Status :
تاریخ شمولیت : 06 جنوري 2006
مقام : لاہور , نیویارک
ملک:
پیغامات : 6,493
Points
10.05
پوائنٹس 20,398 درجہ 98
بھارت
يہ بھارت ہے، گاندھي جي يہي پيدا ہوئے تھے، لوگ ان کي بڑي عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو يہیں دفن کر ديا اور سمادھي بنا دي، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ہيں، اگر گاندھي جي نہ مرتے يعني نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کي کوئي جگہ نہ تھي، يہي مسئلہ ہمارے يعني پاکستان والوں کے لئے بھي تھا، ہميں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہي مرگئے اور سفارتي نمائندوں کے پھول چڑھانے کي ايک جگہ پيدا کردي ورنہ شايد ہميں بھي ان کو مارنا ہي پڑتا۔
بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت يہ ہے کہ اکثر ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اس کے سيز فائر کے معاہدے ہوچکے ھيں،١٩٦٥ ميں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چين کے ساتھ ہوا۔
بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتي اس کا دودہ پيتے ہيں، اسي کے گوبر سے چوکا ليپتے ہيں، اور اس کو قصائي کے ہاتھ بيچتے ہيں، اس لئيے کيونکہ وہ خود گائے کو مارنا يا کھانا پاپ سمجھتے ہيں۔
آدمي کو بھارت ميں مقدس جانور نہيں گنا جاتا۔
بھارت کے بادشاہوں ميں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہيں۔ اشوک سے ان کي لاٹ اور دہلي کا شوکا ھوٹل يادگار ہيں، اور نہرو جي کي يادگار مسئلہ کشمير ہے جو اشوک کي تمام يادگاروں سے زيادہ مظبوط اور پائيدار معلوم ہوتا ہے ۔
راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمي تھے، صبح سويرے اٹھ کر شير شک آسن کرتے تھے، يعني سر نيچے اور پير اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا ديکھنے کي عادت ہوگئي تھي، حيدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعايا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ يوگ ميں طرح طرح کے آسن ہوتے ہيں، نا واقف لوگ ان کو قلابازياں سمجھتے ہيں، نہرو جي نفاست پسند بھي تھے دن ميں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