این ٹی ایس اور دیگر ٹیسٹ کے بارے میں گفت و شنید

یاز

محفلین
اگر آپ کے ہاتھ میں ڈگریاں ہوں آپ کے ،17،18 سال کی محنت۔۔ اور لوگ اسے کاغذ کے چند ٹکروں کے سوا کچھ نا سمجھیں تو کیسا محسوس ہوگا:(
اس پہ اختلافِ رائے پر معذرت چاہوں گا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلوں کی خاطر این ٹی ایس میں خاص حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اچھی چیز ہے۔
ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے ایسے ادارے ہیں جہاں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، اور بعض کیس میں تو لوگ گھر بیٹھے فیس وغیرہ ادا کر کے ڈگری ہولڈر بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کے لئے تو این ٹی ایس کا فائدہ ہی ہے جنہوں نے پڑھ کر اور محنت سے ڈگری لی ہو، اور اب مزید تعلیم کے لئے کسی اچھے ادارے میں داخلہ چاہتے ہوں۔
ہادیہ
 
آخری تدوین:
آپ کی بات سے اتفاق ہے۔۔۔ مگر اس کی اصلیت یہ ہے کہ پیسہ بٹورا جائے۔۔۔۔ اتنے زیادہ کینڈیڈیٹس کی فیسز۔۔۔۔۔۔ جن میں سے چند ایک ہی منتخب ہو پاتے ہیں۔۔۔۔ ایسا کہا جاتا ہے۔۔۔۔ اس بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟
 

یاز

محفلین
آپ کی بات سے اتفاق ہے۔۔۔ مگر اس کی اصلیت یہ ہے کہ پیسہ بٹورا جائے۔۔۔۔ اتنے زیادہ کینڈیڈیٹس کی فیسز۔۔۔۔۔۔ جن میں سے چند ایک ہی منتخب ہو پاتے ہیں۔۔۔۔ ایسا کہا جاتا ہے۔۔۔۔ اس بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟

میں نے جب ٹیسٹ دیا تھا تو اس وقت فیس ایک ہزار سے کچھ اوپر تھی، جو کہ میرے خیال میں بہت زیادہ نہیں تھی۔ اورجہاں تک صرف چند ایک کے منتخب ہو پانے کا سوال ہے تو میرے خیال میں ایسی بری صورتحال نہیں ہے۔ یہ رائے صرف تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے ہونے والے ٹیسٹ کے بارے میں ہے۔

یہ کلیئر کرتا چلوں کہ میں نے چھ سال پہلے دیا تھا ٹیسٹ ماسٹرز میں داخلے کے لئے۔ اس وقت تو اس کا نظام بہت اچھا تھا۔ اب اگر اس نظام میں بھی خرابی در آئی ہو تو میں کہہ نہیں سکتا۔
 
آخری تدوین:
جی بالکل۔
شاید کچھ جابز کے لئے بھی ہو، لیکن میرے علم میں نہیں ہے اس بابت۔
بھیا! ہم تو بات ہی جابز والے این ٹی ایس کی کر رہے ہیں۔۔۔ جو آج کل ہو رہا ہے۔ چند ایک لوگ سیلہکٹ ہو پاتے ہیں اور پچاس ہزار سے اوپر لوگ دیتے ہیں۔۔۔ اگر ہر ایک سے ہزار بھی لیں تو بھی یہ اوپر کا کھاتہ ہے۔
 

یاز

محفلین
بھیا! ہم تو بات ہی جابز والے این ٹی ایس کی کر رہے ہیں۔۔۔ جو آج کل ہو رہا ہے۔ چند ایک لوگ سیلہکٹ ہو پاتے ہیں اور پچاس ہزار سے اوپر لوگ دیتے ہیں۔۔۔ اگر ہر ایک سے ہزار بھی لیں تو بھی یہ اوپر کا کھاتہ ہے۔

اوہ معذرت، پھر تو اس موضوعِ گفتگوکی ہی غلط سمت سے ابتدا ہوئی ہے میری جانب سے۔
سرکاری نوکری کے لئے این ٹی ایس کا نظام تقریباََ ناممکن ہے کہ کرپشن یا اغلاط سے پاک ہو۔ اس صورت میں میں این ٹی ایس کے حق میں اپنے درج بالا بیانات کو واپس لیتا ہوں۔
 

ہادیہ

محفلین
اوہ معذرت، پھر تو اس موضوعِ گفتگوکی ہی غلط سمت سے ابتدا ہوئی ہے میری جانب سے۔
سرکاری نوکری کے لئے این ٹی ایس کا نظام تقریباََ ناممکن ہے کہ کرپشن یا اغلاط سے پاک ہو۔ اس صورت میں میں این ٹی ایس کے حق میں اپنے درج بالا بیانات کو واپس لیتا ہوں۔
جابز کے لیے بات کررہے تھے سر جی۔لاکھوں لوگ اپلائی کرنے والے ہوتے اور جب سیٹس دیکھیں تو کئی بار تو ایسا ہوتا صرف 1 یا 2 ہوتی۔
 

دی آؤٹلیر

محفلین
یہ این ٹی ایس کا مسئلہ نہیں ان کا کام صرف ٹیسٹ لینا اور اسکا رزلٹ کرپشن سے پاک ہو کر دینا ہے
مسئلہ یہاں پر جاب کے حصول کا ہے بےروزگاری زیادہ ہے اور ظاہر ہے ہر کسی کو جاب ملنا ممکن نہیں اس لیے ہر ادارہ چاہے گا کہ ان کے پاس ذہین افراد آئیں اور ٹیسٹ لینے کی وجہ بھی یہی ہے
ہمارہ المیہ یہ ہے کہ امتحانات چاہے میٹرک لیول کے ہوں یا ماسٹرز لیول کے ، ہر جگہ نقل کا رجہان زیادہ ہے اور پڑھائی کا بہت کم
اس کی وجہ سے ڈگری تو مل جاتی ہے مگر وہ علم کے میدان میں پیچھے ہی رہ جاتے ہیں اب صرف ڈگری دیکھ کر قابلیت جانجنا ممکن نہیں اس لیے ایسے ٹیسٹ ہونے چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے
 
تو کیا ان ٹیسٹس میں نقل نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ

یہ این ٹی ایس کا مسئلہ نہیں ان کا کام صرف ٹیسٹ لینا اور اسکا رزلٹ کرپشن سے پاک ہو کر دینا ہے
مسئلہ یہاں پر جاب کے حصول کا ہے بےروزگاری زیادہ ہے اور ظاہر ہے ہر کسی کو جاب ملنا ممکن نہیں اس لیے ہر ادارہ چاہے گا کہ ان کے پاس ذہین افراد آئیں اور ٹیسٹ لینے کی وجہ بھی یہی ہے
ہمارہ المیہ یہ ہے کہ امتحانات چاہے میٹرک لیول کے ہوں یا ماسٹرز لیول کے ، ہر جگہ نقل کا رجہان زیادہ ہے اور پڑھائی کا بہت کم
اس کی وجہ سے ڈگری تو مل جاتی ہے مگر وہ علم کے میدان میں پیچھے ہی رہ جاتے ہیں اب صرف ڈگری دیکھ کر قابلیت جانجنا ممکن نہیں اس لیے ایسے ٹیسٹ ہونے چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے
 

دی آؤٹلیر

محفلین
تو کیا ان ٹیسٹس میں نقل نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ
مجھے حیرت ہوگی اگر اس ٹیسٹ میں بھی نقل ہوئی کیوں کہ سوالنامے مختلف کلر کے دیے جاتے ہیں اس لحاظ سے سب کے پاس مختلف سیریز کے سوالات آجاتے ہے
جہاں تک چیکنگ ہے تو وہ کمپیوٹرائز ہوتی ہے نہ کے ہمارے اساتذہ کرام کے ہاتھوں جو اپنی مرضی کے نمبرز دے دیتے تھے
 

squarened

معطل
مجھے حیرت ہوگی اگر اس ٹیسٹ میں بھی نقل ہوئی
مجھے بھی حیرت ہوئی تھی جب این ٹی ایس کے سربراہ صاحب جعلی ڈگری پر کاروائی سے بچنے کے لیے امریکہ فرار ہو گئے تھے ۔نقل تو نہیں ہوتی مگر سرکاری نوکری حاصل کرنے میں دوسرے حربے بھی چلتے ہیں
http://www.humsub.com.pk/10528/aalia-khakwani/
جہاں تک چیکنگ ہے تو وہ کمپیوٹرائز ہوتی ہے نہ کے ہمارے اساتذہ کرام کے ہاتھوں جو اپنی مرضی کے نمبرز دے دیتے تھے
کمپیوٹرائزڈ کے ساتھ مینول بھی شاید ہوتی ہے
پھر ان کے پیپر بنانے کے طریقے پر بھی سوال بڑے پیمانے پر اٹھتے رہے ہیں
http://www.express.pk/story/483439/
 
اس پہ اختلافِ رائے پر معذرت چاہوں گا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلوں کی خاطر این ٹی ایس میں خاص حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اچھی چیز ہے۔
ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے ایسے ادارے ہیں جہاں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، اور بعض کیس میں تو لوگ گھر بیٹھے فیس وغیرہ ادا کر کے ڈگری ہولڈر بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کے لئے تو این ٹی ایس کا فائدہ ہی ہے جنہوں نے پڑھ کر اور محنت سے ڈگری لی ہو، اور اب مزید تعلیم کے لئے کسی اچھے ادارے میں داخلہ چاہتے ہوں۔
ہادیہ
متفق ہوں۔ میرے ساتھ ایم فل میں ایسے بہت سے لوگ تھے جن کے نمبر دیگر ڈگریوں میں 90 فیصد اور 85 فیصد سے کم نہ تھے، یہ لوگ ریگولر پڑھنے کا پورا پورا فائدہ اتنے زیادہ نمبروں کی صورت میں لے چکے تھے۔ جب بھی کبھی ان کی ڈگریاں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہمیشہ یہی سمجھا کہ یہ لوگ میرٹ میں ہمیشہ آگے رہیں گے۔ مجھے اصل افسوس اس بات کا تھا کہ اساتذہ سے ساز باز کے نتیجے میں اتنے زیادہ نمبر لینے کے باوجود نہ صرف یہ لوگ ان ڈگریوں کے اہل نہیں تھے جن پر وہ قابض ہوچکے تھے بلکہ وہ اگر خدانخواستہ اساتذہ وغیرہ کی نوکری حاصل کرلیں تو قوم کو ایک تاریک مستقبل دیں گے۔اللہ بھلا کرے این ٹی ایس کا جس کی کاوشوں سے بیسیوں لوگوں میں سے کئی بار "اللہ کی سپرد"کہہ کر پیپر میں بیٹھ جانے والوں دوستوں میں سے کبھی کوئی بھی پاس نہیں ہوپایا۔ ایک دوست جو پاس ہوا اس نے سچے دل سے خوب محنت کی تھی اور ہم اس کے چشم دید گواہ تھے۔ اپنی تمام تر پیپر کی بے ترتیبیوں اور سلیبس سے ہٹ کر پیپر دینے کے باوجود کم از کم یہ ایک ایسا معیار مقرر کرنے میں ضرور کامیاب ہوچکا ہے جو چھلنی کی حیثیت رکھتا ہے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
جب سی ایس ایس میں نقل ہوسکتی تو این ٹی ایس کس کھیت کی مولی ہے ! 2013 میں فیصل آباد میں دوبارہ پیپر ہوئے تھے کیونکہ کتابیں کھول کے اساتذہ نے آگے رکھ دیں تھیں ۔ اس پر کچھ طالب علموں نے پیپرز کھلواکے پیپرز حل کیے تھے ۔ این ٹی ایس یا پنجاب سروس کمیشن یا ایسے مقابلے کے امتحان میں 100 میں 10 فیصد لوگ اپنی محنت قابلیت سے سیلکٹ ہوتے ہیں ۔ اب حمزہ علی عباسی کی مثال لے لیں ۔ حمزہ ملتان کی پیدائش ہے ، ڈومیسائل پنجاب کو ہے اور سندھ سے اپئیر ہوا ہے ۔ سندھ میں پاس ہونا بائیں ہاتھ کام ہے اصل مقابلہ پنجابیوں یا سرحدیوں کا ہوتا ہے ، بلوچستان میں تو اگر کوئی پاس ہوجائے تو اچھا ہے مگر ہوتا نہیں ہے ۔ این ٹی ایس کے اگزامز میں سنا جاتا ہے کہ انٹرویو میں رشوت یا سفارش دونوں سے بے حد کام لیا جاتا ہے ۔یہاں لوگ ناظموں ، منسٹرز سے بنا کے رکھتے ہیں پھر جب کوئی کام پڑتا ہے تو ان کو سب دے دلا کے کام ہوجاتا ہے ۔ بینک میں چند لاکھ دے کے آپ کو جاب مل جاتی ہے ۔پیسہ پھینک تماشہ دیکھ
 
آپ کی بات سے اتفاق ہے۔۔۔ مگر اس کی اصلیت یہ ہے کہ پیسہ بٹورا جائے۔۔۔۔ اتنے زیادہ کینڈیڈیٹس کی فیسز۔۔۔۔۔۔ جن میں سے چند ایک ہی منتخب ہو پاتے ہیں۔۔۔۔ ایسا کہا جاتا ہے۔۔۔۔ اس بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟
این ٹی ایس یہ قدغن نہیں لگاتا کہ شرکا میں سے محض "چند ہی" پاس ہوپائیں۔ جتنے بھی لوگ محنت کرتے ہیں اور این ٹی ایس کے طریقہ امتحان کو سمجھ پاتے ہیں وہ با آسانی پاس ہوجاتے ہیں۔ بندہ ناچیز خود پانچ بار این ٹی ایس کے مختلف امتحانات میں پاس ہوچکا ہے۔ پہلا ٹیسٹ ایم فل داخلے کے لیے دیا تھا، پھر ایک ریسکیو میں اپ گریڈیشن کے لیے، پھر ایک ٹیسٹ سنٹر سپروائزر کے لیے، پھر ایک پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے اور پھر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی کے لیے۔ مجھے ہمیشہ پیپر دینے کے بعد یہی لگا کہ یہ ٹیسٹ پیپر سے تین چار دن قبل پڑھنے سے پاس کرنے کی امید باندھنے کے بجائے کم از کم تین چار ماہ تک مناسب تیاری کے ذریعے پاس ہوسکتاہے۔
 
