سلام!
محفل پہ ایک دفعہ پہلے بھی یہ بات چلی تھی۔جس پر منتظم سمیت کئی اراکین نے اعتراض کیا کہ تم کیا پرانے نظریات اٹھا کر بتانے لگ جاتے ہو۔
میں نے اپنے معلومات کے مطابق وضاحت کی۔۔لیکن ۔۔۔۔اب شاید وہ پوسٹ بھی حذف کردی گئی ہے۔
ابھی ایک سائٹ پہ ایک کتاب کا ربط ملا۔جس میں تھوڑا وضاحت سے بتایا گيا ہے۔برائے کرم! اس کو محض دقیانوسی خیالات کہہ کر نہ ٹھکرا دیجئے گا۔
آپ مطالعہ کریں ان شاء اللہ حقیقت خود آپ پر منکشف ہوجائے گی۔
آخری تدوین از رضا : 14 فروري 2008 بوقت 01:59 ش
لیں رضا صاحب آپ ہی کی دلیل آپ پر لوٹا رہا ہوں اور یقین جانیں کہیں اور سے پڑھ کر بھی نہیں آ رہا آپ ہی کے مضمون میں زمین ساکت ہے کے دلائل میں جو آیات پیش کی ہیں ان میں سے ہی ایک آیت پیش کر ر ہا ہوں
و الشمس والقمر کل فی فلک یسبحون ( سورتہ الانبیاء ، آیت ؛ ٢٣ )
اور سورج کو اور چاند کو اور یہ دونوں ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
رضا صاحب اس پر تھوڑا صبر کیجیے گا میں آپ کی پوری پوسٹ کا تفصیلی جواب دوں گا اور پھر بات کو آگے بڑھا لیں گے مگر خدارا ذرا حوصلے سے کام لیجیے گا۔
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
اپنے ناموں کے ساتھ تو لمبے چوڑے القاب و خطابات لکھنا اور دوسروں کو عقل کا اندھا قرار دینا کہاں کا انصاف ہے۔
میں آپ کی تحریر سے متفق ہوں تو واہ واہ اور اگر نہ ہوں تو عقل کا اندھا اور جھوٹا ۔ یہ تعلیم تو اسلام نے کبھی بھی نہیں دی۔
آخری تدوین از شمشاد : 14 فروري 2008 بوقت 05:57 ش
It is never late to turn to ALLAH SWT
کلمتان خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان، حبیبتان الی الرحٰمن : سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
محترم رضا صاحب ! صرف ایک بات یاد رکھیں، قرآن کریم صرف چند سو صفحات پر مبنی ہے، اور اللہ رب العزت بار بار تفکر کی دعوت دیتا ہے، تو میرے محترم دوست یہ محض کتاب نہیں منبع رشد و ہدایت ہے، اس کو صرف ترجمے سے نہیں تفکر سے سمجھیں، تب جا کر یہ سمجھ آئے گا، مثال لوہے کی لے لیں، یعنی لوہے میں فائدہ کا تذکرہ ہے یہ نہیں بتایا کہ لوہے سے کار، اسپیئر پارٹس ، مشینری وغیرہ کیسے بنے گی، انسان نے صرف تفکر سے یہ سب کچھ بنایا ہے، سو تفکر کریں، زماں اور مکاں کے تھیوری کو سمجھیں، محض ترجمے کو منطق نہ بنا لیا کریں، علم کی کسی بھی مقام سے ابتدا ہے اس کی انتہا نہیں ہے، سو علم میں اضافے کے لئے سیکھنا ضروری ہے، ہماری انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم بدنام ہو رہے ہیں۔ صرف وعظ کا شوق ہوتا ہے، اور واعظ بننے کے لئے قران کو کوٹ کرتے ہیں، لوگ ہمیں نہیں دیکھتے وہ اس کمزوری کو دیکھتے ہیں جو ہم ظاہر کرتے ہیں، پاقی آپ سمجھدار ہیں ؟
بھائی قرآن پاک میںتو یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے۔ تو کیا قرآن میںنعوذ باللہ تضاد ہو گیا؟ ایسا تو ہو سکتا ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ زمین انسانوں اور تمام اس مخلوق کے لئے جو اس پر بستی ہے ٹھہرا دی گئی ہے۔ اب عمومی طور پر اس بات کو دیکھیں تو شاید ایک عام سی بات لگے لیکن اگر آپ ان تمام گردشوں کو دیکھیں جن سے زمین گزرتی ہے، کشش ثقل وہ تمام قوتیں جو اس پر کارفرما ہیں اور کس طرح یہ تمام قوتیں مالک الملک کے حکم کے تحت اس زمین کے ایک مستقل رفتار کے ساتھ اور ایک خاص مدار میں حرکت کرنے کا سبب ہیں۔ کس طرح یہ مختلف قوتیں مل کر ہمارے لئے اس زمین کو ساکن بناتی ہیں کہ ہم نہ تو نیچے گرتے ہیں اور نہ اس کے اندر گھس جاتے ہیں اور کس طرح اس تناسب میں ایک انتہائی معمولی سی تبدیلی اس کرہ ارض اور اس پر بسنے والی مخلوق کے لئے تباہی کا پیغام ہوسکتا ہے تب آپ کو ادراک ہوتا ہے اپنے رحیم و کریم مالک کی ذرہ نوازیوں کا۔ قرآن ایک تہہ در تہہ پھول ہے، جیسے جیسے اس کی پتیوںسے آگاہی ہوتی ہے نئے نئے معانی سامنے آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے کی گئی روایت پر مجھے شک ہے کیونکہ یہ تعبیر قرآن کے خلاف ہے اور ان سے ایسی بات کا صدور ہونا ناممکنات کے قریب ہے۔ امام احمد رضا خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی کاوش علمی سے انکار نہیں لیکن علمی ارتقاء ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ تفہیم قرآن میں حرفِ آخر صرف صاحبِ قرآن صل اللہ علیہ وسلم ہیں۔ باقی سب کو اپنے اپنے ظرف کے مطابق دربارِ رسالت سے اس کی سمجھ عطا کی جاتی ہے۔ لہٰذا اولین کی تفاسیر کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہئے۔ واللہ اعلم
آخری تدوین از خرم : 14 فروري 2008 بوقت 08:20 ش
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم جو چلے تو جاںسے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
ہا ہا ہا زمین ساکن ہے تو رات اور دن کیا خود بھی خودھی بدل رہے ہیں؟
میں تو یہ سمجھتا ہوں اس طرزِ عمل سے ہم ایسی ذہنیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہر چیز کو کسی نہ کسی طریقے سے دنیا کے کسی خانے میں فٹ کردیتے ہیں ۔ مانا یہ دنیا بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ ۔ قدرت کے بیش بہا خزانے یہاں موجود ہیں ۔ اسکے بارے میں تحقیق و تجربے اپنا الگ تقاضا کرتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ ایک الگ بات ہے ۔ لیکن اس کے لیئے اللہ نے انسان کو بہت عقل دے رکھی ہے ۔ سب سے اعلی و ارفع ذہن دے رکھا ہے ۔ آپ اس وقت دیکھئے کہ اسی عقل کا سہارا لیکر انسان نے کتنے سائنس کےحیرت انگیز انکشافات کیئے ہیں ۔ لہذاٰ سائنس کو سائنسی علوم کے طور پر پڑھیئے ۔ ہمارے ہاں تو اس سے بھی آگے ہوتا ہے کہ کوئی سائنسی انکشاف ہوجاتا ہے یا کوئی نئی چیز وجود پذیر ہوجاتی ہے ۔ تو کہا جاتا ہے یہ قرآن میں لکھا ہوا تھا ۔ قرآن اس موضوع کے لیئے آیا ہی نہیں ہے ۔ قرآن کا موضوع اصل یہ ہے کہ وہ آپ کو بتائے کہ ایک دن آپ کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ اور وہاں آپ کو اپنے مالک کے سامنے جوابدہ ہونا ہے ۔ آپ کا تعلق اپنے مالک کیساتھ بندگی کا ہونا چاہیئے ۔ اور انسانوںکیساتھ اخلاقِ عالیہ کا ہونا چاہئے ۔ یہ دو باتیں ہیں جن کو مذہب اپنا موضوع بناتا ہے ۔ باقی چیزوںکے لیئے آپ دوسری جگہ جایئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو واضع کیا تھا کہ پغمبروںکا یہ کام نہیں ہے کہ وہ آپ کو یہ بتانےکے لیئے آئے ہیں کہ کھجور کے درخت میں آپ گاوا لگائیں گے تو پھل زیادہ آئے گا کہ کم آئے گا ۔
ایک یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ روزہ ہو ، حج ہو ، عمرہ ہو ، نماز ہو ، یہ سب عبادات ہیں ۔ عبادات میں ہم اللہ کے ساتھ اپنا تعلق پیدا کرتے ہیں ۔ اور مذہب کا اصل موضوع یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ ہمارا صحیح تعلق قائم ہوجائے ۔ اور بندوں کیساتھ ہم اخلاقی طور سے صحیح طریقے سے جڑ جائیں ، یہ جو مادی اور طبی فوائد ہیں ، یہ مذہب کا موضوع ہی نہیں ہے ۔ اس مقصد کے لیئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عقلِ سلیم دے رکھی ہے ۔ اس کے تحت وہ حفظانِ صحت کے طریقے اختیار کرے ۔ سائنس اور کائنات میں موجود معموں کو حل کرے ۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وضو اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ اس فلاںفلاں بیماریاں دور ہوجاتیں ہیں ۔ اگر تھوڑی دیر کے لیئے مان بھی لیا جائے کہ اس سے کوئی فائدہ ہوتا بھی ہے تو یہ اس عبادت کی اہمیت کو بلکل باطل کر دینے والی چیز ہے ۔ اس میں سارا زور اس پر ہونا چاہیئے کہ ہم اللہ کے حضور میں پیش ہو رہے ہیں ۔ تو ہمیں طہارت اور پاکیزگی کیساتھ اللہ کے حضور میں جانا چاہئے ۔ وضو ہم اس لیئے نہیں کرتے ، بلڈ پریشر کا علاج کرنا ہوتا ہے ۔اس کے اندر اس طرح کے عقائد اور خیالات کی وجہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبادات میں دنیاداری چھپی ہوئی ہے ۔ آپ کو جو کچھ اس دنیا میں کرنا ہے آپ اس کے اصول بنایئے ، قاعدے بنایئے ، یعنی یہ نماز کی توہین ہے کہ اسے ورزش قرار دیدیا جائے ۔ نماز روزہ ، حج اور دیگر عبادات یہ سب چیز یں اللہ کے ساتھ ہمارے تعلق کا اظہار ہے ۔ اور اللہ کیساتھ یہ تعلق مہذب کی روح ہے ۔یہی مذہب کی اصل حقیقت ہے ۔ اسی کو قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ انسان کو ربانی انسان بننا چاہیئے ۔ دو ہی چیزیں ہیں جو مذہب آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کیساتھ آپ بندگی کیساتھ جڑ جائیں ۔ اور جو روشنی وہاں سے پائیں وہ روشنی دوسروں بندوں تک پہنچائیں ۔ اور آپ اعلیٰ اخلاقی مرتبے پر فائز ہوں ۔ یہ مذہب کا موضوع ہے ۔ یہ اس کا موضوع نہیں ہے کہ آپ کے فلاں مرض کو دور کرنا چاہتا ہے ۔ ورزش کرنے کے طریقے بتانا چاہتا ہے ۔ یا آپ کو زمین اور سورج کے گرد گھمانا چاہتا ہے۔ دنیاوی جو بھی امور ہیں ان میں سائنسی تحقیقات کریں ۔ نئے نئے انکشافات کریں ۔ جن معاملات کو دین سے متعلق رکھنا چاہیئے ۔ ان کو دین سے متعلق رہنا چاہیئے ۔ ناکہ آپ اصل موضوع کو بھول کر قرآن میں چاند ، زمیں اور سورج کے درمیان کسی حرکت کا کوئی کلیہ دریافت کرنے لگ جائیں ۔
آخری تدوین از ظفری : 14 فروري 2008 بوقت 09:26 ش
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.
جزاک اللہ ظفری بھائی، بہت ہی اچھی باتیں بتائی ہیں آپ نے۔
It is never late to turn to ALLAH SWT
کلمتان خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان، حبیبتان الی الرحٰمن : سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
محترم رضا صاحب، آپ کے اس تھریڈ اور موضوع کے متعلق بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں:
انا للہ و انا الیہ راجعون ہ
To view links or images in signatures your post count must be 10 or greater. You currently have 0 posts.