ایک غزل قربانی کی عید پر

ایک غزل قربانی کی عید پر

محمد خلیل الرحمٰن

بچھڑا نہیں ہوتا ہے ،یا بکرا نہیں ہوتا
قربان ترے نام پہ کیا کیا نہیں ہوتا

سالم کبھی بکرا، کبھی رانیں، کبھی دستی
اس ڈیپ فریزر میں رکھا کیا نہیں ہوتا

دو لاکھ کا بکرا ہے تو دس لاکھ کی گائے
کِس عید پہ اب ایسا تماشا نہیں ہوتا

اِس عید پہ کھال اپنی مدرسے کو ہی دیں گے
بے کھال مگر ہم سے گزارا نہیں ہوتا

مہنگائی کے ہاتھوں ہیں پریشان کچھ ایسے
قربانی کا اِس بار تو یارا نہیں ہوتا​
 
ایک غزل قربانی کی عید پر

محمد خلیل الرحمٰن

بچھڑا نہیں ہوتا ہے ،یا بکرا نہیں ہوتا
قربان ترے نام پہ کیا کیا نہیں ہوتا

سالم کبھی بکرا، کبھی رانیں، کبھی دستی
اس ڈیپ فریزر میں رکھا کیا نہیں ہوتا

دو لاکھ کا بکرا ہے تو دس لاکھ کی گائے
کِس عید پہ اب ایسا تماشا نہیں ہوتا

اِس عید پہ کھال اپنی مدرسے کو ہی دیں گے
بے کھال مگر ہم سے گزارا نہیں ہوتا

مہنگائی کے ہاتھوں ہیں پریشان کچھ ایسے
قربانی کا اِس بار تو یارا نہیں ہوتا​
بہت خوب جناب!
کیا خوب ارشادات ہیں۔۔۔
بہت سی داد۔۔۔


”مدرسے“ فعولن ہے یا فاعلن؟
 
Top