حصہ دوم (سیاسی پس منظر) پہلا باب
١) پاک بھارت تنازع پر اپنی ایک کتاب میں برطانوی مصنف رسل برائینز نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ “ پرٹش انڈین ایمپائر کی1947ء میں دو علیحدہ ہندو اور مسلم ریاستوں کی شکل میں تقسیم ہی اس پر تشدد خطے کے مسائل کا آخری حل تھا۔“ کسی حد تک یہ بات درست ہے تاہم فاضل مصنف نے، جس اہم چیز کو نظر انداز کردیا، وہ خود برطانوی سرکار کا اپنا کردار تھاجس کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑھ سو برس کے دوران برصغیر کی تاریخ، خون آشامیوں سے پُر رہی ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے، اس خطے پر ایک ہزار برس سے زیادہ حکومت کی تھی اور اُن کے خلاف اس الزام کے باوجود کہ انہوں نے تلوار کے زور پر اسلام کی اشاعت کی، ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ہندو، بدھسٹ، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے، ان کی غیر متعصبانہ اور منصفانہ حکومتوں میں، بڑے اطمینان اور فارغ البالی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ عہد مغلیہ میں تو خاص طور پر اعلیٰ ترین رواداری کا مظاہرہ کیا گیا۔ اکبر اعظم تو اس حد تک آگے چلا گیا کہ اس نے ہندوؤں کو اپنے نورتنوں میں شامل کر لیا تھا۔ اس نے ایک ہندو کو، اپنے فوجی لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا اور ایک ہندورانی سے شادی بھی کرلی تاکہ آبادی کے اکثریتی حصے سے مطابقت کا اظہار کیاجاسکے۔ اس نے مسلم قدامت پرست طبقے کی شدید مخالفت کے باوجود، ایک نئے مذہب کی تشکیل اور تبلیغ کی جسے اس نے دینِ الہٰی کا نام دیا تھا تاکہ ہندوستان کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں مذہبی ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔ اُس نے ملک کے عدالتی نظام محصولات اور کوتوالی کو، ازسرنومنظم کیا۔ اس کی ان کوششوں کے نتیجے میں رعایا، امن و امان اور چین کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگی اور اس کی اصلاحی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کی خوش حالی کی داستانیں، سمندرپار پہنچنے لگیں اور یورپین ممالک کے سفراء کو اس کے دربار تک رسائل حاصل ہوئی۔
٢) اکبر کی انہی پالیسیوں پر، اُس کا بیٹا جہانگیر بھی عمل پیرا رہا جو اپنی رعایاسے مساویانہ برتاؤ اور انصاف پسندی کے حوالے سے امتیازی شہرت کا حامل ہے اُس کا جانشین ، شاہ جہاں ، امن اور ثقافت کا دلدادہ تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کے امن و امان اور خوش حالی کو، فنونِ لطیفہ، فنِ تعمیر اور ثقافت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔ اسی شاہ جہاں نے اپنی خوابوں کو، تاج محل کی شکل دی جس کا شمار عجائبات عالم میں کیا جاتا ہے۔ شاہ جہاں کے بعد، اس کا بیٹا اورنگزیب، تخت نشین ہوا جو ایک پکا مسلمان اور پاکیزہ عادات کا مالک تھا! وہ نمود و آرائش کا سخت مخالف تھا اور چاہتا تھا کہ، اُس کا رعایا مین بھی، اُس کی ذاتی زندگی کی سادگی اور پرہیز گاری کا عکس نظر آئے۔ اُس نے قانون کے عملی نفاذ کو ممکن بنانے کی غرض سے اصلاحات کاایک سلسلہ شروع کیا تاکہ بدعنوانیوں، رشوت ستانی اور کاسہ لیسی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اُسی کے عہدِ حکومت کے دوران، اسلامی قوانین کا یادگار مجموعہ(فتاویٰ عالمگیری) کی تالیف عمل میں آئی تاہم اُن نے مغلوں کی، روایتی رواداری کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہندوؤں اور دیگر مذہبی فرقوں کے پرسنل لاز کو قطعاَ َ نہیں چھڑا۔ قوانین کے نفاذ میں، اُس کی سخت گیر پالیسیوں کا کچھ طبقات میں شدید ردِ عمل ہوا چنانچہ شیوا جی کی سربراہی میں ، جنوب میں آباد مرہٹوں نے ، اس کی حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش شروع کردیں، اورنگ زیب، پیرانہ سالی کے باوجود خود اس بغاوت اور سرکشی کو کچلنے کی غرض سے روانہ ہوا جس میں اُسے کامیابی حاصل ہوئی تاہم وہ ابھی جنوبی ہندوستان ہی میں تھا کہ 1707ء میں موت نے اُسے آلیا۔
٣) اورنگ زیب کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں میں تخت نشینی کی جنگ شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں اُن مغربی عناصر نے جو ہندوستان سے تجارتی تعلقات قائم کرچکے تھے، صوبے داروں اور ہندو مہاراجوں کے ساتھ مل کر سازشیں شروع کردیں جو خود بھی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش مند تھے۔ چنانچہ فرانسیسی پرتگیزی اور انگریز، کسی نہ کسی، ہندو مہاراجہ سے، ساز باز کرتے ہوئے اپنی طاقت اور اقتدار کی اس جنگ کو برصغیر تک کھینچ لانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس مرحلے پر نپولین کو بھی خیال آیا کہ بحیرہ احمر کو، دریائے نیل سے ملاتے ہوئے، ہندوستان تک پہنچنے کا مختصر ترین بحری راستہ، دریافت کرکے، میسور کے حکمران کی مدد کو پہنچ جائے جو انگریز کو نکال باہر کرنے کی جنگ میں مصروف تھا۔ اس کا یہ خیال اُس زمانے میں قابل عمل نہ تھا تاہم بعد میں ، نہر سوئز کی تعمیر بھی ایک فرانسیسی کے ہاتھوں ہی عمل میں آئی جو خاصی تعجب انگیز بات ہے۔
٤) اسی دوران ہندوستان میں انگریز کی سیاست کامیاب ہوگئی، سترہویں صدی کے اواخر تک، ایسٹ انڈیا کمپنی کو کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں قدم جمانے کا موقع مل چکا تھا، کلکتے میں ، جو اُس زمانے میں تین محلقہ دیہات پر مشتمل تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی نے، اورنگزیب کے پوتے ، شہزادہ عظیم الشان سے زمیں داری کے حققوق حاصل کرلے جو اُس وقت بنگال کا صوبے دار تھا۔ اس زمینداری میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا گیا کیونکہ کمپنی نے مزید زمینیں بھی حاصل کر لیں تھیں جس کے نتیجے میں 1757 میں جنگ پلاسی کا واقعہ پیش آیا جس میں انگریزوں کا کامیابی حاصل ہوئی، جس کے بعد بنگال کے جوبیس پرگنوں پر ، انگریزوں کا کنٹرول ہوگیا۔ مغلیہ سلطنت کے مزید زوال کے نتیجے میں 1765ء میں لارڈ کلائیو مشرقی صوبوں بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی چھبیس لاکھ کے عوص حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ دیوانی حاصل کرنے کے بعد، انگریزوں نے رفتہ رفتہ ، اپنے پاؤں پھیلانے شروع کردیئے اور ان مہاراجوں پر بھی تسلط حاصل کرلیا جو مغلیہ سلطنت کے زوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے اپنے صوبوں کی خود مختیاری کا اعلان کرچکے تھے۔ ان میں سے چند مہاراجے ہندو تھے جو دوسری مغربی طاقتوں کی مدد سے مغل شہنشاہ کے خلاف بغاوت کرچکے تھے۔ ان کے خلاف، کامیاب فوجی کاروائی کرتے ہوئے انگریزوں کو ملک کے ایک بڑے حصے پر کنٹول حاصل ہوگیا۔
٥) انہی حالات میں مسلمانوں نے چند وفادار ہندو عناصر کے ساتھ مل کر 1857ء میں مغلیہ سلطنت کے اختیارات کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ یہ ہماری پہلی جنگ آزادی تھی جسے انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا تھا۔ بدقسمتی سے یہ ناکام ہوگئی۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو حراست میں لے کر رنگون بھیج دیا گیا جہاں بالآخر ان کا انتقال ہوگیا۔ اس دن کے بعدانگریزوں نے خود کو ہندوستان کا فاتح قرار دیتے ہوئے ملکی اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
٦) چونکہ انگریزوں کو یہ یقین تھا کہ 1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں کی جانب سے مغلیہ سلطنت کو بحال کرنے کی ایک کوشش تھی، لہذا اُن سے ایسا بے رحمانہ امتیازی سلوک کیا جانے لگا کہ، رفتہ رفتہ مسلمان، اپنے ماضی کی شان و شوکت کے مقابلے میں ایک درماندہ اور حقیر اقلیت کی حیثیت اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انگریزوں نے (لڑاؤ اور حکومت کرو) کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابل، آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے اراضی کی ملکیت کے نظام کو ازسرنو منظم کیا اور مسلمانوں سے چھینی گئی اراضی کو ہندوؤں میں تقسیم کردیا جو رفتہ رفتہ بڑی زمین داریوں میں تبدیل ہوگئیں۔ ہندو انگریز کے ایجنٹ کی حیثیت سے، اسی فیصد کاروبار اور تجارت کا کنٹرول اُن کے ہاتھ میں آگیا۔ انہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنی شروع کردی جس کے نتیجے میں نوے فیصد سرکاری ملازمتیں انہیں حاصل ہوگئیں، پیشہ ورانہ امور میں بھی انہیں مسلمانوں پر سبقت حاصل تھی۔چنانچہ معاشرے کے تمام طبقات میں انہیں انگریز کے بعد دوسری اہم حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔
٧) اپنی اسی نئی بالا دست حیثیت کے پیش نظر ان کا رویہ غریب مسلمانوں سے یکسر تبدیل ہونے لگا، انہیں اچھوت قرار دے کر، نفرت کا نشانہ بنایا گیا، اب ان کی حیثیت فقط غیر ملکی حملہ آوروں کی رہ گئی تھی، جنہوں نے ایک ہزار برس تک اس ملک پر حکومت کی تھی۔
٨) ان حالات کا فطری تقاضا تھا کہ ردعمل کے طور پر، مسلمان ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں خود کو منظم کریں اور ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے ازسرنو اپنی شناخت کا تعین کریں۔ شروع شروع میں ، شاہ ولی اللہ اور سید احمد بریلوی شہید کی سربراہی میں احیائی تحریکوں نے نہایت سخت موقف اختیار کرتے ہوئے، انگریزی علوم و فنون سیکھنے سے بھی انکار کردیا تاہم سرسید احمد خان، سید امیر علی اور بنگال میں نواب عبدالطیف کی کوششوں کے نتیجے میں، اس موقف میں قدرے لچک پیدا ہوگئی۔ اس وقت تک 1857ء کے ملی برطانیہ کے اعلان کی رو سے انگریزوں نے مقامی آبادی کی سیاسی تعلیم اور تربیت کا عمل بھی شروع کردیاتھا تاکہ انہیں ملک کی حکومت کے امور میں شریک کیا جاسکے۔ 1885ء میں انڈین نشنل کانگرس کا قیام عمل میں آیا جس کا پہلا صدر ایک انگریز تھا ۔۔۔۔۔۔انگریز چاہتا تھا کہ ہندوستان کی مقامی آبادی کو سیاسی عمل اور سیاسی طریقوں سے آشنا کیاجائے لیکن ہندو نے اس معاملے میں انگریز کو بھی مات دے دی اور انڈین نشنل کانگریس پر، کٹر مذہبی ہندو عناصر نے غلبہ حاصل کرلیا۔ ہندو راج اور ہندو تسلط کا خواب اُ ن کے ذہنوں میں پروان چڑھ رہا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں طبقات میں، چھوٹے چھوٹے اور بعض اوقات غیر اہم معاملات پر ، تصادم اور جھگڑوں کی نوبت آنے لگی تاہم ان جھگڑوں اور تصادم کا بنیادی سبب سیاسی اورمذہبی اختلاف ہی تھا۔
٩) 1905ء میں لارڈ کرزن کی جانب سے تقسیم بنگال کی اسکیم اگرچہ خالصتاَ َ انتظامی وجوہات کی بنا پر پیش کی گئی تھی لیکن ہندوؤں کی جانب سے اس کے خلاف، غیر معمولی احتجاج کیا گیا۔ کیوں کہ ایسی صورت میں، مشرقی بنگال او رآسام میں، مسلمانوں کی اکثریت ہوجاتی( یہی مشرقی بنگال آگے چل کر مشرقی پاکستان کہلایا) کانگریس نے اس معاملے کو ایک ملک گیر مسئلے میں تبدیل کردیا اور ہندو قوم پستی اپنی برہنہ شکل میں سامنے آنے لگی۔ آخر کار انگریز کو ان کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا اور بنگال کی تقسیم کا منصوبہ، منسوخ کردیا گیا۔
١٠) اس واقعے کے ردعمل میں مسلمانوں نے بھی اپنی علیحدہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے1906ء میں ڈھاکہ میں قائم کرلی۔ 1909ء میں ہندوؤں کے دباؤ کے نتیجے میں مورلے منٹو اصلاحات کا اعلان کیا گیا جس کی رو سے مقامی باشندوں کو صوبائی قانون ساز اداروں میں محدود پیمانے پر نمائندگی کا حق دیا گیا تھا۔ تاہم جوابی اقدام کے طور پر انگریز حکومت نے مسلمانوں کی جانب سے ( محفوظ نشستوں) اور (جدگانہ انتخابی حلقوں) کا مطالبہ بھی تسلیم کرلیا اس اقدام کو ہندوؤں نے پورے ہندوستان پر واحد ہندو تسط کے خلاف سمجھتے ہوئے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ حتی کہ انہوں نے قانون ساز اداروں کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دے دی۔ فضا میں تلخی او رکشیدگی اور گہری ہوگئی ۔ اور باہم رویوں میں دن بدن سختی آتی چلی گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسٹر جواہر لال نہرو نے بھی جو بعد میں بھارت کے وزیراعظم مقرر ہوئے 1951ء میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس واقعےکو( پاکستان کی پرچھائیں) سے تعبیر کیا تھا۔
١١) ہندوؤں کی اس شدید نفرت اور مخالفت کے باوجود مسلمان کافی عرصے تک ہندو کانگرس سے تعاون کرتے رہے۔ پہلے تحریک خلاف کے ذریعے اور بعد میں 1916ء میں قائداعظم کے اصرار پر (میثاق لکھنو) میں شامل ہو کر، جو آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگرس کے مابین طے پایا تھا۔ میثاق لکھنو میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کی توثیق کرتے ہوئے آبادی کے تناسب سے ماورا اسمبلیوں میں نیابت کو بھی تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن 1928ء میں مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر دھوکے اور فریب کا تجربہ ہوا جب جواہر لال نہرو کے والد پنڈت موتی لال نہرو نے آل پارٹیز کانفرس کی درخواست پر تیارکیے جانے والے آئینی مسودے میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کی مکمل منسوخی کی سفارش کرتے ہوئے ایسے اقدامات تجویز کر دیے جو ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی بقاء اور وجود کے سراسر خلاف جاتے تھے۔
دسمبر1928میں آل پارٹیز کانفرس کے اجلاس منعقدہ کلکتہ میں مسلمانوں نے قائداعظم کی قیادت میں ان سفارشات اور تجاویز کی پر زور مخالفت کی تام انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ قائداعظم اس واقعے سے انتہائی دلبرداشتہ ہوئے اور اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اور یہ تاریخی اعلان فرمایا کہ( آج سے ان کے اور ہمارے راستے الگ ہوں گے۔) اس رپورٹ کے جواب میں مسلمانوں نے مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ1929ء میں قائد کی قیادت میں چودہ نکات پیش کے جو آزادی کی جدوجہد میں کانگرس کا ساتھ دینے کے لیے کم از کم شرائط تھیں! یہ بات بے حد اہم ہے کہ مسلم لیگ اس معاملے میں کانگرس پر سبقت لے گئی اور انگریز حکومت سے (مکمل آزادی) کا مطالبہ پیش کردیا۔ جبکہ کانگرس ( ڈومینین اسٹیٹس ) کے مطالبے سے ابھی آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
١٢) کانگریس کے اس مخالفانہ اور غیر مصالحانہ رویے کے باوجود مسلمانوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور تعاون کے جذبے سے کام لیتے ہوئے کانگریس کے ساتھ ایک اور معاہدے میں شریک ہو گئے جس کی رو سے گورنمنٹ آف انڈیا ایک مجریہ 1935ء کے تحت یوپی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ اور کانگریس کو مشترکہ طور پر حصہ لینا تھا۔ جس میں کامیابی کی صورت میں دونوں جماعتوں کی مخلوط حکومت کا قیام عمل میں آتا۔ ان انتخات میں کانگریس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی لیکن فتح کے نشے میں (چور) اس نے اپنی سابقہ حرکات کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر فریب دہی سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں سے وعدہ خلافی کی اور مخلوط حکومت میں ان کی شمولیت سے منکر ہوگئی۔ مخلوط حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت کو اس نے اس بات سے مشروط کردیا کہ وہ پہلے انڈین نشینل کانگریس میں شامل ہوجائیں تب ہی انہیں یوپی کی مخلوط حکومت میں لینے پر غور کیا جائے گا۔ کانگریس اور ہندوؤں کی اس دہری فریب دہی کے تجربے نے مسلمانوں میں تلخی کا زہر گھول دیا اور ان کا خدشہ یقین میں تبدیل ہوگیا کہ ہندو ذہنیت ان کی مکمل سیاسی تباہی کے درپے ہے۔ اس یقین کو مزید تقویت اس وقت حاصل ہوئی جب ہندوستان کے گیارہ میں سے آٹھ صوبوں بالخصوص بہار میں جہاں کانگریسی حکومت قائم تھی مسلمانوں کو شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں زبردستی ہندی زبان سیکھنے پر مجبور کیا گیا۔ تاکہ وہ اپنی زبان اور کلچر سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق عبادت کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی جانے لگیں۔ کانگریس کی حکومت مسلمانوں کے لیے انگریز راج سے بھی بدتر ہوئی اور اکتوبر 1937ء کے بعد دو برسوں کے دوران ہندوستان بھر میں سنگین فرقہ وارنہ فسادات کے پچاسی واقعات ہوئے۔
١٤) یہ تمام واقعات فرضی اور خیالی نہیں تھے اور نہ ہی یہ کوئی سیاسی پروپیگنڈہ تھا۔ 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ پٹنہ میں، قائداعظم نے مسلمانوں پر ڈھانے جانے والے ظلم و ستم کی دانستانیں سن کر فرمایا۔( فرقہ ورانہ امن اور ہم آہنگی کی تمام امیدیں کانگریسی فاشزم کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوچکی ہیں۔) انہوں نے مسلم لیگ کونسل کی ایک کمیٹی قائم کردی تاکہ وہ ان تکالیف اور مصائب کی تحقیقات کرے جن سے مسلمان دوچار ہورہے تھے۔ کمیٹی نے مارچ 1939میں اپنی مرتب کردہ رپورٹ پیش کردی جو (پیر پور رپورٹ) کے نام سے مشہور ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ( ہندی کے مقابلے میں اردو کا گلا گھونٹا جارہا ہے) مسلمانوں کو کانگریسی پرچم لہرانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ گاؤں اور دیہات کے تمام اسکولوں میں (ودھیا مندر اسکیم) کے تحت تعلیم حاصل کرنے کو لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں سے زبرستی کانگریس کا قومی ترانا( بندے ماترم) گانے کا اصرار کیاجاتا ہے۔ اس قسم کی ایسی ہی ایک رپورٹ دوسری انکوائری کمیٹی نے مرتب کی تھی جو ( شریف رپورٹ) کے نام سے معروف ہے جس میں صوبہ بہار کے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کی تحقیقات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اس اے کے فضل الحق مرحوم نے دسمبر 1939ء میں بنگال کی قانون ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کانگریسی حکومت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مصائب کا ذکر بڑے تلخ انداز میں کیا تھا۔ ایچ وی ہوڈسن نے اپنی کتاب( دی گریٹ ڈیوائڈ) میں اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے ( اس بات میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ 1937ء اور 1939کے دوران صوبائی حکومت کے کردار اور دو قومی نظرئیے کی اشاعت اور تحریک پاکستان کا اہم ترین سبب تھا)
١٥) کانگریس کی جانب سے بار بار کیا جانے والا معاندانہ سلوک ہی تھا جس نے مسلمانوں کو یہ سوچنے پر بالآخر مجبور کردیا کہ علیحدگی ہی اس صورتحال کا واحد حل ہے یہ اسی سوچ کا نتیجہ تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے فروری 1940ء میں اپنے اجلاس منعقدہ دہلی میں یہ فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ کے مارچ1940ء کے لاہور کے اجلاس میں اس مطالبے کو قرارداد کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔
١٦) یہ قرارداد 23مارچ 1940ء کو جناب فضل احق نے پیش کی جو اس وقت بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے۔ 24 مارچ 1940 کو یہ قرار داد متفقہ طور پر منطور کرلی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ ؛
( آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ملک کا کوئی آئینی منصوبہ اس وقت تک قابل عمل یا قابلِ قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ اسے مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں کے مطابق وضع نہ کیا جائے۔ جغرافیائی اعتبار سے محلقہ و حدوتوں کی علاقائی ردوبدل کرتے ہوئے اس طرح حد بندی کی جائے کہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے ( آزاد ریاستوں کے ایک گروپ کی شکل اختیار کر لیں جس میں تمام تشکیلی وحدتیں آزادی اور خود مختیاری کے ساتھ کام کرسکیں)
١٧) آپ نے غور کیا ہوگا کہ اس قرارداد میں لفظ (پاکستان) کہیں استمعال نہیں ہوا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ( وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، آزاد ریاستوں کی حیثیت سے تشکیل دیئے جائیں۔) تاہم اپریل 1946ء کو دہلی میں منعقدہ ہونے والے مسلم لیگی ارکان اسمبلی کے اجلاس میں اس قرارداد میں درج ذیل ترمیم کردی گئی تھی۔
( شمال مشرق اور واقع بنگال اورآسام ، نیز پنجاب، سرحد، سندھ ، بلوچستان ایک ایسے (پاکستان) علاقے ہیں، جہاں مسلمان بھاری اکثریت میں ہیں چنانچہ اس تمام علاقے کو آزاد اورخود مختار ریاست کی حیثیت سے تشکیل دیتے ہوئے اس امر کی واضح یقین دہانی کرائی جائے کہ مزید کسی تاخیر کے پاکستان کا قیام عمل میں لایا جائے)
١٨) ہرچہ بادا باد کے مصداق، حصول پاکستان کی حمایت ہی اب وہ واحد شرط تھی جس پر مسلم لیگ آزادی کی جدوجہد میں کانگریس سے تعاون اور شرکت پر رضا مند ہوسکتی تھی! اس مطالبے کی نامنظوری کی صورت میں مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ یا متبادل نہیں تھا کہ وہ اپنی بقا اور قومی وجود کے تحفظ کے لیے ہر اس آئین کے نفاذ کی پر زور مخالفت اور مزاحمت کریں جسے ( متحدہ ہندوستان) کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔
١٩) بنگال سے تعلق رکھنے والے مسلمان ارکان اسمبلی نے قرارداد میں اس ترمیم کی پر زور حمایت کی جس کے بعد یہ مسلم لیگ کا بنیادی مؤقت اور نعرہ بن گیا۔یعنی ( مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہء وطن۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔)
٢٠) اگر اس مؤقف کو کسی مزید جواز کی ضرورت تھی تو وہ بھی ہندوؤں نے 1942ء کے اوائل میں فراہم کردیا جب انہوں نے عیدالاضحٰی کے دوران گائے کے ذبیحے کے سوال پر صوبہ بہار میں وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جس میں ہزاروں مسلمان قتل کردیئے گئے۔ عورتوں نے اپنی آبرو بچانے کی خاطر کنوؤں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی جبکہ بے شمار لوگ اپنی جان بچانے کی خاطر بہار سے ہجرت کرگئے۔
٢١) خوش قسمتی سے کانگریس کے زیر حکومت دوسرے صوبوں کے مسلمان اس خوں ریزی اور تباہی سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہوگئے کیونکہ کانگریس نے اگست 1942ء میں ہندوستان پر متوقع جاپانی حملوں کے تناظر میں انگریز حکومت کے خلاف( ہندوستان چھوڑ دو) تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر کانگریسی رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی جس کے بعد صوبوں میں کانگریسی حکومتوں کا خاتمہ ہوگیا۔ قائداعظم نے اس واقعے پر ( یوم نجات) منانے کا اعلان کیا اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کے بعد چھوڑ دے۔
٢٢) دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمے اور برطانیہ میں لیبر گورنمنٹ کے برسراقتدار آنے کے نتیجے میں انگریز سرکار کی پالیسی میں بھی تبدیلی آگئی۔ کانگریسی رہنماؤں کو قید سے آزاد کردیا گیا اورسیاسی تصفیئے کی کوشش شروع ہوگئیں۔ سرا سیفرڈکرپس نئی تجاویز کے ہمراہ ہندوستان آئے جن سے اس برصغیر میں دو آزاد ممالک کے قیام کی امیدوں کو تقویت ملی تاہم کانگریس نے ان تجاویز کو مسترد کردیا جس کے بعد ( ویول پلان) سامنے آیا جس کی رو سے فوری طور پر ایک عارضی حکومت کا قیام اور تشکیل عمل میں لائی جانی تھی چنانچہ 1945ء میں انتخابات منعقد ہوئے اور مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی تمام مسلم نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی تاہم اس کے باوجود کانگریس کا یہ دعویٰ بدستور موجود تھا کہ وہ ہندو اور مسلمانوں ، دونوں کی نمائندگی کرتی ہے جس کے نتیجے میں ڈیڈ لاک کی صورتحال پیداہوگئی۔
٢٣) ان حالات کے پیش نظر برطانوی سرکار نے (کیبنٹ مشن) کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی غرض سے ہندوستان بھیجا جس نے فوری عارضی حکومت کے قیام کی اسکیم پیش کردی جس میں ہندو اور مسلمان مساوی تعداد میں شریک ہوتے اور ایک طویل المعیاد منصوبے کے مطابق ایک ایسی سہ وحدتی اور مربوط فیڈریشن کا قیام عمل میں آتا جس میں مرکز کے پاس صرف تین شعبے ہوتے یعنی امور خارنہ ، دفاع اور موصلات ، دفاع اور موصلات اور تین گروپوں پرمشتمل یہ صوبے جنہیں ریاستوں کا درجہ دیا جاتا ہندو اور مسلم اکثریتی بنیادوں پر قائم کیے جانے تھے۔ یہ منصوبہ اپنی بعض خامیوں اور نقائص کے باوجود مسلم لیگ کونسل نے 6 جون1946 کو منظور کر لیا جبکہ کانگریس نے ایک ماہ طویل المعیاد تجاویز کی منظوری کا اشارہ دیتے ہوئے حسب عادت ذہنی تحفظات کا اظہار کیا اور عارضی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ مسترد کر دیا۔ کانگریس کی جانب سے انحراف اور حیلہ جوئی کا یہ رویہ بعض ایسے شکوک کا سبب بنا جس کی تصدیق بہت جلد کانگریس کی اس تعبیر و تشریح سے ہوگئی جو اس اسکیم کے حوالے سےکی گئی تھی جس میں عارضی حکومت کی تشکیل کو مسترد کیاجانا بھی شامل تھا۔
٢٤) ہندوستان کو ایک وفاقی صورت میں متحد رکھنے کی یہ آخری امید تھی جسے انڈین نیشنل کانگریس نے خاک میں ملا دیا حالانکہ انگریز سرکار نےمرکز میں ایک عارضی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی تھی چنانچہ ردعمل کے طور پر مسلم لیگ نے حصول پاکستان کے لیے راست اقدام کا مطالبہ کر دیا۔
٢٥) اس راست اقدام کے لیے 14 اگست 1946 کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ یوم ِ راست اقدام منانے کے لیے جلسے جلوسوں کے ذریعے مسلم لیگ کے مؤقف کی بھرپور ترجمانی کا پروگرام بنایا گیا تھا جسے ناکام کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ مسلم لیگ کے جلوسوں پر حملے کیے گئے اور ان کے جلسوں میں گربڑ کی گئی تاکہ اس راست اقدام کو ہر ممکن طریقے سے کچل دیا جائے۔ مسلسل چار دنوں تک بلوے اور فسادات ہوتے رہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی اگر کہیں اس نے کوئی ایکشن لیا بھی تو وہ قطعاً غیر مؤ ثر ثابت ہوا۔ مسلح ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کے گھروں پر حملے شروع کر دئیے۔ ہندو علاقے میں رہنے والے کسی بھی مسلمان کو نہیں چھوڑا گیا۔ گلیاں اور محلے انسانی لاشوں سے پٹ چکے تھے۔ راست اقدام کے نتیجے میں شروع ہونے والے ان ہندو مسلم بلوؤں اور فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیس ہزار انسانی جانوں کا اتلاف ہوا۔ اس کے باوجود قتل و غارت کے یہ واقعات کسی نہ کسی طور پر قیام پاکستان تک مسلسل جاری رہے۔ فرقہ ورانہ فسادات کا ایک سلسلہ تھا جو کسی طور پر ختم ہونے ہی میں نہ آتا تھا۔ ان ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات میں مزید سیکڑوں، ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں ان بہیمانہ اور وحشنت ناک خون آشاموں کے بعد اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا کہ ہندوستان کو ہر صورت تقسیم کردیا جائے۔ انگریز اور ہندو دونوں برصغیر کی تقسیم کے مخالف تھے۔ برطانوی مصنف رسل برائنز نے پاک بھارت تنازع پر اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ ( آخر کار کلکتہ میں ہجوم کی طاقت نے برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کردیا۔) بہر حال جوبات وہ لکھنا بھول گئے وہ یہ تھی کہ یہ ہجوم مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوؤں کا تھا۔


اقتباس کے ساتھ جواب دیں