اسلام آباد ڈیکلریشن کا متن

الف نظامی

لائبریرین

OFFICIAL TEXT: “Islamabad Long March Declaration”
Following decisions were unanimously arrived at; having been taken today, 17 January 2013, in the meeting which was participated by coalition parties delegation led by Chaudhry Shujaat Hussain including:​
1) Makdoom Amin Fahim, PPP​
2) Syed Khursheed Shah, PPPP​
3) Qamar ur Zama Qaira, PPPP​
4) Farooq H Naik, PPPP​
5) Mushahid Hussain, PML-Q​
6) Dr Farooq Sattar, MQM​
7) Babar Ghauri, MQM​
8 ) Afrasiab Khattak, ANP​
9) Senator Abbas Afridi, FATA​
With the founding leader of Minhaj-ul-Quran International (MQI) and chairman Pakistan Awami Tehreek (PAT), Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri.​
The Decisions
1) The National Assembly shall be dissolved at any time before March 16, 2013, (due date), so that the elections may take place within the 90 days. One month will be given for scrutiny of nomination paper for the purpose of pre-clearance of the candidates under article 62 and 63 of the constitution so that the eligibility of the candidates is determined by the Elections Commission of Pakistan. No candidate would be allowed to start the election campaign until pre-clearance on his/her eligibility is given by the Election Commission of Pakistan.​
2) The treasury benches in complete consensus with Pakistan Awami Tehreek (PAT) will propose names of two honest and impartial persons for appointment as Caretaker Prime Minister.​
3) Issue of composition of the Election Commission of Pakistan will be discussed at the next meeting on Sunday, January 27, 2013, 12 noon at the Minhaj-ul-Quran Secretariat. Subsequent meetings if any in this regard will also be held at the central secretariat of Minhaj-ul-Quran in Lahore. In pursuance to todays’ decision, the Law Minister will convene a meeting of the following lawyers: S. M. Zafar, Waseem Sajjad, Aitizaz Ahsan, Farough Naseem, Latif Afridi, Dr Khalid Ranja and Hamayoun Ahsan, to discuss these issues. Prior to the meeting of January 27, the Law Minister, Mr Farooq H Naek, will report the results of this legal consultation to the January 27 meeting.​
4) Electoral Reforms: It was agreed upon that the focus will be on the enforcement of electoral reforms prior to the polls on:​
A. Article 62, 63 and 218 (3) of the constitution
B. Section 77 to 82 of the Representation of Peoples’ Act 1976 and other relevant provisions relating to conducting free, fair, just and honest elections guarded against all corrupt practices.​
C. The Supreme Court Judgement of June 8, 2012 on constitutional petition of 2011 must be implemented in Toto and in true letter and spirit.​
5) With the end of the long march and sit-in, all cases registered against each other shall be withdrawn immediately and there will be no acts of victimisation and vendetta against either party or the participants of the march.​
This declaration has been entered into in a cordial atmosphere and reconciliatory spirit.​
Signatories of the declaration
Prime Minister of Pakistan Chairman Pakistan Awami Tehreek​
Raja Pervez Ashraf, Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri​
Leader of the delegation and former Prime Minister Law Minister​
Chaudry Shujaat Hussain Farooq H Naek​
Makdoom Amin Fahim, PPP​
Syed Khursheed Shah, PPPP​
Qamar ur Zama Qaira, PPPP​
Farooq H Naik, PPPP​
Mushahid Hussain, PML-Q​
Dr Farooq Sattar, MQM​
Babar Ghauri, MQM​
Afrasiab Khattak, ANP​
Senator Abbas Afridi, FATA​
چند روابط برائے تفہیم شق 1 ، 4 اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن
 

الف نظامی

لائبریرین
  1. قومی اسمبلی کو (اپنی مقررہ میعاد) 16 مارچ سے قبل کسی بھی وقت تحلیل کر دیا جائے گا، تاکہ اس کے بعد نوے دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت امیدواروں کی pre-clearance کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ الیکشن کمیشن امیدواروں کی انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت کا یقین کرسکے۔ کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔
  2. حکومتی اتحاد اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر تجویز کریں گے۔
  3. الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار ستائیس جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ میں ہی ہوں گے۔ آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون مندرجہ ذیل وکلاء کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے: ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسان ۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ستائیس جنوری کے اجلاس میں قانونی صلاح و مشورے کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے۔
  4. انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلےآئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
  1. آئین کی شق 62، 63 اور (3) 218
  2. عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976ء کے سیکشن 77 تا 82 اور دوسرے سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد اور ہر قسم کےبدعنوان معمولات کے تدارک سے متعلق ہیں۔
  3. سپریم کورٹ کی 2011 ءکی قانونی درخواست پر 8 جون 2012ء کو صادر ہونے والے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔
  1. لانگ مارچ کے اختتام کے بعد جانبین کے ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیے جائیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی فرد یا تنظیم کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔
اس اعلامیے پر خوش اسلوبی اور مفاہمت کی رو سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
 

سید ذیشان

محفلین
اگر کسی کا خیال ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے تو یہ بہت بڑی بھول ہے۔ ابھی تو معاملہ شروع ہوا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
 

حسینی

محفلین
اگر قادری صاحب آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل کروانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔۔۔
چونکہ ان دفعات کے تحت کوئی کرپٹ، بے ایمان، جھوٹا، ٹیکس چور، نادہندہ شخص پارلیمنٹ میں نہیں آسکتا۔۔۔ اور اگر یہ کام ہوگیا تو پاکستان میں بہت بڑی مثبت تبدیلی آئے گی۔۔
 

سعود الحسن

محفلین

فاتح

لائبریرین
"سابق" وقافی وزرا اور "سابق" وزیر اعظم کے ساتھ وہ معاہدہ قرار پا گیا۔۔۔
424423_10151196031767117_2064967756_n.jpg
 

فاتح

لائبریرین
روحانی ڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر اور ڈان نیوز کے کالم نگار ہمارے عزیز دوست جناب جمیل خان صاحب کا فیس بک سٹیٹس:
جمعہ مبارک۔۔۔
شہادت پروف کنٹینر شریف والے لانگ مارچ شریف کا اختتام مبارک۔۔۔
قادری کی کینیڈا طلبی مبارک۔۔۔
اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر جمع ہونے والا ایک سو ٹن کچرا مبارک۔۔۔
انقلاب مبارک۔۔۔
 
میرے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری اور اس مارچ کے شرکاء مبارکباد کے مستحق ہیں۔۔ان لوگوں نے وہ کچھ کیا جو آج تک کوئی اور نہیں کرسکا تھا۔۔۔ساری حکومتی مشینری، ساری سیاسی پارٹیوں کی مخالفت اور انکے پروردہ کالم نگاروں اور اینکر پرسنز کی بھرپور کوششوں کے باوجود، احتجاج کے شرکاء کافی حد تک کامیاب رہے۔ اگر پی ٹی آئی مصلحتوں کا شکار ہونے کی بجائے انکا ساتھ دیتے تو یقیناّ یہ مارچ اپنے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب رہتا۔۔بہرحال مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا ۔ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی اور عوام کے جذبات کا ایک خوبصورت اور مؤثراظہار تھا۔ ۔۔:)
 

عسکری

معطل
روحانی ڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر اور ڈان نیوز کے کالم نگار ہمارے عزیز دوست جناب جمیل خان صاحب کا فیس بک سٹیٹس:
جمعہ مبارک۔۔۔
شہادت پروف کنٹینر شریف والے لانگ مارچ شریف کا اختتام مبارک۔۔۔
قادری کی کینیڈا طلبی مبارک۔۔۔
اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر جمع ہونے والا ایک سو ٹن کچرا مبارک۔۔۔
انقلاب مبارک۔۔۔
کیوں مفتی بے عزتی کر رہے ہو فاتح بابو :grin: 4 دن سے لوگ سردی میں رہ کر آئے ہیں پہلے گرم غسل کرنے دو آرام کرنے دو
 

متلاشی

محفلین
میرے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری اور اس مارچ کے شرکاء مبارکباد کے مستحق ہیں۔۔ان لوگوں نے وہ کچھ کیا جو آج تک کوئی اور نہیں کرسکا تھا۔۔۔ ساری حکومتی مشینری، ساری سیاسی پارٹیوں کی مخالفت اور انکے پرسوردہ کالم نگاروں اور اینکر پرسنز کی بھرپور کوششوں کے باوجود، احتجاج کے شرکاء کافی حد تک کامیاب رہے۔ اگر پی ٹی آئی مصلحتوں کا شکار ہونے کی بجائے انکا ساتھ دیتے تو یقیناّ یہ مارچ اپنے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب رہتا۔۔بہرحال مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا ۔ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی اور عوام کے جذبات کا ایک خوبصورت اور مؤثراظہار تھا۔ ۔۔:)
محمود بھائی ذرا طاہر القادری صاحب کے چار مطالبات جو انہوں نے بار بار پیش کیے ۔۔۔۔ وہ اور یہ اوپر والا ڈیکلریشن ذرا آمنے سامنے آ جائے تو کیا ہی بات بنے ۔۔۔۔!
 

arifkarim

معطل
یہ آج سترہ جنوری دو ہزار بارہ کو سائن ہوا ہے۔​
یہ کیا قادری کا کنٹینر تھا یا ٹائم مشین کہ ایک سال پیچھے جا کر معاہدہ کر لیا؟ :grin:
ہمارے درمیان اور ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا ہے کہ ہم پاکستان عوامی تحریک اور سب ملکر نگران وزیراعظم فائنل کریں گے۔ اب حکمران جماعت کئیر ٹیکر وزیراعظم کے لیے کوئی نام پیش نہیں کرسکتی۔ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ یہ مکمل اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ جس پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوگا، وہی نام آگے پیش کیے جائیں گے۔
یہ ’’اور سب ملکر‘‘ میں مزید کون شامل ہے؟ ذرا اسکی وضاحت بھی کر دیتے۔ کیا اسمیں تمام اتحادی اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں شامل ہیں؟ یا صرف چنیدہ سیاسی جماعتوں کو نگران وزیر اعظم کا نام پیش کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ :battingeyelashes:


یہ میٹنگ ستائیس جنوری کو منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ میں ہوگی۔
27 جنوری کو تو مولانا صاحب واپس کینیڈا تشریف لے جا رہے ہیں، بعض ذرائع کے مطابق۔ انکی غیر موجودگی میں کون یہ کام کرے گا؟

یہ معاہدہ بڑی خوش دلی کیساتھ ہوا ہے۔ جس پر وزیراعظم پاکستان اور میرے دستخط سمیت تمام نو رہنماؤں کے دستخط ہیں۔​
اس دوران صدر پاکستان کا بھی ٹیلی فون آیا تھا، اور ان کو بھی یہ معاہدہ پڑھ کر سنایا گیا، پھر صدر پاکستان کی توثیق کے ساتھ وزیراعظم نے اس معاہدہ پر دستخط کر دیئے۔​
کھودا پہاڑ نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا۔ :)
چار دنوں تک مسلسل ظالمو، یزیدو، لٹیرو،مسخرو کا نعرہ لگانے کے بعد حکومت اور مولانا کے درمیان ’’معاہدہ‘‘ طے پا گیا۔ ایک ایسا معاہدہ جس پر ’’صدر‘‘ پاکستان اور ’’وزیر اعظم‘‘ پاکستان ’’متفق‘‘ ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟​
 

arifkarim

معطل
محمود بھائی ذرا طاہر القادری صاحب کے چار مطالبات جو انہوں نے بار بار پیش کیے ۔۔۔ ۔ وہ اور یہ اوپر والا ڈیکلریشن ذرا آمنے سامنے آ جائے تو کیا ہی بات بنے ۔۔۔ ۔!
خاموش! علامہ صاحب آئین کے آرٹکل 62 اور 63 پر خود کس قدر قابل اترتے ہیں، اسبارہ میں آپ عوام کو مزید ’’گمراہ‘‘ نہیں کر سکتے۔
 
محمود بھائی ذرا طاہر القادری صاحب کے چار مطالبات جو انہوں نے بار بار پیش کیے ۔۔۔ ۔ وہ اور یہ اوپر والا ڈیکلریشن ذرا آمنے سامنے آ جائے تو کیا ہی بات بنے ۔۔۔ ۔!
متلاشی بھائی، سیاست میں جب اختلاف رونما ہوتا ہے اور ایک فریق دوسرے فریق کے سامنے کچھ مطالبات رکھتا ہے تو اس صورتحال میں منطقی طور پر چار قسم کے نتیجے ہی نکل سکتے ہیں:
1-Win-Lose....اس صورت میں پہلا فریق سو فیصد اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب رہتا ہے اور دوسرا فریق مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہوتا ہے۔
2- Lose-Win.....اس صورت میں پہلا فریق مکمل طور پر ناکام رہتا ہے اور دوسرا فریق اپنی بات سو فیصد طور پر منوانے میں کامیاب رہتا ہے۔
3- Lose-Lose...اس صورت میں دونوں فریق مکمل طور پر کسی مفاہمت پر متفق ہونے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور ڈیڈ لاک پیدا ہوجاتا ہے جسکے نتیجے میں دونوں فریق ناکام رہتے ہیں۔
4-Win-Win....اس صورت میں دونوں فریقین ایک ایسی صورتحال پر متفق ہوتے ہیں جسکے نتیجے میں دونوں کو مکمل طور پر ناکام بھی نہیں کہا جاسکتا اور کامیاب بھی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ایک ایسا نتیجہ ہوتا ہے جسے فریقین بخوشی قبول کرلیتے ہیں۔

اب اگر اس مارچ کے مسئلے کو لیں تو اسکا انجام پہلی تینوں صورتوں سے ہٹ کر چوتھی صورت کے نتیجے میں ہوا ہے۔۔۔اور شائد اسکے علاوہ اسکا کوئی اور حل ممکن بھی نہیں تھا۔ کیونکہ حکومت اور اپوزیشن، سیاسی پارٹیاں، حکومتی مشینری ، میڈیا سب ایک طرف اور طاہر القادری اور یہ مجمع دوسری طرف تھا۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ لانگ مارچ کے شرکاء پہلے نمبر والا نتیجہ حاصل کرپاتے (البتہ اگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم انکا کھل کر ساتھ دیتے تو کھیل بدل سکتا تھا)۔۔ دوسرے نمبر والا نتیجہ بھی نہیں نکل سکا کیونکہ دس حکومتی ارکان کوچہ رقیب میں سر کے بل جانے پر مجبور ہوئے۔۔۔ تیسیر صورتحال اس وقت پیدا ہوتی اگر ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا اور آرمی کنٹرول سنبھال لیتی۔۔۔یہ بھی نہیں ہوا۔۔۔چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو کچھ ہوا ہے یہ نا و کسی فریق کی مکمل فتح ہے اور نہ ہی مکمل شکست۔۔۔
اپ آپ سمجھنا چاہیں تو بات میں نے کھول کر بیان کردی ہے۔ لیکن اگر پانی میں مدھانی ہی چلانی ہے تو وہ تو تاقیامت چلائی جاسکتی ہے۔ :)
 

الف نظامی

لائبریرین
نظامی صاحب بہتر یہ ہوتا کہ آپ ذرا قادری صاحب کے چار مطالبات ترتیب سے اور ان پر اس ڈیکلریشن میں جواب لکھ دیں تو مزید کسی تبصرہ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
پہلا مطالبہ یہ کہ الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات کی جائیں۔ ہم الیکشن دھاندلی کے نظام کے تحت نہیں چاہتے۔ آئین پاکستان کی شق باسٹھ تریسٹھ کے تحت انتخابی امیدواروں کو جانچا اور پرکھا جائے اور آئین کی چھاننی سے نکالا جائے۔
اب اسلام آباد ڈیکلریشن کی شق 1 اور 4 پڑھ لیں:​
1) The National Assembly shall be dissolved at any time before March 16, 2013, (due date), so that the elections may take place within the 90 days. One month will be given for scrutiny of nomination paper for the purpose of pre-clearance of the candidates under article 62 and 63 of the constitution so that the eligibility of the candidates is determined by the Elections Commission of Pakistan. No candidate would be allowed to start the election campaign until pre-clearance on his/her eligibility is given by the Election Commission of Pakistan.​
4) Electoral Reforms: It was agreed upon that the focus will be on the enforcement of electoral reforms prior to the polls on:​
A. Article 62, 63 and 218 (3) of the constitution
B. Section 77 to 82 of the Representation of Peoples’ Act 1976 and other relevant provisions relating to conducting free, fair, just and honest elections guarded against all corrupt practices.​
C. The Supreme Court Judgement of June 8, 2012 on constitutional petition of 2011 must be implemented in Toto and in true letter and spirit.​
دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فوری تحلیل کرکے دوبارہ تشکیل دیا جائے​
اب اسلام آباد ڈیکلریشن کی شق 5 پڑھ لیں​
3) Issue of composition of the Election Commission of Pakistan will be discussed at the next meeting on Sunday, January 27, 2013, 12 noon at the Minhaj-ul-Quran Secretariat. Subsequent meetings if any in this regard will also be held at the central secretariat of Minhaj-ul-Quran in Lahore. In pursuance to todays’ decision, the Law Minister will convene a meeting of the following lawyers: S. M. Zafar, Waseem Sajjad, Aitizaz Ahsan, Farough Naseem, Latif Afridi, Dr Khalid Ranja and Hamayoun Ahsan, to discuss these issues. Prior to the meeting of January 27, the Law Minister, Mr Farooq H Naek, will report the results of this legal consultation to the January 27 meeting​
.​
تیسرا مطالبہ عبوری حکومت دو جماعتوں کے مک مکا سے نہیں تشکیل پانی چاہیے بلکہ اٹھارہ کروڑ عوام عبوری حکومت کے سربراہ کا انتخاب کریں۔​
2) The treasury benches in complete consensus with Pakistan Awami Tehreek (PAT) will propose names of two honest and impartial persons for appointment as Caretaker Prime Minister.
چوتھا مطالبہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل ہے​
اسلام آباد ڈیکلریشن شق 1​
1) The National Assembly shall be dissolved at any time before March 16, 2013, (due date), so that the elections may take place within the 90 days. One month will be given for scrutiny of nomination paper for the purpose of pre-clearance of the candidates under article 62 and 63 of the constitution so that the eligibility of the candidates is determined by the Elections Commission of Pakistan. No candidate would be allowed to start the election campaign until pre-clearance on his/her eligibility is given by the Election Commission of Pakistan
.​
 

طالوت

محفلین
اگر کل معاہدہ یہی ہے جو اس دھاگے میں پیش کیا گیا ہے تو میری ناقص رائے میں تو یہ مبہم اور نامکمل ہے اور ایسی کوئی چیز نہیں کہ جسے انقلابی حیثیت سے پیش کیا جا سکے۔ آئین کی شق 62 اور 63 پہلے سے ہی موجود ہیں اور کوئی بھی نمائندہ جو ان شرائط پر پورا نہ اترتا ہو ، اس کے ثابت کئے جانے پر وہ نااہل قرار دیا جاتا ہے ، الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی کی صورت میں عدالتوں سے رجوع کر کے جوتے پڑوائے جا سکتے ہیں۔
تاہم اصل صورتحال تو ٹی وی مذاکروں سے کھل کر سامنے آ جائے گی جب آئینی و قانونی ماہرین اس کا پوسٹ مارٹم کریں گے جو یقینا پیچیدہ اور طویل نہیں ہو گا۔
فی الحال اس تمام نظم و ضبط جس کی مثالیں بار بار دی جا رہی تھیں کی بڑی کمزوری کے مزے لیں۔
 
Top