1. آپ فی الحال ہمارا فورم بطور مہمان ملاحظہ فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو اکثر مراسلات اور دیگر فیچرز تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ہماری مفت کمیونٹی میں شامل ہو کر آپ نئے موضوعات شروع کرنے، دیگر ارکان سے ذاتی پیغامات کے ذریعے خط و کتابت کرنے، رائے شماری میں حصہ لینے، مواد اپلوڈ کرنے اور ان جیسے دیگر خاص فیچرز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ رجسٹریشن نہ صرف تیز رفتار اور سادہ بلکہ بالکل مفت بھی ہے لہٰذا آج ہی ہماری کمیونٹی میں شامل ہو جائیے۔اگر آپ کو رجسٹریشن کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو براہ مہربانی ہم سے رابطہ کیجیے۔
+ موضوع کا جواب بھیجیں
صفحہ 1 از 2 1 2 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 11

موضوع: ایک ارب درخت اگاو

  1. #1

    ایک ارب درخت اگاو

    ماحولیاتی آلودگی اور اس کی وجہ سے عالمی ماحول میں ہونے والی تبدیلی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اس سال دنیا بھر میں ایک ارب درخت لگانے کی اپیل کی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق صرف پچھلے دس سالوں میں انسان اسقدر درخت کاٹ چکا ہے کہ دس سال تک مسلسل چودہ ارب درخت سالانہ لگائے جائیں تب کہیں جا کر ان کا بدل ہو سکے گا۔

    پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکم سٹائنر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک ارب درخت لگانے کی یہ مہم ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لوگ اس دنیا کو بچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کو تیار ہیں۔

    درخت لگانے کی اس مہم میں نہ صرف حکومتوں بلکہ غیر سرکاری تنظیموں، کارپوریشنوں، مقامی تنظیموں، کاشت کاروں، نوجوانوں اور بچوں تک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سال درخت لگانے کی کوشش کریں اور زیادہ نہیں تو کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں۔
    یہ مہم نومبر میں کینیا کے شہر نیروبی میں اقوام متحدہ کی ماحول پر ہونے والی کانفرنس کے موقع پر شروع کی گئی تھی اور آج اس سلسلے میں پیرس میں دوسری اپیل کی گئی ہے۔ اب تک اس سلسلے میں پندرہ کروڑ ستر لاکھ درخت لگانے کے وعدے کیے جا چکے ہیں۔
    درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ نامی نقصان دہ گیس کو ہوا میں سے جذب کر کے اس کے بدلے آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانوں کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی کو اکیسویں صدی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس پر فوری طور پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو جلد ہی دنیا کے ماحول کو انسانوں کے ہاتھوں پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی حدوں کو چھو سکتا ہے۔
    متعلقہ ربط:
    http://www.voanews.com/urdu/2007-01-19-voa9.cfm
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  2. #2
    ‌تو پھر اٹھیے درخت لگائیے اور پاکستان کو سرسبز اور ماحول دوست بنانے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  3. #3
    دنیا کے لیے درجۂ حرارت کو بڑھانے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کا عالمی پینل، آئی پی سی سی کی چوتھی جائزہ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت یقینی طور پر دو سے چار اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ یا تین اعشاریہ چھ سے آٹھ اعشاریہ ایک فارن ہائٹ تک بڑھے گا۔
    بھلا ہو زمین کے ماحولیاتی نظام سے ملنے والے ان مثبت پیغامات کا جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ چھ درجے سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگر درجۂ حرارت میں یہ اضافہ اس پیمانے کے نصف تک بھی پہنچ گیا تو بھی اس کا مطلب ہو گا ایک ہولناک تباہی۔
    اِس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو جائے گی اور سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا۔


    بحوالہ:
    ماحولیاتی تبدیلیاں
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  4. #4
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: بیدم
    دنیا کے لیے درجۂ حرارت کو بڑھانے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کا عالمی پینل، آئی پی سی سی کی چوتھی جائزہ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت یقینی طور پر دو سے چار اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ یا تین اعشاریہ چھ سے آٹھ اعشاریہ ایک فارن ہائٹ تک بڑھے گا۔
    بھلا ہو زمین کے ماحولیاتی نظام سے ملنے والے ان مثبت پیغامات کا جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ چھ درجے سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگر درجۂ حرارت میں یہ اضافہ اس پیمانے کے نصف تک بھی پہنچ گیا تو بھی اس کا مطلب ہو گا ایک ہولناک تباہی۔
    اِس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو جائے گی اور سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا۔


    بحوالہ:
    ماحولیاتی تبدیلیاں
    ڈائینو سارز کے اختتام کی داستان کے بارے ابھی بھی کئی تھیوریاں چل رہی ہیں۔ ابھی اس بات کا کوئی واضح‌ ثبوت نہیں ملا کہ کیا ہوا تھا۔ باقی مضمون شئیر کرنے کا بہت شکریہ
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  5. #5
    آپ کے اس مضمون سے درخت پسندوں کو حوصلہ ملے گا ۔باقی مضمون وہ بھی اتنا اچھا شیئر کرنا کا بہت شکریہ مجھےبھی پودے پسند ہیں وہ خاص کر پھولوں والے۔

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  6. #6
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: AMERICAN
    مجھےبھی پودے پسند ہیں وہ خاص کر پھولوں والے۔
    بہت خوب، مجھے بھی پسند ہیں،
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  7. #7
    پاکستان میں‌ گرمی اور طوفان کا تعلق بھی اسی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے س۔
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  8. #8
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%
    کراچی کے ساحل پر موجود قدرتی حفاظتی بند یعنی جنگلات کی کٹائی بھی سمندری طوفانوں کی زیادہ تباہی کا باعث بن رہی ہے۔

    نظامی درخت کسے پسند نہیں مگر اس کے لیے کوئی ادارہ کام کر رہا ہے پاکستان میں یا کس طرح کوئی اس مہم میں آسانی سے حصہ لے سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ہی پچھلے ایک دو سال میں لاکھوں درخت کاٹے گئے ہیں اور کوئی منصوبہ نہیں دیکھنے میں آیا ان کی جگہ درخت لگانے کا۔

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  9. #9
    نعمان کا اوتار
    Status : نعمان آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 11 دسمبر 2005
    مقام : کراچی
    پیغامات : 650
    پوائنٹس
    6,251
    درجہ
    54
    Points: 6,251, Level: 54
    Level completed: 51%, Points required for next Level: 99
    Overall activity: 1.1%
    صرف درخت لگانے سے کام نہیں بنے گا اس کے لئے ہمیں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو بھی کم کرنا ہوگا۔ بی بی سی کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں اسی فیصد تجارتی اور گھریلو بجلی ائرکنڈیشنڈ استعمال کرتے ہیں۔ ائرکنڈیشن، ریفریجریٹر اور ٹرانسپورٹ بڑے شہروں میں آلودگی پھیلانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ پلاسٹک کی اشیاء کا بے حساب اور بلاضرورت استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

    اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بسیں، ریلیں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تو اس سے بھی آلودگی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے یہاں ایک طرف جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت انتہائی خراب ہے وہاں لوگوں کی ذہنیت بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ ذاتی سواری پسند کرتے ہیں چاہے انہیں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنا پڑے۔

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  10. #10
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: نعمان
    صرف درخت لگانے سے کام نہیں بنے گا اس کے لئے ہمیں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو بھی کم کرنا ہوگا۔
    بالکل صحیح ہے، ماحول دوست مصنوعات کے استمعال کو فروغ دینا بہت اہم ہے۔
    علی حیدر!

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

+ موضوع کا جواب بھیجیں
صفحہ 1 از 2 1 2 آخریآخری

مشابہ موضوعات

  1. انڈین درخت
    By پاکستانی in forum تصاویر
    جوابات: 21
    آخری پیغام: 08 جنوري 2010, 07:44 ش
  2. انمول درخت
    By جیہ in forum گوشہ اطفال
    جوابات: 2
    آخری پیغام: 15 ستمبر 2007, 07:54 ص
  3. درخت اگاؤ
    By ظفر احمد in forum گپ شپ
    جوابات: 16
    آخری پیغام: 03 فروري 2007, 04:10 ص
  4. اردو ویب : ایک فلسفہ ، ایک حقیقت
    By محمد شمیل قریشی in forum تعارف
    جوابات: 8
    آخری پیغام: 04 ستمبر 2006, 07:35 ش
  5. ایک لنک ۔۔۔ ایک سوال
    By طلحہ بٹ in forum آئی ٹی کے سوال و جواب
    جوابات: 2
    آخری پیغام: 16 دسمبر 2005, 07:04 ش

اس موضوع کے ٹیگ

آپ کے اختیارات بسلسلہ ترسیل پیغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں