ابن سعید, ایم اے راجا, جہانزیب, جیا راؤ, خرم شہزاد خرم, دوست, زھرا علوی, سارہ خان, سخنور, سیدہ شگفتہ, فاتح, ماوراء, محمد وارث, مرک, م۔م۔مغل
کل دن میں وارث بھائی کے لکھے مضمون "بحر خفیف" کو سرسری سا دیکھا تھا، پھر موسم بھی بہت خوشگوار تھا شاید اسی لیے ایک طویل عرصہ بعد کچھ آمد ہوئی۔ اگرچہ ندرتِ خیال سے قطعی محرومبہرحال، اصلاح کی درخواست ہے۔
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
خوامخواہ دل نہال مت کیجے
دل تو اپنا رقیب ٹھہرا ہے
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں بھلا؟ چھوڑیئے یہ سب عمار
اپنا جینا محال مت کیجئے
نجانے کیوں ہمارے دل کو تم نے دل نہیں سمجھا
یہ شیشہ توڑ ڈالا، پیار کے قابل نہیں سمجھا
ابن سعید, ایم اے راجا, جہانزیب, جیا راؤ, خرم شہزاد خرم, دوست, زھرا علوی, سارہ خان, سخنور, سیدہ شگفتہ, فاتح, ماوراء, محمد وارث, مرک, م۔م۔مغل
بہت خوب عمار۔
یوں تو مکمل غزل بہت اچھی لگی مگر ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے !
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
بہت ہی اچھے !
جب نہیں وہ سنگ اپنے موسموں کا کیا کیجئے
جون کی ہو گرمی یا بارشیں دسمبر کی! (جیا راؤ)
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
خوبصورت غرل ہے عمار صاحب
داد قبول کیجیے۔۔۔
زھراء علوی
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
بہت خوب عمار ۔۔ اصلاح تو ماہرین ہی کر سکتے ہیں ۔۔ ہم جیسے تو بس داد دے سکتے ہیں ۔۔ بہت اچھی لکھی ۔۔:clapp:
اتنی جلدی میں ایسی اچھی غزل
واہ واہ
بہت اچھی غزل ہے عمار - بہت عمدہ-![]()
چراغِ جسم، ادھر بات سن ہَوا کی ذرا
یہ شعلگی، یہ تپِ ہست ہے ذرا کی ذرا
(اختر عثمان)
بہت اچھی غزل ہے عمار بہت خوب۔ لا جواب
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
جیا، زہرا، سارہ، امر شہزاد، آپ سب کا بہت شکریہ۔
فرخ بھائی اور وارث بھائی! سراہنے پر آپ کا بھی شکریہ لیکن آپ لوگوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کرنا ہے۔ اصلاح بھی کرنی ہے۔۔۔۔
وارث بھائی۔۔۔۔۔!!! آج یومِ شعر و سخن ہےآج چھٹی نہیں۔
نجانے کیوں ہمارے دل کو تم نے دل نہیں سمجھا
یہ شیشہ توڑ ڈالا، پیار کے قابل نہیں سمجھا
غزل ہے ہی عمدہ - مجھے تو اس میں کوئی کجی نظر نہیں آئی - شاید وارث صاحب کچھ مزید رہنمائی کرسکیں-
چراغِ جسم، ادھر بات سن ہَوا کی ذرا
یہ شعلگی، یہ تپِ ہست ہے ذرا کی ذرا
(اختر عثمان)
.