اچھی غزل ہے عمار۔۔ لیکن کیوں کہ اصلاح کے لئے یہاں پیش کی گئی ہے اس لئے لازم ہے کہ فصیل سے جائزہ لوں:
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
اچھا واضح مطلع ہے۔ خوب
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
واہ واہ۔۔۔ اچھا شعر نکالا ہے، مبارک
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
شعر یوں تو درست ہے، لیکن ذرا لفظ ’چھوڑے‘ بھلا نہیں لگ رہا۔
اگر ’جو اسے لاجواب کر ڈالے
کلہیں تو۔۔ بات بہتر ہوتی ہے یا بگڑ جاتی ہے۔ وارث، فرخ!!
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
خوامخواہ دل نہال مت کیجے
دوسرے مصرع میں ’خواہ مخواہ‘ محض ’خامخا‘ تقطیع ہو رہا ہے، جب کہ یہ خاہ مخاہ ہونا چاہئے۔ یعنی بر وزن فعل فعول
اگر محض ’اس طرح ‘ کر دیا جائے تو؟
دل تو اپنا رقیب ٹھہرا ہے
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
درست ہے، لیکن اگر پہلے مصرع کو تھوڑا بدل دیں تو بات بہتر ہو جائے شاید:
دل تو اپنا/آخر رقیب ہی ٹھہرا
کیوں بھلا؟ چھوڑیئے یہ سب عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
یہاں ’کیوں بھلا‘ ذرا کھٹک رہا ہے۔ کچھ متبادل مصرعے
ٹالیے چھوڑیے میاں عمار
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
مجموعی طور پر بہت اچھی غزل ہے۔ مبارک ہو عمار۔
آخری تدوین از الف عین : 05 جولاي 2008 بوقت 06:42 ش
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
عمار بھائی بہت شگفتہ تحریر ہے اور چاچو نے چرخہ چلا کر مزید حسین کر دیا ہے۔![]()
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
بہت خوب عمار۔
یہ شعر کیا خوب کہا ہے۔
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
|
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
|
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
عمار صاحب بہت خوب بہت ہی خوب اور معنی خیز غزل ہے، واہ واہ واہ۔
کسی دن ترے غم بھلا ہی تو دیں گے
مگر داغ ، ان کی گو ا ہی تو دیں گے
عمار واقعی اعجاز صاحب کی رائے بہت صائب ہے - اس پر غور کیجیے گا تو غزل مزید بہتر ہوجائے گی -
چراغِ جسم، ادھر بات سن ہَوا کی ذرا
یہ شعلگی، یہ تپِ ہست ہے ذرا کی ذرا
(اختر عثمان)
واہ عمار، اتنی سی عمر اور عمدہ شاعری!
بہت خوب عمار بھائی بحرِ حفیف وارث صاحب کی پسند کی بحر ہے میں نے بھی ان کا مضمون پڑھ کر دو ،تین غزلیں لکھ لی تھی لیکن ان غزلوں میں سے کوئی بھی اسی نہیں تھی جو آپ کی اس غزل کے برابر ہوتی آپ کی یہ غزل بہت پسند آئی بہت خوب جس طرح ایک شعر بہت زیادہ پسند کیا گیا اسی طرح مجھے بھی وہ ہی شعر سب سے زیادہ پیارا لگا ہے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
کیا شعر ہے بہت خوب باقی غزل بھی اپنی مثال آپ ہے جاری رکھے شکریہ
بحر خفیف تو مجھے بھی بہت پسند آئی ہے۔
پڑ جائے طمانچہ گر ایک تو
سامنے دوسرا گال مت کیجیے
مانا کہ خوب شعر کہتے ہیں آپ
ایسی بے ڈھنگی چال مت کیجیے
دخل در معقولات کی معذرت ۔۔۔![]()
اجی واہ واہ واہ برادرم، گولی ماریئے بحرِ خفیف کو، کیا جودتِ طبع دکھائی آپ نے، لا جواب، کیا قافیے ہیں، کیا بات ہے، کیا چال ہے واہ واہ واہ![]()
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
اس سال کا پسندیدہ شعر![]()
میں تو اس واسطہ چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
تو سمجھتا ہے کہ مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں