" دسمبر " حوالے سے کوئی شعر، کوئی نظم، کوئی غزل ۔ ۔۔آپ بھی لکھیے
"قطعہ"
تری یاد اور برف باری کا موسم
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے
ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر
گزرتا نہیں ایک دسمبر اکیلے ۔ ۔ ۔
آخری تدوین از umeedaurmohabbat : 13 دسمبر 2007 بوقت 02:45 ش
"جو کچھ بھی ہے محبت کاپھیلاؤ ہے "
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
عنوان درست کر لیجئے گا
دسمبر ہی صحیح نہیں ہے تو عنوان کیا صحیح کیا جائے ۔ بہت سے چاہنے والے اسی ماہ بچھڑ گئے یعنی دنیا میں نہیں رہے ۔ جو دنیا میں ہیں وہ بھی اسی ماہ کی برکت سے نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ یعنی اب ان سے کوئی ملاقات نہیں اور نہ ہی ملاقات کا امکان ہے ۔ اور ستم تو یہ ہے کہ میری پیدائش بھی اسی ماہ کی ہے ۔ اب کیا کیا جائے ۔![]()
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
آپ نے عنوان میں " دسمبر " کی جگہ " دسبر " لکھا ہے ۔ قیصرانی کا اشارہ اسی طرف ہے ۔
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
آخری تدوین از umeedaurmohabbat : 13 دسمبر 2007 بوقت 03:17 ش
"جو کچھ بھی ہے محبت کاپھیلاؤ ہے "
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
ارے ۔۔۔ پھر دسبر ۔۔۔۔![]()
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
" قطعہ"
خنک رات میں تنہائی بھی چوکھٹ پہ کھڑی ہے
جاڑے کی اداس شام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے
ترے آنے کی امید بھی ہو چلی معدوم !
نئے برس کا اہتمام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے
"جو کچھ بھی ہے محبت کاپھیلاؤ ہے "
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
آج ثناء اللہ بھائی نے دسمبر کے عنوان سے ایک غزل پوسٹ کی تھی، وہی لکھ دیتا ہوں۔
ابھی ہجر کا قیام ہے اور دسمبر آن پہنچا ہے
یہ خبر شہر میں عام ہے دسمبر آن پہنچا ہے
آنگن میں اُتر آئی ہے مانوس سی خوشبو
یادوں کا اژدہام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے
خاموشیوں کا راج ہے ،خزاں تاک میں ہے
اداسی بھی بہت عام ہے ،دسمبر آن پہنچا ہے
تیرے آنے کی امید بھی ہو چکی معدوم
نئے برس کا اہتمام ہے ،دسمبر آن پہنچا ہے
خُنک رت میں تنہائی بھی چوکھٹ پہ کھڑی ہے
جاڑے کی اداس شام ہے ،دسمبر آن پہنچا ہے
تم آؤ تو مرے موسموں کی بھی تکمیل ہو جائے
نئے رُت تو سرِ بام ہے ، دسمبر آن پہنچا ہے
It is never late to turn to ALLAH SWT
کلمتان خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان، حبیبتان الی الرحٰمن : سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