1. آپ فی الحال ہمارا فورم بطور مہمان ملاحظہ فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو اکثر مراسلات اور دیگر فیچرز تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ہماری مفت کمیونٹی میں شامل ہو کر آپ نئے موضوعات شروع کرنے، دیگر ارکان سے ذاتی پیغامات کے ذریعے خط و کتابت کرنے، رائے شماری میں حصہ لینے، مواد اپلوڈ کرنے اور ان جیسے دیگر خاص فیچرز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ رجسٹریشن نہ صرف تیز رفتار اور سادہ بلکہ بالکل مفت بھی ہے لہٰذا آج ہی ہماری کمیونٹی میں شامل ہو جائیے۔اگر آپ کو رجسٹریشن کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو براہ مہربانی ہم سے رابطہ کیجیے۔
+ موضوع کا جواب بھیجیں
صفحہ 1 از 2 1 2 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 14

موضوع: قصہ پانچ قوالوں کا

  1. #1

    قصہ پانچ قوالوں کا

    کسی زمانے میں محفل پر ایک کہانی لکھی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی ۔ درج ذیل کہانی اسی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے ۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    یہ اس وقت کی بات ہے جب قدیر احمد نے محفل سے طویل عرصے کے لیے رخصت لے لی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد محفل میں اُلو بولنے لگے تھے ، یعنی ویرانی ہو گئی تھی ۔ منہاجین ، نبیل اور زکریا بولائے بولائے سے پھرنے لگے تھے ۔ مسلسل بوریت سے تنگ آکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کے لیے کوئی اور شغل اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر گفت و شنید شروع ہو گئی ۔

    انہی دنوں منہاجین کی تنظیم نے ایک تقریب منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ، جس میں محفلِ سماع بھی ہونی تھی ۔ ”اندھا کیا چاہے دو آنکھیں“ نبیل اور زکریا نے منہاجین کی منت سماجت شروع کردی کہ بھائی ہمیں چانس دلا دو ، تمہیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے ۔ اس طرح انہیں ایک قوال پارٹی بنانے کا موقع مل گیا جس میں طبلہ نوازی زکریا کے سپرد کی گئی ، ہارمونیم منہاجین کے ہاتھ میں اور نبیل کو اصل کام یعنی لمبی لمبی تانیں لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ شاکر اور محب علوی چونکہ نئے نئے آئے تھے اس لیے انہیں تالیاں بجانے کا فن سونپا گیا ۔

    جب یہ قوال پارٹی محفل سے نکلی تو سامنے ہی ایک چاند گاڑی کھڑی نظر آئی ۔ اب قوال رکشے والے سے تانیں لڑانے لگے ۔ نبیل صاحب تو ہاتھ نچا نچا کر بھاؤ بتانے لگے ۔ کئی منٹ تک چونچیں لڑانے کے بعد سودا طے پاگیا جس پر محب اور شاکر نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا ۔ ان کی خوشی جلد ہی ماند پڑ گئی جب معلوم ہوا کہ رکشے کے اندر صرف تین افراد کی گنجائش ہے ۔ چنانچہ نبیل ، زکریا اور منہاجین رکشے کے اندر بیٹھ گئے اور محب اور شاکر رکشے کے دائیں بائیں مڈ گارڈز پر پاؤں ٹکا کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر رکشے نے ایک زور دار احتجاج کیا اور حرکت میں آگیا ۔

    گرتے پڑتے قوال محفلِ اردو سے نکل کر محفلِ سماع میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی تک مہمانِ خصوصی کی آمد نہیں ہوئی ۔ لیکن چونکہ پنڈال میں مجمع لگ چکا تھا اس لیے منتظمین نے قوالی شروع کرنے کا حکم دیا ۔ قوال پارٹی جم کر بیٹھ گئی تو منہاجین نے ہارمونیم کی ریں ریں شروع کرتے ہوئے زکریا سے کہا
    ”چل استاد دے ٹھِیکا“
    اب زکریا نے طبلے پر دونوں ہاتھ جو جمائے تو نبیل نے زور دار جمائی لی جو ایک لمبی تان میں بدل گئی ، اور ساتھ ہی محب اور شاکر نے تڑاخ تڑاخ تالیاں بجانی شروع کردیں ۔ قوالی بڑھتی گئی اور محب نے اپنا کام جاری رکھا مگر شاکر کی حالت غیر ہونے لگی ۔ ابھی اس پر ”حال“ طاری ہونے ہی لگا تھا کہ دفعتاً سٹیج سیکریٹری نے مہمانِ خصوصی کی آمد کا اعلان کیا ۔ سب کی نظریں سٹیج کے داخلی دروازے پر لگ گئیں ۔ دروازے پر لگے پردے میں حرکت ہوئی اور قدیر احمد بطورِ مہمانِ خصوصی برآمد ہوا ۔

    (میں نے کہانی کو بڑے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے ، اب یہاں سے کہانی بڑھانا آپ کا کام ہے)
    اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  2. ان 3 یوزرز نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  3. #2
    دوست کا اوتار
    Status : دوست آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 25 ستمبر 2005
    مقام : فیصل آباد
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 10,469
    Points
    2,313.06
    پوائنٹس
    31,121
    درجہ
    100
    Points: 31,121, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 35.6%
    اس کے ساتھ ہی قدیر اندر داخل ہوا اور دونوں ہاتھوں سے اپنی رانیں پیٹتا ہوا بولا۔۔
    ارے کمبختو مجھے پیچھے ہی چھوڑ آئے اس کمبخت ہارمونیم اور طبلے کی تال پر ٹھمکا کیا فرشے لگائیں گے۔۔
    پھر رکشے والے کو بددعائیں دینا شروع کردیں جو اسے پیچھے ہی چھوڑ آیا تھا۔۔۔
    اس کے بعد زکریا نے طبلے پر ہاتھ مارا، منہاجین نے ہارمونیم کی تان ملائی اور نبیل نے اپنی پھٹے بانس جیسی آواز میں مومن کے شعر تم میرے پاس ہوتے ہو گویا۔۔۔جب کوئی الو کا پٹھا نہیں ہوتا۔۔گانا شروع کیا تو قدیر کے پاؤں بے اختیار تھرکنے لگے اور کچھ ہی دیر میں وہ سلو موشن میں ٹھمکے لگا رہا تھا۔۔۔
    کچھ دیر تو یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن قدیر جیسے ایڈوانس “فنکار“ کے سامنے پانچ قوال بھلا کیا حیثیت رکھتے تھے چناچہ قدیر نے ٹھمکوں کے ساتھ تالیاں پیٹ کر ان کو کوسنے دینے لگا۔۔ ارے کمبخت مارو ذرا فاسٹ طریقے کے ہاتھ چلاؤ آج ہمارا روک اینڈ رول کرنے کو دل کررہا ہے اور تمہارے ہاتھ ہی معذوروں کی طرح چل رہے ہیں۔۔۔۔ قوال پارٹی کے سربراہ یعنی زکریا نے اس سے زیادہ تیز ہونے سے معذرت چاہی تو قدیر کے کوسنے مزید بڑھ گئے۔۔۔آخرقوالوں کو رخصت کرکے ان کی جگہ قدیر کی ڈیمانڈ کو ایک ٹریکٹر لاکر پورا کیا گیا جس کے ریس دینے کی آواز پر قدیر صاحب نے ساری رات فن کا مظاہرہ کیا۔۔۔اس دوران ٹریکٹر کی ٹنکی آدھ درجن بار فل کی گئی تاکہ ڈانس میں خلل نہ پڑے۔۔۔
    اگلے دن بچے کھچے شرکائے محفل کا کہنا تھا کہ ایسا فن نہ دیکھا نہ سنا۔۔عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اس محفل سے “فن کار“ کو خاطر خواہ ویلیں بھی حاصل ہوئی ہیں۔۔۔اور وہ آئندہ کئی دن تک
    سکون سے گھر بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔۔۔
    محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  4. ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  5. #3
    Status : تیشہ آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 11 اكتوبر 2005
    پیغامات : 21,892
    Points
    3,158.25
    پوائنٹس
    62,642
    درجہ
    100
    Points: 62,642, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 99.9%

    Re: قصہ پانچ قوالوں کا

    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: قدیر احمد
    کسی زمانے میں محفل پر ایک کہانی لکھی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی ۔ درج ذیل کہانی اسی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے ۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    یہ اس وقت کی بات ہے جب قدیر احمد نے محفل سے طویل عرصے کے لیے رخصت لے لی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد محفل میں اُلو بولنے لگے تھے ، یعنی ویرانی ہو گئی تھی ۔ منہاجین ، نبیل اور زکریا بولائے بولائے سے پھرنے لگے تھے ۔ مسلسل بوریت سے تنگ آکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کے لیے کوئی اور شغل اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر گفت و شنید شروع ہو گئی ۔

    انہی دنوں منہاجین کی تنظیم نے ایک تقریب منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ، جس میں محفلِ سماع بھی ہونی تھی ۔ ”اندھا کیا چاہے دو آنکھیں“ نبیل اور زکریا نے منہاجین کی منت سماجت شروع کردی کہ بھائی ہمیں چانس دلا دو ، تمہیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے ۔ اس طرح انہیں ایک قوال پارٹی بنانے کا موقع مل گیا جس میں طبلہ نوازی زکریا کے سپرد کی گئی ، ہارمونیم منہاجین کے ہاتھ میں اور نبیل کو اصل کام یعنی لمبی لمبی تانیں لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ شاکر اور محب علوی چونکہ نئے نئے آئے تھے اس لیے انہیں تالیاں بجانے کا فن سونپا گیا ۔

    جب یہ قوال پارٹی محفل سے نکلی تو سامنے ہی ایک چاند گاڑی کھڑی نظر آئی ۔ اب قوال رکشے والے سے تانیں لڑانے لگے ۔ نبیل صاحب تو ہاتھ نچا نچا کر بھاؤ بتانے لگے ۔ کئی منٹ تک چونچیں لڑانے کے بعد سودا طے پاگیا جس پر محب اور شاکر نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا ۔ ان کی خوشی جلد ہی ماند پڑ گئی جب معلوم ہوا کہ رکشے کے اندر صرف تین افراد کی گنجائش ہے ۔ چنانچہ نبیل ، زکریا اور منہاجین رکشے کے اندر بیٹھ گئے اور محب اور علوی رکشے کے دائیں بائیں مڈ گارڈز پر پاؤں ٹکا کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر رکشے نے ایک زور دار احتجاج کیا اور حرکت میں آگیا ۔

    گرتے پڑتے قوال محفلِ اردو سے نکل کر محفلِ سماع میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی تک مہمانِ خصوصی کی آمد نہیں ہوئی ۔ لیکن چونکہ پنڈال میں مجمع لگ چکا تھا اس لیے منتظمین نے قوالی شروع کرنے کا حکم دیا ۔ قوال پارٹی جم کر بیٹھ گئی تو منہاجین نے ہارمونیم کی ریں ریں شروع کرتے ہوئے زکریا سے کہا
    ”چل استاد دے ٹھِیکا“
    اب زکریا نے طبلے پر دونوں ہاتھ جو جمائے تو نبیل نے زور دار جمائی لی جو ایک لمبی تان میں بدل گئی ، اور ساتھ ہی محب اور شاکر نے تڑاخ تڑاخ تالیاں بجانی شروع کردیں ۔ قوالی بڑھتی گئی اور محب نے اپنا کام جاری رکھا مگر شاکر کی حالت غیر ہونے لگی ۔ ابھی اس پر ”حال“ طاری ہونے ہی لگا تھا کہ دفعتاً سٹیج سیکریٹری نے مہمانِ خصوصی کی آمد کا اعلان کیا ۔ سب کی نظریں سٹیج کے داخلی دروازے پر لگ گئیں ۔ دروازے پر لگے پردے میں حرکت ہوئی اور قدیر احمد بطورِ مہمانِ خصوصی برآمد ہوا ۔

    (میں نے کہانی کو بڑے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے ، اب یہاں سے کہانی بڑھانا آپ کا کام ہے)

    اور پھر آنکھ کھل گئی ۔ :P
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  6. ان 2 یوزرز نے تیشہ کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  7. #4
    یار دوست! تمہاری کہانی میں دو جھول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ قدیر احمد تو قوالوں کے ساتھ تھا ہی نہیں ۔ وہ تو طویل رخصت پر تھا اور اس کا قوالوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ اگر اس کی موجودگی کے متعلق قوالوں کو معلوم ہوتا تو وہ کوئی “بندوبست“ کر کے آتے ۔
    دوسری بات یہ کہ تم نے کہانی کو روک دیا ہے ۔ یار اسے آگے بڑھاؤ ، کوئی رستہ رکھو آگے نکلنے کا ۔ ورنہ پھر مجھے ہی ریورس گئیر لگا کر نکلنا پڑے گا ۔
    ویسے تم نے قدیر احمد کے کردار کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہین کیا ۔ اب اس کے جوابی حملے کا انتظار کرنا
    اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  8. ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  9. #5
    دوست کا اوتار
    Status : دوست آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 25 ستمبر 2005
    مقام : فیصل آباد
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 10,469
    Points
    2,313.06
    پوائنٹس
    31,121
    درجہ
    100
    Points: 31,121, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 35.6%
    کرتا ہوں اس کے ساتھ تو اب دیکھو ہوتا کیا ہے۔۔عزیزی۔۔۔
    کوئی ٹینشن نہیں جو مرضی کرو جوابی کاروائی۔۔۔
    محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  10. ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  11. #6
    ڈاکٹر عباس کا اوتار
    Status : ڈاکٹر عباس آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 03 جولاي 2006
    مقام : سانگھڑ ، سندھ،پاکستان
    پیغامات : 1,934
    پوائنٹس
    7,525
    درجہ
    60
    Points: 7,525, Level: 60
    Level completed: 88%, Points required for next Level: 25
    Overall activity: 11.5%
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  12. ان یوزر نے ڈاکٹر عباس کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  13. #7
    دوست: مجھے تمہاری جوابی کاروائی کا انتظار رہے گا ۔ یاد رکھو کہ اب میں کسی بات کا برا نہیں مناتا ۔ مگر اوپر جو کچھ تم نے قدیر احمد جیسے شریف النفس بندے کے ساتھ کیا ہے ، ویسا ہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ، انشاءاللہ ۔

    ڈاکٹر عباس: یہ کیا ہے جناب؟ خالی خولی ہنسوڑ شکلوں سے کام نہیں چلے گا ، آپ بھی کچھ زبان دانی کے جوہر دکھائیے ۔
    اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  14. ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  15. #8
    بدتمیز کا اوتار
    Status : بدتمیز آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 31 اكتوبر 2005
    مقام : ابھی تک زمین کے اوپر
    پیغامات : 1,423
    پوائنٹس
    6,867
    درجہ
    57
    Points: 6,867, Level: 57
    Level completed: 59%, Points required for next Level: 83
    Overall activity: 0%
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: قدیر احمد
    دوست: مجھے تمہاری جوابی کاروائی کا انتظار رہے گا ۔ یاد رکھو کہ اب میں کسی بات کا برا نہیں مناتا ۔ مگر اوپر جو کچھ تم نے قدیر احمد جیسے شریف النفس بندے کے ساتھ کیا ہے ، ویسا ہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ، انشاءاللہ ۔
    قدیر احمد خالی خولی باتیں مت کرو اور کچھ کر کے بھی دکھاو
    ٰ‌I dont kno what your mum said in ITALIAN but ANGRY sounds the same in any language
    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.


    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  16. ان یوزر نے بدتمیز کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  17. #9
    دوست کا اوتار
    Status : دوست آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 25 ستمبر 2005
    مقام : فیصل آباد
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 10,469
    Points
    2,313.06
    پوائنٹس
    31,121
    درجہ
    100
    Points: 31,121, Level: 100
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 35.6%
    عزیزی برا تو یوں منا رہے ہو جیسے الحاج ہو۔۔۔

    کبھی ٹینشن نہیں لی ان باتوں کی۔۔
    لوگ ویسے ہی جلتے ہیں۔۔۔ہماری پرسنیلٹی سے۔۔
    کدی کاواں کیاں ڈھور مرے۔۔۔
    محمد شاکر عزیز Proud to be a Mehfilian

    To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  18. ان یوزر نے دوست کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


  19. #10
    اوئے بدتمیز: دوست جواب دے گا تو میں کچھ کروں گا نا۔
    دوست: اوئے پرسنیلٹی والے پپو ! کچھ لکھو بھی ۔
    اپنی ہی محفل میں اجنبی ۔۔۔
    اقتباس کے ساتھ جواب دیں اقتباس کے ساتھ جواب دیں   فیس بک سے تشہیر (0)

  20. ان یوزر نے اجنبی کا اس مفید پوسٹ کے لیے شکریہ ادا کیا ہے:


+ موضوع کا جواب بھیجیں
صفحہ 1 از 2 1 2 آخریآخری

مشابہ موضوعات

  1. قصہ ہم لکھیں گے دل بے قرار کا
    By قیصرانی in forum موسیقی کی دنیا
    جوابات: 31
    آخری پیغام: 07 مٓی 2007, 06:55 ش
  2. پانچ دالیں
    By توقیر in forum کچن کارنر
    جوابات: 0
    آخری پیغام: 01 اكتوبر 2006, 12:14 ص
  3. آبِ گُم - شہر دو قصہ
    By شمشاد in forum مزاح نگاری
    جوابات: 65
    آخری پیغام: 04 اگست 2006, 10:28 ش
  4. عبداللہ ابن سبا، ایک دیو مالائی قصہ
    By مہوش علی in forum تاریخ کا مطالعہ
    جوابات: 41
    آخری پیغام: 10 فروري 2006, 05:28 ش

آپ کے اختیارات بسلسلہ ترسیل پیغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں