السلام و علیکم
امید ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔
یہ بحث بہت پرانی ہے کہ مرد عورت برابر ہیں یا نہیں۔ میں نے شروع میں جو شرائط پڑھیں ان کے مطابق مجھے ہاں یا ناں میں کسی ایک گروپ کا ساتھ دینا ہے لیکن میں یہ سمجھتی ہیوں کہ اس بحث کوlogical انداز میں کیا جائے تو صرف کوئی ایک رائے صحیح نہیں ہے۔۔۔
مذہب نہ سہی اگر قانونِ فظرت کو ایک دہرئے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو بھی مسئلے کا حل سامنے ہے۔
Genetics کی بات ہوئی تو وہاں بھی دونوں میں فرق ہے۔ مرد کے کروموسومل پیٹرن اور عورت کے کوموسومل پیٹرن میں فرق ہے ۔ اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرد کے کروموسمز ہیں جو بچے کی جنس کا تعین کرتے ہیں نہ کہ عورت کے۔ تو ہیاں کس کا اپر ہینڈ ہوا؟
عورت کو ماں کا درجہ دیا گیا۔ یہ بھی عورت کے ایک خاص مقام کی دلیل ہے۔
جہاں تک آج کی عورت اور معاشرے میں اس کے مقام کی بات ہے تو عورت کسی بھی شعبے میں مرد سے کم نہیں۔ دیکھیں ذرا کون سا جسمانی مشقت کا کام ہے جو وہ نہیں کر سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ کیوں کہ وہ بچوں کو پالتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور مرد کا فرض ہے کہ وہ اس کی اور اس کے بچوں کی معاشی کفالت کرے۔ لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں عورت مرد سے بڑھ کر حوصلہ مند اور پریکٹیکل ثابت ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے بہت بچپن میں ایک سونگ سنا تھا ۔۔“باپ کی جگہ ماں لے سکتی ہے، ماں کی جگہ باپ لے نہیں سکتا۔۔لوری دے نہیں سکتا“ اور جب میں نے اپنے والد سے اس کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہا۔۔بیٹے اگر باپ سر پر نہ رہے توماں بچوں کی معاشی اور جذباتی دونوں طریقے سے care کر سکتی ہے لیکن باپ ماں کی عدم موجودگی میں کبھی بھی اس کا رول ادا نہیں کر سکتا۔ سو یہ حالات پر منحصر ہے کہ عورت کو کس طرح کا رول ادا کرنا ہے۔ اور وہ سب رول بآسانی اورeffectivelyادا کر سکتی ہے۔
پیچھے کسی پوسٹ میں کہا گیا کہ
“ عورت اور مرد کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔۔نہ قوت ِ فیصلہ میں،نہ قوتِ ارادی میں، نہ طاقت میں، نہ مصائب سے نپٹنے میں، نہ آزادی میں۔۔۔کسی بھی حال میں نہیں“
میں اس بات سے کسی صورت اتفاق نہیں کرتی۔ قوتِ فیصلہ کی بات کی جائے تو قلو پطرا سی ذہین اور زیرک عورت نے کس طرح بروقت فیصلے کیے سب جانتے ہیں۔ آپ نے مذہب کے حوالے سے بات کرنے کو منع کیا ہے ورنہ یہاں قلوپطرا کی بجائے کوئی اور نام ہوتا۔
قوتِ ارادی ارو قوتِ فیصلہ کی مثال کے لئے ذیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ اندرا گاندھی نے ایک عورت ہو کر جس ہوشیاری سے ایک ہاری ہوئی بازی پاکستان سے مذاکرات کے میز پر جیتی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
طاقت سے مراد اگر جسمانی طاقت ہے تو واقعی مرد اس میں قوی ہے لیکن وہ مرد کی اس طاقت کو بھی اپنی ذہانت سے tackle کر سکتی ہے۔یہں مثال لیجیے ویلنٹینا ٹریشکوا کی جس نے یوری گاگرین جیسی ہی سخت تربیت حاصل کی اور اس کے ساتھ space میں گئی ۔یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ مصائب سے نمٹنے کے لئے ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ شوہر کی عدم موجودگی میں کتنی ہی مائیں اپنے بچوں کو بھرپور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ہر مسئلے اور مصیبت کا بے جگری سے مقابلہ کرتی ہیں۔ شازیہ جی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔
ان سب باتوں کو اگر میں اپنے مذہب کے حوالے سےڈسکس کرتی تو مجھے ذیادہ خوشی ہوتی لیکن چونکہ منع کیا گیا ہے تو

خیر یہ سب تو اس بات کا جواب تھا کہ عورت مرد کے برابر ہو سکتی ہے یا نہیں۔۔ اب جہاں تک بات ہے کہ
so called woman rights fighters کا تو بات یہ ہے جناب کہ آپ ایک چھوٹے سے گروپ کو تمام عورتوں کی نمائندہ جماعت نہیں کہہ سکتے۔ یہ لوگ بس اپنے فائدے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
ہر معاملے میں اعتدال ہی ایک کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔
اگر ایک عورت کو اس کا جائز حق گھر بیٹھے مل رہا ہے۔ مرد اس کی ارو اس کے بچوں کی تمام معاشی ضروریات پوری کر رہا ہے تو اس کو باہر نکلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی سمجھدار خاتون اپنے گھر کو یوں نظر انداز کر
سکتی ہے۔ ہاں جہاں ضرورت ہے وہاں وہ زندگی کا ساتھی ہونے کی حیثیت سے اس کا ہر معاملے میں 50 50 ساتھ دے سکتی ہے۔
سو کینے کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اگر گاڑی کے دو پہیوں کا نام دیا گیا ہے تو وہ سہی ہے۔ دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کو بہتر طریقے سے کھینچ سکتے ہیں اور اس میں عورت کی اہمیت کو کم سمجھنا بہت غلط ہے کہ اگر گاڑی کا ایک پہیہ بڑا اور دوسرا چھوٹا ہو تو گاڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔بات اپنے اپنے حقوق و فرائض کے سمجھنے کی ہے۔