اردو محفل فورم

واپس جايئے   اردو محفل فورم > متفرقات > کھیل ہی کھیل میں > کہانی لکھنے کا کھیل

Connect with Facebook

جواب ديجئے
 
موضوع، فورم کے اوزار
پرانا 23 دسمبر 2006, 08:02 ص   #1
اجنبی
مشاق
 
اجنبی کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 03 جولاي 2005
مقام: جہانِ رنگ و بو
پيغامات: 805
قصہ پانچ قوالوں کا

کسی زمانے میں محفل پر ایک کہانی لکھی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی ۔ درج ذیل کہانی اسی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب قدیر احمد نے محفل سے طویل عرصے کے لیے رخصت لے لی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد محفل میں اُلو بولنے لگے تھے ، یعنی ویرانی ہو گئی تھی ۔ منہاجین ، نبیل اور زکریا بولائے بولائے سے پھرنے لگے تھے ۔ مسلسل بوریت سے تنگ آکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کے لیے کوئی اور شغل اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر گفت و شنید شروع ہو گئی ۔

انہی دنوں منہاجین کی تنظیم نے ایک تقریب منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ، جس میں محفلِ سماع بھی ہونی تھی ۔ ”اندھا کیا چاہے دو آنکھیں“ نبیل اور زکریا نے منہاجین کی منت سماجت شروع کردی کہ بھائی ہمیں چانس دلا دو ، تمہیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے ۔ اس طرح انہیں ایک قوال پارٹی بنانے کا موقع مل گیا جس میں طبلہ نوازی زکریا کے سپرد کی گئی ، ہارمونیم منہاجین کے ہاتھ میں اور نبیل کو اصل کام یعنی لمبی لمبی تانیں لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ شاکر اور محب علوی چونکہ نئے نئے آئے تھے اس لیے انہیں تالیاں بجانے کا فن سونپا گیا ۔

جب یہ قوال پارٹی محفل سے نکلی تو سامنے ہی ایک چاند گاڑی کھڑی نظر آئی ۔ اب قوال رکشے والے سے تانیں لڑانے لگے ۔ نبیل صاحب تو ہاتھ نچا نچا کر بھاؤ بتانے لگے ۔ کئی منٹ تک چونچیں لڑانے کے بعد سودا طے پاگیا جس پر محب اور شاکر نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا ۔ ان کی خوشی جلد ہی ماند پڑ گئی جب معلوم ہوا کہ رکشے کے اندر صرف تین افراد کی گنجائش ہے ۔ چنانچہ نبیل ، زکریا اور منہاجین رکشے کے اندر بیٹھ گئے اور محب اور شاکر رکشے کے دائیں بائیں مڈ گارڈز پر پاؤں ٹکا کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر رکشے نے ایک زور دار احتجاج کیا اور حرکت میں آگیا ۔

گرتے پڑتے قوال محفلِ اردو سے نکل کر محفلِ سماع میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی تک مہمانِ خصوصی کی آمد نہیں ہوئی ۔ لیکن چونکہ پنڈال میں مجمع لگ چکا تھا اس لیے منتظمین نے قوالی شروع کرنے کا حکم دیا ۔ قوال پارٹی جم کر بیٹھ گئی تو منہاجین نے ہارمونیم کی ریں ریں شروع کرتے ہوئے زکریا سے کہا
”چل استاد دے ٹھِیکا“
اب زکریا نے طبلے پر دونوں ہاتھ جو جمائے تو نبیل نے زور دار جمائی لی جو ایک لمبی تان میں بدل گئی ، اور ساتھ ہی محب اور شاکر نے تڑاخ تڑاخ تالیاں بجانی شروع کردیں ۔ قوالی بڑھتی گئی اور محب نے اپنا کام جاری رکھا مگر شاکر کی حالت غیر ہونے لگی ۔ ابھی اس پر ”حال“ طاری ہونے ہی لگا تھا کہ دفعتاً سٹیج سیکریٹری نے مہمانِ خصوصی کی آمد کا اعلان کیا ۔ سب کی نظریں سٹیج کے داخلی دروازے پر لگ گئیں ۔ دروازے پر لگے پردے میں حرکت ہوئی اور قدیر احمد بطورِ مہمانِ خصوصی برآمد ہوا ۔

(میں نے کہانی کو بڑے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے ، اب یہاں سے کہانی بڑھانا آپ کا کام ہے)

اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
اجنبی آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان 3 یوزرز نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 23 دسمبر 2006, 10:24 ص   #2
دوست
منفرد
 
دوست کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 25 ستمبر 2005
مقام: فیصل آباد
پيغامات: 9,648
اس کے ساتھ ہی قدیر اندر داخل ہوا اور دونوں ہاتھوں سے اپنی رانیں پیٹتا ہوا بولا۔۔
ارے کمبختو مجھے پیچھے ہی چھوڑ آئے اس کمبخت ہارمونیم اور طبلے کی تال پر ٹھمکا کیا فرشے لگائیں گے۔۔
پھر رکشے والے کو بددعائیں دینا شروع کردیں جو اسے پیچھے ہی چھوڑ آیا تھا۔۔۔
اس کے بعد زکریا نے طبلے پر ہاتھ مارا، منہاجین نے ہارمونیم کی تان ملائی اور نبیل نے اپنی پھٹے بانس جیسی آواز میں مومن کے شعر تم میرے پاس ہوتے ہو گویا۔۔۔جب کوئی الو کا پٹھا نہیں ہوتا۔۔گانا شروع کیا تو قدیر کے پاؤں بے اختیار تھرکنے لگے اور کچھ ہی دیر میں وہ سلو موشن میں ٹھمکے لگا رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر تو یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن قدیر جیسے ایڈوانس “فنکار“ کے سامنے پانچ قوال بھلا کیا حیثیت رکھتے تھے چناچہ قدیر نے ٹھمکوں کے ساتھ تالیاں پیٹ کر ان کو کوسنے دینے لگا۔۔ ارے کمبخت مارو ذرا فاسٹ طریقے کے ہاتھ چلاؤ آج ہمارا روک اینڈ رول کرنے کو دل کررہا ہے اور تمہارے ہاتھ ہی معذوروں کی طرح چل رہے ہیں۔۔۔۔ قوال پارٹی کے سربراہ یعنی زکریا نے اس سے زیادہ تیز ہونے سے معذرت چاہی تو قدیر کے کوسنے مزید بڑھ گئے۔۔۔آخرقوالوں کو رخصت کرکے ان کی جگہ قدیر کی ڈیمانڈ کو ایک ٹریکٹر لاکر پورا کیا گیا جس کے ریس دینے کی آواز پر قدیر صاحب نے ساری رات فن کا مظاہرہ کیا۔۔۔اس دوران ٹریکٹر کی ٹنکی آدھ درجن بار فل کی گئی تاکہ ڈانس میں خلل نہ پڑے۔۔۔
اگلے دن بچے کھچے شرکائے محفل کا کہنا تھا کہ ایسا فن نہ دیکھا نہ سنا۔۔عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اس محفل سے “فن کار“ کو خاطر خواہ ویلیں بھی حاصل ہوئی ہیں۔۔۔اور وہ آئندہ کئی دن تک
سکون سے گھر بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔۔۔

محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

To view links or images in signatures your post count must be 0 or greater. You currently have 0 posts.
دوست آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 23 دسمبر 2006, 11:30 ص   #3
بوچھی
ممتاز
 
بوچھی کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 11 اكتوبر 2005
مقام: پرستان،
پيغامات: 21,209
Re: قصہ پانچ قوالوں کا

اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: قدیر احمد
کسی زمانے میں محفل پر ایک کہانی لکھی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی ۔ درج ذیل کہانی اسی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب قدیر احمد نے محفل سے طویل عرصے کے لیے رخصت لے لی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد محفل میں اُلو بولنے لگے تھے ، یعنی ویرانی ہو گئی تھی ۔ منہاجین ، نبیل اور زکریا بولائے بولائے سے پھرنے لگے تھے ۔ مسلسل بوریت سے تنگ آکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کے لیے کوئی اور شغل اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر گفت و شنید شروع ہو گئی ۔

انہی دنوں منہاجین کی تنظیم نے ایک تقریب منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ، جس میں محفلِ سماع بھی ہونی تھی ۔ ”اندھا کیا چاہے دو آنکھیں“ نبیل اور زکریا نے منہاجین کی منت سماجت شروع کردی کہ بھائی ہمیں چانس دلا دو ، تمہیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے ۔ اس طرح انہیں ایک قوال پارٹی بنانے کا موقع مل گیا جس میں طبلہ نوازی زکریا کے سپرد کی گئی ، ہارمونیم منہاجین کے ہاتھ میں اور نبیل کو اصل کام یعنی لمبی لمبی تانیں لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ شاکر اور محب علوی چونکہ نئے نئے آئے تھے اس لیے انہیں تالیاں بجانے کا فن سونپا گیا ۔

