عورت پر ہلکا سا تشدد

دوست

محفلین
جیسے لونڈیوں سے بغیر نکاح کے تعلقات کو آج کوئی بھی مسلمان عالم قصہ ماضی کہہ کر بات ختم کر دیتا ہے۔
کچھ ایسا ہم عورت پر کسی بھی قسم کے تشدد کے حکم کے حوالے سے سمجھتے ہیں۔ اس وقت عورت کے حالات کے پیشِ نظر "معمولی تشدد" کی اجازت دی گئی تھی، چودہ صدی بعد آج کا سماجی ڈھانچہ اس دور سے مختلف ہو چکا ہے۔ اور اس حکم کو بھی غلامی کے خاتمے سے منسوخ ہو جانے والے احکامات کے ذیل میں سمجھا جانا چاہیئے۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ میں کیا کہوں گی ، سوشل میڈیا پر لوگوں نے مولانا شیرانی صاحب کے فتوے پر مذاق بھی اُڑایا ،طرح طرح کی باتیں کی، کچھ لوگوں نے ثبوت کے طور پر قرآن کی آیا ت بمعہ ترجمعہ پیش کیں جن کی رو سے عورت کو مارنا جائز ہے۔
میں یہاں مذہب کی بات نہیں کروں گی کیونکہ اپنے مفاد کی خاطر، اپنی کیے گئے کام کو جائز قرار دینے کے لئے قرآن اور حدیث کا حوالہ دینے والا ہر شخص یہاں موجو د ہے، جب ہمیں دنیا کو یہ بتانا ہو،اپنے آپ کو سچ ثابت کرنا ہو تو قرآن آگے کر دیتے ہیں،
میں یہاں معاشرے کی بات کرتی ہوں ، پچھلے دنوں جب یہ قانون پاس ہوا کہ اگر مرد عورت پر ظلم کرے تو وہ پولیس سٹیشن جائے رپورٹ درج کروائے خاوند دو چار دن جیل کی ہوا کھا کر باہر آئے گا تو خود بخود ہی عقل ٹھکانے لگ جائے گی۔ مردوں کو تشویش ہوئی، جواب یہ آئے کہ بھئی اگر دو چار دن جیل کی ہوا کھا کر با ہر آئے گا تو بیوی کو گھر نہیں رہنے دے گا بلکہ طلاق دے کر چلتا کرے گا۔ تو صاحب جب یہ فارمولا آپ کے لئے ٹھیک ہے تو عورت کی بھی کوئی عزت نفس ہے کہ نہیں ؟ عورت کے درجات میں بھی انسان ہونا شامل ہے ؟
مگر نہیں صاحب ایسا نہیں ہے ، آپ ماریں پیٹیں گے تب بھی آپ کی عورت آپ کے ساتھ ہی رہے گی۔ میں اکثر ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو یہ شکایت کرتی ہیں کہ ان کا شوہر انہیں مارتا پیٹتا ہے ۔ میری امی کے یہاں ایک کام کرنے والی کی ہی بات بتا دیتی ہوں ، کہا کرتی تھی کہ باجی میں اس لئے نہیں آئی کہ میرے شوہر نے مجھے بہت مارا تھا جگہ جگہ نیل کے نشان پڑے تھے ، میں کام کرنے آتی تو لوگ پوچھتے یہ کیا ہوا ہے ؟ میں کس کس کو کیا کیا بتاؤں ؟

میں نے بڑے تلخی اور بے رحمی سے اسے
کہا چھوڑ کیوں نہیں دیتی تم ایسے گھٹیا انسا ن کو جو تم پر ہاتھ اٹھاتا ؟
جواب ملا : نا باجی میرے سر کا سائیں ہے ، محبت بھی کرتا ہے۔ بس غصے کا تیز ہے ہاتھ اٹھ جاتا ہے ،
تو میری امی نے مجھے بتایا کہ نا صرف مارتا ہے بلکہ کوئی کام بھی نہیں کرتا ، گھر کا خرچہ تو اس کے پیسوں سے چلتا ہے۔ چرس پیتا ہے ساری ساری رات غائب رہتا ہے۔

تو صاحب کوئی میرے سوال کا جواب بھی ہو کسی کے پاس ؟ ایسے گھٹیا لوگوں کے لئے کیا کہنا ہے ؟ بیوی کو نہیں چاہئے کہ تھوک کر چلی جائے ؟
نہیں نہیں بیوی تو بیوی ہوتی ہے اسے اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اسے ایسا کچھ کرنے کا اختیار نہیں۔
میری ایک کولیگ میرے ساتھ پڑھایا کرتی تھیں، قریب اڑتیس سال ان کی عمر تھی۔ بائیس سال کی عمر میں ایک بندے سے پسند کی شادی کر لی تھی انہوں نے۔ ایک دن پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں جب میں نے ان کی آنکھ کے نیچے نشان کے بارے میں پوچھا ۔ کہنے لگی ناعمہ زندگی میں ایک ہی غلطی کی تھی اپنی پسند کی شادی اس کا خمیازہ بھگت رہی ہوں۔
میں نے پوچھا آپ نے چھوڑا کیوں نہیں ؟ کہنے لگیں میں آج بھی اس سے محبت کرتی ہوں نہیں چھوڑ سکتی۔ میں انکی بات سن کر دنگ رہ گئی کہ محبت کے لیے عزت نفس کو مجروح کر رہی ہیں اتنے سالوں سے!!! پر کیوں !!!
کچھ ہوتی ہیں چھوڑ بھی دیتی ہیں ۔ معاشرہ ایسی عورتوں کو کم ہی جینے دیتا ہے ۔ عورت کے پاس آپشن بہت کم ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد اس بات کا ناجائز فائد ہ اٹھائیں۔
ارے صاحب جب ایک ساتھ جینے کی ٹھانی ہے تو برداشت کرنا صرف بیوی کا کام ہی نہیں ہے۔ گالم گلوچ مار دھاڑ سے بیوی سدھرتی نہیں ہے ، اس کی نظر میں اپنے مرد کی عزت ختم ہو جاتی ہے۔
شادی سے پہلے کی زندگی کی تمام عادات و اطوار کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ عورت تو پھر بھی سمجھوتا کر لیتی ہے کہ اسے ساری زندگی سبق ہی یہ دیا جاتا ہے کہ تمھیں ہی برداشت کرنا ہے۔ مردوں کی تربیت بھی اسی طرح ہونی چاہئے۔ میں قرآن کے احکامات پر سوال نہیں اٹھاتی مگر ہمارے ان ہی رویوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہے۔ آپ گھر میں اپنی بیوی کو مار کر اپنے بیٹے کو یہ سبق اور تربیت دیتے ہیں کہ ماں کی کوئی عزت نہیں اور بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھنا پھر یہی آپ کی بیٹی کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
اور یہ لازمی نہیں کہ عورت کو مارنے کا فتوی لگا ہے ، یا اسلام میں احکامات ہیں ، عورت کو تو بلاوجہ بھی مارا پیٹا جاتا ہے، بیٹی جنم دینے پر، کسی اور کا غصہ بیوی پر اتارنے کے لئے، بیوی کے سوالات سے تنگ آ کر۔۔ اور کئی وجوہات ہیں
ابھی کچھ ہی دن پہلے میں اپنے میاں کے ایک دوست سے ملی قریب چالیس برس کے تو ہوں گے ۔ نہایت با اخلاق اور خوش گفتا ر شخص تھے۔ ان کی بیگم بھی ہو بہو ان کی کاپی۔ ہم لوگ جتنی دیر وہاں بیٹھے رہے ان کی گفتگو پلٹ پلٹ کر انکی بیگم کی طرف آ جاتی ، نہایت محبت سے بتاتے کہ ماشااللہ یہ بہت ٹیلینٹد ہیں ، گاڑی خود ہی ٹھیک کر لیتی ہیں ، لوگوں سے ڈیل کرنے میں تو بالکل پیچھے ہوں مگر یہ ہر طرح کے لوگو ں کے لوگوں سے ڈیل کر لیتی ہیں۔ میں نے ان تین چار دنوں میں کئی بار ان کے بارے میں سوچا ۔ وہ کوئی نوجوان عاشق نہیں تھے ان کے بچے جوان تھے ۔ مجھے رشک آیا بے انتہا رشک اور خوشی ہوتی ہے ایسے لوگوں سے مل کر جو اپنی بیوی کو سراہتے ہیں ، انہیں اعتماد کی دولت سے نوازتے ہیں، اسے کچھ سمجھتے ہیں ۔اسے موٹیویٹ کرتےہیں۔ دیکھیے صاحب آپ سراہئے، کیونکہ اس کی دنیا تو آپ سے شروع ہوتی ہے آپ پر ختم ہو جاتی ہے ۔ آپ تو دنیا جہانں سے ملتے ہیں ۔چند گھڑیاں اس کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں کر لیجیے ، امجد اسلام امجد کہتے ہیں کہ ،
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
تو ہر روز ہلکا سا ڈوز دے دیجیے، کہہ دیجیے کہ دنیا میں اس سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ، کہیں گھمانے کے جائیے۔ ارے صاحب عورت تو پیار کی بھوکی ہے آپ ذرا سا دیں گے بدلے میں ڈھیر سارا پا لیں گے۔ تو صاحب ذرا غور کیجیے۔۔۔۔
اچھے موضوع کا انتخاب کیا ہے ناعمہ اور عمدہ لکھا!
ویسے ایک بات مجھے لگا کہ یا تو آپ نے جلدی میں لکھا ہے یا پھر ارسال کرتے وقت نظر ثانی نہیں کی؟
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بیگم کو آنکھ مار تو لیں بعد میں جو وہ بیلن مارے گی اُس کا کون ذمہ دار ہے قبلہ وصی اللہ صاحب۔ ویسے آپ کے جملے سے لگا کہ آپ ابھی تک ناکتخدا ہیں :)

محمد وارث بھائی اگر اس جملے میں بیگم سے پہلے "اپنی" کا اضافہ ہو گا تو بیلن کا سامنا نہیں کرنا پڑے شاید :)
 

محمد وارث

لائبریرین
محمد وارث بھائی اگر اس جملے میں بیگم سے پہلے "اپنی" کا اضافہ ہو گا تو بیلن کا سامنا نہیں کرنا پڑے شاید :)
بہن جی، اس جملے میں بیلن کا لفظ بذاتہ ظاہر کر رہا ہے کہ اپنے گھر اور اپنی بیوی ہی کی بات ہے بصورتِ دیگر اس میں "سینڈل" کا لفظ ہوتا۔ دوسروں کی بیگم کو آنکھ مارنا تو شاید میرے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آ سکتا، قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن نجانے کیا جی میں سمائی کہ دفتر سے بیگم کو ایک ”پھڑکتا“ ہوا میسج بھیج دیا ، جواب آیا، خیریت ہے، رانگ نمبر پر میسج بھیج رہے ہو ، ظاہر ہے آنکھ مارنے کے جواب میں بیلن ہی چلے گا :)
 
آخری تدوین:
اب اس بات کا بیان آتا ہے جس میں عورتوں کو ہلکی مار لگانے کی اجازت ہے
بات میں نے جناب فیصل صاحب کی اچکی ہے لیکن یہ مسئلہ سب کا مسئلہ ہے ۔ میں اس پر بہت غور کرتا رہا ہوں۔ اب دیکھتے ہیں کہ آیا کہ قرآن حکیم کی زبان اور فہم کے ساتھ کتنا انصاف کیا گیا ہے اور کتنی من مانی۔

اس سے پہلے کہ ہم قرآًن حکیم اور اس کے الفاظ کے معانی کی طرف جائیں۔ پہلے ذرا ان جملوں پر غور کرلیں۔ جملے اردو کے ہیں مقصد ان سے کوئی متوازی خط بنانا نہہں ہے ۔ صرف صبر سے پڑھتے جائیں

1۔ صاحب کو دو چائے مارو --
2۔ بھائی لیفٹ پر ٹرن مارنا --
3۔ اس نے مجھے آنکھ ماری ۔
4۔ کیا خالی پیلی بوم مارتا ہے ؟
5۔ کیوں گپ مارتے ہو؟
6۔ یہ ابھی ابھی سائیڈ مار کر گیا ہے۔
7۔ کیوں جھک مار رہے ہو؟
8۔ دھکا کیوں مارا ؟
9۔ ذرا گاڑی کو دھکا تو مارنا
10- چلو سیلف مارو، کار سٹارٹ ہوجائے گی
11۔ یہاں پر جھاڑو مارو۔
12۔ کیوں سیٹیاں مار رہے ہو؟
13 - اتنی دیر سے چیخیں ماررہے ہو ، کیا با ت ہے ۔
14 - ایسے ہی جھوٹ مار رہا ہے۔
15 - جانتا ہوں ، مسکہ مارر ہے ہو

ان 15 اور ایسے ہی بہت سے دوسرے جملوں میں کس جملے کے معانی پٹائی کرنے کے بنتے ہیں ؟؟؟؟؟

باقی بعد میں ۔۔۔
 
کیا عورت مرد کے برابر هے ......؟

ایک بہترین تحریر پڑهئیے !

مرد وزن کی مساوات کے بارے دو بیانیے موجود ہیں: ایک مذہبی اور دوسرا لبرل۔ اور باقی بیانیے انہی دو کے بچے ہیں۔ مذہبی بیانیے میں نہ تو مرد وزن مساوی ہیں بلکہ مرد کو خلقی اور خُلقی دونوں طرح سے فوقیت بھی حاصل ہے۔ اللہ عزوجل نے آدم کو پہلے پیدا کیا نہ کہ حواء کو۔ مسجود ملائک آدم کو بنایا نہ کہ حواء کو۔ حواء کی پیدائش، آدم کی پسلی سے کی یعنی اسے آدم کی ایک فرع کے طور پر وجود بخشا نہ کہ مستقل وجود۔ مرد کو جسمانی طور مضبوط اور قوی بنایا جبکہ عورت کو کمزور۔ یہ تو خلقی اعتبار سے فضیلت ہوئی جبکہ

خُلقی اعتبار سے فضیلت کے دلائل یہ ہیں کہ نبوت اور رسالت مردوں میں جاری فرمائی، عورتوں میں نہیں۔ دوران حیض نماز روزہ نہ کرنے کی وجہ سے عورتوں کے دین کو ناقص کہا جبکہ مردوں کے لیے یہ نقص نہیں ہے۔ جہنم کے مشاہدے میں یہ کہا کہ وہاں عورتیں زیادہ دکھائی جا رہی ہیں نہ کہ مرد۔ وغیرہ وغیرہ

اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی عورت اخلاقی اعتبار سے مرد سے افضل نہیں ہو سکتی۔ ہم نوع مرد اور نوع عورت کی بات کر رہے ہیں۔ مرد اپنی نوع میں پیدائشی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے عورت کی نوع سے افضل رہا ہے اور ہے۔ آپ زندگی کا کوئی شعبہ لے لیں اور اس میں مردوں اور عورتوں کا تقابل کر لیں تو مرد افضل نظر آئیں گے۔

آپ اخلاق اور دینداری کا ہی شعبہ لے لیں، افضل البشر بعد الانبیاء، ایک مرد ہی ہے۔ عشرہ مبشرہ مرد ہی ہیں۔ تصوف سے لے کر جہاد تک کی تاریخ کے مطالعہ تک میں ہر صدی میں ہر طرف مرد ہی مرد نظر آئیں گے جو قطب بھی ہیں، غوث بھی اور ابدال بھی۔ فقہاء بھی ہیں، محدثین بھی ہیں، متکلمین بھی۔ فلسفی بھی ہیں، شاعر بھی ہیں، ادیب بھی۔ غازی بھی ہیں، مجاہد بھی اور سپہ سالار بھی۔ عورتیں بھی ہوں گی لیکن ہم اس وقت تناسب کی بات کر رہے ہیں کہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

لیکن یہ افضلیت تفاخر اور ظلم کے لیے نہیں ہے بلکہ انکساری اور عدل کے لیے ہے۔ یہ ہمارے خیال میں اصلاح کا وہ نکتہ ہے کہ جسے نطر انداز کیے جانے کی وجہ سے مذہبی بیانیہ متاثر ہو رہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل لیکن اپنا احساس تواضع کیا ہے کہ مجھے یونس ابن متی پر بھی فضیلت نہ دو۔ پس اللہ نے مرد کو عورت سے افضل بنایا لیکن اسے اس افضلیت کے تفاخر میں مبتلا رہنے سے منع فرمایا کہ افضل پیدا کرنے کا مقصد ماتحت کا دھیان تھا۔

بھئی ساری دنیا کا نظام اسی طرح چل رہا ہے کہ کوئی افسر ہے اور کوئی ماتحت۔ ملازمت میں تو عورت کا باس اگر مرد ہو تو کوئی مطالبہ نہیں کرتا کہ اسے برابر کے حقوق دے دو؟ گھر کا نظام بھی ایسے ہی چلنا ہے۔ پس بڑوں میں یہ احساس ذمہ داری پیدا کرو کہ چھوٹوں سے شفقت کریں، ان پر ظلم نہ کریں، ان کے حقوق پورے کریں۔ عورت، مرد سے چھوٹی بن کر جتنی مطئمن رہ سکتی، مرد کے برابر کھڑی ہو کر کبھی بھی نہیں۔ یہ نفسیاتی تجریہ ہے، کر کے دیکھ لیں۔ جس دن عورت کو یہ احساس ہو گیا کہ میرا مرد مجھ سے بہتر نہیں ہے، اس دن وہ اسے اپنے دل سے نکال باہر کرے گی۔

اور جہاں تک لبرل بیانیے کا معاملہ ہے تو اس کی انتہا اس بات پر ہو گی کہ مردوں کو بچے بھی پیدا کرنے چاہییں کیونکہ اس کے بغیر مساوات کا کوئی لبرل تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے کہ کس رستے پر چل پڑے ہیں۔


بشکریہ ہمشیرہ شازیہ اکرم
 

زیک

مسافر
کیا عورت مرد کے برابر هے ......؟

ایک بہترین تحریر پڑهئیے !

مرد وزن کی مساوات کے بارے دو بیانیے موجود ہیں: ایک مذہبی اور دوسرا لبرل۔ اور باقی بیانیے انہی دو کے بچے ہیں۔ مذہبی بیانیے میں نہ تو مرد وزن مساوی ہیں بلکہ مرد کو خلقی اور خُلقی دونوں طرح سے فوقیت بھی حاصل ہے۔ اللہ عزوجل نے آدم کو پہلے پیدا کیا نہ کہ حواء کو۔ مسجود ملائک آدم کو بنایا نہ کہ حواء کو۔ حواء کی پیدائش، آدم کی پسلی سے کی یعنی اسے آدم کی ایک فرع کے طور پر وجود بخشا نہ کہ مستقل وجود۔ مرد کو جسمانی طور مضبوط اور قوی بنایا جبکہ عورت کو کمزور۔ یہ تو خلقی اعتبار سے فضیلت ہوئی جبکہ

خُلقی اعتبار سے فضیلت کے دلائل یہ ہیں کہ نبوت اور رسالت مردوں میں جاری فرمائی، عورتوں میں نہیں۔ دوران حیض نماز روزہ نہ کرنے کی وجہ سے عورتوں کے دین کو ناقص کہا جبکہ مردوں کے لیے یہ نقص نہیں ہے۔ جہنم کے مشاہدے میں یہ کہا کہ وہاں عورتیں زیادہ دکھائی جا رہی ہیں نہ کہ مرد۔ وغیرہ وغیرہ

اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی عورت اخلاقی اعتبار سے مرد سے افضل نہیں ہو سکتی۔ ہم نوع مرد اور نوع عورت کی بات کر رہے ہیں۔ مرد اپنی نوع میں پیدائشی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے عورت کی نوع سے افضل رہا ہے اور ہے۔ آپ زندگی کا کوئی شعبہ لے لیں اور اس میں مردوں اور عورتوں کا تقابل کر لیں تو مرد افضل نظر آئیں گے۔

آپ اخلاق اور دینداری کا ہی شعبہ لے لیں، افضل البشر بعد الانبیاء، ایک مرد ہی ہے۔ عشرہ مبشرہ مرد ہی ہیں۔ تصوف سے لے کر جہاد تک کی تاریخ کے مطالعہ تک میں ہر صدی میں ہر طرف مرد ہی مرد نظر آئیں گے جو قطب بھی ہیں، غوث بھی اور ابدال بھی۔ فقہاء بھی ہیں، محدثین بھی ہیں، متکلمین بھی۔ فلسفی بھی ہیں، شاعر بھی ہیں، ادیب بھی۔ غازی بھی ہیں، مجاہد بھی اور سپہ سالار بھی۔ عورتیں بھی ہوں گی لیکن ہم اس وقت تناسب کی بات کر رہے ہیں کہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

لیکن یہ افضلیت تفاخر اور ظلم کے لیے نہیں ہے بلکہ انکساری اور عدل کے لیے ہے۔ یہ ہمارے خیال میں اصلاح کا وہ نکتہ ہے کہ جسے نطر انداز کیے جانے کی وجہ سے مذہبی بیانیہ متاثر ہو رہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل لیکن اپنا احساس تواضع کیا ہے کہ مجھے یونس ابن متی پر بھی فضیلت نہ دو۔ پس اللہ نے مرد کو عورت سے افضل بنایا لیکن اسے اس افضلیت کے تفاخر میں مبتلا رہنے سے منع فرمایا کہ افضل پیدا کرنے کا مقصد ماتحت کا دھیان تھا۔

بھئی ساری دنیا کا نظام اسی طرح چل رہا ہے کہ کوئی افسر ہے اور کوئی ماتحت۔ ملازمت میں تو عورت کا باس اگر مرد ہو تو کوئی مطالبہ نہیں کرتا کہ اسے برابر کے حقوق دے دو؟ گھر کا نظام بھی ایسے ہی چلنا ہے۔ پس بڑوں میں یہ احساس ذمہ داری پیدا کرو کہ چھوٹوں سے شفقت کریں، ان پر ظلم نہ کریں، ان کے حقوق پورے کریں۔ عورت، مرد سے چھوٹی بن کر جتنی مطئمن رہ سکتی، مرد کے برابر کھڑی ہو کر کبھی بھی نہیں۔ یہ نفسیاتی تجریہ ہے، کر کے دیکھ لیں۔ جس دن عورت کو یہ احساس ہو گیا کہ میرا مرد مجھ سے بہتر نہیں ہے، اس دن وہ اسے اپنے دل سے نکال باہر کرے گی۔

اور جہاں تک لبرل بیانیے کا معاملہ ہے تو اس کی انتہا اس بات پر ہو گی کہ مردوں کو بچے بھی پیدا کرنے چاہییں کیونکہ اس کے بغیر مساوات کا کوئی لبرل تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے کہ کس رستے پر چل پڑے ہیں۔


بشکریہ ہمشیرہ شازیہ اکرم
مرد کی عورت پر فضیلت اور شوہر کے بیوی کو زد و کوب کرنے کے دلائل لوگ مذہب سے لے کر آتے ہیں۔ پھر ان پر اعتراض کو مذہب مخالف سمجھتے ہیں۔
 
34- مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے


اب ان تمام مترجمین اور ان کے ماننے والوں سے سوال یہ ہے کہ لفظ ، "ضرب " کے وہ معانی کیوں نہیں استعمال کرتے ہو جو اللہ تعالی نے استعمال کئے ہیں۔

ضرب ، کا لفظ اللہ تعالی نے عام طور پر "مثال پیش" کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس آیت میں ضرب کے معانی زود کوب کے کس طرح لئے جاتے ہیں؟ جب کہ یہاں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کو پیش کرو، ان فیصلہ کرنے والوں کے سامنے جن کا حکم اس سے اگلی آیت میں دیا گیا ۔
دیکھئے:

4:34 الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور ان کو(منصفوں کے سامنے) پیش کرو ، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے

4:35
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے

عام طور پر وَاضْرِبُوهُنَّ کا ترجمہ " عورت پر تشدد" کا کیا جاتا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر فوقیت کے بارے میں فرمان جاری کیا ہے۔ جو خاص طور پر شوہروں کو بیویوں پر فوقیت کے بارے میں نہیں ہے۔

میرے یہ دلائیل ہیں اس بارے میں۔ چونکہ یہ آیت مردوں اور عورتوں کے رشتے کے بارے میں ۔ صرف میاں بیوی کے رشتے تک محدود نہیں ہے۔

1۔ کیا مرد ، ایک بیٹا، --- ایک عورت ، اپنی ماں پر بھی ہلکا سا تشدد کرسکتا ہے؟
2۔ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس معانی میں "ضرب" کا لفظ استعمال کیا ہے وہ معانی نا استعمال کئے جائیں؟
3- سنت نبوی میں کس موقع پر رسول اکرم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ پر تشدد کیا؟

لفظ "ضرب" کے معانی کی مثالیں:
2:26 إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَ۔ذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِهِ كَثِيراً وَّيَهْدِي بِهِ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ
بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کچھ بھی پیش فرمائے (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشاندہی) ہے، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ (اسے سن کر یہ) کہتے ہیں کہ ایسی تمثیل سے اللہ کو کیا سروکار؟ (اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی) نافرمان ہیں

4:94 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُواْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور اس کو جو تمہیں سلام کرے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم (ایک مسلمان کو کافر کہہ کر مارنے کے بعد مالِ غنیمت کی صورت میں) دنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو (یقین کرو) اللہ کے پاس بہت اَموالِ غنیمت ہیں۔ اس سے پیشتر تم (بھی) توایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (اور تم مسلمان ہوگئے) پس (دوسروں کے بارے میں بھی) تحقیق کر لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے


کسی بھی سنت رسول اکرم کی غیر موجودگی میں کہ رسول اکرم نے کبھی کسی زوجہ محترمہ کو جسمانی طور پر نہیں پیٹا، پھر اللہ تعالی نے لفظ "ضرب" کا استعمال، "پیش کرنے" اور "نکلنے" کے لئے کیا ہے۔ پھر 4:35 میں ان منصفین کو مقرر کرنے کا حکم دیا ہے ، جن کے سامنے ، کسی جھگڑنے والے مرد و عورت کو پیش کیا جائے۔ پھر یہ آیت عمومی طور پر مردوں اور عورتوں کے لئے ہے ، صرف میاں بیوی تک محدود نہیں ۔۔ لہذا ، اس سے شوہر کو بیوی کی پٹائی کا حق دیا جانا سراسر ظلم ہے۔

سورۃ النساء ، 4:34 میں صرف اور صرف یہ حکم دیا جارہا ہے کہ جن دو مردو عورت میں جھگڑا ہوجائے ، اور وہ میاں بیوں ہوں تو خاتون کو دو منصفین کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بارے میں 4:35 میں حکم دیا گیا ہے۔

والسلام
 

ربیع م

محفلین
مرد کی عورت پر فضیلت اور شوہر کے بیوی کو زد و کوب کرنے کے دلائل لوگ مذہب سے لے کر آتے ہیں۔ پھر ان پر اعتراض کو مذہب مخالف سمجھتے ہیں۔
ایک سوال کیا آج تک کسی ایسے معاشرے کے بارے میں آپ نے پڑھا یا سنا جہاں آپ کی مروجہ تعریف کے مطابق عورتوں اور مردوں کو برابری حاصل ہو۔
اگر ہے تو ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں۔
 

گلزار خان

محفلین
اب ان تمام مترجمین اور ان کے ماننے والوں سے سوال یہ ہے کہ لفظ ، "ضرب " کے وہ معانی کیوں نہیں استعمال کرتے ہو جو اللہ تعالی نے استعمال کئے ہیں۔

ضرب ، کا لفظ اللہ تعالی نے عام طور پر "مثال پیش" کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس آیت میں ضرب کے معانی زود کوب کے کس طرح لئے جاتے ہیں؟ جب کہ یہاں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کو پیش کرو، ان فیصلہ کرنے والوں کے سامنے جن کا حکم اس سے اگلی آیت میں دیا گیا ۔
دیکھئے:

4:34 الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور ان کو(منصفوں کے سامنے) پیش کرو ، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے

4:35
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے

عام طور پر وَاضْرِبُوهُنَّ کا ترجمہ " عورت پر تشدد" کا کیا جاتا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر فوقیت کے بارے میں فرمان جاری کیا ہے۔ جو خاص طور پر شوہروں کو بیویوں پر فوقیت کے بارے میں نہیں ہے۔

میرے یہ دلائیل ہیں اس بارے میں۔ چونکہ یہ آیت مردوں اور عورتوں کے رشتے کے بارے میں ۔ صرف میاں بیوی کے رشتے تک محدود نہیں ہے۔

1۔ کیا مرد ، ایک بیٹا، --- ایک عورت ، اپنی ماں پر بھی ہلکا سا تشدد کرسکتا ہے؟
2۔ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس معانی میں "ضرب" کا لفظ استعمال کیا ہے وہ معانی نا استعمال کئے جائیں؟
3- سنت نبوی میں کس موقع پر رسول اکرم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ پر تشدد کیا؟

لفظ "ضرب" کے معانی کی مثالیں:
2:26 إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَ۔ذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِهِ كَثِيراً وَّيَهْدِي بِهِ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ
بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کچھ بھی پیش فرمائے (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشاندہی) ہے، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ (اسے سن کر یہ) کہتے ہیں کہ ایسی تمثیل سے اللہ کو کیا سروکار؟ (اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی) نافرمان ہیں

4:94 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُواْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور اس کو جو تمہیں سلام کرے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم (ایک مسلمان کو کافر کہہ کر مارنے کے بعد مالِ غنیمت کی صورت میں) دنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو (یقین کرو) اللہ کے پاس بہت اَموالِ غنیمت ہیں۔ اس سے پیشتر تم (بھی) توایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (اور تم مسلمان ہوگئے) پس (دوسروں کے بارے میں بھی) تحقیق کر لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے


کسی بھی سنت رسول اکرم کی غیر موجودگی میں کہ رسول اکرم نے کبھی کسی زوجہ محترمہ کو جسمانی طور پر نہیں پیٹا، پھر اللہ تعالی نے لفظ "ضرب" کا استعمال، "پیش کرنے" اور "نکلنے" کے لئے کیا ہے۔ پھر 4:35 میں ان منصفین کو مقرر کرنے کا حکم دیا ہے ، جن کے سامنے ، کسی جھگڑنے والے مرد و عورت کو پیش کیا جائے۔ پھر یہ آیت عمومی طور پر مردوں اور عورتوں کے لئے ہے ، صرف میاں بیوی تک محدود نہیں ۔۔ لہذا ، اس سے شوہر کو بیوی کی پٹائی کا حق دیا جانا سراسر ظلم ہے۔

سورۃ النساء ، 4:34 میں صرف اور صرف یہ حکم دیا جارہا ہے کہ جن دو مردو عورت میں جھگڑا ہوجائے ، اور وہ میاں بیوں ہوں تو خاتون کو دو منصفین کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بارے میں 4:35 میں حکم دیا گیا ہے۔

والسلام
بہت خوب
 
Top