1. آپ فی الحال ہمارا فورم بطور مہمان ملاحظہ فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو اکثر مراسلات اور دیگر فیچرز تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ہماری مفت کمیونٹی میں شامل ہو کر آپ نئے موضوعات شروع کرنے، دیگر ارکان سے ذاتی پیغامات کے ذریعے خط و کتابت کرنے، رائے شماری میں حصہ لینے، مواد اپلوڈ کرنے اور ان جیسے دیگر خاص فیچرز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ رجسٹریشن نہ صرف تیز رفتار اور سادہ بلکہ بالکل مفت بھی ہے لہٰذا آج ہی ہماری کمیونٹی میں شامل ہو جائیے۔اگر آپ کو رجسٹریشن کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو براہ مہربانی ہم سے رابطہ کیجیے۔
+ موضوع کا جواب بھیجیں
صفحہ 5 از 7 اولیناولین 1 2 3 4 5 6 7 آخریآخری
نتائج کی نمائش 41 تا: 50 از: 67

موضوع: کیا عورت اور مرد برابر ہیں؟

  1. #41
    شاکرالقادری کا اوتار
    Status : شاکرالقادری آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 02 جون 2006
    مقام : پاکستان کا بازوئے شمشیر زن -- اٹک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 1,379
    Points
    471.93
    پوائنٹس
    11,891
    درجہ
    75
    Points: 11,891, Level: 75
    Level completed: 47%, Points required for next Level: 159
    Overall activity: 17.4%
    Blog Entries
    12
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: امن ایمان
    ہیںںںںںں یہ میرے ذیریں قول پر اتنی دانشورانہ بحث چھڑ گئی۔۔۔ ۔۔ تفسیر چا ویسے آپ نے لاحاصل بحث چھیڑ دی ہے : ) خیر۔۔۔
    آپ سب لوگ پتہ نہیں کیا حساب کتاب لے کر بیٹھ گئے ہیں۔۔۔بات صرف اتنی ہے کہ ایک لڑکی ہونے کے باوجود مجھے وہ عورتیں بری لگتی ہیں جو مردوں کی برابری کا دعوی کرتی ہیں۔۔۔۔جو کہ مردوں کی طرح کام کاج کرنا چاہتی ہیں۔۔جبکہ اس کی ضرورت بھی نہ ہواور اگر کبھی مجبورا انھیں کوئی جاب کرنی پڑ جائے تو اپنی کمائی کا رعب ڈالتی ہیں۔۔۔گھر میں ساس چاہے تنہا مر کھپ جائے خود کسی NGO کے ذیر صدارت بوڑھے لوگوں کی فلاح و بہبود کی پالیسی مرتب کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ خوب بن سنور کر بازار نکلا جاتا ہے اور اگر کوئی راہ چلتا جملہ کس دے تو پھر بھرے بازار میں پٹائی کروانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔۔۔کیا ہے یہ سب۔۔؟؟؟؟

    کبھی سوچیں کہ مغرب کی تقلید میں ہم کہاں سے کہاں نکل گئے ہیں اب تو پاکستانی عورت نہ گھر کی ہے اور نہ گھاٹ کی۔۔۔۔ جہاں مطلب ہوا مذہب کو درمیان میں لے آئے کہ جی اسلام میں بھی تو عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ چلتی اور لڑتی رہی ہیں ۔۔۔لیکن جہاں ان کے سخت باپردہ ہونے پر کسی نے کہا وہاں وہ بحث وہ جگہ ہی چھوڑ دی۔

    آپ کو پتہ ہے کہ پاکستانی فوج میں عورتوں کی شمولیت کیوں دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔۔اس لیے کے وہ باعمل مسلمان جو اب بھی جہاد کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں۔۔ان کا دھیان ان فضول لغویات کی طرف لگایا جاسکے۔۔سچ کہوں آج کل کی عورت کو دیکھ کر مجھے خود پر شرمندگی ہوتی ہے ۔۔: (
    خیر جناب عورت اور مرد کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔۔نہ قوت ِ فیصلہ میں،نہ قوتِ ارادی میں، نہ طاقت میں، نہ مصائب سے نپٹنے میں، نہ آزادی میں۔۔۔کسی بھی حال میں نہیں۔
    لیکن امن!
    برابری میرے خیال میں انسانی حرمت و احترام ہے اور اس میں مردو عورت دونوں برابر ہیں اور اگر برابری ذہنی، جسمانی، نفسیاتیﹺ ساختوں اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ہے تو یہ بات فطرت کے خلاف ہے مجھے آپ کی بات سے پورا اتفاق ہے لیکن بحیثیت انسان خوبیاں اور خامیاں تو مردو عورت دونوں میں ہیں
    اور اگر آزادی اسی کا نام ہے کہ ایک بھوکے کے سامنے اشتہا انگیز کھانا عمداً رکھا جائے اور وہ جب اسے کھانے کے لیے لپکے تو اس کی آزادی کو سلب کر لیا جائے یہ کیسی آزادی ہے؟ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ جب عورت کو بن سنور کر باہر نکلنے کا حق اور آزادی چاہیے تو پھر مرد اسے گھورنے اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اس بات پر بن سنور کر باہر نکلنے والی عورت کو تکلیف کیوں ہوتی ہے آخر وہ اپنے حسن کی نمائش ااسی لیے تو کرتی ہے کہ مرد اسے دیکھیں

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    جہانِ قلم :: رنگا رنگ اردو یونی کوڈ فونٹس
    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اگر آپ کے پاس کوئی اردو فونٹ موجود ہے اور آپ اسے جہان قلم پر رکھنا چاہتے ہیں تو فونٹ فائل ارسال کرنے کے لیے
    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  2. #42
    افتخار راجہ کا اوتار
    Status : افتخار راجہ آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 28 ستمبر 2005
    مقام : اٹلی
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 2,719
    Points
    359.21
    پوائنٹس
    13,624
    درجہ
    80
    Points: 13,624, Level: 80
    Level completed: 50%, Points required for next Level: 176
    Overall activity: 7.2%
    بحث تو بہت دلچسپ ہے بلخصو ص کیونکہ اس میں مذہب کا داخلہ ممنوع قرار پایا لہذا مصنف کو اپنے زورِ بازو پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

    اسی سلسلہ میں‌ احباب نے کچھ حوالے مغربی تہذیبوں کے دیئے اور کچھ نے اپنے ذاتی اور عمومی مشاہدات۔
    چونکہ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں‌کہ عورت اور مرد برابر نہیں بلکہ دو مختلف اصناف ہیں جنکے مختلف اختیارات و فرائض ہیں۔
    بات برتری کی یا کم تری کی نہیں ہورہی ہے بلکہ مقصود صرف فراق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے، رہی بات برتری کی تو ہم تو جانوروں کو بھی خود سے افضل سمجھتے ہیں۔

    دوستوں نے مغربی تہذیبوں کے حوالے دیئے تو توجہ دلاؤں گا کہ یہاں پر بھی مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ‌عورتوں کی اکثریت آج بھی وہی “پولے پولے“ کام کرتی ہے، ٹیچر ہیں اور کلرک کی نوکری کرتی ہیں اور ساتھ ہی برابر ہونے کےلئے احتجاج بھی جاری ہوتا ہے۔
    سنا ہے کہ برطانیہ میں بہت سال پیشتر عورتوں کو ایک فضیلت یہ تھی کہ انکو 60 برس کی عمر میں‌پینشن دے دی جاتی تھی جبکہ مرد حضرات کےلئے مقررہ عمر 65 برس تھی۔ اس طور کی برابری کی لئے کی جانے والی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے نتیجہ میں حکومت نے دیگر برابریوں کے ساتھ ہی یہ برابری بھی کردی کہ ان کو بھی 65 برس کی عمر تک کام کرنا پڑے گا۔ پس لگیں مچانے شور کہ ہم نے یہ تو نہیں کہا تھا، اور کہ ایسی برابری پر لعنت ہو پھٹکار ہو، جس میں پانچ سال اور کام کرنا پڑے ۔

    بات برابری کی کرنے سے پہلے ملحوظِ خاطر رہے کہ خواتین کی نبض کی رفتار اور انکا فطری وزن تک مردوں سے کم ہوتا ہے۔ اسی طرح بلڈ پریشر اور دل ک‌‌ فطری سائیز سے لیکر ہڈیوں کی پیمائیش تک مردوں سے کم ہے۔

    مجھے تو حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو برابر کرتے ہوئے بہت سے فطری معاملات تک کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور فقط اسی دلیل پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور وہ بھی، فلاں ملک میں میں برابری ہو گئی ہے اور فلاں میں ہو رہی ہے اور ہمارے لوگ دیکھا دیکھی بقول ہمارے پروفیسر منظور ملک صاحب کے “ مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں“۔ مجھے خود یورپ میں رہتے ہوئے عرصہ ہوچکا ہے اور خواتین کے ساتھ کام کاج کرنے کا بھی اتفاق ہوا ہے ۔ عملی زندگی میں تو یہیں دیکھا گیا کہ جب کوئ زور یا خطرہ کا کام ہے، گولی کھانے کا موقع ہے تو کہا جاتا ہے کہ تم مرد ہو۔ آگے بڑھو اور جب تنخواہ بڑھانے کی بات ہوتو مردو زن برابر ہیں۔
    ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا کا نظام “لے “ پر چل رہا ہے یہ لے، وہ لے، وہ بھی لے لے، اور اس کو لے لینے کے لئے کبھی تو مردوزن کو برابر کردیا جاتا ہے اور کبھی عورت کو ماں کہ کر برتر اور کبھی لونڈی کہہ کر کم تر کردیا جاتا ہے ۔ یہ ہی احوال مرد کا ہے مگر کیا کریں فطری طور پر اس کا وزن کچھ پونڈ زیادہ جو ہے پس اسی کا فائدہ اٹھاتا پھر رہا ہے اور الزام بھی بھگتتا پھرتا ہے ورنہ تو مردوزن زندگی کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں۔
    میرا اردو بلاگ پڑھئے

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  3. ان یوزر نے افتخار راجہ کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  4. #43
    السلام و علیکم
    امید ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔
    یہ بحث بہت پرانی ہے کہ مرد عورت برابر ہیں یا نہیں۔ میں نے شروع میں جو شرائط پڑھیں ان کے مطابق مجھے ہاں یا ناں میں کسی ایک گروپ کا ساتھ دینا ہے لیکن میں یہ سمجھتی ہیوں کہ اس بحث کوlogical انداز میں کیا جائے تو صرف کوئی ایک رائے صحیح نہیں ہے۔۔۔
    مذہب نہ سہی اگر قانونِ فظرت کو ایک دہرئے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو بھی مسئلے کا حل سامنے ہے۔
    Genetics کی بات ہوئی تو وہاں بھی دونوں میں فرق ہے۔ مرد کے کروموسومل پیٹرن اور عورت کے کوموسومل پیٹرن میں فرق ہے ۔ اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرد کے کروموسمز ہیں جو بچے کی جنس کا تعین کرتے ہیں نہ کہ عورت کے۔ تو ہیاں کس کا اپر ہینڈ ہوا؟
    عورت کو ماں کا درجہ دیا گیا۔ یہ بھی عورت کے ایک خاص مقام کی دلیل ہے۔
    جہاں تک آج کی عورت اور معاشرے میں اس کے مقام کی بات ہے تو عورت کسی بھی شعبے میں مرد سے کم نہیں۔ دیکھیں ذرا کون سا جسمانی مشقت کا کام ہے جو وہ نہیں کر سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ کیوں کہ وہ بچوں کو پالتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور مرد کا فرض ہے کہ وہ اس کی اور اس کے بچوں کی معاشی کفالت کرے۔ لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں عورت مرد سے بڑھ کر حوصلہ مند اور پریکٹیکل ثابت ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے بہت بچپن میں ایک سونگ سنا تھا ۔۔“باپ کی جگہ ماں لے سکتی ہے، ماں کی جگہ باپ لے نہیں سکتا۔۔لوری دے نہیں سکتا“ اور جب میں نے اپنے والد سے اس کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہا۔۔بیٹے اگر باپ سر پر نہ رہے توماں بچوں کی معاشی اور جذباتی دونوں طریقے سے care کر سکتی ہے لیکن باپ ماں کی عدم موجودگی میں کبھی بھی اس کا رول ادا نہیں کر سکتا۔ سو یہ حالات پر منحصر ہے کہ عورت کو کس طرح کا رول ادا کرنا ہے۔ اور وہ سب رول بآسانی اورeffectivelyادا کر سکتی ہے۔
    پیچھے کسی پوسٹ میں کہا گیا کہ“ عورت اور مرد کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔۔نہ قوت ِ فیصلہ میں،نہ قوتِ ارادی میں، نہ طاقت میں، نہ مصائب سے نپٹنے میں، نہ آزادی میں۔۔۔کسی بھی حال میں نہیں“

    میں اس بات سے کسی صورت اتفاق نہیں کرتی۔ قوتِ فیصلہ کی بات کی جائے تو قلو پطرا سی ذہین اور زیرک عورت نے کس طرح بروقت فیصلے کیے سب جانتے ہیں۔ آپ نے مذہب کے حوالے سے بات کرنے کو منع کیا ہے ورنہ یہاں قلوپطرا کی بجائے کوئی اور نام ہوتا۔
    قوتِ ارادی ارو قوتِ فیصلہ کی مثال کے لئے ذیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ اندرا گاندھی نے ایک عورت ہو کر جس ہوشیاری سے ایک ہاری ہوئی بازی پاکستان سے مذاکرات کے میز پر جیتی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
    طاقت سے مراد اگر جسمانی طاقت ہے تو واقعی مرد اس میں قوی ہے لیکن وہ مرد کی اس طاقت کو بھی اپنی ذہانت سے tackle کر سکتی ہے۔یہں مثال لیجیے ویلنٹینا ٹریشکوا کی جس نے یوری گاگرین جیسی ہی سخت تربیت حاصل کی اور اس کے ساتھ space میں گئی ۔یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ مصائب سے نمٹنے کے لئے ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ شوہر کی عدم موجودگی میں کتنی ہی مائیں اپنے بچوں کو بھرپور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ہر مسئلے اور مصیبت کا بے جگری سے مقابلہ کرتی ہیں۔ شازیہ جی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔
    ان سب باتوں کو اگر میں اپنے مذہب کے حوالے سےڈسکس کرتی تو مجھے ذیادہ خوشی ہوتی لیکن چونکہ منع کیا گیا ہے تو
    خیر یہ سب تو اس بات کا جواب تھا کہ عورت مرد کے برابر ہو سکتی ہے یا نہیں۔۔ اب جہاں تک بات ہے کہ
    so called woman rights fighters کا تو بات یہ ہے جناب کہ آپ ایک چھوٹے سے گروپ کو تمام عورتوں کی نمائندہ جماعت نہیں کہہ سکتے۔ یہ لوگ بس اپنے فائدے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
    ہر معاملے میں اعتدال ہی ایک کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔
    اگر ایک عورت کو اس کا جائز حق گھر بیٹھے مل رہا ہے۔ مرد اس کی ارو اس کے بچوں کی تمام معاشی ضروریات پوری کر رہا ہے تو اس کو باہر نکلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی سمجھدار خاتون اپنے گھر کو یوں نظر انداز کر
    سکتی ہے۔ ہاں جہاں ضرورت ہے وہاں وہ زندگی کا ساتھی ہونے کی حیثیت سے اس کا ہر معاملے میں 50 50 ساتھ دے سکتی ہے۔
    سو کینے کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اگر گاڑی کے دو پہیوں کا نام دیا گیا ہے تو وہ سہی ہے۔ دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کو بہتر طریقے سے کھینچ سکتے ہیں اور اس میں عورت کی اہمیت کو کم سمجھنا بہت غلط ہے کہ اگر گاڑی کا ایک پہیہ بڑا اور دوسرا چھوٹا ہو تو گاڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔بات اپنے اپنے حقوق و فرائض کے سمجھنے کی ہے۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  5. ان یوزر نے فرحت کیانی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  6. #44
    قوتِ ارادی ارو قوتِ فیصلہ کی مثال کے لئے ذیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ اندرا گاندھی نے ایک عورت ہو کر جس ہوشیاری سے ایک ہاری ہوئی بازی پاکستان سے مذاکرات کے میز پر جیتی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

    اس تاریخی حوالے کا تو جواب نہیں۔۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  7. #45
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: نبیل
    قوتِ ارادی ارو قوتِ فیصلہ کی مثال کے لئے ذیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ اندرا گاندھی نے ایک عورت ہو کر جس ہوشیاری سے ایک ہاری ہوئی بازی پاکستان سے مذاکرات کے میز پر جیتی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

    اس تاریخی حوالے کا تو جواب نہیں۔۔
    so nice of u
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  8. #46
    Status : تیشہ آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 11 اكتوبر 2005
    پیغامات : 21,892
    Points
    3,158.25
    پوائنٹس
    62,642
    درجہ
    100
    Points: 62,642, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%
    واہ، فرحت واقعی میں بہت عمدہ ۔ میں تو قائل ہوگئی ۔ بلکل درست اور بہت عمدہ لکھا ۔
    میں چاہتی ہوں کچھ اور بھی لکھئیے ۔ تاکہ جن کے ذہنوں میں یہ سوچ ہے کہ عورت مرد کے برابر نہیں انکی غلطفہمی دور نہیں تو کم سے کم کم تو ہو ۔ کیا پتا انکی سوچ میں تبدیلی ہیآئے ۔

    جو آج کے دور میں بھی رہتے ہوئے صدیوں پرانی جاہلانہ سوچیں رکھتے ہیں ۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  9. #47
    بہت شکریہ نبیل اور شازیہ جی۔ بات یہ ہے کہ ہمیں کسی کے بھی point of view کو صرف اس لئے رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہماری سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ لوجک کیا کہتی ہے۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  10. #48
    Status : تیشہ آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 11 اكتوبر 2005
    پیغامات : 21,892
    Points
    3,158.25
    پوائنٹس
    62,642
    درجہ
    100
    Points: 62,642, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%
    مگر میں تو قائل ہوئی اتنی وضاحت دلیل کے ساتھ
    باقی تو سب اپنی اپنی بول گئے ۔ مگر آپکی پڑھکر تو مجھے واقعی مزہ آگیا ۔
    میری بیٹی نے شروع سے لے کر اب تک کی پڑھی ۔ شروع کی پڑھکر اسکا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا کہ امی ۔ ۔ یہ کیسی سوچ شئیر کی گئی ہیں ۔ کہنے لگی آج کے دور میں رہتے ہوئے بھی اور پڑھ لکھنے کے باوجود بھی حیرت ہے ۔

    آپکی پڑھکر بولی آنٹی نے اک اک بات ٹھیک کی ۔ بالکے ہر بات میں وزن ہے ۔ بہت امپریس ہوئی ۔

    کہ اب لگا ہے کوئی تعلیم یافتہ اور بہت سمجھدار سلجھا ہوا رپلائی ۔

    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  11. #49
    بدتمیز کا اوتار
    Status : بدتمیز آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 31 اكتوبر 2005
    مقام : ابھی تک زمین کے اوپر
    پیغامات : 1,423
    پوائنٹس
    6,867
    درجہ
    57
    Points: 6,867, Level: 57
    Level completed: 59%, Points required for next Level: 83
    Overall activity: 0%
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: فرحت کیانی
    السلام و علیکم
    امید ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔
    یہ بحث بہت پرانی ہے کہ مرد عورت برابر ہیں یا نہیں۔ میں نے شروع میں جو شرائط پڑھیں ان کے مطابق مجھے ہاں یا ناں میں کسی ایک گروپ کا ساتھ دینا ہے لیکن میں یہ سمجھتی ہیوں کہ اس بحث کوlogical انداز میں کیا جائے تو صرف کوئی ایک رائے صحیح نہیں ہے۔۔۔
    مذہب نہ سہی اگر قانونِ فظرت کو ایک دہرئے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو بھی مسئلے کا حل سامنے ہے۔
    Genetics کی بات ہوئی تو وہاں بھی دونوں میں فرق ہے۔ مرد کے کروموسومل پیٹرن اور عورت کے کوموسومل پیٹرن میں فرق ہے ۔ اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرد کے کروموسمز ہیں جو بچے کی جنس کا تعین کرتے ہیں نہ کہ عورت کے۔ تو ہیاں کس کا اپر ہینڈ ہوا؟
    عورت کو ماں کا درجہ دیا گیا۔ یہ بھی عورت کے ایک خاص مقام کی دلیل ہے۔
    جہاں تک آج کی عورت اور معاشرے میں اس کے مقام کی بات ہے تو عورت کسی بھی شعبے میں مرد سے کم نہیں۔ دیکھیں ذرا کون سا جسمانی مشقت کا کام ہے جو وہ نہیں کر سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ کیوں کہ وہ بچوں کو پالتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور مرد کا فرض ہے کہ وہ اس کی اور اس کے بچوں کی معاشی کفالت کرے۔ لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں عورت مرد سے بڑھ کر حوصلہ مند اور پریکٹیکل ثابت ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے بہت بچپن میں ایک سونگ سنا تھا ۔۔“باپ کی جگہ ماں لے سکتی ہے، ماں کی جگہ باپ لے نہیں سکتا۔۔لوری دے نہیں سکتا“ اور جب میں نے اپنے والد سے اس کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہا۔۔بیٹے اگر باپ سر پر نہ رہے توماں بچوں کی معاشی اور جذباتی دونوں طریقے سے care کر سکتی ہے لیکن باپ ماں کی عدم موجودگی میں کبھی بھی اس کا رول ادا نہیں کر سکتا۔ سو یہ حالات پر منحصر ہے کہ عورت کو کس طرح کا رول ادا کرنا ہے۔ اور وہ سب رول بآسانی اورeffectivelyادا کر سکتی ہے۔
    پیچھے کسی پوسٹ میں کہا گیا کہ“ عورت اور مرد کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔۔نہ قوت ِ فیصلہ میں،نہ قوتِ ارادی میں، نہ طاقت میں، نہ مصائب سے نپٹنے میں، نہ آزادی میں۔۔۔کسی بھی حال میں نہیں“

    میں اس بات سے کسی صورت اتفاق نہیں کرتی۔ قوتِ فیصلہ کی بات کی جائے تو قلو پطرا سی ذہین اور زیرک عورت نے کس طرح بروقت فیصلے کیے سب جانتے ہیں۔ آپ نے مذہب کے حوالے سے بات کرنے کو منع کیا ہے ورنہ یہاں قلوپطرا کی بجائے کوئی اور نام ہوتا۔
    قوتِ ارادی ارو قوتِ فیصلہ کی مثال کے لئے ذیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ اندرا گاندھی نے ایک عورت ہو کر جس ہوشیاری سے ایک ہاری ہوئی بازی پاکستان سے مذاکرات کے میز پر جیتی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
    طاقت سے مراد اگر جسمانی طاقت ہے تو واقعی مرد اس میں قوی ہے لیکن وہ مرد کی اس طاقت کو بھی اپنی ذہانت سے tackle کر سکتی ہے۔یہں مثال لیجیے ویلنٹینا ٹریشکوا کی جس نے یوری گاگرین جیسی ہی سخت تربیت حاصل کی اور اس کے ساتھ space میں گئی ۔یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ مصائب سے نمٹنے کے لئے ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ شوہر کی عدم موجودگی میں کتنی ہی مائیں اپنے بچوں کو بھرپور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ہر مسئلے اور مصیبت کا بے جگری سے مقابلہ کرتی ہیں۔ شازیہ جی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔
    ان سب باتوں کو اگر میں اپنے مذہب کے حوالے سےڈسکس کرتی تو مجھے ذیادہ خوشی ہوتی لیکن چونکہ منع کیا گیا ہے تو
    خیر یہ سب تو اس بات کا جواب تھا کہ عورت مرد کے برابر ہو سکتی ہے یا نہیں۔۔ اب جہاں تک بات ہے کہ
    so called woman rights fighters کا تو بات یہ ہے جناب کہ آپ ایک چھوٹے سے گروپ کو تمام عورتوں کی نمائندہ جماعت نہیں کہہ سکتے۔ یہ لوگ بس اپنے فائدے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
    ہر معاملے میں اعتدال ہی ایک کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔
    اگر ایک عورت کو اس کا جائز حق گھر بیٹھے مل رہا ہے۔ مرد اس کی ارو اس کے بچوں کی تمام معاشی ضروریات پوری کر رہا ہے تو اس کو باہر نکلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی سمجھدار خاتون اپنے گھر کو یوں نظر انداز کر
    سکتی ہے۔ ہاں جہاں ضرورت ہے وہاں وہ زندگی کا ساتھی ہونے کی حیثیت سے اس کا ہر معاملے میں 50 50 ساتھ دے سکتی ہے۔
    سو کینے کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اگر گاڑی کے دو پہیوں کا نام دیا گیا ہے تو وہ سہی ہے۔ دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کو بہتر طریقے سے کھینچ سکتے ہیں اور اس میں عورت کی اہمیت کو کم سمجھنا بہت غلط ہے کہ اگر گاڑی کا ایک پہیہ بڑا اور دوسرا چھوٹا ہو تو گاڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔بات اپنے اپنے حقوق و فرائض کے سمجھنے کی ہے۔
    اگر یہ باتیں کسی بھائی بند کے منہ سے ہوتیں تو جتنے لوگ واہ واہ کر رہے ہیں وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے۔ اس کی جان توڑ لیتے کہ گاؤں میں ایسا کیوں ہو رہا ہے قبائلی علاقے میں کیوں ہو رہا ہے۔ سبھی لوگ اس کو مانتے ہیں لیکن یہ اور بات ہے اگر کوئی اور کہے تو اس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ اور جتنے واہ واہ کر رہے ہیں وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے مگر اس طرح بات کرنا ان کو بھی نہیں آئی تو ان کو کسی نے نہیں کہا کہ یہ آپ خود کیا لکھتے/لکھتی رہے/رہی ہیں؟ جب سب کو اتنی عقل ہے تو ایسی بحث شروع کرتے ہی کیوں ہیں اور اب اس کے بعد تو شامل بحث لوگوں کو کہیں بھی دوبارہ ایسی بحث برائے بحث نہیں کرنی چاہئے۔

    افتخار راجہ آپ کا جواب پڑھ کر مزہ آیا۔ وجہ میری "جاہلانہ" سوچ نہیں بلکہ ذمہ داریاں بتانے والےلوگوں کا اس طرح کے پہلو کو نظر انداز کرنا تھا۔

    قدیر احمد تمہاری چیٹ کا حوالہ دوں تو تمہیں بغیر کسی وجہ کے مرچیں لگتی ہیں اور تم کہنے لگتے ہو گھر کی باتیں مت کرو تو تم ذرا اپنی اداؤں پر غور کرو میں نے کچھ کہا تو شکوہ بن جائے گا۔
    ٰ‌I dont kno what your mum said in ITALIAN but ANGRY sounds the same in any language
    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  12. ان یوزر نے بدتمیز کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  13. #50
    Status : تیشہ آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 11 اكتوبر 2005
    پیغامات : 21,892
    Points
    3,158.25
    پوائنٹس
    62,642
    درجہ
    100
    Points: 62,642, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: فرحت کیانی
    بہت شکریہ نبیل اور شازیہ جی۔ بات یہ ہے کہ ہمیں کسی کے بھی point of view کو صرف اس لئے رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہماری سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ لوجک کیا کہتی ہے۔


    واہ ،فرحت واہ ، بہت عمدہ ،





    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

+ موضوع کا جواب بھیجیں

مشابہ موضوعات

  1. سب سے زیادہ عمر رسیدہ رکن مرد - رکن عورت
    By شمشاد in forum محفل کی سالگرہ
    جوابات: 17
    آخری پیغام: 17 اپريل 2009, 04:20 ش
  2. کیا آپ ان کو جانتے ہیں؟
    By تفسیر in forum گوشہ اطفال
    جوابات: 0
    آخری پیغام: 19 جولاي 2007, 02:45 ص
  3. مرد بیچاروں کا کیا قصور!
    By پاکستانی in forum تصاویر
    جوابات: 8
    آخری پیغام: 08 اپريل 2007, 11:40 ش
  4. وکی اور بلاگ کیا ہیں؟
    By امن ایمان in forum آئی ٹی کے سوال و جواب
    جوابات: 16
    آخری پیغام: 25 جولاي 2006, 11:32 ص
  5. پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا کرتے ہیں؟
    By نبیل in forum انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا
    جوابات: 13
    آخری پیغام: 06 مارچ 2006, 10:55 ش

آپ کے اختیارات بسلسلہ ترسیل پیغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں