
کہاں لیلی بچھائے اب نگاہیں راہ مجنوں میں)
مرا دل لوٹنے والا، پری رخ اور ستم پرور
اصول حسن سب ہیں کار فرما نقش موزوں میں
زمیں کے ریگزاروں میں مرے ہی دم سے رونق ہے
مرے ہی تذکرے ہیں ہر گھڑی ارباب گردوں میں
جو بکھرا تھا مرا خوں، زینت قرطاس وہ سمجھے
حقیقت میں وہ تھا اظہار غم ہستی کے مضموں میں
طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے پھر اک نیا فتنہ مرے احوال مفتوں میں
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
مرا دل لوٹنے والا، پری رخ اور ستم پرور
اصول حسن سب ہیں کار فرما نقش موزوں میں
جو بکھرا تھا مرا خوں، زینت قرطاس وہ سمجھے
حقیقت میں وہ تھا اظہار غم ہستی کے مضموں میں
واہ!
زبردست۔۔۔۔۔مجھے تو بہت پسند آئی یہ غزل......باقی فنی باریکیاں تو اساتذہ ہی بتائیں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ کب جب جس جس غزل پر جو جو اعتراض میں نے لگایا ہے وہ غلط ثابت ہوا ہے۔
اس لیے میں آج سے چپ ہی رہوں گا :)
 

امان زرگر

محفلین
واہ!
زبردست۔۔۔۔۔مجھے تو بہت پسند آئی یہ غزل......باقی فنی باریکیاں تو اساتذہ ہی بتائیں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ کب جب جس جس غزل پر جو جو اعتراض میں نے لگایا ہے وہ غلط ثابت ہوا ہے۔
اس لیے میں آج سے چپ ہی رہوں گا :)
آپ چب رہیں گے تو پھر محفل سونی ہو جائے گی
 

امان زرگر

محفلین
"کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں"
تری چاہت مجھے لے آئی ہے کس دور محزوں میں

زمیں کے ریگ زاروں میں مرے ہی دم سے رونق ہے
مرے ہی تذکرے ہیں ہر گھڑی اربابِ گردوں میں

جو بکھرا تھا مرا خوں، زینتِ قرطاس وہ سمجھے
حقیقت میں وہ تھا اظہارِ غم ہستی کے مضموں میں

طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے پھر اک نیا فتنہ مرے احوالِ مفتوں میں

عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل مرے خوں میں

بدل دے اے تصور اب وفا کی رسمِ فرسودہ
کہاں لیلٰی کی گلیاں ہی رہیں پندارِ مجنوں میں

وہ دل کو لوٹنے والا، پری رخ اور ستم پرور
اصولِ حسن سب ہیں کار فرما نقشِ موزوں میں

طلاطم خیز قلزم میں اٹھیں یوں سرخ سی موجیں
اتر آئے جگر کا خون میری چشمِ گلگوں میں

لگا دی رسمِ الفت میں جو ہم نے جان کی بازی
دیا اک دردِ دل ظالم نے اجرِ غیرِممنوں میں
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
بھائی عاطف ملک
سر راحیل فاروق
بھائی محمد عظیم الدین
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
غزل تو اچھی ہے لیکن مجھے ہمیشہ تمہارے کلام میں کچھ ترکیبیں یا ان کا استعمال غلط محسوس ہوتا ہے
دور محزوں
جنوں شامل
پندار مجنوں
اجر غیر ممنوں
ذرا حلق سے اتر بھی جائیں تو یہ ردیف کا "میں " گڑبڑ کرتا ہے جیسے
مضموں میں نہیں مضمون پر کا محل ہے
فتنہ احوال مفتوں میں یا یہاں " سے" کا محل ہے؟
رسم الفت میں جان کی بازی؟
غیر ممنوں کیا شے تھی جس کے بدلے ظالم نے درد دیا؟
 

امان زرگر

محفلین
غیر ممنوں کیا شے تھی جس کے بدلے ظالم نے درد دیا؟
اجر غیر ممنون

( اَجْرِ غَیرِ مَمنُون ) { اَج + رے + غَے (ی لین) + رے + مَم + نُون }
( عربی )

تفصیلات
عربی زبان سے مرکب توصیفی ہے۔ 'اجر' کے ساتھ 'غیر ممنون' جو ایک الگ مرکب توصیفی ہے، لگایا گیا ہے۔ سور 'والتین' سے ماخوذ ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
معانی
١ - وہ ثواب جو ہمیشہ ملے اور اس میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہو۔
 

امان زرگر

محفلین
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل مرے خوں میں

سر اس شعر میں جنوں شامل ترکیب استعمال نہیں کی بلکہ کہا ہے کے میری رگوں میں درد بہتا ہے اور جنون میرے خوں میں شامل ہے
رگوں میں درد بہتا ہے، جنوں شامل مرے خوں میں
کوما ڈال دینے سے شاید وضاحت ہو سکے
 

الف عین

لائبریرین
سورہ تین کا ہی مجھے بھی خیال آیا تھا۔
جنوں میں خون شامل کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ کوما یا نو کوما، یہ واضح نہیں ہوتا،
 
Top