جب سی ایس ایس میں نقل ہوسکتی تو این ٹی ایس کس کھیت کی مولی ہے ! 2013 میں فیصل آباد میں دوبارہ پیپر ہوئے تھے کیونکہ کتابیں کھول کے اساتذہ نے آگے رکھ دیں تھیں ۔ اس پر کچھ طالب علموں نے پیپرز کھلواکے پیپرز حل کیے تھے ۔ این ٹی ایس یا پنجاب سروس کمیشن یا ایسے مقابلے کے امتحان میں 100 میں 10 فیصد لوگ اپنی محنت قابلیت سے سیلکٹ ہوتے ہیں ۔ اب حمزہ علی عباسی کی مثال لے لیں ۔ حمزہ ملتان کی پیدائش ہے ، ڈومیسائل پنجاب کو ہے اور سندھ سے اپئیر ہوا ہے ۔ سندھ میں پاس ہونا بائیں ہاتھ کام ہے اصل مقابلہ پنجابیوں یا سرحدیوں کا ہوتا ہے ، بلوچستان میں تو اگر کوئی پاس ہوجائے تو اچھا ہے مگر ہوتا نہیں ہے ۔ این ٹی ایس کے اگزامز میں سنا جاتا ہے کہ انٹرویو میں رشوت یا سفارش دونوں سے بے حد کام لیا جاتا ہے ۔یہاں لوگ ناظموں ، منسٹرز سے بنا کے رکھتے ہیں پھر جب کوئی کام پڑتا ہے تو ان کو سب دے دلا کے کام ہوجاتا ہے ۔ بینک میں چند لاکھ دے کے آپ کو جاب مل جاتی ہے ۔پیسہ پھینک تماشہ دیکھ

فیصل آباد سے اس سال میں بھی سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھا تھا اور ایگری کلچر یونیورسٹی کے اسی سینٹر کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ پیپر میں نقل وغیرہ ہوئی ہے جہاں میں موجود تھا۔ اب میں چند چیزوں کی وضاحت کیے دیتا ہوں:
اول تو یہ کہ کتاب کھول کر نقل کرانے کا الزام غلط ہے۔ پیپروں کا ایک یا دو بنڈل لیٹ پہنچے تھے ایف پی ایس سی کے دفتر میں اس لیے شک کی بنا پر ان پیپروں کے بنڈلز کو ایف آئی اے کے سپرد کیا گیا تاکہ شفافیت کو قائم رکھا جاسکے اور ایف پی ایس سی کی عزت پرکوئی حرف نہ آئے۔ دوم یہ کہ جن چند پیپروں میں نقل وغیرہ کا شائبہ تھا ان کا حوالہ اساتذہ نہیں بلکہ ڈاک خانہ بنا تھا جہاں یہ گمان تھا کہ کچھ پیپروں کو تبدیل کر دیا گیا تھا اور اسی لیے پیپر لیٹ پہنچے تھے (یہ بات شاید کسی حد تک درست بھی تھی لیکن اس کی کم ازکم کوئی تصدیق میرے سامنے نہیں )
سوم یہ کہ وہ پیپر جن میں نقل یا تبدیلی وغیرہ کا شائبہ تھا دوبارہ لے لیے گئے تھے اور اس کےساتھ ساتھ سینٹر کے تقریبا تمام شرکا کو لاہور ایف آئی اے کے دفتر بھی بلوایا گیا تھا انکوائری کے لیے۔ ایف آئی اے کے سوالات اس نوعیت کے تھے: آپ نے عربی کا مضمون کیوں لیا حالانکہ آپ نے عربی کبھی نہیں پڑھی ؟ آپ نے جوگرافی کیوں لی حالانکہ آپ آرٹس کے طالبعلم رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس دوران نفسیات دان اور قانون دان وغیرہ بھی موجود رہے تھے۔
ایک اور بات یہ کہ پنجاب کا مقابلہ اس امتحان میں محض خود اس کے اپنے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی اور صوبے کی یہ مجال نہیں کہ وہاں کے طلبہ و طالبات ذہانت و فطانت میں پنجاب کا مقابلہ کر سکیں۔ اسی لیے دیگر صوبوں کو رعایت بھی دی جاتی ہے اور کوٹہ بھی مقرر کیا جاتا ہے۔
 
Top