محسن صاحب
آپ نے اس انتہائی حساس موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی ہے جس پر کسی سے بات کرتے ہوئے اب ڈر ہی لگتا ہے پہلے سیاست پاکستانی افراد کا پسندیدہ موضوعِ بحث ہوتی تھی اب اس پر بات کرتے ہوئے ہر شخص کتراتا ہے۔ کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی مایوس ہو کر کچھ لوگوں نے لاتعلقی اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے کا رویہ اپنا لیا ہے یہاں تک کہ ٹی وی اور اخبارات تک کا مقاطعہ کرلیا گیا کہ کم از کم اپنا دل تو محفوظ رہے۔ وطن سے باہر بیٹھے محبانِ وطن پر یہ وقت اور بھی کڑا ہوتا ہے کہ وطن کیطرف سے آنے والی ہر بری خبر سچی ہونے کا دھڑکا رہتا ہے اور آجکل تو ہر طرف مایوسی نے پہرا ڈال رکھا ہے۔


اقتباس کے ساتھ جواب دیں
