برائے اصلاح ( مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)

نوید ناظم

محفلین
اگرچہ راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
مگر میں دھوپ سے تو ہار کر نہیں آیا

حضور دشت میں لے کر تو آگیا ہوں میں
اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ گھر نہیں آیا

رقیب پر جو عنایت ہے، جانتا ہوں سب
تمھاری بزم سے میں بے خبر نہیں آیا

خزاں کی زد میں دلِ کم نصیب تھا شاید
یہی وہ پیڑ ہے جس پر ثمر نہیں آیا

بہارو! مجھ کو بھی صیاد نے رہائی دی
ارے میں خود تو قفس توڑ کرنہیں آیا
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔
اگرچہ راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
مگر میں دھوپ سے تو ہار کر نہیں آیا
۔۔۔دوسرے مصرع میں ’تو‘ کا طویل کھنچنا پسند نہیں آیا۔ کیا یہاں ‘بھی‘ استعمال کیا جا سکتا ہے؟

حضور دشت میں لے کر تو آگیا ہوں میں
اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ گھر نہیں آیا
۔۔پہلے مصرع میں ’میں‘ واضح نہیں کہ کون سا میں ہے، I والا یا In والا؟ بیانیہ خوب ہے۔

رقیب پر جو عنایت ہے، جانتا ہوں سب
تمھاری بزم سے میں بے خبر نہیں آیا
÷÷درست

خزاں کی زد میں دلِ کم نصیب تھا شاید
یہی وہ پیڑ ہے جس پر ثمر نہیں آیا
۔۔خوب

بہارو! مجھ کو بھی صیاد نے رہائی دی
ارے میں خود تو قفس توڑ کرنہیں آیا
۔۔یہ ’ارے‘ وغیرہ تمہارا ٹریڈ مارک ضرور ہے لیکن ہر جگہ پسندیدہ نہیں۔ یہاں روانی م جروح کرتا ہے۔
میں اپنے آپ۔۔۔۔ کر کے دیکھو!!
 

نوید ناظم

محفلین
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔
اگرچہ راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
مگر میں دھوپ سے تو ہار کر نہیں آیا
۔۔۔دوسرے مصرع میں ’تو‘ کا طویل کھنچنا پسند نہیں آیا۔ کیا یہاں ‘بھی‘ استعمال کیا جا سکتا ہے؟

حضور دشت میں لے کر تو آگیا ہوں میں
اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ گھر نہیں آیا
۔۔پہلے مصرع میں ’میں‘ واضح نہیں کہ کون سا میں ہے، I والا یا In والا؟ بیانیہ خوب ہے۔

رقیب پر جو عنایت ہے، جانتا ہوں سب
تمھاری بزم سے میں بے خبر نہیں آیا
÷÷درست

خزاں کی زد میں دلِ کم نصیب تھا شاید
یہی وہ پیڑ ہے جس پر ثمر نہیں آیا
۔۔خوب

بہارو! مجھ کو بھی صیاد نے رہائی دی
ارے میں خود تو قفس توڑ کرنہیں آیا
۔۔یہ ’ارے‘ وغیرہ تمہارا ٹریڈ مارک ضرور ہے لیکن ہر جگہ پسندیدہ نہیں۔ یہاں روانی م جروح کرتا ہے۔
میں اپنے آپ۔۔۔۔ کر کے دیکھو!!
بہت شکریہ سر۔۔۔

۔۔۔دوسرے مصرع میں ’تو‘ کا طویل کھنچنا پسند نہیں آیا۔ کیا یہاں ‘بھی‘ استعمال کیا جا سکتا ہے؟

'تو' کی جگہ ' بھی ' کر دیتا ہوں۔۔۔۔

۔۔پہلے مصرع میں ’میں‘ واضح نہیں کہ کون سا میں ہے، I والا یا In والا؟ بیانیہ خوب ہے۔
اعراب کے ساتھ واضح کرتا ہوں سر۔۔۔
حضور دشت مِیں لے کر تو آ گیا ہوں مَیں

بہارو! مجھ کو بھی صیاد نے رہائی دی
ارے میں خود تو قفس توڑ کرنہیں آیا
۔۔یہ ’ارے‘ وغیرہ تمہارا ٹریڈ مارک ضرور ہے لیکن ہر جگہ پسندیدہ نہیں۔ یہاں روانی م جروح کرتا ہے۔
میں اپنے آپ۔۔۔۔ کر کے دیکھو!!
جی ٹھیک' مصرعہ کو حکم کے مطابق کر دیا ہے۔
 

عاطف ملک

محفلین
حضور دشت میں لے کر تو آگیا ہوں میں
اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ گھر نہیں آیا

رقیب پر جو عنایت ہے، جانتا ہوں سب
تمھاری بزم سے میں بے خبر نہیں آیا

خزاں کی زد میں دلِ کم نصیب تھا شاید
یہی وہ پیڑ ہے جس پر ثمر نہیں آیا
زبردست!
لاجواب!
کمال کر دیا بھائی!
سلامت رہیں۔
 
اگرچہ راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
مگر میں دھوپ سے تو ہار کر نہیں آیا
۔۔۔دوسرے مصرع میں ’تو‘ کا طویل کھنچنا پسند نہیں آیا۔ کیا یہاں ‘بھی‘ استعمال کیا جا سکتا
السلام علیکم سر
”تو“ کی جگہ ”بھی“ ہی زیادہ درست لگتا بھی ہے اور شعر کا مزا بھی دو بالا ہو گیا۔
 
Top