بارش، برکھا، برسات، ساون پر اشعار

جاسمن

لائبریرین
بارشوں کے موسم میں
بارشوں کے موسم میں
زخم جو بھی لگ جائے
عُمر بھر نہیں سِلتا
وہ جو ایک دیوانہ
آتے جاتے راہی کو
راستوں میں ملتا تھا
اب کہیں نہیں مِلتا
(فرحت عباس شاہ)
 

شمشاد

لائبریرین
لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
(منیر نیازی)
 

طاہر رمضان

محفلین
اُودھی اُدھی گھٹائیں آتی ہیں
مُطربوں کی نوائیں آتی ہیں

کس کے گیسو کھلے ہیں ساون میں
مہکی مہکی ہوائیں آتی ہیں
 

ہادیہ

محفلین
بارشوں کے اداس موسم میں
خود کو دیکھوں تو یاد آئے کوئی
کاش کہ یوں بھی ہوجائے اک بار
میں پکاروں تو لوٹ آئے کوئی
 

لاریب مرزا

محفلین
بارش ، بادل ،
تم اور میں .

خوشبو ، موسم ،
تم اور میں

کالے بادل ، رم جھم بارش ،
نیلا آنچل
تم اور میں

بہتی ندیاں ، گرتا پانی ،
آنکھیں ، آنْسُو
تم اور میں

پاس کسی دریا کے کوئی
بھیگا جھونپڑ
تم اور میں

دور کہیں کوئل کی کو کو ،
گہرا جنگل
تم اور میں

برکھا رم جھم گیت سنائیں ،
جھرمٹ ڈالیں ،
تم اور میں

دور کہیں پر چھوٹا سا اک ،
کچا سا گھر
تم اور میں

کندھا تیرا اور سر میرا ،
پاگل سی چپ
تم اور میں۔۔!!
 
بارشوں کے موسم میں
تم کو یاد کرنے کی
عادتیں پرانی ہیں
اب کی بار سوچا ہے
عادتیں بدل ڈالیں
پھر خیال آیا کہ
عادتیں بدلنے سے
بارشیں نہیں رکتیں۔۔۔۔۔۔۔!​

اس خوبصورت نظم کی پیروڈی کوئی تین سال پہلے کی تھی۔
"بارشوں کے موسم میں "
مجھ کو نزلہ ہونے کی
ریت اب بھی جاری ہے
" اب کی بار سوچا ہے"
میڈیسن بدل ڈالیں
"پھر خیال آیا کہ"
میڈیسن بدلنے سے
"بارشیں نہیں رکتیں"
:p :p :p
 

محمداحمد

لائبریرین
اس خوبصورت نظم کی پیروڈی کوئی تین سال پہلے کی تھی۔
"بارشوں کے موسم میں "
مجھ کو نزلہ ہونے کی
ریت اب بھی جاری ہے
" اب کی بار سوچا ہے"
میڈیسن بدل ڈالیں
"پھر خیال آیا کہ"
میڈیسن بدلنے سے
"بارشیں نہیں رکتیں"
:p :p :p

واہ۔ لاجواب :)
 

ضوفشاں گل

محفلین
"وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں "

امجد اسلام امجد کے اس شعر کا دوسرا مصرعہ میرے ذہن میں نہیں آرہا
کسی کو یاد ہو تو لکھ دے
ہاں آکے رکنے تھے راستے ، کہاں موڑ تھا ، اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا ، اسے بھول جا

میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس ، تیرے گمان میں

صبا کہ گئی مرے کان میں ، میرے ساتھ آ ، اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم ، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم

تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا ، اسے بھول جا

کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں

کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا ، اسے بھول جا

کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں ، غمِ زندگی کے فشار میں

وہ جو درد تھا ترے بخت میں ، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا

نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی ، ، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا

دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا ، اسے بھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا ، اسے دیکھ ، اس پہ یقیں نہ کر

نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ ، اسے بھول جا

جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا

اسے روکنے سے حصول کیا ، اسے مت بلا ، اسے بھول جا

تو یہ کس لئے شبِ ہجر کے اسے ہر ستارے میں دیکھنا

وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم ، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا

تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو

وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا اسے بھول جا
 

فہد اشرف

محفلین
کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں
ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا
بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں
کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا


امجد اسلام امجد
بشیر بدر - اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا ( بشیر بدر)
 
اس خوبصورت نظم کی پیروڈی کوئی تین سال پہلے کی تھی۔
"بارشوں کے موسم میں "
مجھ کو نزلہ ہونے کی
ریت اب بھی جاری ہے
" اب کی بار سوچا ہے"
میڈیسن بدل ڈالیں
"پھر خیال آیا کہ"
میڈیسن بدلنے سے
"بارشیں نہیں رکتیں"
:p :p :p
میری اس پیروڈی کا ایک ڈاکٹر دوست نے جواب لکھا ہے.

بارشوں کے موسم میں
اتنی بار بولا ہے
ٹھنڈ میں جو نکلے تم
نزلہ تم کو پکڑے گا
اب کی بار نزلہ ہو
مجھ سے تم دوا لینا
ایویں اپنی مرضی سے
تم دوا نہ کھا لینا

:D
 
بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں
پھول کیوں نہیں کھلتے؟
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی ساتھ رہتی ہے؟
کیوں بچھڑنے والوں کی
یاد ساتھ رہتی ہے؟
اتنی تےز بارش سے
دل کے آئینے پر سے
عکس کیوں نہیں دھلتے؟
زخم کیوں نہیں سلتے؟
نیند کیوں نہی آتی؟
بارشوں کے موسم میں
آنکھ کیوں برستی ہے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
بارشوں کے موسم میں
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
 
Top