جب یہ قوال پارٹی محفل سے نکلی تو سامنے ہی ایک چاند گاڑی کھڑی نظر آئی ۔ اب قوال رکشے والے سے تانیں لڑانے لگے ۔ نبیل صاحب تو ہاتھ نچا نچا کر بھاؤ بتانے لگے ۔ کئی منٹ تک چونچیں لڑانے کے بعد سودا طے پاگیا جس پر محب اور شاکر نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا ۔ ان کی خوشی جلد ہی ماند پڑ گئی جب معلوم ہوا کہ رکشے کے اندر صرف تین افراد کی گنجائش ہے ۔ چنانچہ نبیل ، زکریا اور منہاجین رکشے کے اندر بیٹھ گئے اور محب اور علوی رکشے کے دائیں بائیں مڈ گارڈز پر پاؤں ٹکا کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر رکشے نے ایک زور دار احتجاج کیا اور حرکت میں آگیا ۔

گرتے پڑتے قوال محفلِ اردو سے نکل کر محفلِ سماع میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی تک مہمانِ خصوصی کی آمد نہیں ہوئی ۔ لیکن چونکہ پنڈال میں مجمع لگ چکا تھا اس لیے منتظمین نے قوالی شروع کرنے کا حکم دیا ۔ قوال پارٹی جم کر بیٹھ گئی تو منہاجین نے ہارمونیم کی ریں ریں شروع کرتے ہوئے زکریا سے کہا
”چل استاد دے ٹھِیکا“
اب زکریا نے طبلے پر دونوں ہاتھ جو جمائے تو نبیل نے زور دار جمائی لی جو ایک لمبی تان میں بدل گئی ، اور ساتھ ہی محب اور شاکر نے تڑاخ تڑاخ تالیاں بجانی شروع کردیں ۔ قوالی بڑھتی گئی اور محب نے اپنا کام جاری رکھا مگر شاکر کی حالت غیر ہونے لگی ۔ ابھی اس پر ”حال“ طاری ہونے ہی لگا تھا کہ دفعتاً سٹیج سیکریٹری نے مہمانِ خصوصی کی آمد کا اعلان کیا ۔ سب کی نظریں سٹیج کے داخلی دروازے پر لگ گئیں ۔ دروازے پر لگے پردے میں حرکت ہوئی اور قدیر احمد بطورِ مہمانِ خصوصی برآمد ہوا ۔

(میں نے کہانی کو بڑے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے ، اب یہاں سے کہانی بڑھانا آپ کا کام ہے)

اور پھر آنکھ کھل گئی ۔ :P
بوچھی آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان 2 یوزرز نے بوچھی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 23 دسمبر 2006, 06:01 ش   #4
اجنبی
مشاق
 
اجنبی کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 03 جولاي 2005
مقام: جہانِ رنگ و بو
پيغامات: 805
یار دوست! تمہاری کہانی میں دو جھول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ قدیر احمد تو قوالوں کے ساتھ تھا ہی نہیں ۔ وہ تو طویل رخصت پر تھا اور اس کا قوالوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ اگر اس کی موجودگی کے متعلق قوالوں کو معلوم ہوتا تو وہ کوئی “بندوبست“ کر کے آتے ۔
دوسری بات یہ کہ تم نے کہانی کو روک دیا ہے ۔ یار اسے آگے بڑھاؤ ، کوئی رستہ رکھو آگے نکلنے کا ۔ ورنہ پھر مجھے ہی ریورس گئیر لگا کر نکلنا پڑے گا ۔
ویسے تم نے قدیر احمد کے کردار کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہین کیا ۔ اب اس کے جوابی حملے کا انتظار کرنا

اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
اجنبی آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 24 دسمبر 2006, 05:15 ص   #5
دوست
منفرد
 
دوست کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 25 ستمبر 2005
مقام: فیصل آباد
پيغامات: 9,648
کرتا ہوں اس کے ساتھ تو اب دیکھو ہوتا کیا ہے۔۔عزیزی۔۔۔
کوئی ٹینشن نہیں جو مرضی کرو جوابی کاروائی۔۔۔

محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

To view links or images in signatures your post count must be 0 or greater. You currently have 0 posts.
دوست آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 24 دسمبر 2006, 10:05 ص   #6
ڈاکٹر عباس
ماہر
 
ڈاکٹر عباس کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 03 جولاي 2006
مقام: سانگھڑ ، سندھ،پاکستان
پيغامات: 1,866
ڈاکٹر عباس آن لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے ڈاکٹر عباس کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 24 دسمبر 2006, 05:54 ش   #7
اجنبی
مشاق
 
اجنبی کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 03 جولاي 2005
مقام: جہانِ رنگ و بو
پيغامات: 805
دوست: مجھے تمہاری جوابی کاروائی کا انتظار رہے گا ۔ یاد رکھو کہ اب میں کسی بات کا برا نہیں مناتا ۔ مگر اوپر جو کچھ تم نے قدیر احمد جیسے شریف النفس بندے کے ساتھ کیا ہے ، ویسا ہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ، انشاءاللہ ۔

ڈاکٹر عباس: یہ کیا ہے جناب؟ خالی خولی ہنسوڑ شکلوں سے کام نہیں چلے گا ، آپ بھی کچھ زبان دانی کے جوہر دکھائیے ۔

اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
اجنبی آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 27 دسمبر 2006, 05:52 ص   #8
بدتمیز
ماہر
 
بدتمیز کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 31 اكتوبر 2005
مقام: ابھی تک زمین کے اوپر
پيغامات: 1,423
اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: قدیر احمد
دوست: مجھے تمہاری جوابی کاروائی کا انتظار رہے گا ۔ یاد رکھو کہ اب میں کسی بات کا برا نہیں مناتا ۔ مگر اوپر جو کچھ تم نے قدیر احمد جیسے شریف النفس بندے کے ساتھ کیا ہے ، ویسا ہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ، انشاءاللہ ۔
قدیر احمد خالی خولی باتیں مت کرو اور کچھ کر کے بھی دکھاو

ٰ‌I dont kno what your mum said in ITALIAN but ANGRY sounds the same in any language
To view links or images in signatures your post count must be 0 or greater. You currently have 0 posts.


To view links or images in signatures your post count must be 0 or greater. You currently have 0 posts.
بدتمیز آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے بدتمیز کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 27 دسمبر 2006, 08:18 ص   #9
دوست
منفرد
 
دوست کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 25 ستمبر 2005
مقام: فیصل آباد
پيغامات: 9,648
عزیزی برا تو یوں منا رہے ہو جیسے الحاج ہو۔۔۔

کبھی ٹینشن نہیں لی ان باتوں کی۔۔
لوگ ویسے ہی جلتے ہیں۔۔۔ہماری پرسنیلٹی سے۔۔
کدی کاواں کیاں ڈھور مرے۔۔۔

محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

To view links or images in signatures your post count must be 0 or greater. You currently have 0 posts.
دوست آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
پرانا 29 دسمبر 2006, 05:19 ش   #10
اجنبی
مشاق
 
اجنبی کا اوتار
 
تاريخ شموليت: 03 جولاي 2005
مقام: جہانِ رنگ و بو
پيغامات: 805
اوئے بدتمیز: دوست جواب دے گا تو میں کچھ کروں گا نا۔
دوست: اوئے پرسنیلٹی والے پپو ! کچھ لکھو بھی ۔

اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
اجنبی آف لائن ہے   اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:
جواب ديجئے

موضوع، فورم کے اوزار

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات
آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں

مسکراھٹيں آن ہیں
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے


مشابہ موضوعات
موضوع تحریر: فورم جوابات آخري پيغام
قصہ ہم لکھیں گے دل بے قرار کا قیصرانی موسیقی کی دنیا 31 07 مٓی 2007 07:55 ش
پانچ دالیں توقیر کچن کارنر 0 01 اكتوبر 2006 01:14 ص
آبِ گُم - شہر دو قصہ شمشاد مزاح نگاری 65 04 اگست 2006 11:28 ش
عبداللہ ابن سبا، ایک دیو مالائی قصہ مہوش علی تاریخ کا مطالعہ 41 10 فروري 2006 06:28 ش


کیا آپ محفل فورم پر نئے ہیں؟ کیا آپ کو مدد کی ضرورت ہے؟

تمام اوقات GMT ہیں۔ اب وقت ہوا ہے۔02:00 ش

Powered by vBulletin® Version 3.8.1
Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.