1. آپ فی الحال ہمارا فورم بطور مہمان ملاحظہ فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو اکثر مراسلات اور دیگر فیچرز تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ہماری مفت کمیونٹی میں شامل ہو کر آپ نئے موضوعات شروع کرنے، دیگر ارکان سے ذاتی پیغامات کے ذریعے خط و کتابت کرنے، رائے شماری میں حصہ لینے، مواد اپلوڈ کرنے اور ان جیسے دیگر خاص فیچرز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ رجسٹریشن نہ صرف تیز رفتار اور سادہ بلکہ بالکل مفت بھی ہے لہٰذا آج ہی ہماری کمیونٹی میں شامل ہو جائیے۔اگر آپ کو رجسٹریشن کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو براہ مہربانی ہم سے رابطہ کیجیے۔
مقفل موضوع
صفحہ 1 از 3 1 2 3 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 22

موضوع: ابنِ انشاء کے مضامین

  1. #1
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    ابنِ انشاء کے مضامین

    کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔يہ آباديوں ميں جنگلوں ميں، مولوی اسمعيل ميرٹھي کي کتاب ميں غرض يہ کہ ہر جگہ پايا جاتا ہے ۔کبوتر کي دو بڑي قسميں ہيں۔ نيلے کبوتر ۔سفيد کبوتر ، نيلے کبوتر کي بڑي پہچان يہ ہے کہ وہ نيلے رنگ کا ہوتا ہے سفيد کبوتر بالعموم سفيد ہي ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاريخ ميں بڑے بڑے کارنامے انجام ديئے ہيں۔ شہزادہ سليم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھي بے بي نورجہان تھيں ۔کبوتر ہي تو پکڑايا تھا جو اس نے اڑا ديااور پھر ہندوستان کي ملکہ بن گئي۔يہ فيصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے ميں زيادہ فائدے ميں کون رہا؟ شہزادہ سليم؟ نورجہاں؟ يا وہ کبوتر؟ رعايا کا فائدہ ان دنوں کبھي معرض بحث ميں نہ آتا تھا۔پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہي استعمال کرتے تھے۔اس ميں بڑي مصلحتيں تھيں۔بعد ميں آدميوں کو قاصد بنا کر بھيجنے کا رواج ہواتو بعض اوقات يہ نتيجہ نکلا کہ مکتوب اليہ يعني محبوب قاصد ہي سے شادي کر کے بقيہ عمر ہنسي خوشي بسر کر ديتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کي حزب مخالف نے ايک صاحب کو الٹي ميٹم دے کر وائي ملک کے پاس بھيجا تھا۔الٹي ميٹم تو راستے ميں کہيں رہ گيا۔دوسرے روز ان صاحب کے وزير بننے کي خبر اخباروں ميں آ گئي۔طوطے کے ہاتھ يہ پيغام بھيجا جاتا تو يہ صورت حال پيش نہ آتي۔

  2. #2
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    پیاسا کوا

    ايک پياسا کوے کو ايک جگہ پاني کا مٹکا پڑا نظر آيا۔ بہت خوش ہوا ليکن يہ ديکھ کر مايوسي ہوئي کہ پاني بہت نيچے فقط مٹکے کي تہہ ميں تھوڑا سا ہے۔ سوال يہ تھا کہ پاني کو کيسے اوپر لائے اور اپني چونچ تر کرے۔
    اتفاق سے اس نے حکايات لقمان پڑھ رکھي تھي پاس ہي بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ايک ايک کنکر اس میں ڈالنا شروع کيا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئي۔ پياسا تو تھا ہي نڈھال بھی ہوگيا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالي تو کيا ديکھتا ہے کہ کنکر ہي کنکر ہيں۔ سارا پاني کنکروں نے پي ليا ہے۔ بے اختيار اس کي زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کي۔ پھر بے سدھ ہو کر زمين پرگرگيا اور مرگيا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ايک نلکي لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بيٹھا بيٹھا پاني کو چوس ليتا۔ اپنے دل کي مراد پاتا۔ہر گز جان سے نہ جاتا۔

  3. #3
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    اکبر

    آپ نے حضرت ملا دو پيازہ اور بيربل کے ملفوظات ميں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہوگا، راجپوت مصوري کے شاہکاروں ميں اس کي تصوير بھي ديکھي ہوگي، ان تحريروں اور تصويروں سے يہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھي گھٹوانے، مونچھيں تراشوائے، اکڑوں بيٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا يا لطيفے سنتا رہتا تھا، يہ بات نہيں اور کام بھي کرتا تھا۔
    اکبر قسمت کا دھني تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے ديکھنے کے شوق ميں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گيا، اور تاج و تخت اسے مل گيا، ايڈورڈ ہفتم کي طرح چونسٹھ برس ولي عہدي ميں نہيں گزارنے پڑے، ويسے اس زمانے ميں اتني لمبي ولي عہدي کا رواج بھي نہ تھا، ولي عہد لوگ جونہي باپ کي عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا ديکھتے تھے اسے قتل کرکے، يا زيادہ رحم دل ہوتے تو قيد کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوجايا کرتے تھے، تاکہ زيادہ سے زيادہ دن رعايا کي خدمت کا حق ادا کر سکيں۔

  4. #4
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    بابر

    بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آيا تھا، تاکہ يہاں خاندان مغليہ کي بنياد ڈال سکے، يہ کام تو وہ بحسن و خوبي اپنے وطن ميں بھي کرسکتا تھا، البتہ پاني پت کی پہلي لڑائي ميں اس کي موجودگي ضروري تھي، يہ نہ ہوتا تو وہ لڑائي ايک طرفہ ہوتي، ايک طرف ابراہيم لودھي ہوتا دوسري طرف کوئي بھي نہ ہوتا، لوگ اس لڑائي کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔
    يہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھي کہتا تھا، پيشنگوئياں بھي کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نيست اور دو آدميوں کو بغل ميں داب کر دوڑ بھي لگايا کرتا تھا، ظاہر ہے اتني مصروفيتوں ميں امور مملکت کيلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھي پيتا تھا، ياد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبي احکام کو ايسا پاس نہ تھا، جيسا ہميں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران ميں شراب کي دوکانيں بند رہتي ہيں، کسي کو پيني ہو تو گھر ميں بيٹھ کر پئيے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہيں دفن ھوا، اس زمانے ميں کابل شہر اتنا گندہ نہيں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔

    سوالات:
    1۔ بابر نے خاندان مغليہ کي بنياد کيوں رکھي، خاندان تغلق يا خاندان موريا کي کيوں نہيں؟
    2۔ اگر پاني پت کي پہلي لڑائي ميں بابر کے علاوہ ابراہيم لودھي بھي شريک نہ ہوتا تو اس کا کيا نتيجہ ہوتا؟

  5. #5
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    بھارت

    يہ بھارت ہے، گاندھي جي يہي پيدا ہوئے تھے، لوگ ان کي بڑي عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو يہیں دفن کر ديا اور سمادھي بنا دي، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ہيں، اگر گاندھي جي نہ مرتے يعني نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کي کوئي جگہ نہ تھي، يہي مسئلہ ہمارے يعني پاکستان والوں کے لئے بھي تھا، ہميں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہي مرگئے اور سفارتي نمائندوں کے پھول چڑھانے کي ايک جگہ پيدا کردي ورنہ شايد ہميں بھي ان کو مارنا ہي پڑتا۔
    بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت يہ ہے کہ اکثر ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اس کے سيز فائر کے معاہدے ہوچکے ھيں،١٩٦٥ ميں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چين کے ساتھ ہوا۔
    بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتي اس کا دودہ پيتے ہيں، اسي کے گوبر سے چوکا ليپتے ہيں، اور اس کو قصائي کے ہاتھ بيچتے ہيں، اس لئيے کيونکہ وہ خود گائے کو مارنا يا کھانا پاپ سمجھتے ہيں۔
    آدمي کو بھارت ميں مقدس جانور نہيں گنا جاتا۔
    بھارت کے بادشاہوں ميں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہيں۔ اشوک سے ان کي لاٹ اور دہلي کا شوکا ھوٹل يادگار ہيں، اور نہرو جي کي يادگار مسئلہ کشمير ہے جو اشوک کي تمام يادگاروں سے زيادہ مظبوط اور پائيدار معلوم ہوتا ہے ۔
    راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمي تھے، صبح سويرے اٹھ کر شير شک آسن کرتے تھے، يعني سر نيچے اور پير اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا ديکھنے کي عادت ہوگئي تھي، حيدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعايا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ يوگ ميں طرح طرح کے آسن ہوتے ہيں، نا واقف لوگ ان کو قلابازياں سمجھتے ہيں، نہرو جي نفاست پسند بھي تھے دن ميں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔

  6. #6
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    پاکستان

    حدود اربعہ پاکستان کے مشرق ميں سيٹو ہے، مغرب ميں سنٹو، شمال ميں تاشقند اور جنوب ميں پاني يعني جائے مفر کسي طرف نہيں۔
    پاکستان کے دو حصے ہيں، مشرق پاکستان اور مغربي پاکستان يہ ايک دوسرے سے بڑے فاصلے پر ہیں، اس کا اندازہ اب ہورہا ہے۔
    دونوں کا اپنا اپناحدود اربعہ بھي ہے۔
    مغربي پاکستان کے شمال ميں پنجاب ، جنوب ميں سندھ ، مشرق ميں ہندوستان اور مغرب ميں سرحد اور بلوچستان ہيں، يہاں پاکستان خود کہاں واقع ہے اور واقع ہے بھي نہيں اس پر آج کل ريسرچ ہورہي ہے۔مشرقی پاکستان کے چاروں طرف آج کل مشرقي پاکستان ہي ہے۔

  7. #7
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    دینِ الہی

    دينيات کي طرف اکبر کے شغف کو ديکھتے ہوئے وزير با تدبير ابوالفضل نے اس کے ذاتي استعمال کيلئے دين الہي ايجاد کر ديا تھا، اور يہ کہنے کي ضرورت نہيں کہ اس کے پہلے خليفہ کي ذمہ دارياں خود سنبھال لي تھيں، چڑھتے سورج کي پوجا کرنا اس مذہب کا بنيادي اصول تھا، مريد اکبر کے گرد جمع ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ اے ظل الہي تو ايسا دانا و فرزانہ ہے کہ تجھ کو تاحيات سربراہ مملکت يعني بادشاہ وغيرہ رہنا چاہيئے، اس کے نام کا وظيفہ پڑھتے تھے، اور اس کي تعريف ميں وقت بے وقت بيانات جاري کرتے رہتے، پرسشتں کي ايسي رسميں آج کل بھي رائج ہيں، ليکن ان کو دين الہي نہيں کہتے۔

  8. #8
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    ایک دعا

    يا اللہ
    کھانے کو روٹي دے
    پہننے کو کپڑا دے
    رہنے کو مکان دے
    عزت اور آسودگي کي زندگي دے

    مياں يہ بھي کوئي مانگنے کي چيزیں ہيں؟
    کچھ اور مانگا کر
    بابا جي آپ کيا مانگتے ہيں؟
    ميں؟
    ميں يہ چيزيں نہيں مانگتا
    ميں تو کہتا ہوں
    اللہ مياں مجھے ايمان دے
    نيک عمل کرنے کي توفيق دے

    بابا جي آپ ٹھيک مانگتے ہيں
    انسان وہي چيز تو مانگتا ہے
    جو اس کے پاس نہيں ہوتي

  9. #9
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    ہمارا ملک

    ايران ميں کون رہتا ہے؟
    ايران ميں ايراني قوم رہتي ہے؟
    انگلستان ميں کون رہتا ہے؟
    انگلستان ميں انگريز قوم رہتي ہے؟
    فرانس ميں کون رہتا ہے؟
    فرانس ميں فرانسيسي قوم رہتي ہے؟
    يہ کون سا ملک ہے؟
    يہ پاکستان ہے
    اس ميں پاکستاني قوم رہتي ہوگي؟
    نہيں اس ميں پاکستاني قوم نہيں رہتي ؟
    اس میں سندھي قوم رہتي ہے
    اس میں پنجابي قوم رہتي ہے
    اس میں بنگالي قوم رہتي ہے
    اس ميں يہ قوم رہتي ہے
    اس میں وہ قوم رہتي ہے
    ليکن پنجابي تو ہندوستان ميں بھي رہتے ہيں؟
    سندھي تو ہندوستان ميں بھي رہتے ہيں؟
    بنگالي تو ہندوستان ميں بھي رہتے ہيں؟
    پھر يہ ملک الگ کيوں بنايا تھا؟
    غلطي ہوگئي معاف کرديجئے، آئندہ نہيں بنائيں گے؟

  10. #10
    Status : محب علوی آف لائن ہے
    تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
    مقام : لاہور , نیویارک
    ملک: Users Country Flag
    پیغامات : 6,493
    Points
    10.05
    پوائنٹس
    20,398
    درجہ
    98
    Points: 20,398, Level: 98
    Level completed: 75%, Points required for next Level: 102
    Overall activity: 0%

    پانی پت

    پاني پت ميں اس وقت تک صرف ايک لڑائي ہوئي تھي پاني پت والوں کا اصرار تھا ايک اور ہوني چاھئيے، چناچہ اکبر نے پہلي فرصت ميں بہيروبنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ کيا، ادھر سے ہيموں بقال لشکر جرار لے کر آيا، اس کے ساتھ توپيں بھي تھيں اور ہاتھي بھي تھے، ايک سے ايک سفيد گھوڑا ، گھسمان کا رن پڑا، ہيموں کي جمعيت زيادہ تھي، ليکن الکبري لشکر نے تابڑ توڑ حملے کرکے کھلبلي مچادي، بعض ہمدردوں نے اس کے جدي وطن سے پيغام بھجوايا کہ تم اور ہيموں دونوں يہاں تاشقند آئو، صلح کرائے ديتے ہيں، ليکن اکبر نہ مانا، ہيموں ايک ہاتھي کے ہودے ميں بيٹھا روپے آنے پائي کاحساب لکھ رہاتھا کہ اس لڑائي کا مال غنيمت فروخت کرکے کس کاروبار ميں پيسہ لگايا جائے، ناگہاں ايک تير قضا کا پيغام لے کر اس کي آنکھ ميں آن لگا اور وہ بے سدھ ہو کر گر گيا، بقال کو ہم تاريخ کا پہلا موشے دايان کہہ سکتے ہيں۔

مقفل موضوع
صفحہ 1 از 3 1 2 3 آخریآخری

مشابہ موضوعات

  1. متفرق اشعار
    By اجنبی in forum پسندیدہ کلام
    جوابات: 126
    آخری پیغام: 04 فروري 2008, 05:45 ش
  2. جوابات: 1
    آخری پیغام: 13 جولاي 2006, 10:01 ص
  3. جوابات: 10
    آخری پیغام: 30 جون 2006, 06:34 ص
  4. ابنِ انشا
    By رضوان in forum اردو شاعری
    جوابات: 20
    آخری پیغام: 24 اپريل 2006, 08:12 ش

اس موضوع کے ٹیگ

آپ کے اختیارات بسلسلہ ترسیل پیغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں